۳۔ منقسم سلطنت (ابواب ۱۲۔۲۲)
الف۔ یہوداہ کا بادشاہ رحبعام (۱۲: ۱۔۲۴)
سلیمان کے بیٹے رحبعام نے یہوداہ پر سترہ سال تک حکومت کی (۹۱۳۔۳۱/ ۹۳۰ ق م بمقابلہ ۱۔سلاطین ۱۲: ۲۰۔۲۴؛ ۲۔تواریخ ۱۱ اور ۱۲ باب)۔
۱۲: ۱۔۱۱ رحبعام سِکم کو گیا تاکہ اُسے بادشاہ بنایا جائے۔ جب یربعام نے سلیمان کی موت کی خبر سنی تو وہ مصر سے واپس آ گیا اور اِسرائیل کی ساری جماعت کے ساتھ سِکم کو گیا۔ اِسرائیل نے رحبعام سے شکایت کرتے ہوئے اپنا قطعی فیصلہ بھی سنا دیا: ’’تیرے باپ نے ہمارا جوأ سخت کر دیا تھا سو تُو اَب اپنے باپ کی اُس سخت خدمت کو اور اُس بھاری جوئے کو جو اُس نے ہم پر رکھا ہلکا کر دے اور ہم تیری خدمت کریں گے۔‘‘ اپنے دربار کی شان و شوکت کو قائم رکھنے کے لئے سلیمان نے جبری مشقت لی اور بھاری ٹیکس عائد کئے۔ وہ لوگ دراصل یہ کہہ رہے تھے ’’جن ٹیکسوں سے تیرے باپ نے ظلم کیا، اُنہیں کم کر دے تو ہم تیری خدمت کریں گے، ورنہ بغاوت کریں گے۔‘‘ رحبعام نے کہا کہ اُسے سوچنے کے لئے تین دن دیئے جائیں۔ اِن ایام کے دوران اُس نے پہلے تو عمر رسیدہ لوگوں سے مشورہ کیا۔ اُنہوں نے اُسے مشورہ دیا کہ وہ نرم دلی سے اُن کے ساتھ سلوک کرے تو وہ سدا اُس کے خادم بنے رہیں گے۔ لیکن اُس کے جوان مشیروں نے اُسے اِس کے متضاد مشورہ دیا کہ وہ مزید بھاری مطالبات سے اُنہیں دبا کر رکھے۔ یوں اُس کی چھنگلی سلیمان کی کمر سے موٹی ہو گی۔ اگر سلیمان نے اُنہیں کوڑوں سے ٹھیک کیا تو وہ اُنہیں نوکیلے کوڑوں سے ٹھیک کرے گا۔
۱۲: ۱۲۔۲۰ جب تیسرے دن یربعام اور اِسرائیل کی جماعت فیصلے کے لئے واپس آئی تو اُنہیں جوان مشیروں کے مشورے کے مطابق جواب دیا گیا۔ آیت ۱۵ اِس بات کی نشان دہی کرتی ہے کہ یہاں پر حالات نے پلٹا کھایا تاکہ اخیاہ سیلانی کی معرفت دیا ہوا کلام پورا ہو (۱۱: ۳۰۔۳۹)۔ اِس مقام پر دس قبائل نے رحبعام کے خلاف اعلانِ بغاوت کر دیا، حالانکہ اُن میں سے بعض ابھی تک یہوداہ کے علاقے میں رہ رہے تھے۔ رحبعام نے بیگاریوں کے ناپسندیدہ انچارج کو بھیجا کہ اُن اِسرائیلیوں کو مطیع کرے، لیکن اُنہوں نے اُسے سنگسار کر کے مار دیا۔ پھر دس قبائل نے یربعام کو اپنا بادشاہ بنایا۔ گو آیت ۲۰ میں یہ لکھا ہے کہ صرف یہوداہ کے قبیلے نے رحبعام کی پیروی کی، لیکن ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ بنیمین (آیت ۲۱)، شمعون (یشوع ۱۹:۱ ب) اور لاوی کے بیشتر لوگ یہوداہ میں شامل تھے۔
