قضاة ۸

(‏۳)‏ جدعون کی فلستیوں پر فتح (‏۸:‏ ۱۔۳۲)‏

۸:‏ ۱۔۳ اوّلاً تو افرائیم کے لوگ جدعون سے ناراض تھے کہ اُنہیں مدد کے لئے اِس سے پہلے کیوں نہ بلوایا گیا۔ لیکن جب جدعون نے اُنہیں یاد دلایا کہ اُن کا دو سرداروں پر فتح پانا اُس کی اپنی کارکردگی سے کہیں زیادہ اہمیت کا حامل تھا‏، تو اُن کا غصہ ٹھنڈا ہو گیا۔ جیسا کہ ہم پہلے بھی وضاحت کر چکے ہیں کہ ابی عزر (‏آیت ۲)‏ سے مراد جدعون اور اُس کے لوگ ہیں۔ 

۸:‏ ۴۔۷ سکات کے یہودیوں نے جدعون اور اُس کے تین سو بھوکے جنگی مردوں کو کھانا دینے سے اِنکار کر دیا کیونکہ وہ خائف تھے کہ اگر اُنہیں شکست ہو گئی تو مدیانی اُن کے خلاف اِنتقامی کارروائی کریں گے۔ جدعون نے دھمکی دی کہ جب خداوند زبح اور ضلمنع کو اُس کے ہاتھ میں کر دے گا تو وہ اُن کے گوشت کو ببول اور سدا گُلاب کے کانٹوں سے نُچوائے گا (‏عبرانی پھٹکارنا)‏۔

۸:‏ ۸‏،۹ کھانے کی چیزوں کے لئے جدعون کی درخواست کا فنوایل کے لوگوں نے بھی نفی میں جواب دیا۔ اُن کو اُس نے یہ دھمکی دی کہ جب مَیں سلامت لوٹوں گا تو مَیں تمہارے بُرج کو ڈھا دوں گا۔

۸:‏ ۱۰۔۱۷ جدعون اپنی بات پر قائم رہا۔ اُس نے دو مدیانی بادشاہوں کو پکڑ لیا اور سارے لشکر کو بھگا دیا۔ ایک نوجوان مخبر کی تحریری فہرست کی مدد سے سکات کے ۷۷ سرداروں کو سبق سکھایا۔ 

جہاں تک فنوایل کا تعلق ہے جدعون نے اُس کا بُرج ڈھا دیا اور شہر کے باشندوں کو بھی قتل کیا۔ 

’’نرم جواب قہر کو دُور کر دیتا ہے پر کرخت باتیں غضب انگیز ہیں‘‘ (‏اَمثال ۱۵:‏۱)‏۔ اَمثال کی پہلی سچائی کا نمونہ آیات ۱۔۳ میں جدعون کے افرائیمیوں کو دیئے گئے جواب میں موجود ہے۔ اور دوسری سچائی آیات ۴۔۱۷ میں سکات اور فنوایل کے لوگوں کے الفاظ میں ظاہر ہے۔ 

۸:‏ ۱۸۔۲۱ زبح اور ضلمنع نے تبور کے مقام پر جدعون کے بعض بھائیوں کو قتل کیا تھا۔ چنانچہ اُس نے اپنے سب سے بڑے بیٹے یتر کو حکم دیا کہ وہ اُنہیں قتل کرے۔ چونکہ ابھی وہ لڑکا تھا اِس لئے وہ ڈر گیا‏، چنانچہ جدعون نے خود یہ کام سرانجام دیا۔ 

۸:‏ ۲۲‏،۲۳ بنی اِسرائیل نے جدعون کی فوجی کامیابیوں سے متاثر ہو کر اُسے اُن کا بادشاہ بننے کی درخواست کی۔ اُنہوں نے خداوند کی بجائے ایک اِنسان کو جلال دیا (‏مقابلہ کریں ۷:‏۲)‏۔ لیکن جدعون نے بڑی خوبصورتی سے اِنکار کرتے ہوئے کہا کہ نہ تو وہ اور نہ اُس کے بیٹے ہی اُن پر حکومت کریں گے‏، بلکہ صرف خداوند ہی اُن پر حکومت کرے۔ 

