ہ۔ جدعون (۶: ۱۔۸:۳۲)
(۱) خدمت کے لئے جدعون کی بلاہٹ (باب ۶)
۶: ۱۔۶ اگلی گردش میں مدیانیوں نے اِسرائیلیوں پر ظلم کیا۔ یہ لُوٹ مار کرنے والے بدوگروہ تھے، جو اِسرائیلی فصلوں پر حملہ کرتے، اور ٹڈیوں کی طرح فصلوں کو چٹ کر جاتے اور مویشیوں کو چرا لے جاتے۔ اِسرائیل کی برگشتگی کا نتیجہ غربت، غلامی اور خوف کی صورت میں نکلا تھا۔ جن لوگوں پر کسی وقت بنی اِسرائیل نے فتح حاصل کی تھی، اَب وہ اُن کے آقا بن چکے تھے۔ جب ہم مسیحی کی حیثیت سے خداوند سے برگشتہ ہوتے ہیں تو پرانی عادات ہمیں غلام بنا کر روحانی غربت میں دھکیل دیتی ہیں۔
۶: ۷۔۱۶ جب بنی اِسرائیل نے مدد کے لئے خداوند سے فریاد کی تو پہلے ایک نبی بھیجا گیا تاکہ اُن کی بت پرستی کے متعلق اُنہیں یاد دلایا جائے۔ تب خداوند کا فرشتہ جو ہماری دانست میں قبل از تجسم خود مسیح (نیچے مضمون ملاحظہ فرمائیے) خداوند تھا منسی کے گھرانے کے جدعون نامی ایک شخص پر ظاہر ہوا، جب وہ چھپ کر مدیانیوں کے ڈر سے مے کے کولھو میں گیہوں جھاڑ رہا تھا۔ فرشتے نے اِس ’’زبردست سورما‘‘ کو بتایا کہ وہ اِسرائیل کو مدیانیوں کے ہاتھ سے مخلصی دلائے گا۔ جدعون کے اِحتجاج کے باوجود فرشتے نے اُسے پُرزور الفاظ میں بتایا کہ اُسے اِس اہم کام کے لئے بلایا گیا ہے۔
خداوند کا فرشتہ
’’خداوند کا فرشتہ‘‘ کی اِصطلاح سے مراد تجسم کے ظہور سے قبل خداوند یسوع مسیح ہے۔ جن پاروں میں اُس کا ذکر کیا گیا ہے، اُن کے مطالعہ سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ وہ تثلیث کا دوسرا اقنوم ہے۔
اوّل، کتابِ مقدس ظاہر کرتی ہے کہ وہ خدا ہے۔ جب وہ ہاجرہ پر ظاہر ہوا، اُس نے اُسے پہچان لیا کہ وہ خدا کی حضوری میں ہے اور اُس نے اُسے ’’خدائے بصیر‘‘ کہا (پیدائش ۱۶:۱۳)۔ کوہِ موریا پر ابرہام سے باتیں کرتے ہوئے، فرشتے نے اپنے آپ کو ’’خداوند‘‘ (عبرانی یاوے، یا یہوواہ؛ پیدائش ۲۲:۱۶) کے طور پر ظاہر کیا۔ فرشتے نے یعقوب سے اپنے آپ کو متعارُف کراتے ہوئے کہا کہ وہ بیت ایل کا خدا ہے (پیدائش ۳۱: ۱۱۔۱۳)۔ یوسف کو برکت دیتے ہوئے اِسرائیل نے خدا اور ’’فرشتہ‘‘ کے نام استعمال کئے (پیدائش ۴۸: ۱۵،۱۶)۔ جلتی ہوئی جھاڑی میں یہ خداوند کا فرشتہ تھا جو ظاہر ہوا (خروج ۳:۲)، لیکن موسیٰ نے ’’اپنا منہ چھپایا کیونکہ وہ خدا پر نظر کرنے سے ڈرتا تھا‘‘ (خروج ۳:۶)۔ خداوند جو اِسرائیل کے آگے بادل کے ستون میں چلتا تھا ’’خداوند کا فرشتہ‘‘ (خروج ۱۴:۱۹) تھا۔ جدعون ڈرتا تھا کہ وہ مر جائے گا کیونکہ اُس نے خدا کے فرشتہ یعنی خدا کو دیکھا ہے (قضاۃ ۶:۲۲،۲۳)۔ خدا کے فرشتے نے منوحہ کو بتایا کہ اُس کا نام عجیب ہے (۱۳:۱۸)، یہ خدا کے ناموں میں سے ایک نام ہے (یسعیاہ ۹:۶)۔ جب یعقوب نے فرشتے سے کشتی لڑی، تو اُس نے خدا سے کشتی لڑی (ہوسیع ۱۲: ۳،۴)۔ یہ ثبوت اِس اَمر کے لئے قائل کرتے ہیں کہ پرانے عہدنامے میں جب ’’خداوند کے فرشتے‘‘ کا ذکر آتا ہے، تو اِس سے مراد خداوند یسوع مسیح ہے۔
جان ایف۔ والورڈ (Walvoord) اِس حقیقت کی حمایت میں چار ثبوت پیش کرتا ہے:
- ’’ عہد جدید میں دوسرا اقنوم واضح خدا ہے۔
- عہد عتیق کا ’یہوواہ کا فرشتہ‘ مسیح کے تجسم کے بعد دوبارہ نہیں آتا۔
- یہوواہ کے فرشتے اور مسیح دونوں کو باپ نے بھیجا ہے۔
- یہوواہ کا فرشتہ نہ تو باپ اور نہ روح القدس ہی ہو سکتا ہے کیونکہ باپ اور روح القدس دونوں اِنسان کے لئے نادیدنی ہیں، اور دونوں کی صفات غیر مادی ہیں۔‘‘
وہ نتیجے میں کہتا ہے کہ’’ اِس بات کا اِنکار کرنے کی کوئی گنجائش نہیں ہے کہ یہوواہ کا فرشتہ ذاتِ الٰہی کا دوسرا اقنوم ہے۔ ہر ایک حقیقت اِس اَمر کی نشان دہی کرتی ہے کہ وہ عہد جدید کا مسیح ہے۔‘‘
۶: ۱۷۔۲۴ اِس احساس کے تحت کہ وہ خداوند سے باتیں کر رہا ہے، جدعون نے نشان مانگا۔ تب اُس نے بکری کے ایک بچے اور فطیری روٹیوں کی نذر تیار کی۔ جب خدا کے فرشتے نے اِس نذر کو اپنے عصا کی نوک سے چھوا اور یہ آگ سے بھسم ہو گئی تو جدعون کو معلوم ہوا کہ وہ خداوند کی حضوری میں ہے اور وہ ڈرا کہ وہ مر جائے گا۔ لیکن خداوند نے اُسے اِن الفاظ کے ساتھ تسلی دی کہ ’’تیری سلامتی ہو۔‘‘ پھر جدعون نے وہاں ایک مذبح بنایا جس کا اُس نے یہوواہ سلوم نام رکھا (یعنی خداوند سلامتی ہے)۔
۶: ۲۵۔۳۲ خداوند کی فرماں برداری کے طور پر اُس رات جدعون نے بعل کے مذبح کو ڈھا دیا جو اُس کے باپ نے کھڑا کیا تھا اور اِس کے ساتھ یسیرت کو بھی ڈھا دیا، اور اُن کی جگہ یہوواہ کے نام کا ایک مذبح بنایا۔ صبح کو شہر کے باشندے اُس کے اِس فعل کے لئے اُسے مار ڈالنے کے درپے تھے۔ لیکن اُس کے باپ یوآس نے مداخلت کرتے ہوئے کہا کہ اگر بعل سچا خدا ہے تو وہ خود اپنا دِفاع کرے۔ یوآس نے اعلان کیا کہ اگر کوئی شخص بعل کی طرف سے جھگڑا کرے تو وہ مارا جائے۔ جدعون کا نام یربعل پڑ گیا جس کا مطلب ہے ’’بعل خود اُس سے جھگڑا کرے۔‘‘