۱۲: ۲۱۔۲۴ رحبعام نے اِس بغاوت کو دبانے کے لئے اِن قبائل سے جنگ کا منصوبہ بنایا، لیکن اُس نے الٰہی حکم پر اپنے منصوبے کو ترک کر دیا۔ اِس سے قبل رحبعام نے اپنے بزرگوں کے مشورے کو نظر انداز کیا تھا، لیکن اب اُس نے خداوند کے مشورے پر کان دھرا۔ یوں بہت سے اِسرائیلیوں کی جانیں بچ گئیں۔ خداوند کے کلام سے تقسیم کا حکم دیا گیا اور خداوند کے کلام نے یقین دلایا کہ یہ تقسیم کشت و خون کے بغیر ہو گی۔
بادشاہت کی تقسیم
منقسم بادشاہت کی تاریخ یہاں سے شروع ہوتی اور ۲۔سلاطین تک جاری رہتی ہے۔ یربعام نے شمالی دس قبائل پر حکومت کی، جسے عموماً ’’اِسرائیل‘‘ کے نام سے پکارا جاتا ہے اور جسے انبیا کی کتابوں میں بعض اوقات ’’افرائیم‘‘ کہا گیا ہے۔ اِس سلطنت میں یکے بعد دیگرے نو شاہی خاندان اُٹھے۔ اِن کے تمام بادشاہ بدکار تھے۔
رحبعام نے جنوبی سلطنت پر حکومت کی جسے ’’یہوداہ‘‘ کے نام سے پکارا جاتا تھا۔ اِس سلطنت پر صرف ایک خاندان حکمران رہا۔ ہر بادشاہ داؤد کی نسل سے تھا۔ اِس بادشاہت کے ذریعے داؤد کے تخت کے حقیقی وارث مسیح کا نسب نامہ اُس کے سوتیلے باپ تک پہنچتا ہے (متی ۱ باب میں نسب نامہ ملاحظہ فرمائیے)۔ مقدسہ مریم کی معرفت وہ جسمانی طور پر داؤد کا بیٹا تھا جو خود داؤد کے اپنے بیٹے کی نسل سے تھی (لوقا باب ۳ میں نسب نامہ ملاحظہ فرمائیے)۔ اِن میں سے چند ایک بادشاہ نمایاں مصلحین تھے، گو اکثر بُرے بادشاہ تھے۔
| اِسرائیل اور یہوداہ کے بادشاہ | |||
| کا شاہی سلسلہ | اِسرائیل | کا شاہی سلسلہ | یہوداہ |
| ۱۔ | یربعام | ۱۔ | رحبعام |
| ندب | ابیام [ابیاہ] | ||
| ۲۔ | بعشا | آسا (اچھا) | |
| ایلہ | یہوسفط (اچھا) | ||
| ۳۔ | زمری | یہورام [یورام] | |
| ۴۔ | عمری ۔ تبنی | اخزیاہ | |
| اخی اَب | عتلیاہ ۔ غاصبہ | ||
| اخزیاہ | یہوآس [یوآس] (اچھا) | ||
| یورام [یہورام] | امصیاہ (اچھا) | ||
| ۵۔ | یاہو | عزیاہ [عزریاہ] (اچھا) | |
| یہوآخز | یوتام (اچھا) | ||
| یوآس | آخز | ||
| یربعام دوم | حزقیاہ (اچھا) | ||
| زکریاہ | منسی | ||
| ۶۔ | سلوم | امون | |
| ۷۔ | مناحم | یوسیاہ (اچھا) | |
| فقحیاہ | یہوآخز [سلوم] | ||
| ۸۔ | فقح | یہویاکیم [الیاقیم] | |
| ۹۔ | ہوسیع | یہویاکین [یکونیاہ، کونیاہ] | |
| صدقیاہ [متنیاہ] | |||
