۲سموئیل ۲

ب۔ یہوداہ کے بادشاہ کی حیثیت سے تاج پوشی (‏۲:‏ ۱۔۷)‏

۲:‏ ۱۔۷ جب ساؤل مر گیا اور اِسرائیل کا کوئی بادشاہ نہ تھا تب داؤد نے خداوند سے راہنمائی چاہی۔ اُسے بتایا گیا کہ وہ یہوداہ کے شہر حبرون کو جائے۔ وہاں یہوداہ کے باشندوں نے اُسے بادشاہ ہونے کے لئے مسح کیا۔ جب اُسے بتایا گیا کہ یبیس جلعاد کے لوگوں نے کس قدر عقیدت سے ساؤل کو دفن کیا‏، تو داؤد نے اُنہیں فوری طور پر شکریے کا پیغام بھیجا۔ یوں بالواسطہ اُنہیں دعوت دی گئی کہ وہ اُسے بادشاہ تسلیم کریں‏، جیسا کہ یہوداہ کے قبیلے نے کر لیا ہے۔

ج۔ ساؤل کے گھرانے سے تصادم (‏۲:‏ ۸۔۴:‏۱۲)‏

۲:‏ ۸۔۱۱ لیکن اِسرائیل کے تمام قبیلے داؤد کو اپنا بادشاہ تسلیم کرنا نہیں چاہتے تھے۔ ساؤل مرحوم کے سپہ سالار ابنیر اور اُس کے چچا نے ساؤل کے بچ جانے والے واحد بیٹے اِشبوست کو بادشاہ بنانے کا اعلان کر دیا۔ ساڑھے سات سال تک داؤد نے صرف یہوداہ کے قبیلے پر بادشاہی کی۔ اِس عرصے کے دوران اُس کی سلطنت کا صدر مقام حبرون تھا۔ تاہم اِن سالوں میں صرف دو سال تک اِشبوست نے باقی گیارہ قبیلوں پر حکمرانی کی۔ ممکن ہے کہ ابنیر کو اِسرائیل میں سے فلستیوں کو نکالنے اور اِشبوست کو اُس کے باپ کے تخت پر مستحکم کرنے میں پانچ سال لگے ہوں۔ 

داؤد نے کبھی بھی تخت پر اپنے حق کا پُرزور دعویٰ نہ کیا۔ نہ وہ اَب ہی کرتا ہے بلکہ وہ اپنا معاملہ خداوند کے ہاتھ میں چھوڑ دیتا ہے۔ یہوواہ نے اُسے بادشاہ ہونے کے لئے مسح کیا تھا‏، تو یہوواہ ہی اُس کے دشمنوں کو مطیع کرے گا اور اُسے پورے ملک پر قبضہ عطا کرے گا۔ بعینہٖ خداوند یسوع تمام دُنیا پر بادشاہی کرنے کے لئے باپ کے وقت کا اِنتظار کر رہا ہے۔ اِس وقت بنی نوعِ اِنسان کی ایک اقلیت ہی اُس کی حکومت کو تسلیم کرتی ہے‏، لیکن وقتِ مقررہ پر ہر ایک گھنٹا یسوع کے نام پر جھکے گا اور ہر ایک زبان اِقرار کرے گی کہ یسوع مسیح خداوند ہے (‏فلپیوں ۲:‏ ۱۰‏،۱۱)‏۔

۲:‏ ۱۲۔۱۷ ایک دن اِسرائیلی فوجوں (‏۱۱ قبائل)‏ کے سپہ سالار ابنیر بِن نیر کی ملاقات داؤد کے سپاہیوں کے فوجی لیڈر یوآب بِن ضرویاہ سے ہوئی۔ وہ تالاب پر آمنے سامنے بیٹھے‏، اور اُنہوں نے فیصلہ کیا کہ اُن کے چند آدمی مقابلہ کریں تاکہ معلوم ہو کہ کون زور آور ہے۔ جب ابنیر نے مشورہ دیا کہ جوان اُٹھیں اور مقابلہ کریں‏، تو اُسے یہ توقع نہیں تھی کہ وہ مقابلہ کریں گے۔ یہ جنگی نوعیت کا مقابلہ تھا۔ بارہ بنیمینیوں نے یہوداہ کے بارہ آدمیوں سے لڑائی کر کے ایک دوسرے کو ہلاک کر ڈالا۔ چونکہ مقابلہ فیصلہ کُن نہیں تھا‏، اِس لئے باقی آدمیوں میں سخت جنگ چھڑ گئی جس کا یہ نتیجہ ہوا کہ ابنیر کے لوگ شکست کھا کر بھاگ گئے۔ 