۸:‏ ۲۴۔۲۷ جدعون نے ایک آزمائش کا مقابلہ تو کیا‏، لیکن دوسری میں گر گیا۔ اُس نے مدیانیوں سے لی ہوئی بالیاں مانگ لیں (‏مدیانیوں کو اسماعیلی بھی کہا گیا ہے‏، خروج ۳۲:‏ ۱۔۶)‏۔ اُن سے اُس نے افود بنایا‏، یہ کاہن کا لباس تھا۔ اُسے اُس نے عفرہ میں رکھا تو یہ بت پرستی کا باعث بنا اور یوں یہ اِسرائیل کے لئے پھندا بن گیا‏، کیونکہ اِس سے اُس کی توجہ سیلا اور خیمہ اِجتماع سے ہٹ گئی تھی۔ ’’اُس نے بادشاہت کا اِنکار کیا‏، لیکن کہانت کا خواہاں تھا۔‘‘

۸:‏ ۲۸۔۳۲ مدیانیوں پر فتح حاصل کرنے کے بعد بنی اِسرائیل نے چالیس سال تک اَمن میں گزارے۔

اِس حقیقت کا خصوصی طور پر ذکر کیا گیا ہے کہ جدعون کی کئی بیویاں تھیں جن سے اُس کے ستر بیٹے پیدا ہوئے۔ علاوہ ازیں سکم میں اُس کی ایک حرم تھی جس سے ابی ملک نامی اُس کا لڑکا پیدا ہوا۔

جدعون کی شخصیت کے کئی پہلو تھے۔ اُس کی دو اَور خصوصیات اِس باب میں نمایاں طور پر نظر آتی ہیں۔ مدیانیوں کے بے رحمانہ تعاقب سے ظاہر ہوتا ہے کہ اُس نے اپنے احکامات پر پوری طرح سے عمل کیا اور عمل کروایا۔ گو وہ تھک چکا تھا‏، گو اُس نے پہلے ہی بہت کچھ کیا تھا‏، گو کسی نے اُس کی مدد نہ کی‏، وہ آگے بڑھتا گیا حتیٰ کہ اُس نے اِسمٰعیلیوں کو قتل کیا اور اُن کے بادشاہ اُس کے پاؤں پر مُردہ پڑے تھے۔ پولس رسول میں بھی ایسی ہی تحریک تھی البتہ اُس نے اُسے روحانی جنگ میں ظاہر کیا (‏فلپیوں ۳:‏ ۱۲۔۱۴)‏۔ 

دوسری خصوصیت منفی ہے‏، اُس نے لُوٹ کے مال میں سے سونے کی بالیاں‏، اِسمٰعیلیوں کو شکست دینے کے انعام کے طور پر وصول کیں (‏آیت ۴)‏‏، اور یہ جدعون‏، اُس کے خاندان اور ملک کے لئے پھندا بن گئیں۔ پیدائش ۱۴:‏۲۱۔۲۴ میں ابرہام کے رویے سے اِس کا موازنہ کیجئے۔ ہم خدا کی راہنمائی میں جدعون کی خوبیوں کو اپنائیں اور اُس کی بُرائیوں سے گریز کریں۔ 

و۔ ابی مَلِک کا غاصبانہ قبضہ (‏۸:‏ ۳۳۔۹:‏۵۷)‏

جونہی جدعون نے وفات پائی‏، بنی اِسرائیل گمراہ ہو کر بعل کی پرستش کرنے لگے۔ وہ جدعون کی اعلیٰ قومی فتوحات کو کس قدر جلدی سے بھول گئے‏، اور خداوند کی مخلصی کو بھول کر جدعون کے خاندان سے بدسلوکی کرنے لگے۔ کیا ہم خداوند اور اپنے ساتھیوں کی مہربانیوں کو یاد رکھتے ہیں؟ بڑی شرم کی بات ہے کہ ہم اُنہیں اکثر بھول جاتے ہیں۔

