احبار ۲۲

۲۲:‏۱۔۹ اگر کوئی کاہن کوڑھ‏، جریان‏، یا مُردے سے چھو جانے والی شے کے سبب سے یا ایسا گوشت کھانے سے جس کا خون نہ بہایا گیا ہو‏، یا کسی اَور سبب سے ناپاک ہو جائے تو اُسے کاہنوں کے لئے مخصوص خوراک سے کھانے کی اِجازت نہ تھی۔ اگر کاہن کوڑھی ہوتا یا اُس کا ناسور رِستا ہوتا تو غالباً کاہن طویل عرصے کے لئے نااہل قرار دیا جاتا۔ دوسری صورتوں میں طہارت کی درج ذیل رسم پر کاہن عمل کر سکتا تھا۔ اوّل‏، وہ ضرور غسل کرے‏، شام تک اِنتظار کرے۔ تب وہ پھر پاک ٹھہرے گا۔

۲۲:‏۱۰۔۱۳ عموماً مسافر‏، اجنبی اور اُجرتی ملازم پاک چیزوں میں سے نہیں کھا سکتے تھے۔ لیکن کاہن کا زر خرید غلام اور اُس کے بچے اِس خوراک میں سے کھا سکتے تھے۔ اگر کاہن کی بیٹی کسی اجنبی سے بیاہی جاتی‏، تو اُسے اِس میں سے کھانے کی اِجازت نہیں تھی۔ لیکن اگر وہ بیوہ‏، مطلقہ یا بے اولاد ہوتی اور اپنے باپ کے ساتھ قیام پذیر ہوتی‏، تب وہ کاہنوں کی خوراک میں سے کھا سکتی تھی۔ 

۲۲:‏۱۴۔۱۶ اگر کوئی شخصی نادانستہ طور پر پاک چیزوں میں سے کھا لیتا‏، وہ اُس کے ساتھ پانچواں حصہ ملا کر کاہن کو دیتا اور یوں اِس کی تلافی کرتا‏، جیسا کہ جرم کی قربانی میں کیا جاتا تھا۔ 

۲۲:‏۱۷۔۳۰ جو قربانیاں خداوند کی حضوری میں لائی جاتیں وہ بے عیب ہوتیں (‏آیت ۱۹)‏۔ خواہ وہ سوختنی قربانی (‏آیات ۱۸۔۲۰)‏ یا سلامتی کے ذبیحے (‏آیت ۲۱)‏ کے لئے ہوتیں۔ بیمار یا جس جانور کے اعضا شکستہ ہوں‏، یا جس کے رسولی‏، کھجلی یا پپڑیاں ہوں لانا ممنوع تھے (‏آیت ۲۲)‏۔ اگر کسی بچھڑے یا برّے کا کوئی عضو کم یا زیادہ ہوتا‏، تو اُسے رضا کی قربانی کے طور پر تو پیش کیا جا سکتا تھا‏، لیکن منت کی قربانی کے لئے پیش کرنا ممنوع تھا (‏آیت ۲۳)‏۔ جس جانور کے خصئے کُچلے ہوئے یا چُور کئے ہوئے یا ٹُوٹے یا کٹے ہوئے ہوتے وہ قربانی کے لئے قابلِ قبول نہ تھا (‏آیت۲۴)‏۔ اِسرائیلیوں کے لئے حکم تھا کہ وہ کسی اجنبی کے ہاتھ سے ایسے بگاڑ والے جانوروں کو قبول نہ کریں (‏آیت ۲۵)‏۔ قربانی کے جانور کی عمر کم از کم آٹھ دن ہوتی (‏آیات ۲۶‏،۲۷)‏۔ ماں اور اُس کے بچے کو ایک ہی دن ذبح نہ کیا جاتا (‏آیت ۲۸)‏۔ شکرانے کے ذبیحے کا گوشت اُسی دن کھایا جاتا جس دن یہ گزرانا جاتا (‏آیات ۲۹۔۳۰)‏۔