منقسم سلطنت کو چار اَدوار میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ پہلا، یہ کھلم کھلا تصادم کا دَور تھا جو یربعام (۱۔سلاطین ۱۲:۱) سے شروع ہو کر عمری تک اِختتام پذیر ہوتا ہے (۱۔سلاطین ۱۶:۲۸)۔ دوسرا، عمری (۱۔سلاطین ۱۶:۲۹) سے یاہو تک (۲۔سلاطین ۹ باب)۔ دونوں سلطنتوں میں صلح کا زمانہ رہا۔ تیسرا دَور، یاہو سے لے کر اسور میں اِسرائیل کی (۷۲۲ ق م) اسیری تک نسبتاً آزادی کا دَور رہا (۲۔سلاطین ابواب ۹۔۱۷)۔ آخری دَور، یہوداہ کی سلطنت بچ گئی۔ بالآخر ۵۸۶ ق م میں (۲۔سلاطین ابواب ۱۸۔۲۵) اِسے بابل کی اسیری میں لے جایا گیا۔
شمالی سلطنت قوم کی حیثیت سے کبھی بھی بحال نہ ہوئی۔ یہوداہ ستّر سال تک اسیری میں رہا۔ اِس کے بعد مختلف گروہ یروشلیم میں واپس آئے جیسا کہ عزرا اور نحمیاہ کی کتابوں میں بیان کیا گیا ہے۔ یوں جنوبی قبائل ایک غیر قوم حکمران کے حکم سے مسیح کی پیدائش سے تقریباً ۵۰۰ سال قبل ملک میں واپس آئے۔
عہد عتیق کی تاریخ کے اختتام پر یہودی اپنے ملک میں فارس کے ماتحت تھے۔ بعد ازاں فارس کو یونان نے فتح کیا اور یہودیوں پر اِس عالمی قوت نے حکمرانی کی۔ بالآخر یونانیوں کو رومی حکومت نے مطیع کر لیا۔ جب مسیح خداوند اِس دُنیا میں آیا تو اُس وقت یہ حکومت برسرِاقتدار تھی۔
منقسم سلطنت کے مطالعے کے دوران طالبِ علم اکثر تاریخوں کے بظاہر تضاد سے دو چار ہوتا ہے۔ اِن تواریخی مشکلات کے حل کا یہ جواب ہے کہ یہوداہ اور اِسرائیل میں ادوارِ حکومت کے شمار کے لئے مختلف طریقے استعمال کئے جاتے تھے۔ ایک اَور اہم وجہ یہ بھی تھی کہ کئی موقعوں پر دو بادشاہ کچھ عرصے کے لئے ساتھ ساتھ حکمرانی کرتے رہے۔
ہم منقسم سلطنت کا اِس ترتیب سے مطالعہ کریں گے جس کے مطابق بادشاہوں کی فہرست پیش کی گئی ہے اور ہر ایک بادشاہ کے دَورِ حکومت کے اہم واقعات بیان کریں گے۔
ب۔ اِسرائیل کا بادشاہ یربعام (۱۲: ۲۵۔۱۴:۲۰)
افرائیم کے قبیلے کے نباط کے بیٹے یربعام نے اِسرائیل کے بادشاہ کی حیثیت سے بائیس سال تک حکومت کی (۰۹/ ۹۱۰۔۳۰/ ۹۳۱ ق م)۔
(۱) یربعام کے باطل مذہبی مراکز(۱۲: ۲۵۔۳۳)
۱۲:۲۵۔۳۰ اِسرائیل کے پہلے بادشاہ نے شروع میں سِکم کو اپنا دارالسلطنت بنایا، اِس کے بعد یردن کے پار فنوایل کو تعمیر کیا۔ اِس خوف کے پیشِ نظر کہ اِسرائیلی عیدوں پر پرستش کے لئے یروشلیم کو جائیں گے اور یوں اُن کی وفاداریاں یہوداہ کے بادشاہ سے ہو جائیں گی، اُس نے اپنا مذہبی نظام ترتیب دیا۔ اُس نے دان اور بیت ایل میں پرستش کے نئے مرکز قائم کئے اور اِن دونوں مراکز میں سونے کے بچھڑے بنا کر رکھے اور اعلان کیا کہ یہ بت ہمارے دیوتا ہیں جو اِسرائیل کو مصر کی غلامی سے نکال کر لائے ہیں۔
