۲۔ قربانیوں سے متعلق قوانین (۶:۸۔۷:۳۸)
اِس حصے یعنی ۶:۸ سے ۷:۳۸ میں ’’قربانیوں سے متعلق قوانین‘‘ کا بیان ہے۔ کئی لحاظ سے یہ پہلے بیانات سے ملتا جلتا ہے۔ تاہم یہ قوانین کاہنوں کے لئے ہیں جب کہ گذشتہ ابواب کی ہدایات عام بنی اِسرائیل کے لئے تھیں (۱:۲)۔
۶:۸۔۱۳سوختنی قربانی کے لئے قوانین: کاہن کے لباس سے متعلق اضافی تفصیلات دی گئی ہیں کہ وہ سوختنی قربانی کی راکھ کو کس طرح باہر لے جائے، اور اِس بات کے لئے محتاط رہے کہ مذبح پر سے آگ بجھنے نہ پائے۔ راکھ کو پہلے مذبح کے مشرق کی طرف رکھا جاتا، اور پھر لشکر گاہ کے باہر صاف جگہ پر لے جایا جاتا۔
۶:۱۴۔۱۷ نذر کی قربانی کے لئے قوانین: یہاں ہمیں بتایا گیا ہے کہ کاہنوں کو قربانی میں سے اپنا حصہ خیمۂ اِجتماع کے صحن میں کھانے کے لئے حکم دیا گیا تھا۔ اور اِس قربانی میں خمیر شامل نہیں کیا جاتا تھا کیونکہ یہ خداوند کے لئے نہایت پاک تھی۔
۶:۱۸ نذر کی قربانی کو ہارون کی نسل کے مرد کھا سکتے تھے، لیکن اُنہیں رسمی لحاظ سے پاک ہونا ضروری تھا۔ کاہن قربانی کو چھو لینے سے پاک نہیں ٹھہرتے تھے۔ پاکیزگی چھونے سے نہیں ملتی تھی، جب کہ ناپاکی چھو لینے سے مل جاتی تھی (حجی ۲:۱۱۔۱۳)۔
۶:۱۹۔۲۳ اِن آیات میں ایک خاص نذر کی قربانی کا بیان کیا گیا ہے جسے سردار کاہن کو صبح شام مسلسل گزراننا پڑتا تھا۔ اِسے آگ سے بالکل جلایا جاتا تھا۔
۶:۲۴۔۳۰ خطا کی قربانی کے قوانین: جیسا کہ گذشتہ صفحات میں بیان کیا گیا ہے، کاہن کو خطا کی قربانی کے چند حصے کھانے کی اِجازت تھی (جن کا احبار ۴:۲۲۔۵:۱۳ میں بیان کیا گیا ہے، جہاں خون مقدِس میں نہیں لے جایا جاتا تھا)۔ قربانی کو خیمۂ اجتماع کے صحن میں کھایا جاتا تھا۔ ملاحظہ فرمایئے کہ یہ قربانی سب سے زیادہ مقدس تھی۔ اگر جماعت کا عام آدمی قربانی کے گوشت کو چھوتا، تو اُسے پاک ہونے کی ضرورت تھی اور اپنے آپ کو کاہن کی طرح رسمی ناپاکی سے پاک صاف کرنا پڑتا تھا، گو وہ کہانتی امور سرانجام نہیں دے سکتا تھا۔ اگر کسی لباس پر خون گر جاتا تو لباس کو صاف کرنا پڑتا تھا۔ اِس لئے نہیں کہ یہ ناپاک ہو گیا تھا، بلکہ اِس لئے کہ پاک خون کی مقدِس سے باہر عام روزمرہ زندگی میں لے جا کر بے حرمتی نہ ہو۔ مٹی کا برتن جسے خطا کی قربانی کے پکانے کے لئے استعمال کیا جاتا، اُسے توڑ دیا جاتا۔ اِس کی وجہ یہ تھی کہ ممکن ہے مٹی کے مساموں میں کچھ خون جذب ہو جائے اور اسے بعد ازاں بے حرمتی کے مقاصد کے لئے استعمال کیا جائے۔ پیتل کے برتن کو مانج کر پانی سے دھو لیا جاتا تاکہ پاک ترین خطا کی قربانی کا کوئی حصہ روزمرہ کے استعمال کی کسی چیز سے چھو کر ناپاک نہ ہو جائے۔ جرم کی قربانی کی طرح خطا کی قربانی کے جانور کو اُس جگہ پر ذبح کیا جاتا تھا جہاں سوختنی قربانی کا جانور ذبح کیا جاتا تھا یعنی قربان گاہ کی شمالی سمت میں (۱:۱۱)، یہ سائے کی جگہ تھی۔
مقدس کتاب
۱ پھر خداوند نے موسی سے کہا۔
۲ اگر کسی سے یہ خطا ہو کہ وہ خداوند کا قصور کرے اور امانت یا لین دین یا لوٹ کے معاملہ میں اپنے ہمسایہ کو فریب دے یا اپنے ہمسایہ پر ظلم کرے۔
۳ یا کسی کھوئی ہوئی چیز کو پاکر فریب دے اور چھوٹی قسم بھی کھائے پس ان میں سے خواہ کوئی بات ہو جس میں کسی شخص سے خطا ہو گئی ہے۔
۴ سو اگر اس سے خطا ہوئی ہے اور وہ مجرم ٹھہرا ہے تو جو چیز اس نے لوٹی یا جو چیز اس نے ظلم کر کے چھینی یا جو چیز اس کے پاس امانت تھی یا جو کھوئی ہوئی چیز اسے ملی۔
۵ یا جس چیز کے بارے میں اس نے جھوٹی قسم کھائی اس چیز کو وہ ضرور پورا واپس کرے اور اصل کے ساتھ پانچواں حصہ بھی بڑھا کر دے۔ جس دن یہ معلوم ہو کہ وہ مجرم ہے اسی دن وہ اسے اس کے مالک کو واپس دے۔
۶ اور اپنے جرم کی قربانی خداوند کے حضور چڑھائےاور جیتنا دام تو مقرر کرے اتنے دام کا ایک بے عیب مینڈھا ریوڑ میں ہے جرم کی قربانی کے طور پر کاہن کے پاس لائے۔
۷ یو کاہن اس کے لئے خداوند کے حضور کفارہ دے تو جس کام کو کرے وہ مجرم ٹھہرا ہے اس کی اسے معافی ملے گی۔
۸ پھر خداوند نے موسی سے کہا۔
۹ ہارون اور اسکے بیٹوں کو یوں حکم دے کہ سوختنی قربانی کے بارے میں شرع یہ ہے کہ سوختنی قربانی مذبح کے اوپر آتشدان پر تمام رات صبح تک رہے اور مذبح کی آگ اس پر جلتی رہے۔
۱۰ اور کاہن اپنا کتان کا لباس پہنے اور کتان کے پاجامے کو اپنے تن پر ڈالے اور آگ نے جو سوختنی قربانی کو مذبح پر بھسم کر کے راکھ کر دیا ہے اس راکھ کو اٹھا کر اسے مذبح کی ایک طرف رکھے۔
۱۱ پھر وہ اپنے لباس کو اتار کر دوسرے کپڑے پہنے اور اس راکھ کو اٹھا کر لشکر گاہ کے باہر کسی صاف جگہ میں لیجائے۔
۱۲ اور مذبح پر آگ جلتی رہے اور کبھی بجھنے نہ پائے اور کاہن ہر صبح کو اس پر لکڑیاں جلا کر سوختنی قربانی کو اس کے اوپر چن دے اور سلامتی کے ذبیحوں کی چربی کو اس کے اوپر جلایا کرے۔
۱۳ مذبح پر آگ ہمیشہ جلتی رکھی جائے۔وہ کبھی بجھنے نہ پائے۔
۱۴ اور نذر کی قربانی کے بارے میں شرع یہ ہے کہ ہارون کے بیٹے اسے مذبح کے آگے خداوند کے حضور گزارا نیں۔