۲:‏ ۱۸۔۲۳ یوآب کے ایک سبک پا عساہیل نامی بھائی نے ابنیر کو قتل کرنے کی غرض سے اُس کا تعاقب کیا۔ پہلے تو ابنیر نے عساہیل کو ترغیب دینے کی کوشش کی کہ کسی ایک نوجوان کو فتح کر کے مطمئن ہو جائے۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ ابنیر کا خیال تھا کہ وہ بڑی آسانی سے عساہیل کو قتل کر سکتا ہے‏، لیکن وہ ایسا نہیں کرنا چاہتا تھا کیونکہ یہ اقدام یوآب کو اَور زیادہ مشتعل کرنے کے مترادف تھا۔ جب عساہیل نے ابنیر کی دوسری اپیل پر کان نہ دھرا بلکہ اُس کا تعاقب کرنے سے باز نہ آیا‏، تو ابنیر نے اپنے دفاع میں اُسے اپنے بھالے کے پیچھے سرے سے قتل کر دیا۔ 

۲:‏ ۲۴۔۳۲ یوآب اور اُس کے دوسرے بھائی ابی شے نے تعاقب جاری رکھا حتیٰ کہ وہ کوہِ اَمّہ تک پہنچ گئے۔ وہاں ابنیر نے یوآب سے درخواست کی کہ وہ اِس غیر ضروری خانہ جنگی کو ختم کر دے۔ یوآب کے جواب کے دو مطلب ہو سکتے ہیں:‏ اوّل‏، کہ اگر ابنیر شروع میں چیلنج (‏آیت ۱۴ میں)‏ نہ کرتا‏، تو جوان اپنے گھروں کو آرام سے لوٹ جاتے۔ یا پھر NIV (‏New International Version )‏کے مطابق یہ کہ اگر ابنیر التوائے جنگ کی دعوت نہ دیتا‏، تو جوان صبح تک اپنے بھائیوں کا تعاقب جاری رکھتے۔ بہرکیف یوآب لڑائی بند کرنے پر متفق ہو گیا۔ ابنیر اور اُس کے آدمی دریائے یردن کے مشرق میں محنایم پہنچے جہاں اشبوست کا پایۂ تخت تھا۔ اُس کے تین سو ساٹھ آدمی ہلاک ہو گئے تھے۔ یوآب اور اُس کے سپاہی حبرون کو واپس لوٹے۔ اُن کے اُنیس آدمی کم نکلے۔ 