۱۲: ۳۱۔۳۳ یربعام نے بت پرستی کے لئے اُونچے مقامات بھی بنائے۔ اُس نے ہر قسم کے لوگوں میں سے کاہن مقرر کئے حالانکہ خداوند کا حکم تھا کہ کاہن صرف لاوی کے قبیلے سے چنے جائیں۔ اُس نے ایک نیا مذہبی کیلنڈر بنایا جس میں ساتویں مہینے میں خیموں کی عید کی جگہ اُس نے آٹھویں مہینے کی پندرھویں تاریخ کو ایک بہت بڑی عید مقرر کی۔ اُس نے خود کاہن کے عہدے پر غاصبانہ قبضہ کر کے بیت ایل میں تعمیر کردہ مذبح پر قربانیاں گزرانیں۔
اِسرائیل کے بہت سے لوگوں نے اِن تبدیلیوں کو قبول کر لیا۔ اِس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اُن کے دل خداوند سے بہت دُور تھے۔ اُن کے آباو اجداد نے بھی اِس سے قبل ایک بچھڑے کی پرستش کی تھی جس کی اُنہیں سزا ملی (خروج ۳۲ باب)۔ سلیمان نے اونچے مقامات بنائے جس کے سبب سے اُس کی سلطنت کا بہت بڑا حصہ اُس سے چھن گیا (باب ۱۱)۔ قورح اور اُس کے ساتھیوں نے کہانت پر غاصبانہ قبضہ کرنے کی کوشش کی تو اُن کی جانوں کا نقصان ہوا (گنتی ۱۶)۔ یربعام نے اِن اختراعوں سے اپنی بادشاہت کا تحفظ کرنے کی کوشش کی، لیکن بالآخر وہ زوال پذیر ہوا۔ جو لوگ خداوند کو پیار کرتے تھے وہ اپنے بھائیوں کو اور اپنے گھر کی سہولتوں کو چھوڑ کر یہوداہ کو بھاگ گئے (۲۔ تواریخ ۱۱:۱۴۔۱۶)۔ کسی نے کیا خوب کہا ہے کہ ’’یربعام بادشاہ ہونے کے اِس قدر اچھے عہدے کا مستحق نہ تھا، لیکن اِسرائیلی اِس قدر بُرے شہزادے کے مستحق تھے۔‘‘
مقدس کتاب
۱ اور رجعام سِکم کو گیا کیونکہ سارا اسرائیل اُسے بادشاہ بنانے کو سِکم کو گیا تھا ۔
۲ اور جب نباط کے بیٹے یُربعام نے جو ہنوز مصر میں تھا یہ سُنا ( کیونکہ یُربعام سُلیمان بادشاہ کے حضور سے بھاگ گیا تھا اور وہ مصر میں رہتا تھا۔
۳ سو اُنہوں نے لوگ بھیجکر اُسے بُلوایا)۔ تو یُربعام اور اسرائیل کی ساری جماعت آکر رحبعام سے یوں کہنے لگی۔
۴ کہ تیرے باپ نے ہمارا جُوا سخت کر دیا تھا سو تُو اب اپنے باپ کی اُس سخت خدمت کو اور اُس بھاری جُوئے کو جو اُس نے ہم پر رکھا ہلکا کر دے اور ہم تیری خدمت کرینگے۔
۵ تب اُس نے اُن سے کہا ابھی تُم تین روز کے لیے چلے جاو تب پھر میرے پاس آنا ۔ سو وہ لوگ چلے گئے۔
۶ اور رحبعام بادشاہ نے اُن عُمر رسیدہ لوگوں سے جو اُسکے باپ سُلیمان کے جیتے جی اُسکے حضور کھڑے رہتے تھے مشورت لی اور کہا کہ اِن لوگوں کو جواب دینے کے لیے تُم مجھے کیا صلاح دیتے ہو؟
۷ اُنہوں نے اُس سے یہ کہا کہ اگر تُو آج کے دن اِس قوم کا خادم بن جائے اور اُنکی خدمت کرے اور اُنکو جواب دے اور اُن سے میٹھی باتیں کرے تو وہ سدا تیرے خادم بنے رہیں گے۔