۱۵ اور وہ نذر کی قربانی میں سے اپنی مٹھی بھر اس طرح نکالے کہ اس میں تھوڑا سا میدہ اور کچھ تیل جو اس میں پڑا ہو گا اور نذر کی قربانی کا سب لبان آجائےاور اس یادری کے حصہ کو مذبح پر خداوند کے حضور راحت انیز خوشبو کے طور پر جلائے۔
۱۶ اور جو باقی جگہ میں کھاایا جائے یعنی وہ خیمہ اجتماع کے صحن میں اسے کھائیں۔
۱۷ وہ خیمر کے ساتھ پکایا نہ جائے۔ میں نے یہ اپنی آتشین قربانیوں میں سے ان کا حصہ دیا ہے اور یہ خطا کی قربانی اور جرم کی قربانی کی طرح نہایت پاک ہے۔
۱۸ ہارون کی اولاد کے سب مرد اس میں سے کھائیں۔ تمہاری پشت در پشت خداوند کی آتشین قربانیوں میں سے یہ انکا حق ہو گا۔ جو کوئی انہیں چھوئے وہ پاک ٹھہریگا۔
۱۹ اور خداوند نے موسی سے کہا کہ۔
۲۰ جس دن ہارون کو مسح کیا جائے اس دن وہ اور اس کے بیٹے خداوند کے حضور یہ چڑھاوا چڑھائیں کہ ایفہ کے دسویں حصہ کے برابر میدہ آدھا صبح کو اور آدھا شام کو ہمیشہ نذر کی قربانی کے لئے لائیں۔
۲۱ وہ توے پر تیل میں پکایا جائے۔ جب وہ تر ہو جائے تو تو اسے لے آنا۔ اس نذر کی قربانی کو پکوان کے ٹکڑوں کی صورت میں گزرننا تاکہ وہ خداوند کے لئے راحت انگیز خوشبو بھی ہو۔
۲۲ اور جو اس کے بیٹوں میں سے اس کی جگہ کاہن ممسوح ہو وہ اسے گذرانے۔یہ دائمی قانون ہو گا کہ وہ خداوند کے حضور بالکل جلایا جائے۔
۲۳ کاہن کی ہر ایک نذر کی قربانی بالکل جلائی جائے وہ کبھی کھائی نہ جائے۔
۲۴ اور خداوند نے موسی سے کہا۔
۲۵ ہارون اوراسکے بیٹوں سے کہہ کہ خطا کی قربانی کے بارے میں شرع یہ ہے کہ جس جگہ سوختنی قربانی کا جانور ذبح کیا جاتا ہے وہیں خطا کی قربانی کا جانور بھی خداوند کے آگے ذبح کیا جائے۔ وہ نہایت پاک ہے۔
۲۶ جو کاہن اسے خطا کے لئے گذرانے وہ اسے کھائے۔ وہ ایک جگہ میں یعنی خیمہ اجتماع کے صحن میں کھایا جائے۔
۲۷ جو کچھ اس کے گوشت سے چھو جائے وہ پاک ٹھہریگا اور اگر کسی کپڑے پر اسکے خون کی چھینٹ پڑ جائے تو جس کپڑے پر اسکی چھینٹ پڑی ہے تو اسے کسی پاک جگہ میں دھونا۔
۲۸ اور مٹی کا وہ برتن جس میں وہ پکایا جائے توڑدیا جائےپر اگر وہ پیتل کے برتن میں پکایا جائے تو اس برتن کو مانج کر پانی سے دھو لیا جائے۔
۲۹ اور کاہنوں میں سے ہر مرد اسے کھائے۔ وہ نہایت پاک ہے۔
۳۰ پر جس خطا کی قربانی کا کچھ خون خیمہ اجتماع کے اندر پاک مقام میں کفارہ کے لئے پہنچایا گیا ہے اسکا گوشت کبھی نہ کھایا جائے بلکہ وہ آگ سے جلادیا جائے۔