۲۲:‏۳۱۔۳۳ آخری پیرے میں اِس بات کی وضاحت کی گئی ہے کہ اِسرائیل کو کیوں خداوند کے اِن تمام احکام کی پابندی کرنا تھا۔ یہ اِس لئے تھا کہ وہ خدا جو اُنہیں مصر کی سرزمین سے نکال لایا پاک ہے۔ کئی طرح کے اِظہارات مجموعی طور پر احبار کی کتاب کے پیغام کو پیش کرتے ہیں۔ مثلاً میرے پاک نام کو ناپاک نہ ٹھہرانا‘‘‏، ’’ مَیں … ضرور ہی پاک مانا جاؤں گا‘‘ اور ’’ مَیں خداوند تمہارا مقدس کرنے والا ہوں۔‘‘

مقدس کتاب

۱ اور خداوند نے موسی سے کہا۔
۲ ہارون اور اسکے بیٹوں سے کہہ کہ وہ بنی اسرائیل کی پاک چیزوں سے جنکو وہ میرے لئے مقدس کرتے ہیں اپنے آپکو بچائے رکھیں اور میرے پاک نام کو بے حرمت نہ کریں۔
۳ انکو کہدے کہ تمہاری پشت درپشت کو کوئی تمہاری نسل میں سے اپنی ناپاکی کی حالت میں ان پاک چیزوں کے پاس جائے جنکو بنی اسرائیل خداوند کے لئے مقدس کرتے ہیں وہ شخص میرے حضور سے کاٹ ڈالا جایئگا۔میں خداوند ہوں۔
۴ ہارون کی نسل میں جو کوڑھی یا جریان کا مریض ہو وہ جب تک پاک نہ ہو جائے پاک چیزوںمیں سے کچھ نہ کھائے اور جو کوئی ایسی چیز کو جو مردہ کے سبب سے ناپاک ہو گئی ہے یا اس شخص کو جسکی دھات بہتی ہو چھوئے۔
۵ یا جو کوئی کسی رینگنے والے جاندار کو جسکے چھونے سے وہ ناپاک ہو سکتا ہے چھوئے یا کسی ایسے شخص کو چھوئے جس سے اسکی ناپاکی خواہ وہ کسی قسم کی ہو اسکو بھی لگ سکتی ہو۔
۶ تو وی آدمی جو ان میں سے کسی کو چھوئے شام تک ناپاک رہیگا اور جب تک پانی سے غسل نہ کرلے پاک چیزوں میں سے کچھ نہ کھائے۔
۷ اور وہ اس وقت پاک ٹھہریگا جب آفتاب غروب ہو جائے۔اسے بعد وہ پاک چیوں میں سے کھائے کیونکہ یہ اسکی خوراک ہے۔
۸ اور مردار یا درندہ کے پھاڑے ہوئے جانور کو کھانے سے وہ اپنے آپکو نجس نہ کرلے۔میں خداوند ہوں۔
۹ اسلئے وہ میری شرع کو مانیں تا نہ ہو کہ اسکے سبب سے انکے سر گناہ لگے اور اسکی بے حرمتی کرنے کی وجہ سے وہ مربھی جائیں۔میں خداوند انکا مقدس کرنے والا ہوں۔
۱۰ کوئی اجنبی پاک چیز کو نہ کھانے پائے خواہ وہ کاہن ہی کے ہاں ٹھہر ہو یا اسکا نوکر ہو تو بھی وہ کوئی پاک چیز نہ کھائے۔
۱۱ لیکن وہ جسے جکاہن نے اپنے زر سے خریدا ہو اسے کھا سکتا ہےاور وہ جو اسکے گھر میں پیدا ہوئے ہوں وہ بھی اسکے کھانے میں سے کھائیں۔
۱۲ اگر کاہن کی بیٹی کسی اجنبی سے بیاہی گئی ہو تو وہ پاک چیزوں کی قربانی میں سے کچھ نہ کھائے۔(۱۳پر اگر کاہن کی بیٹی بیوہ ہو جائے یا مطلقہ ہو اور بے اولاد ہو اور لڑکپن کے دنوں کی طرح اپنے باپ کے گھر میں پھر آکر رہے تو وہ اپنے باپ کے کھانے میں سے کھائے لیکن کوئی اجنبی اسے نہ کھائے۔
۱۳
۱۴ اور اگر کوئی نادانستہ پاک چیز کو کھا جائے تو وہ اسکے پانچویں حصہ کے برابر اپنے پاس سے اس میں ملا کر وہ پاک چیز کاہن کو دے۔