۸ پر اُس نے اُن عمر رسیدہ لوگوں کی مشورت جو اُنہوں نے اُسے دی چھوڑ کر اُن جوانوں سے جو اُسکے ساتھ بڑے ہوئے تھے اور اُسکے حضور کھڑے تھے مشورت لی۔
۹ اور اُن سے پُوچھا کہ تُم کیا صلاح دیتے ہو تاکہ ہم اِن لوگوں کو جواب دے سکیں جنہوں نے مجھ سے یوں کہا ہے کہ اُس جوئے کو جو تیرے باپ نے ہم پر رکھا ہلکا کردے ؟
۱۰ اِن جوانوں نے جو اُسکے ساتھ بڑے ہوئے تھے اُس نے کہا تُو اُن لوگوں کو یوں جواب دینا جنہوں نے تُجھ سے کہا ہے کہ تیرے باپ نے ہمارے جوئے کو بھاری کیا تُو اُسکو ہمارے لیے ہلکا کر دے ۔ سو تُو اُن سے یوں کہنا کہ میری چھنگلی میرے باپ کی کمر سے بھی موٹی ہے ۔
۱۱ اور اب گو میرے باپ نے بھاری جُوا تُم پر رکھا ہے تو بھی مَیں تمہارے جوئے کو اور زیادہ بھاری کر دونگا ۔ میرے باپ نے تُم کو کوڑوں سے ٹھیک کیا میں تُم کو بچھووں سے ٹھیک بناونگا۔
۱۲ سو یُربعام اور سب لوگ تیسرے دن رحبعام کے پاس حاضر ہوئے جیسا بادشاہ نے اُنکو حکم دیا تھا کہ تیسرے دن میرے پاس پھر آنا۔
۱۳ اور بادشاہ نے اُن لوگوں کو سخت جواب دیا اور عمر رسیدہ لوگوں کی اُس مشورت کو جو اُنہوں نے اُسے دی تھی ترک کیا ۔
۱۴ اور جوانوں کی صلاح کے موافق اُن سے یہ کہا کہ میرے باپ نے تُم پر بھاری جُوا رکھا لیکن میں تُمہارے جوئے کو زیادہ بھاری کرونگا ۔ میرے باپ نےے تُمکو کوڑوں سے ٹھیک کیا پر مَیں تُم کو بچھووں سے ٹھیک بناونگا ۔
۱۵ سو بادشاہ نے لوگوں کی نہ سُنی کیونکہ یہ مُعاملہ خُداوند کی طرف سے تھا تاکہ خُداوند اپنی بات کو جو اُس نے سیلانی اخیاہ کی معرفت نباط کے بیٹے یُربعام سے کہی تھی پورا کرے ۔
۱۶ اور جب اسرائیل نے دیکھا کہ بادشاہ نے اُنکی نہ سُنی تو اُنہوں نے بادشاہ کو یوں جواب دیا کہ داود میں ہمارا کیا حصہ ہے ؟ یسی کے بیٹے میں ہماری میراث نہیں ۔ اے اسرائیل اپنے ڈیروں کو چلے جاو اور اب اے داود تُو اپنے گھر کو سنبھال ۔ سو اسرائیلی اپنے ڈیروں کو چل دیے ۔
۱۷ لیکن جتنے اسرائیلی یہوداہ کے شہروں میں رہتے تھے اُن پر رحبعام سلطنت کرتا رہا ۔
۱۸ پھر رحبعام بادشاہ نے ادورام کو بھیجا جو بیگاریوں کے اوپر تھا اور سارے اسرائیل نے اُسے سنگسار کیا اور وہ مر گیا ۔ تب رحبعام بادشاہ نے اپنے رتھ پر سوار ہونے میں جلدی کی تاکہ یروشلیم کو بھاگ جائے ۔
۱۹ یُوں اسرائیل داود کے گھرانے سے باغٰ ہُوا اور آج تک ہے۔
۲۰ اور جب سارے اسرائیل نے سُنا کہ یُربعام لَوٹ آیا ہے اُنہوں نے لوگ بھیج کر اُسے جماعت میں بُلوایا اور اُسے سارے اسرائیل کا بادشاہ بنایا اور یہوداہ کے قبیلہ کے سِوا کسی نے داود کے گھرانے کی پیروی نہ کی ۔
