پیَدایش ۳۹

(‏۳)‏ یوسف کا اِمتحان اور اُس کی فتح (‏باب ۳۹)‏

۳۹:‏۱۔۱۹ اب کہانی کا رُخ مصر کی طرف مُڑتا ہے‏، جہاں یوسف کو فوطیفار کے گھر کا مختار بنا دیا گیا۔ فوطیفار فرعون کے محل میں جلوداروں کا سردار تھا۔ خداوند یوسف کے ساتھ تھا اور وہ اِقبال مند ہوا۔ فوطیفار کی بیوی نے یوسف کو ورغلانے کی مسلسل کوشش کی‏، لیکن وہ بڑی ثابت قدمی سے اِنکار کرتا رہا۔ وہ اپنے مالک کے اعتماد کو ٹھیس نہیں پہنچانا چاہتا تھا اور نہ ہی خدا کے خلاف گناہ کرنے کو تیار تھا۔ ایک دن عورت نے اُس کا پیراہن پکڑ لیا۔ وہ پیراہن اُس کے ہاتھ میں چھوڑ کر بھاگ گیا۔ اُس نے اپنا پیراہن کھو دیا لیکن اپنا کردار بچا لیا اور بالآخر تاج حاصل کیا۔ فوطیفار کی بیوی نے پیراہن کو ’گواہی‘ کے طور پر استعمال کیا کہ اُس نے اُس کی عزت لُوٹنے کی کوشش کی ہے۔ 

ایمان داروں کو یہ تعلیم دی گئی ہے کہ وہ حرام کاری‏، بت پرستی اور جوانی کی خواہشوں سے بھاگیں۔ گناہ میں گرنے کے بجائے بھاگ جانا بہتر ہے۔ 

۳۹:‏۲۰۔۲۳ بغیر کسی خاطر خواہ تفتیش کے یوسف کے آقا نے اُسے قیدخانہ میں ڈال دیا۔ لیکن وہاں بھی خدا نے اُسے برکت دی اور اُسے اہم ذمہ داری سونپی۔ اِس بڑے الزام میں یوسف کو سزائے موت نہیں دی گئی کیونکہ فوطیفار نے کلی طور پر اپنی بیوی کی بات کا یقین نہ کیا۔ رومیوں ۸:‏۲۸ کی حقیقت بہت خوبصورت انداز میں یہاں ظاہر کی گئی ہے۔ اِن تمام مناظر کے پسِ پردہ خدا کار فرما تھا۔ یوسف نے آزمائش کا مقابلہ کیا اور بُرائی سے باز رہا (‏آیت ۸۔۱۰)‏۔ اِس کے باوجود اُسے ورغلانے والی نے اُس پر الزام لگایا۔ اب دوسری بار یوسف کو زنجیروں میں جکڑ دیا گیا (‏زبور ۱۰۵:‏۱۷۔۱۹)‏۔ اِن حالات میں اُسے بہت پریشان ہو جانا چاہئے تھا۔ لیکن وہ حالات کے نیچے دب نہیں گیا بلکہ حالات سے بالاتر رہا اور اُن میں خدا کی مرضی کو دیکھا۔ قید میں اُس کا یہ وقت تربیت کا وقت تھا جو اُسے حکومت کرنے کے لئے تیار کر رہا تھا۔ جن باتوں سے دوسرے اُس سے بُرائی کرنا چاہتے تھے‏، وہی اُس کی بھلائی کا باعث ٹھہریں۔ 

