تفسیر
۱۔ قربانیوں کی اَقسام (۱:۱۔۶:۷)
الف۔ سوختنی قربانی (باب ۱)
احبار کی کتاب کا آغاز اِن الفاظ سے ہوتا ہے: ’’اور خداوند نے خیمۂ اِجتماع میں سے موسیٰ کو بلا کر اُس سے کہا …‘‘ چونکہ جیسا کہ ہمارے اِفتتاحیہ اِقتباس میں بونر (Boner) نے کہا ’’ایسی کوئی اَور کتاب نہیں جس میں احبار کی نسبت خدا کی زبان سے نکلے ہوئے زیادہ الفاظ ہوں‘‘ اِس لئے ضروری ہے کہ ہم ’’بڑی دلچسپی اور توجہ سے اِس کا مطالعہ کریں۔‘‘ شروع میں خداوند پانچ قربانیاں مقرر کرتا ہے __ سوختنی، نذر، سلامتی، خطا اور جرم کی قربانی۔ پہلی تین قربانیوں کو راحت انگیز خوشبو کی قربانیاں کہا گیا ہے، جب کہ آخری دو کو خطا اور جرم کی قربانیوں کے نام سے موسوم کیا گیا ہے۔ پہلی تین رضاکارانہ تھیں جب کہ آخری دو لازمی قربانیاں تھیں۔
بنی اِسرائیل کے لئے خدا کا پہلا پیغام یہ ہے کہ وہ اپنے ریوڑوں اور گلوں میں سے مویشیوں کی قربانیاں خداوند کے لئے لائیں۔
پہلے باب میں سوختنی قربانی کا بیان ہے۔ اِسرائیلی اپنی حیثیت کے مطابق تین قسم کے جانور خداوند کے حضور لا سکتے تھے۔ اپنے مویشیوں میں سے بیل (آیت ۳ قب آیت ۵) ریوڑ میں سے بے عیب مینڈھا یا برّہ (آیت ۱۰)۔ کبوتر یا قمری کا بے عیب نر بچہ (آیت ۱۴)۔ یہ سب پُراَمن مخلوق تھی، کسی قسم کا وحشی درندہ خداوند کی قربان گاہ پر پیش کرنے کی اِجازت نہ تھی۔
پیٹر پیل (Pell) کا خیال ہے کہ بیل ہمارے خداوند کی اِن معنوں میں علامت ہے کہ وہ صابر، نہ تھکنے والا محنتی کارندہ، اور کامل قربانی کی موت، اور کامل خدمت کی زندگی میں اپنے باپ کی مرضی کو پورا کرتا ہے۔ بھیڑ اِس صورت میں خداوند کی علامت ہے کہ وہ حلیم ہے اور وہ خدا کی مرضی کے تابع ہے، اور اُس نے کسی طرح سے فرماں برداری میں ہچکچاہٹ نہیں کی۔ بکری اِس صورت میں مسیح کی علامت ہے کہ وہ ہمارا فدیہ ہے۔ قمری یہ ظاہر کرتی ہے کہ ہمارا خداوند آسمانی ہے، اور وہ مردِ غم ناک ہے۔
قربانی دینے والے کے فرائض۔ وہ اپنی قربانی کا جانور خیمۂ اِجتماع کے دروازے پر پیتل کی قربان گاہ (آیت ۳) کے پاس لاتا، وہ اپنے ہاتھ قربانی کے جانور کے سر پر رکھتا (آیت ۴)، (وہ اپنا ہاتھ اُس پر رکھتا گویا کہ وہ اُس پر تکیہ کرتا ہے)۔ وہ بیل کو ذبح کرتا (آیت ۵) یا مینڈھے یا برّے کو (آیت ۱۱)، وہ جانور کی کھال اُتار کر اُس کے دو ٹکڑے کرتا (آیات ۶،۱۲)، وہ انتڑیوں اور پایوں کو پانی سے صاف کرتا (آیات ۹،۱۳)۔ آیت ۳ میں یہ ترجمہ بھی ہے ’’کہ اپنی آزاد مرضی سے۔‘‘ لیکن بعض انگریزی تراجم اور اُردو ترجمے میں یہ لکھا ہے: ’’مقبول ٹھہرے۔‘‘ آیت ۴ بھی ملاحظہ فرمایئے۔
کاہنوں کے فرائض۔ وہ جانور کے خون کو مذبح کے گردا گرد چھڑکتے (آیات ۵،۱۱)۔ وہ قربان گاہ پر آگ اور لکڑیاں رکھتے (آیت ۷) اور لکڑیوں پر بڑی ترتیب سے جانور کے حصوں کو رکھتے (آیات ۸،۱۲)۔ سوائے کھال کے جانور کے تمام حصے قربان گاہ پر جلا دیئے جاتے (آیت ۱۳؛ ۷:۸)۔ پرندوں کی قربانی کی صورت میں کاہن، پرندے کا سر مروڑ دیتا، اُس کے خون کو مذبح کے پہلو پر گرا دیتا، وہ اِس کے پوٹے کو آلائش سمیت قربان گاہ کے مشرق میں رکھ دیتا، وہ پرندے کے بدن کو چیرتا، لیکن اِسے ٹکڑے ٹکڑے نہ کرتا، اور اِسے قربان گاہ پر جلا دیتا۔ جلانے کے لئے وہی لفظ استعمال ہوا ہے جو بخور جلانے کے لئے برتا گیا ہے۔ لیکن خطا اور جرم کی قربانی کے سلسلے میں ایک مختلف لفظ استعمال ہوا ہے۔
