ہ۔ پانچویں آفت۔ مویشیوں میں مری (۹:۱۔۷)
فرعون کو خبردار کرنے کے بعد خدا نے مری بھیجی، غالباً، یہ ایک بیماری تھی جس سے مصریوں کے کھیتوں میں سب مویشی مر گئے۔ لیکن اِسرائیلیوں کے مویشیوں پر اِس مری سے کچھ اثر نہ ہوا۔ چنانچہ فطری طور پر اِس اِمتیازی سزا کی وضاحت کرنا مشکل ہے۔ فطری بنیادوں پر تمام آفتوں کی تعبیر کرنا بہت مشکل ہے۔ مصریوں کے سارے مویشی نہیں مرے کیونکہ بعض ایک کے مرنے کا آیت ۱۹ میں ذکر کیا گیا ہے۔ اور کچھ بعد میں فسح کی رات (۱۲:۲۹ ب) کو مارے گئے۔ بعض ایک کو گھروں میں بھگا کر لے جایا گیا (آیت ۲۰)۔ چنانچہ آیت ۶ الف میں مذکور ’’سب‘‘ کا مطلب ہے ’’سب جو کھیتوں میں تھے‘‘ یا ’’سب قسم کے۔‘‘ بھیڑ، بکری اور گائے بیل مصر میں متبرک جانور تصور کئے جاتے تھے۔ اِن مرے ہوئے جانوروں کی بُو سے ماحول آلودہ ہو چکا تھا۔
و۔ چھٹی آفت۔ پھوڑے (۹:۸۔۱۲)
جب فرعون نے مزید اپنا دل سخت کر لیا، تو راکھ مصر کے آدمیوں اور جانوروں کے لئے پھوڑوں میں تبدیل ہو گئی۔ حتیٰ کہ جادو گر بھی اِس سے متاثر ہوئے۔ جس قدر فرعون نے اپنے دل کو سخت کیا، خدا نے اُس کے دل کو اَور سخت کر دیا۔
ز۔ ساتویں آفت۔ آگ اور اَولے (۹:۱۳۔۳۵)
’’اپنی سب بلائیں‘‘ کا غالباً مطلب ہے خدا کی آفتوں کا پورا زور۔ خداوند نے فرعون کو یاد دلایا کہ وہ اُسے اور اُس کی رعیت کو گذشتہ وبا سے مار سکتا تھا، لیکن اِس کے بجائے اُس نے اُس کو نہ مارا تاکہ وہ اپنی قوت کو ظاہر کرے اور اُس کا نام مشہور ہو جائے۔ آیت ۱۶ سے یہ ظاہر نہیں ہوتا کہ عذابِ الٰہی فرعون کا مقدر بن چکا تھا۔ سخت دِلی کسی کا مقدر نہیں۔ خداوند نے فرعون کو ایک مثال کے طور پر استعمال کیا کہ جو شخص خدا کی قوت کا مقابلہ کرتا ہے، اُس کا کیا انجام ہوتا ہے (رومیوں۹:۱۶،۱۷)۔
اگلی آفت اَولوں، بجلی اور آگ پر مشتمل تھی اور اِس کے ساتھ رَعد بھی تھی۔ اِس سے اِنسان، جانور، سن اور جَو تباہ ہو گئے کیونکہ یہ فصلیں تیار تھیں (آیات ۳۱،۳۲)۔ ’’پر گیہوں اور کٹھیا گیہوں مارے نہ گئے کیونکہ وہ بڑھے نہ تھے۔‘‘ جشن میں رہنے والے اسرائیلی اِس سے متاثر نہ ہوئے۔ فرعون کی درخواست کے جواب میں موسیٰ نے دعا کی تو یہ وبا ختم ہو گئی۔ لیکن موسیٰ کی توقع کے برعکس فرعون نے اپنے دل کو اَور سخت کر لیا اور عبرانیوں کو جانے کی اِجازت نہ دی۔
مقدس کتاب
۱ تب خداوند نے موسیٰ سے کہا فرعون کے پاس جا کر اُس سے کہہ کہ خداوند عبرانیوں کا خدا یوں فرماتا ہے کہ میرے لوگوں کو جانے دے تا کہ وہ میری عبادت کریں ۔