۱۵ اور وہ بنی اسرائیل کی پاک چیزوں کو جنکو وہ خداوند کی نذر کرتے ہوں بے حرمت کرکے۔
۱۶ انکے سر اس گناہ کا جرم نہ لادیں جو انکی پاک چیزوں کے کھانے سے ہو گا کیونکہ میںخداوند انکا مقدس کرنے والا ہوں۔
۱۷ اور خداوند نے موسی سے کہا۔
۱۸ ہارون اور اسکے بیٹوں اور سب بنی اسرائیل سے کہہ کہ اسرائیل کے گھرانے کا یا ان پردیسیوں میں سے جو اسرائیلیوں کے درمیان رہتے ہیں جو کوئی شخص اپنی نقربانی لائے خواہ وہ کوئی منت کی قربانی ہو یا رضا کیقربانی جسے وہ سوختنی قربانی کے طور پر خداوند کے حضور گذرانا کرتے ہیں۔
۱۹ تو اپنے مقبول ہونے کے لئے تم بیلوں یا بروں یا بکروں میں سے بے عیب نر چڑھانا۔
۲۰ اور جس میں عیب ہو اسے نہ چڑھانا کیونکہ وہ تمہاری طرف سے مقبول نہ ہو گا۔
۲۱ اور کو کوئی اپنی منت پوری کرنے کے لئے یا رضا کی قربانی کے طور پر گائے بیل یا بھیڑ بکری میں سے سلامتی کا ذبیحہ خداوند کے حضور گذرانے تو وہ جانور مقبول ٹھہرنے کے لئے بے عیب ہو۔اس میں کوئی نقص نہ ہو۔
۲۲ جو اندھا یا شکستہ عضو یا لولا ہو یا جسکے رسولی یا کھجلی یا پپڑیاں ہوں ایسوں کو خداوند کے حضور چڑھانا اور نہ مذبح پر انکی آتشین قربانی خداوند کے حضور گذراننا۔
۲۳ جس بچھڑے یا برے کا کوئی عضو زیادہ یا کم ہو اسے تو رضا کی قربانی کے طور گذران سکتا ہے پر منت پوری کرنے کے لئے وہ مقبول نہ ہوگا۔
۲۴ جس جانور کے خصے کچلے ہوئے یا چور کئے ہوئے یا ٹوٹے یا کٹے ہوئے ہوں اسے تم خداوند کے حضور نہ چڑھانا اور نہ اپنے ملک میں ایسا کام کرنا۔
۲۵ اور نہ ان میں سے کسی کو لیکر تم اپنے خدا کی غذا پردیسی یا اجنبی کے ہاتھ سے چڑھوانا کیونکہ انکا بگاڑ ان میں موجود ہوتا ہے۔ان میں عیب ہے۔سو وہ تمہاری طرف سے مقبول نہ ہونگے۔
۲۶ اور خداوند نے موسی سے کہا۔
۲۷ جا وقت بچھڑا یا بھیڑ یا بکری کا بچہ پیدا ہو تو سات دن تک وہ اپنی ماں کے ساتھ رہےاور آٹھویں دن سے اسکے بعد سے وہ خداوند کی آتشین قربانی کے لئے مقبول ہو گا۔
۲۸ اور خواہ گائے ہو یا بھیڑ بکری تم اسے اور اسکے بچے دونوں کو ایک ہی دن ذبح نہ کرنا۔
۲۹ اور جب تم خداوند کے شکرانہ کا ذبیحہ قربانی کرو تو اسے اس طرح قربانی کرنا کہ تم مقبول ٹھہرو۔
۳۰ اور وہ اسی دن کھا بھی لیا جائے۔تم اس میں سے کچھ بھی دوسرے دن کی صبح تک باقی نہ چھوڑنا۔میں خداوند ہوں۔
۳۱ سو تم میرے حکموں کو ماننا اور ان پر عمل کرنا۔ میں خداوند ہوں۔
۳۲ تم میرے پاک نام کو ناپاک نہ ٹھہرانا کیونکہ میں بنی اسرائیل کے درمیان ضرورہی پاک مانا جاؤنگا۔میں خداوند مقدس کرنے والا ہوں۔
۳۳ جو تمکو ملک مصر سے نکال لایا ہوں تاکہ تمہارا خدا بنا رہوں۔میں خداوند ہوں۔