شاید بعض لوگ اِسے جدعون کی غلطی تصور کریں کہ اُس نے ڈر کے مارے رات کے وقت مذبح ڈھایا۔ لیکن ہم اِس حقیقت سے چشم پوشی نہ کریں کہ اُس نے خداوند کی فرماں برداری تو کی۔ اُس کے ڈر نے اُسے فرماں برداری سے نہ روکا۔ ہم سب میں خوف اور ڈر تو موجود ہے، لیکن ڈر بذاتہٖ غلط نہیں ہے۔ لیکن جب یہ خداوند کی فرماں برداری میں رُکاوٹ بن جاتا ہے، تو یہ ایمان میں رکاوٹ ہے اور یہ گناہ ہے۔
۶: ۳۳۔۳۵ اِس وقت مدیانی، عمالیقی اور اہلِ مشرق اکٹھے ہوئے، اور یردن کو پار کر کے یزرعیل کی وادی میں ڈیرے لگائے کہ اِسرائیل سے جنگ کریں۔ خداوند کی رُوح جدعون پر نازل ہوئی اور اُس نے منسی، آشر، زبولون اور نفتالی کے قبیلوں میں سے فوج تیار کی۔ ابی عزر (آیت ۳۴) جدعون کے آبا و اجداد میں سے تھا۔ اُس کا نام یہاں (عبرانی متن میں ) خاندانی نام کے طور پر استعمال کیا گیا ہے۔
۶: ۳۶۔۴۰ جنگ میں جانے سے پہلے جدعون خداوند سے فتح کی تصدیق چاہتا تھا۔ پہلی تصدیق یہ ہو کہ اوس اُس کی اُون پر پڑے اور اِس کے اِرد گرد کی زمین خشک رہے۔ دوسری تصدیق یہ ہو کہ آئندہ رات اوس اون پر نہیں بلکہ زمین پر پڑے۔
جدعون کی اُون کے بارے میں مسیحی اکثر غلط فہمی کا شکار ہوئے ہیں۔ اِس واقعے سے متعلق ہمیں دو باتوں کو اپنے ذہن میں رکھنا چاہئے۔ اوّل، جدعون کی اُون پر راہنمائی کے لئے نہیں بلکہ تصدیق کے لئے نگاہیں جمی ہوئی تھیں۔ خدا تو اُسے پہلے بتا چکا تھا کہ وہ کیا کرنے کو ہے۔ جدعون محض کامیابی کی یقین دہانی کا متمنی تھا۔ وہ لوگ جو خداوند کی مرضی کو معلوم کرنے کے لئے اُون یعنی کوئی چیز بھی استعمال کرتے ہیں، وہ اِس پارے کا غلط اطلاق کرتے ہیں۔ دوم، جدعون کوئی فطری نہیں بلکہ فوق الفطرت نشان مانگ رہا تھا۔ فطری طور پر جدعون جس بات کا تقاضا کر رہا تھا وہ خدا کی براہِ راست مداخلت کے بغیر ظہور پذیر نہیں ہو سکتی تھی۔ آج کل لوگ مختلف چیزوں کو ’’اُون‘‘ کے طور پر استعمال کرتے ہیں جو بغیر الٰہی مداخلت کے فطری طور پر رُونما ہو سکتی ہیں۔ اِس کہانی کا استعمال کرنے کا یہ بھی ایک غلط طریقہ ہے۔ ہم یہاں دیکھتے ہیں کہ خدا ایک کمزور ایمان والے شخص کو اُس کی فتح کے بارے میں یقین دلاتا ہے۔ خدا آج بھی ہماری دعاؤں کے جواب میں ہمیں ایسی یقین دہانی کرا سکتا اور کراتا ہے۔