مقدس کتاب

۱ اور افرائیم کے لوگوں نے اس سے کہا کہ جب تو مدیانیوں سے لڑنے کو چلا تو ہم کو نہ بلایا؟سو انہوں نے اس کے ساتھ بڑا جھگڑا کیا ۔
۲ اس نے ان سے کہا میں نے تمہاری طرح بھلا کیا ہی کیا ہے ؟کیا افرائیم کے چھوڑے ہوئے انگور بھی ابیعزر کی فصل سے بہتر نہیں ہیں ؟
۳ خدا نے مدیان کے سردار عوریب اور زئیب کو تمہارے ہاتھ میں کر دیا ۔پس تمہاری طرح میں کر ہی کیا سکا ہوں ؟جب اس نے یہ کہا تو ان کا غصہ اس کی طرف سے دھیما ہو گیا ۔
۴ تب جدون اور اس کے ساتھ کے تین سو آدمی جو باوجود تھکے ماندے ہو نے کے پھر بھی پیچھا کرتے ہی رہے تھے یردن پر آکر پار اترے ۔
۵ تب ا س نے سکات کے باشندوں سے کہا کہ ان لوگوں کو جو مےرے پیرو ہیں روٹی کے گردے دو کیونکہ یہ تھک گئے ہیں اور مدیان کے دونو ں بادشاہوں زبحاور ضلنع کا پیچھا کر رہا ہوں ۔
۶ سکات کے سرداروں نے کہا کیا زبحاور ضلمنع کے ہاتھ اب تیرے قبضہ میں آگئے ہیں جو ہم تیرے لشکر کو روٹیاں دیں ؟
۷ جدون نے کہا جب خداوند زبحاور ضلنعکو میرے ہاتھ میں کردیگا تو میں تمہارے گوشت کو ببول اور سداگلاب کے کانٹوں ست نچوڑونگا ۔
۸ پھر وہاں سے وہ فنوایل کو گیا اور وہاں کے لوگوں سے بھی ایسی ہی بات کہی اور فنوایل کے لوگوں نے بھی اسے ویسا ہی جواب دیا جیسا سکاتیوں نے دیا تھا ۔
۹ سو ا س نے فنوایل کے باشندوں سے بھی کہا کہ جب میں سلامت لوٹونگا تو اس برج کو ڈھا دونگا ۔
۱۰ ور زبح اور ضلمنع نے تقریباََپندرہ ہزار آدمیوں کے لشکر سمیت قرقور میں تھے کیونکہ فقط اتنے ہی اہل مشرق کے لشکر میں سے بچ رہے تھے اسلئے کہ ایک لاکھ بیس ہزار شمشیر زن کے مرد قتل ہو گئے تھے ۔
۱۱ سو جدون ان لوگوں کے راستہ سے جو نبح اور یگبہاہ کے مشرق کی طرف ڈیروں میں رہتے تھے گیا اور اس لشکر کو مارا کیو نکہ وہ لشکر بے فکر پڑا تھا ۔
۱۲ اور زبح اور ضلمنع بھاگے اور اس نے ان کا پیچھا کر کے ان دونوں مدیانی بادشاہوں زبح اور ضلمنع کو پکڑ لیا اور سارے لشکر کو بھگا دیا ۔
۱۳ اور یوآس کا بیٹا جدون حرس کی چڑھائی کے پاس ست جنگ سے لوٹا ۔
۱۴ اور اس نے سکاتیوں میں سے ایک جوان کو پکڑ کر اس سے دریافت کیا ۔سو اس نے اسے سکات کے سرداروں اور بزرگوں کا حال بتادیا جو شمال میں ستتر تھے ۔
۱۵ تب وہ سکاتیوں کے پاس آکر کہنے لگا کہ زبح اور ضلمنع کو دیکھ لو جنکی بابت تم نے طنزََ مجھ سے کہا تھا کیا زبح اور ضلمنع کے ہاتھ تیرے قبضہ میںآگئے ہیں کہ ہم تیرے آدمیوں کو جو تھک گئے ہیں روٹیاں دیں ؟
۱۶ تب ا س نے شہر کے بزرگوں کو پکڑ ا اور ببول اور سدا گلاب کے کانٹے لیکر ان سے سکاتیوں کی تادیب کی ۔
۱۷ اور اس نے نوایل کا برج ڈھا کر اس شہر کے لوگوں کو قتل کیا ۔
۱۸ پھر اس نے زبح اور ضلمنع سے کہا کہ وہ لوگ جنکو تم نے تبور میںقتل کیا کیسے تھے ؟انہوں نے جواب دیا جیسا تو ہے ویسے ہی وہ تھے ۔ان میں سے ہر ایک شہزادوں کی مانند تھا ۔