۲۱ اور جب رحبعام یروشلیم میں پہنچا تو اُس نے یہوداہ کے سارے گھرانے اور بنیمین کے قبیلہ کو جو سب ایک لاکھ اَسی ہزار چُنے ہوئے جنگی مرد تھے اکٹھا کیا تاکہ وہ اسرائیل کے گھرانے سے لڑ کر سلطنت کو پھر سُلیمان کے بیٹے رحبعام کے قبضہ میں کرا دیں ۔
۲۲ لیکن سمعیاہ کو جع مردِ خُدا کا یہ پیغام آیا ۔
۲۳ کہ یہوداہ کے بادشاہ سُلیمان کے بیٹے رحبعام اور یہوداہ اور بنیمین کے سارے گھرانے اور قوم کے باقی لوگوں سے کہہ کہ ۔
۲۴ خُداوند یوں فرماتا ہے کہ تُم چڑھائی نہ کرو اور نہ اپنے بھائیوں بنی اسرائیل سے لڑو بلکہ ہر شخس اپنے گھر کو لَوٹے کیونکہ یہ بات میری طرف سے ہے ۔ سو اُنہوں نے خُداوند کی بات مانی اور خُداوند کے حکم کے مطابق لَوٹے اور اپنا راستہ لیا۔
۲۵ تب یُربعام نے افرائیم کے کوہستانی مُلک میں سِکم کو تعمیر کیا اور اُس میں رہنے لگا اور وہاں سء نکل کر اُس نے قنو ایل کو تعمیر کیا ۔
۲۶ اور یُربعام نے اپنے دل میں کہا کہ اب سلطنت داود کے گھرانے میں پھر چلی جائے گی ۔
۲۷ اگر یہ لوگ یروشلیم میں خُداوند کے گھر میں قُربانی گذراننے کو جایا کریں تو اِنکے دل اپنے مالک یعنی یہوداہ کے بادشاہ رحبعام کی طرف مائل ہونگے اور وہ مُجھ کو قتل کر کے شاہِ یہوداہ رحبعام کی طرف پھر جائیں گے ۔
۲۸ اِس لیے اُس بادشاہ نے مشورت لیکر سوانے کے دو بچھڑے بنائے اور لوگوں سے کہا یروشلیم کو جانا تُمہاری طاقت سے باہر ہے ۔ اے اسرائیل اپنے دیوتاوں کو دیکھھ جو تُجھے مُلکِ مصر سے نکال لائے۔
۲۹ اور اُس نے ایک کو بیت ایل میں قائم کیا اور دوسرے کو دان میں رکھا ۔
۳۰ اور یہ گناہ کا باعث ٹھہرا کیونکہ لوگ اُس ایک پرستش کرنے کے لیے دان تک جانے لگے ۔
۳۱ اور اُس نے اونچی جگہوں کے گھر بنائے اور عوام میں سے جو بنی لاوی نہ تھے کاہن بنائے ۔
۳۲ اور یُربعام نے آٹھویں مہینے کی پندرھویں تاریخ کے لیے اُس عید کی طرح جو یہوداہ میں ہوتی ہے ایک عید ٹھہرائی اور اُس مذبح کے پاس گیا ۔ ایسا ہی اُس نے بیت ایل میں کِیا اور اُن بچھڑوں کے لیے جو اُس نے بنائے تھے قُربانی گذرانی اور اُس نے بیت ایل میں اپنے بنائے ہوئے اونچے مقاموں کے لیے کاہنوں کو رکھا ۔
۳۳ اور آٹھویں مہینے کی پندرھویں تاریخ کو یعنی اُس مہینے میں جسے اُس نے اپنے ہی دل سے ٹھہرایا تھا وہ اُس مذبح کے پاس جو اُس نے بیت ایل میں بنایا تھا گیا اور بنی اسرائیل کے لیے عید ٹھہرائی اور بخور جلانے کو مذبح کے پاس گیا ۔