مقدس کتاب

۱ اور اِسکے بعد اَیسا ہُؤا کہ دؔاؤد نے خُداوند سے پُوچھا کہ کیا مَیں یہُؔودا ہ کے شہروں میں سے کِسی میں چلا جاؤُں ؟ خُداوند نے اُس سے کہا جا۔ دؔاؤد نے کہا کِدھر جاؤُں؟ اُس نے فرمایا جبؔروُن کو۔
۲ سو داؔؤد مع اپنی دونوں بیِویوں یزرعیلی اِخیؔنوعم اور کرؔملی ناؔبال کی بیوی اِؔبیجیل کے وہاں گیا۔
۳ اور داؔؤد اپنے ساتھ کے آدمیوں کو بھی ایک ایک کے گھرانے سمیت وہاں لے گیا اور وہ جبؔرُون کے شہروں میں رہنے لگے۔
۴ تب یُہؔوداہ کے لوگ آئے اور وہاں اُنہوں نے داؔؤد کو بتایا کہ یؔبِیس جلعاد کے لوگوں نے ساؔؤل کو دفن کیا تھا ۔
۵ سو داؔؤد نے یبؔیس جلعاد کے لوگوں کے پاس قاصدروانہ کیٹے اور اُنکو کہلا بھیجا کہ خُداوند کی طرف سے تُم مُبارک ہو اِسلئِے کہ تُم نے اپنے مالِک ساؔؤل پر یہ اِحسان کیا اور اُسے دفن کیا۔
۶ سو خُداوند تُمہارے ساتھ رحمت اور سّچائی کو عمل میں لائے اور مَیں بھی تُم کو اِس نیکی کا بدلہ دُونگا اِسلئِے کہ تُم نے یہ کام کیا۔
۸ پس تُمہارے بازُو قوی ہو اور تُم دِلیر رہو کیونکہ تمہارا مالِک ساؔؤل مر گیا اور یؔہوداہ کے گھرانے نے مسح کر کے مُجھے اپنا بادشاہ بنایا ہےَ۔
۷ لیکن نؔیر کے بیٹے اؔبنیر نے جو ساؔؤل کے لشکر کا سردار تھا ساؔؤل کے بیٹے اِشؔبو ست کو لیکر اُسے محؔنایم میں پہنچایا۔
۹ اور اُسے جِلعؔاد اور آشریوں اور یزرؔعیل اور اِفؔرائیم اور بِنیمؔین اور تمام اِسؔرائیل کا بادشاہ بنایا۔
۱۰ (اور سؔاؤل کے بیٹے اِشؔبوست کی عُمر چالیس برس کی تھی جب وہ اِؔسرائیل کا بادشاہ ہُوا اور اُس نے دو برس بادشاہی کی) لیکن یؔہُوداہ کے بھرانے نے داؔؤد کی پَیروی کی۔
۱۱ اور داؔؤد جبؔرُون میں بنی یُہوداہ پر سات برس چِھ مہینے تک حُکمران رہا۔ پھر نیؔر کا بیٹا ابؔنیر اور سؔاؤل کے بیٹے اِؔشبوست کے خادم مؔحنایم سے جبؔعون میں آئے
۱۲ ۔
۱۳ اور ضؔرویاہ کا بیٹا یوؔآب اور داؔؤد کے مُلازِم نِکلے اور جؔبعون کے تالاب پر اُ ن سے ملے اور دونوں فِریق بیٹھ گئے۔ ایک تالاب کی اِس طرف اور دُوسرا تلاب کی دُوسری طرف ۔
۱۴ تب اؔبنیر نے یُوآب سے کہا ذرا یہ جوان اُٹھکر ہمارے سامنے کھیلیں ۔ یؔوآب نے کہا اُٹھیں ۔
۱۵ تب وہ اُٹھ کر تعاد کے مُطابق آمنے سامنے ہُوئے یعنی ساؔؤل کے بیٹے اِشبوؔست اور بینمؔین کی طرف سے بارہ جوان اور داؔؤد کے خادِموں میں سے بارہ آدمی ۔
۱۶ اور اُنہوں نے ایک دُوسرے کا سر پکر کر اپنی اپنی تلوار اپنے مُخالف کے پہلوُ میں بھونک دی ۔ سو وہ ایک ہی ساتھ گِرے اِسلئِے وہ جگہ حلؔقت ہصّوریم کہائی وہ جِبؔعون میں ہے ۔