مقدس کتاب
۱ اور بنی سرائیل نے خدا وند کے آگے بدی کی اور خداوند نے ان کو سات برس تک مدےانےوں کے ہاتھ میں رکھا۔
۲ اور مدےانےوں کا ہاتھ اسرائیلےوں پر غالب ہو ااور مدےانےوں کے سبب سے بنی سرائےل نے اپنے لئے پہا ڑوں میں کھوہ اور غار اور قلعے بنالئے۔
۳ اور اےسا ہوتا تھا کہ جب بنی اسرائیل کچھ بوتے تھے تو مدےانی اور عمالیقی اور اہل مشرق ا ±ن پر چڑھ آتے ۔
۴ اورا ±ن نے مقابل ڈےرے لگا کرغزہ تک کھیتوں کی پیداوار کو برباد کر ڈالتے اور بنی اسرائیل کےلئے نہ تو کچھ معاش نہ بھیڑ بکری نہ گائے بیل نہ گدھا چھوڑتے تھے۔
۵ کیونکہ وہ اپنے چوپاﺅں اور ڈیروں کو ساتھ لے کر آتے اور ٹڈیوں کے دل کی مانند آتے اور وہ اور ان کے اونٹ بے شمار ہوتے تھے۔ یہ لوگ ملک کو تباہ کرنے کےلئے آ جاتے تھے۔
۶ سو اسرائیلی مدیانیوں کے سبب سے نہایت خسہ حال ہوگئے اور بنی اسرائیل خداوند سے فریاد کرنے لگے۔
۷ اور جب بنی سرائیل مدیانیوں کے سبب سے خداوند سے فریاد کرنے لگے ۔
۸ تو خداوند نے بنی اسرائیل کے پاس ایک نبی کو بھیجا۔ اس نے ان سے کہا کہ خداوند اسرائیل کا خدا یوں فرماتا ہے کہ میں تم کو مصر سے لایا اور میں نے تم کوغلامی کے گھر سے باہر نکالا۔
۹ میں نے مصریوں کے ہاتھ سے ان سبھوں کے ہاتھ سے جو تم کو ستاتے تھے تم کو چھڑایا اور تمہارے سامنے سے ان کو دفعہ کیا اور ان کا ملک تم کو دیا۔
۱۰ اور میں نے تم سے کہا تھا کہ خداوند تمہارا خدا مَیں ہوں۔ سو تم ان اموریوں اور دیوتاﺅں سے جن کے ملک میں بستے ہو مت ڈرنا پر تم نے میری بات نہ مانی۔
۱۱ پھر خداوند کا فرشتہ آکر عفرہ میں بلوط کے ایک درخت کے نیچے جو یوآس ابیعزی کا تھا بیٹھا اور اس کا بیٹا جدعون مے لے کر ایک کولھو میں گیہوں جھاڑ رہا تھا تاکہ اس کو مدیانیوں سے چھپا رکھے۔
۱۲ اور خداوند کا فرشتہ اسے دکھائی دے کر اس سے کہنے لگا کہ اے زبردست سورما خداوند تیرے ساتھ ہے۔
۱۳ جدعون نے اس سے کہا اے میرے مالک اگر خداوند ہی ہمارے ساتھ ہے تو ہم پر یہ سب حادثے کیوں گزرے اور اس کے وہ سب عجیب کام کہاں گئے جن کا ذکر ہمارے باپ دادا ہم سے یوں کرتے تھے کہ کیا خداوند ہی ہم کو مصر سے نہیں نکال لایا؟ پر اب تو خداوند نے ہم کو چھوڑ دیا اور ہم کو مدیانیوں کے ہاتھ میں کر دیا۔