مقدس کتاب

۱ اور یوسف کو مصؔر میں لائ٫ے اور فُوطیفار مصری نے ج فرؔعون کا یاک حاکم اور جلوداروں کا سردار تھا اُسکو اِسمٰعیلیوں کے ہاتھ سے جو اُسے وہاں لے گئے تھے خرید لیا۔
۲ اور خُداوند یوُسفؔ کے ساتھ تھا اور وہ اِقبالمند ہُوا اور اپنے مصری آقا کے گھر میں رہتا تھا۔
۳ اور اُسکے آقا نے دیکھا کہ خُداوند اُسکے ساتھ ہے اور جس کام کو وہ ہاتھ لگاتا ہے خُداوند اُس میں اُسے اقبالمند کرتا ہے۔ چنانچہ یوُسؔف اُسکی نظر میں مقبُول ٹھہرا اور وہی اُسکی خِدمت کرتا تھا اور اُس نے اُسے اپنے گھر کا مختار بنا کر اپنا سب کچھ اُسے سَونپ دِیا۔
۴
۵ اور جب اُس نے اُسے گھر کا اور سارے مال کا مُختار بنایا تو خُداوند نے اُس مصری کے گھر میں یُوؔسف کی خاطر برکت بخشی اور اُسکی سب چیزوں پر جو گھر میں اور کھیت میں تھیں خُداوند کی برکت ہونے لگی۔
۶ اور اُس نے اپنا سب کچھ یوُؔسف کے ہاتھ میں چھوڑ دیا اور سِوا روٹی کے جِسے وہ کھا لیتا تھا اُسے اپنی کِسی چیز کا ہوش نہ تھا اور یُوؔسف خوبصورت اور حِسین تھا۔
۷ اِن باتوں کے بعد یُوں ہؤا کہ اُسکے آقا کی بیوی کی آنکھ یُوؔسف پر لگی اور اُس نے اُس سے کہا کہ میرے ساتھ ہم بِستر ہو۔
۸ لیکن اُس نے اِنکار کیا اور اپنے آقا کی بیوی سے کہا کہ دیکھ میرے آقا کو خبر بھھی نہیں کہ اِس گھر میں میرے پاس کیا کیا ہے اور اُس نے اپنا سب کچھ میرے ہاتھ میں چھوڑ دیا ہے۔
۹ اِس گھر میں مجھ سے بڑا کوئی نہیں اور اُس نے تیرے سِوا کوئی چِیز مُجھ سے باز نہیں رکھیّ کیونکہ تو اُسکی بیوی ہے سو بھلا میَں کیوں اَیسی بری بدی کُروں اور خُدا کا گُنہگار بنُوں ۔؟
۱۰ اور وہ چند روز یُوؔسف کے سر ہوتی رہی پر اُس نے اُسکی بات نہ مانی کہ اُس سے ہم بستر ہونے کے لئِے اُسکے ساتھ لیٹے۔
۱۱ اور ایک دِن یوُں ہوا کہ وہ اپنا کام کرنے کے لئے گھر میں گیا اور گھر کے آدمیوں میں سے کوئی بھی اندر نہ تھا۔
۱۲ تب اُس عورت نے اُسکا پیراہن پکڑ کر کہا کہ میرے ساتھ ہم بِستر ہو۔ وہ اپنا پیراہن اُسکے ہاتھ میں چھوڑ کر بھاگ گیا۔
۱۳
۱۴ تو اُس نے اپنے گھر کے آدمیوں کو بُلا کر اُن سے کہا کہ دیکھو وہ ایک عبِری کو ہم سے مذاق کرنے کے لئِے ہمارے پاس لے آیا ہے۔ یہ مُجھ سے ہم بستر ہونے کو اندر گُھس آیا اور مِیں بلند آواز سے چِلاّنے لگی ۔
۱۵ جب اُس نے دیکھا کہ میَں زور زور سے چِلاّ رہی ہُوں تو اپنا پیراہن میرے پاس چھوڑ کر بھاگا اور باہر نِکل گیا۔
۱۶ اور وہ اُسکا پیراہن اُسکے آقا کے گھر لَوٹنے تک اپنے پاس رکھے رہی ۔
۱۷ تب اُس نے یہی باتیں آس سے کہیں کہ یہ عبِری غلام جو تُو لیا ہے میرے پاس اندر گھُس آیا کہ مُجھ سے مذاق کرے۔
۱۸ جب مَیں زور زور سے چِلاّ نے لگی تو وہ اپنا پیراہن میرے ہی پاس چھوڑ کر باہر بھاگ گیا ۔
۱۹ جب اُسکے آقا نے اپنی بیوی کی وہ باتیں جو اُس نے اُس سے کہیں سُن لِیں کہ تیرے غلام نے مُجھ سے اَیسا اَیسا کیا تو اُسکا غضب بھڑکا۔
۲۰ اور یُوسُؔف کے آقا نے اُسکو لیکر قید خانہ میں جہاں بادشاہ کے قیدی بند تھے ڈالدیا۔ سو وہ وہاں قید خانہ میں رہا۔
۲۱ لیکن خُداوند یُوسُؔف کے ساتھ تھا ۔ اُس نے اُس پر رحم کیا اور قید خانہ کے داروغہ کی نظر میں اُسے مقُبول بنایا۔
۲۲ اور قید خا خانہ کے داروغہ نے سب قیدیوں کو جو قید میں تھے یُوسُؔف کے ہاتھ میں سَونپا اور جو کچھ وہ کرتے اپسی کے حُکم سے کرتے تھے۔
۲۳ اور قید خانہ کا داروغہ سب کاموں کی طرف سے جو اُسکے ہاتھ میں تھے بے فکر تھا اِسئِے کہ خُداوند اُسکے ساتھ تھا اور جو کچھ وہ کرتا خداوند اُس میں اِقبالمند ی بخشتا تھا۔