۱۸ اور اُس روز بڑی سخت لڑائی ہُوئی اور اؔبنیر اور اِؔسرائیل کے لوگوں نے داؔؤد کے خادِموں سے شکست کھائی ۔
۱۷ اور ضؔرویاہ کے تینوں بیٹے یوؔآب اور اِبؔی شے اور عؔساہیل وہاں مَوجُود تھے اور عَساہیل جنگلی ہرن کی مانِند سُبک پاتھا ۔
۱۹ اور عؔساہیل نے ابنؔیر کا پیچھا کیا اور اؔبنیر کا پیچھا کرتے وقت وہ دہنے یا بائیں ہاتھ نہ مُڑا۔
۲۰ تب اؔبنیر نے پانے پیچھے نظر کرکے اُس سے کہا اَے عؔساہیل ! کیا تُو ہے ؟ اُس نے کہا ہاں ۔
۲۱ اؔبنیر نے اُس سے کہا اپنی دہنی یا بائیں سِمت کو مُڑ جا اور جاوانوں میں سے کِسی کو پکڑ کر اُسکے ہتھیار لوُٹ لے پر عؔساہیل اُسکا پیچھا کرنے سے باز نہ آیا ۔
۲۲ اؔبنیر نے عساہیل سے پھر کہا میرا پیچھا کرنے سے پاز رہ۔ مَیں کَیسے تُجھے زمین پر مار کر خال دُوں کیونکہ پھر مَیں تیرے بائی ی؎ؤب کو کیا مُنہ دِکھاؤُنگا؟۔
۲۳ اِس پر بھی اُس نے مُڑنے سے اِنکار کیا۔ تب اؔبنیر نے اپنے بھالے کے پچھلے سِرے سے اُسکے پیٹ پر اَیسا مارا کہ وہ پار ہوگیا۔ سو وہ وہاں گِرا اور اُسی جگہ مر گیا اور اَیسا ہُؤا کہ جِتنے اُس جگہ آئے جہاں عؔساہیل گِر کر مرا تھا وہ وہیں کھڑے رہ گئے ۔
۲۴ لیکن یؔوؤب اور اؔبی شے اؔبنیر کا پیچھا کرتے رہے اور جب وہ کوہِ اؔمہّ تک جو دشتِ جبؔعُون کے راستہ میں جباؔح کے مُقابل ہے پُہنچے تو سُورج ڈُوب گیا۔
۲۵ اور بنی بِنیمین اؔبنیر کے پیچھے اِکٹھے ہُوئے اور یاک دستہ بن گئے اور ایک پہاڑ کی چوٹی پر کھڑے ہوئے ۔
۲۶ تب اؔبنیر نے یؔوآب کو پُکار کر کہا کیا تلوار ابدتک ہلاک کرتی رہے؟ کیا تُو نہیں جانتا کہ اِسکا انجام کڑواہٹ ہوگا؟ تو کب لوگوں کو حُکم دیکگا کہ اپنے بھائیوں کا پیچھا چوڑ کر لَوٹ جائیں ؟۔
۲۸ یُوآؔب نے کاہ زِندہ خُدا کی قسم اگر تُو نہ بولا ہوتا تو لو گ صبح ہی کو ضرُور چلے جاتے اور اپنے بھائیوں کا پیچھا نہ کرتے۔
۲۷ پھر یوؔآب نے نرسِنگا پھوُنکا اور سب لوگ ٹھہر گئے اور اِؔسرائیل کا پیچھا پھر نہ کیا اور پھر لڑے ۔
۲۹ اور اؔبنیر اور اُسکے لوگ اُس ساری رات مَیدان میں چلے اور یرؔدن کے پار ہُوئے اور سب بِتؔرون سے گُذر کر مؔحنایم میں آپہنچے ۔
۳۰ اور یوؔآب ابؔنیر کا پیچھا چوڑ کر لَوٹا اور اُس نے جو سب آدمیوں کو جمع کیا تو داؔؤد کے مُلازِموں میں سے اُنیس آدمی اور عؔساہیل کم نِکلے ۔
۳۱ پر داؔؤد کے مُلازموں نے بنیمین میں سے اور ابؔنیر کے لوگوں میں سے اِتنے مار دِئے کہ تین سَو ساٹھ آدمی مر گئے ۔
۳۲ اور اُنہوں نے عؔساہیل کو اُٹھا کر اُسے اُسکے باپ کی قبر میں جو بَیت لحؔم میں تھی دفن کِیا اور یوؔآب اور اُسکے لوگ ساری رات چلے اورحؔبرُون پہُنچکر اُنکو دِن نِکلا۔