۱۴ تب خداوند نے اس پر نگاہ کی اور کہا کہ تو اپنے اسی زور میں جا اور بنی اسرائیل کو مدیانیوں کے ہاتھ سے چھڑا۔ کیا میں نے تجھے نہیں بھیجا؟
۱۵ اس نے اس سے کہا اے مالک ۔ میں کس طرح بنی اسرائیل کو بچاﺅں میرا گھرانہ منسی میں سب سے غریب ہے اور مَیں اپنے باپ کے گھر میں سب سے چھوٹا ہوں۔
۱۶ خداوند نے اس سے کہا مَیں ضرور تیرے ساتھ ہوں گا اور تو مدیانیوں کو ایسا مار لے گا جیسے ایک آدمی کو۔
۱۷ تب اس نے اس سے کہا کہ اب اگر مجھ پر تیرے کرم کی نظر ہوئی ہے تو اس کا مجھے کوئی نشان دکھا کر مجھ سے تو ہی باتیں کرتا ہے۔
۱۸ اور میں تیری منت کرتا ہوں کہ تو یہاں سے نہ جا جب تک میں تیرے پاس پھر نہ آﺅں اور اپنا ہدیہ نکال کر تیرے آگے نہ رکھوں۔ اس نے کہا کہ جب تک تو پھر نہ آجائے میں ٹھہرا رہوں گا ۔
۱۹ تب جدعون نے جا کر بکری کا ایک بچہ اور ایک ایفہ آٹے کی فطیری روٹیاں تیار کیں اور گوشت کو ایک ٹوکری میںاور شوربا ایک ہانڈی میں ڈال کر اس کے پاس بلوط کے درخت کے نیچے لا کر گذرانا۔
۲۰ تب خدا کے فرشتے نے اس سے کہا اس گوشت اور فطیری روٹیون کو لے جا کر اس چٹان پر رکھ اور شوربا کو انڈیل دے۔ اس نے ویسا ہی کیا۔
۲۱ تب خداوند کے فرشتے نے اعصا کی نوک سے جو اس کے ہاتھ میں تھا گوشت اور فطیری روٹیوں کو چھوا اور اس پتھر سے آگ نکلی اور اس نے گوشت اور فطیری روٹیوں کو بھسم کر دیا۔ تب خداوند کا فرشتہ اس کی نظر سے غائب ہو گیا۔ اور جدعون نے جان لیا کہ وہ خداوند کا فرشتہ تھا۔
۲۲ سو جدعون کہنے لگا افسوس ہے اے مالک خداوند کہ میں نے خداوند کے فرشتہ کو روبرو دیکھا۔
۲۳ خداوند نے اس سے کہا تیری سلامتی ہو۔خوف نہ کر۔ تو مرے گا نہیں ۔
۲۴ تب جدعون نے وہاں خداوند کے لئے مذبح بنایااور اس کا نام یہواہ سلوم رکھا اور ابیعزریوں کے عفرہ میں آج تک موجود ہے۔
۲۵ اور اسی رات خداوند نے اس سے کہا اپنے باپ کا جوان بیل یعنی وہ دوسرابیل جو سات برس کا ہے لے بعل کے مذبح کو جو تیرے باپ کا ہے ڈھادے اور اس کے پاس کی یسیرت کو کاٹ ڈال۔
۲۶ اور خداوند اپنے خدا کے لئے اس گڑھی کی چوٹی پر قاعدہ کے مطابق ایک مذبح بنا اور اس دوسرے بیل کو لیکر اس یسیرت کی لکڑی سے جسے تو کاٹ ڈالے گا سوختنی قربانی گذران ۔
۲۷ تب جدون نے اپنے جوکروں میں سے دس آدمیوں کو ساتھ لیکر جیسا خداوند نے اسے فرمایا تھا کیا اور چونکہ وہ یہ کام اپنے باپ کے خاندان اور اس شہر کے باشندوں کے ڈر سے دن کو نہ کر سکا اسلئے اسے رات کو کیا ۔