قربانی کی تقسیم۔ جو کچھ قربان گاہ پر جلایا جاتا تو خدا کا حصہ تھا؛ کھال کاہن کو دی جاتی (۷:۸)۔ اِس مخصوص قربانی کا کوئی حصہ بھی قربانی گزراننے والے کو نہ دیا جاتا تھا۔
جو شخص سوختنی قربانی لاتا وہ خداوند سے اپنی مکمل اطاعت اور عقیدت کا اِظہار کرتا۔ ہمیں یہ بھی پتا چلتا ہے کہ یہ قربانی کئی مختلف موقعوں پر دی جاتی تھی (دیکھیں قاموس الکتاب)۔
خصوصی طور پر سوختنی قربانی مسیح کی قربانی کو ظاہر کرتی ہے، کیونکہ وہ بے عیب تھا اور اُس نے اپنے آپ کو خدا کے حضور پیش کر دیا۔ کلوری کی قربان گاہ پر خدا کا برّہ الٰہی اِنصاف کے شعلوں سے پورے طور پر جلا دیا گیا۔
مقدس کتاب
۱ اور خُداوند نے خیمہِ اجتماع میں سے موسیٰ کو بُلا کر اُس سے کہا۔
۲ بنی اسرائیل سے کہہ کر جب تم میں سے کوئی خُداوند کے لئے چڑھاوا چڑھا ئے تو تم چوپاں یعنی گائے بیل اور بھیڑ مکری کا چڑھاوا چڑھانا ۔
۳ اگر اُس کا چڑھاوا گائے بیل کی سوختنی قُربانی ہوتو وہ بے عیب نرکر لاکر اُسے خیمہ اجتماع کے دروازے پر چڑھائے تاکہ وہ خُود خُداوند کے حضور مقبول ٹھہرے ۔
۴ اور وہ سوختنی قُربانی کے جانور کے سر پر اپنا ہاتھ رکھے تب وہ اُس کی طرف سے مقبول ہوگا تاکہ اُس کے لئے کفارا ہو ۔
۵ اور وہ اُس بچھڑے کوخُداوند کے حضور ذبح کرے اور ہارون کے بیٹے جو کاہن ہیں خون کو لاکر اُسے اُس مذبح پر گرداگرد چھڑکیں جو خیمہ اجتماع کے دروازہ پر ہے ۔
۶ تب وہ اس سوختنی قُربانی کے جانور کی کھال کھینچے اور اُس کے غضو عُضوکو کاٹ کر جداجدا کرے ۔
۷ پھر ہارُون کاہن کے بیٹے مذبح پر آگ رکھیں اور آگ پر لکڑیاں ترتیب سے چُن دیں ۔
۸ اورہارُون کے بیٹے جو کاہن ہیں اُس کے اعضاکو اور سراورچربی کو اُن لکڑیوں پر جو مذبح کی آگ پر ہونگی ترتیب سے رکھ دیں ۔
۹ لیکن وہ اُس کی انتڑیوں اور پایوں کو پانی سے دھولے تب کاہن سب کو مذبح پر جلائے کہ وہ سوختنی قُربانی یعنی خُداوند کے لئے راحت انگیز خوشبو کی آتشین قُربانی ہو ۔
۱۰ اور اگر اُس کا چڑھاوار یوڑیں سے بھیڑ یا بکر ی کی سوختنی قُربانی ہو تو وہ بے عیب نرکو لائے ۔
۱۱ اور وہ اُسے مذبح کی شمالی سمت میں خُداوند کے آگے ذبح کرے اور ہارون کے بیٹے جو کاہن ہیں اُس کے خُون کو مذبح پر گردا گرد چھڑکیں ۔
۱۲ پھر وہ اُس کے عُضو عُضو کو اور سراور چربی کاٹ کر جداجدا کرے اور کاہن ان کو ترتیب سے ان لکڑیوں پر جو مذبح کی آگ پر ہونگی چن دے ۔
۱۳ وہ انتڑیوں اور پایوں کی پانی سے دھولے تب کاہن سب کو لیکر مذبح پر جلادے ۔ وہ سوختنی قُربانی یعنی خُداوند کے لئے راحت انگیزخوشبوکی آتشین کی آتشین قُربانی ہے ۔
۱۴ اور اگر اُس کا چڑھاوا خداوند کے لئے پرندوں کی سوختنی قربانی ہو تو وہ قمریوں یا کبُوتر کے بچوں کا چڑھاوا چڑھائے ۔
۱۵ اور کاہن اُس کا خُون مذبح کے پر لاکر اس کا سر مروڑ ڈالے اور اُسے مذبح پر جلادے اور اُس کا خُون مذبح کے پہلو پر گرجانے دے ۔
۱۶ اور اُس کے پوٹے کو آلایش سمیت لے جاکر مذبح کی مشرقی سمت میں راکھ کی جگہ میں ڈال دے ۔
۱۷ اور وہ اُس کے دونوں بازوؤں کو پکڑ کر اسے چیرے پر الگ الگ نہ کرے ۔ تب کاہن اسے مذبح پر اُن لکڑیوں کے اوپر رکھ کر جو آگ پر ہونگی جلادے ۔ وہ سوختنی قُربانی یعنی خداوند کے لئے راحت انگیز خوشبو کی آتشین قُربانی ہے ۔