۲ کیونکہ اگر تُو انکار کرے اور اُن کو جانے نہ دے اور اب بھی اُن کو روکے رکھے ۔
۳ تو دیکھ خداوند کا ہا تھ تیرے چوپایوں پر جو کھیتوں میں ہیں یعنی گھوڑوں ،گدھوں،اونٹوں ،گائے بیلوں اور بھیڑ بکریوں پر ایسا پڑے گا کہ اُن میں بڑی بھاری مری پھیل جایئگی۔
۴ خداوند اسرائیل کے چوپایوں کو مصریوں کے چوپایوں سے جُدا کرے گا اور جوبنی اسرائیل کے ہے اُن میں سے ایک بھی نہیں مرے گا۔
۵ اور خداوند نے ایک وقت مقرر کر دیا اور بتا دیا کہ کل خداوند اس ملک میں یہی کام کرے گا ۔
۶ اور خداوند نے دوسرے دن ایسا ہی کیا اور مصریوں کہ سب چوپائے مر گئےلیکن بنی اسرائیل کے چوپایوں میں سے ایک بھی نہ مرا۔
۷ چنانچہ فرعون نے آدمی بھیجے تو معلوم ہوا کہ اسرائیلیوں کے چوپایوں میں سے ایک بھی نہیں مرا ہےلیکن فرعون کا دل متّصب تھا اور اُس نے لوگوں کو جانے نہ دیا۔
۸ اور خداوند نے موسیٰ اور ہارون سے کہا کہ تم دونوں بھّٹی کہ راکھ اپنی مٹھیوں میں لےلواور موسیٰ اُسے فرعون کے سامنے آسمان کی طرف اُڑا دے۔
۹ اور وہ سارے ملک مصر میں باریک گرد ہو کر مصر کے آدمیوں اور جانوروں کے جسم پر پھوڑے اور پھپولےبن جائے گی۔
۱۰ سو وہ بھٹّی کی راکھ لے کر فرعون کے آگے جا کھڑے ہوئے اور موسیٰ نے اُسے آسمان کی طرف اُڑا دیا اور وہ آدمیوں اور جانوروں کے جسم پر پھوڑے اور پھپولے بن گئی۔
۱۱ اور جادوگر پھوڑوں کے سبب سےموسیٰ کے آگے کھڑے نہ رہ سکے کیونکہ جادو گروں اور سب مصریوں کے پھوڑے نکلے ہوے تھے۔
۱۲ اور خداوند نے فرعون کے دل کو سخت کر دیا اور اُس نے جیسا خداوند نے موسیٰ سے کہہ دیا تھا اُن کی نہ سُنی ۔
۱۳ پھر خداوند نے موسیٰ سے کہہ کہ صبح سویرے اُتھ کر فرعون کے آگے جا کھٹرا ہو اور اُسے کہہ کہ خداوند عبرانیوں کا خدا یوں فرماتا ہے کہ میرے لوگوں کو جانے دے تاکہ وہ میری عبادت کرے ۔
۱۴ کیونکہ میں اب کی بار اپنی سب ملائیں تیرے دل اورتیر ے نوکروں اور تیری رعیّت پرنازل کرونگاتا کہ تُو جان لے کہ تمام دُنیا میں میری مانند کوئی نہیں ہے۔
۱۵ اور میں نے تو ابھی ہاتھ بڑھا کر تجھے اور تیری رعیّت کو وبا سے مارا ہوتا اور تُو زمین پر سے ہلاک ہو جاتا ۔
۱۶ پر میں نے تجھے فی الحقیقت اسلئے قائم رکھا ہے کہ اپنی قوت تجھے دکھائوں تا کہ میرا نام ساری دُنیا میں مشہور ہو جائے۔
۱۷ کیا تُو اب بھی میرے لوگوں کے مقابلہ میں تکّبر کرتا ہے کہ اُن کو جانے نہیں دیتا۔
۱۸ دیکھ میں کل سے اسی وقت ایسے بڑے بڑے اولے برساوُنگا جو مصر میں جب سے اُس کی بنیاد ڈالی گئی آج تک نہیں پڑے۔