۲۸ جب اس شہر کے لوگ صبح سوویرے اٹھے تو کیا دیکھتے ہیں کہ بعل کا مذبح ڈھاےا ہوا اور اس کے پاس کی یسیرت کٹی ہو ئی اور اس مذبح پر جو بنایا گےا تھا وہ دوسرا بیل چڑھاےا ہوا ہے ۔
۲۹ اور وہ آپس میں کہنے لگے کس نے یہ کام کیا ؟اور جب انہوں نے تحقیقات اور پرسِش کی تو لوگوں نے کہا کہ یوآس کے بیٹے جدون نے یہ کام کیا ہے ۔
۳۰ تب اس شہر کے لوگوں نے یوآس سے کہا کہ اپنے بیٹے کو نکال لال تاکہ قتل کیا جائے اسلئے کہ اس نے بعل کا مذبح ڈھادیا اور اس کے پاس کی یسرت کاٹ ڈالی ہے ۔
۳۱ یوآس نے ان سبھوں کو جو اس کے سامنے کھڑے تھے کہا کیا تم بعل کے واسطے جھگڑا کرو گے یا تم اسے بچا لو گے ؟جو کوئی اس کی طرف سے جھگڑا کرے وہ اسی صبح مارا جائے ۔اگر وہ خدا ہے تو آپ ہی اپنے لئے جھگڑے کیونکہ کسی نے اسکا مذبح ڈھا دیا ۔
۳۲ اس لئے اس نے اس دن جدون کا نام یہ کہہ کر یرُبعل رکھا کہ بعل آپ ا س سے جھگڑلے اس کہ اس نے اس کا مذبح ڈھا دیا ہے ۔
۳۳ تب سب مدیانی اور عمالیقی اور اہل مشرق اکٹھے ہو ئے اور پار ہو کر یزرعیل کی وادی میں انہوں نے ڈیرا کیا ۔
۳۴ تب خداوند کی روح جدون پر نازل ہو ئی سو اس نے نر سنگا پھونکا اور ابےعزر کے لوگ اس کی پیروی میں اکٹھے ہوئے ۔پھر اس نے سارے منی کے پاس قاصد بھیجے ۔
۳۵ سو وہ اس کی پیروی میں فراہم ہوئے اور اس نے آشر اور زبولون اور نفتالی کے پاس بھی قاصد روانہ کئے ۔سو وہ ان کے استقبال کو آئے ۔
۳۶ تب جدون نے خدا سے کہا کہ اگر تو اپنے قول کے مطابق میرے ہاتھ کے وسیلہ سے بنی اسرائیل کو رہائی دینی چاہتا ہے ۔
۳۷ تو دیکھ میں بھیڑ کی اون کھلیہان میں رکھ دونگا سو اگر اوس فقط اون ہی پر پڑے اور آس پاس کی زمین سب سوکھی رہے تو میں جان لو نگا کہ تو اپنے قول کے مطابق بنی اسرائیل کو میرے ہاتھوں مے وسیلہ سے رہائی بخشے گا ۔
۳۸ اور ایسا ہی ہوا کیو نکہ وہ صبح کو جو سویرے اٹھا اور اس اون کو دبایا اور اون میں سے اوس نچوڑی تو پیالہ بھر پانی نکلا ۔
۳۹ تب جدون نے خدا سے کہا کہ تیرا غصہ مجھ پر نہ بھڑکے ۔میں فقط ایک بار اور عرض کرتا ہوں ۔میں تیری منت کرتا ہوں کہ فقط ایک بار اور اس اون سے آزمائش کر لوں ۔اب صرف اون ہی اون خشک رہے اور آس پاس کی سب مین پر اوس پڑے ۔
۴۰ سو خدانے اس رات ایسا ہی کیا کیو نکہ فقط اون ہی خشک رہی اور ساری زمین پر اوس پڑی ۔