۱۹ تب اس نے کہا کہ وہ میرے بھائی میری ماں کے بیٹے تھے۔سو خداوند کی حیات کی قسم اگر تم ان کو جیتا چھوڑتے تو میں بھی تم کو نہ مارتا ۔
۲۰ پھر اس نے اپنے بڑے بیٹے یتر کو حکم کیا کہ اٹھ ان کو قتل کر پر اس لڑکے نے اپنی تلوار نہ کھینچی کیونکہ اسے ڈر لگا اسلئے کہ وہ بھی لڑکا ہی تھا ۔
۲۱ تب زبح اور ضلمنع نے کہا تو آپ اٹھ کر ہم پر وار کر کیونکہ جیسا آدمی ہوتا ہے ویسی ہی اس کی طاقت ہو تی ہے ۔و جدون نے اٹھ کر زبح اور ضلمنع کو قتل کیا اور ان کے اونٹوں کے گلے کے چندن ہار لے لئے ۔
۲۲ تب بنی اسرائیل نے جدون سے کہا کہ تو ہم پر حکومت کر ۔تو اور تیرا بیٹاا ور تیرا پوتا بھی کیونکہ تو نے ہم کو مدیانیوں کے ہاتھ سے چھڑایا ۔
۲۳ تب جدون نے ان سے کہا کہ نہ میں تم پر حکومت کروں اور نہ میرا بیٹا بلکہ خدا ہی تم پر ھکومت کریگا ۔
۲۴ اور جدون نے ان سے کہا کہ میں تم سے یہ عر ض کرتا ہوں کہ تم میں سے ہر شخص اپنی لوٹ کی بالیاں مجھے دے دے (یہ لوگ اسمعیٰلی تھے اسلئے ان کے پاس سونے کی بالیاں تھیں)۔
۲۵ انہوں نے جواب دیا کہ ہم ان کو بڑی خوشی سے دینگے ۔پس انہوں نے ایک چادر بچھائی اور ہر ایک نے اپنی لوٹ کی بالیا ں اس پر ڈال دیں ۔
۲۶ سو وہ سونے کی بالیاں جو اس نے مانگی تھیں وزن میں ایک ہزار سات سو مثقال تھیں علاوہ ان چندن ہاروں اور جھمکوں اور مدیانی بادشاہوں کی ارغوانی پوشاک کے جو وہ پہنے تھے اور ان زنجیروں کے جو ان کے اونٹ کے گلے میں پڑی تھیں ۔
۲۷ اور جدون نے ان سے ایک افود بنوایا اور اسے اپنے شہر عفرہ میں رکھا اور وہا ں سب اسرائیلی اس کی پیروی میں زناکاری کرنے لگے اور وہ جدون اور اس کے گھرانے کے لئے پھندا ٹھہرا ۔
۲۸ یوں مدیانی بنی اسرائیل کے آگے مغلوب ہو ئے اور انہوں نے پھر کبھی سر نہ اٹھایا اور جدون کے دنوں میں چالیس برس تک اس ملک میں امن رہا ۔
۲۹ اور یوآس کا بیٹا یرُبعل جا کر اپنے گھر میں رہنے لگا ۔
۳۰ اور جدون کے ستر بیٹے تھے جو اس ہی کے صلب سے پیدا ہو ئے تھے کیونکہ اس کی بہت سی بیویاں تھیں ۔
۳۱ اور اس کی ایک حرم کے بھی جو سکم میں تھی اس سے ایک بیٹا ہوا اور اس نے اس کا نام ابی ملک رکھا ۔
۳۲ اور یوآس کے بیٹے جدون نے خوب عمر رسیدہ ہو کر وفات پائی اور ابیعزریوںکے عفرہ میں اپنے باپ یوآس کی قبر میں دفن ہوا ۔
۳۳ اور جدون کے مرتے ہی بنی اسرائیل برگشتہ ہو کر بعلیم کی پیروی میں زنا کاری کرنے لگے اور بعل بریت کو اپنا معبود بنا لیا ۔
۳۴ اور بنی اسرائیل نے خداوند اپنے خدا کو جس نے انکو ہر طرف ان کے دشمنو ں کے ہاتھ سے رہائی دی تھی یاد نہ رکھا ۔
۳۵ اور نہ وہ یرُبعل یعنی جدون کے خاندان کے ساتھ ان سب نیکیوں کے عوض میں جو اس نے بنی اسرائیل سے کی تھیں مہر سے پیش آئے ۔