۱۹ پس آدمی بھیج کر اپنے چوپایوں کو اور جو کچھ تیرا مال کھیتوں میں ہےاُس کو اندر کر لے کیونکہ جتنے آدمی اور جانور میدان میں ہونگے اور گھر میں نہیں پہنچائے جائیں گے اُن پر اولے پڑے گے اور وہ ہلاک ہو جائیں گے۔
۲۰ سو فرعون کہ خادموں میں جوجو خداوند کے کلام سے ڈرتا تھا وہ اپنے نوکروں اور چوپایوں کوگھر میں بھگا لے آیا۔
۲۱ اور جنہوں نے خداوند کے کلام کا لحاظ نہ کیا انھوں نے اپنے نوکروں اور چوپایوں کو میدان میں رہنے دیا۔
۲۲ اور خداوند نے موسیٰ سے کہہ کہ اپنا ہاتھ آسمان کی طرف بڑھا تاکہ سب ملک مصر میں نسان اور حیوان کھیت کی سبزی پر جو ملک مصر میں ہےاولے گریں۔
۲۳ اور موسیٰ نے اپنی لاٹھی آسمان کی طرف اُٹھائی اور خداوند نے رعد اور اولے بھیجےاور آگ زمین تک آنے لگی اور خداوند نے ملک مصر پراولے برسائے۔
۲۴ پس اولے گرے اوراولوں کے ساتھ آگ ملی ہوئی تھی اور وہ اولے ایسے بھاری تھے جب سے مصری قوم آباد ہوئی ایسے اولے ملک میں کبھی نہیں پڑے تھے۔
۲۵ اور اولوں نے سارے ملک مصر میں اُن کو جو میدان میں تھے کیا انسان کیا حیوان سب کو مارااور کھیتوں کی ساری سبزی کو بھی اولے مار گئےاور میدان کے بھی سب درختوں کو توڑ ڈالا۔
۲۶ مگر جشن کے علاقہ میں جہاں بنی اسرائیل رہتے تھے اولے نہیں گرے۔
۲۷ تب فرعون نے موسیٰ اور ہارون کو بلوا کر اُن سے کہا کہ میں نے اس دفعہ گناہ کیا۔خداوند صادق ہے اور میری قوم ہم دونوں بدکار ہے۔
۲۸ خداوند سے شفاعت کرو کیونکہ کہ یہ زور کا گرجنا اور اولوں کا برسنا بہت ہو چُکااور میں تم کو جانے دُونگااور تم اب رُکے نہیں رہو گے۔
۲۹ تب موسیٰ نے اُسے کہا کہ میں شہر سے باہر نکلتے ہی خداوند کے آگے ہاتھ پھیلاونگااور رعد موقوف ہوجائے گااور اولے بھی پھر نہ پڑنیگےتاکہ تُو جان لے کہ دُنیا خداوند کی ہی ہے۔
۳۰ لیکن میں جانتا ہوں کہ تُو اور تیرے نوکر اب بھی خداوند خدا سے نہیں ڈرو گے۔
۳۱ پس سُن اور جو کو تُو اولے مار گئےکیونکہ جو کی بالیں نکل چُکی تھی اور سُن میں پھول لگے ہوے تھے۔
۳۲ پر گیہوں اور کٹھیا گیہوں مارے نہ گےکیونکہ وہ بڑھے نہ تھے۔
۳۳ اور موسیٰ نے فرعون کے پاس سے شہر کے باہر جا کر خداوند کے آگے ہاتھ پھیلائے۔سو رعد اور اولے موقوف ہوگئےاور زمین پر بارش تھم گئی۔
۳۴ جب فرعون نے دیکھا کہ مینہ اور اولے اور رعد موقوف ہو گے تو اُس نے اور اُس کے خادموں نے اور زیادہ گناہ کیا کہ اپنا دل سخت کر لیا ۔
۳۵ اور فرعون کا دل سخت ہو گیا اور اُس نے بنی اسرائیل کو جیسا خداوند نے موسیٰ کی معرفت کہہ دیا تھا جانے نہ دیا۔