(۲) سمسون کی ضیافت اور پہیلی (باب ۱۴)
۱۴: ۱۔۴ فلستی عورت سے شادی کے ارادے سے سمسون کی ضد بہت جلد ظاہر ہو گئی۔ یاد رہے کہ فلستیوں کا خدا کے دیگر دشمنوں میں شمار ہوتا تھا۔ اُس کے ماں باپ نے اُسے روکنے کی کوشش کی، لیکن وہ بضد رہا۔ آیت ۴ کا یہ مطلب نہیں کہ خدا نے سمسون کی نافرمانی کی تصدیق کی، لیکن اُس نے اِس کی اِجازت دی اور دشمن کی سزا اور بنی اِسرائیل کی بہتری کے لئے اُسے استعمال کیا۔
۱۴: ۵۔۷ تمنت (ایک فلستی شہر) کو اپنے والدین کے ساتھ جاتے ہوئے سمسون کو ایک جوان شیر کا مقابلہ کرنا پڑا۔ خداوند کی روح اُس پر زور سے نازل ہوئی تو اُس نے اُسے بغیر کسی ہتھیار کے مار دیا۔ شاید اُس وقت شادی کے اِنتظامات ہو رہے تھے۔
۱۴: ۸،۹ بعد ازاں جب سمسون اپنی بیوی کو لینے کے لئے آ رہا تھا، اُس نے جس شیر کو مارا تھا اُس کے پنجر میں شہد کا چھتا لگا دیکھا۔ اُس نے شہد لے کر اپنے والدین کے ساتھ کھایا۔ اُس نے اُنہیں یہ نہ بتایا کہ شہد لاش کی وجہ سے ناپاک ہو گیا تھا (نذیر ہونے کی حیثیت سے اُس نے جانور کی لاش کو چھونے سے اپنی مَنّت کا ایک حصہ توڑا)۔
۱۴: ۱۰۔۱۴ تمنت میں بہت بڑی ضیافت کا اہتمام کیا گیا۔ اِس موقعے پر سمسون نے ایک پہیلی پوچھی اور پیش کش کی کہ وہ یہ پہیلی بتا دیں تو وہ اُنہیں تیس کتانی کُرتے اور تیس جوڑے کپڑے دے گا۔ اور اگر وہ نہ بتا سکیں تو اُنہیں اُسے تیس کتانی کُرتے اور تیس جوڑے کپڑے دینے ہوں گے۔
پہیلی یہ تھی:
’’کھانے والے میں سے تو کھانا نکلا
اور زبردست میں سے مٹھاس نکلی۔‘‘
اِس کا تعلق اُس کے شیر کو مارنے اور اُس کے پِنجر میں سے شہد نکالنے سے تھا۔
۱۴: ۱۵۔۱۸ جب حاضرین اِس پہیلی کو بوجھنے میں ناکام ہو گئے تو اُنہوں نے دھمکی دیتے ہوئے سمسون کی بیوی کو قائل کیا کہ وہ اُس سے جواب پوچھے۔ اُس نے پہیلی کا جواب پوچھا اور تیس جوانوں کو بتا دیا۔ وہ سمسون کے پاس جواب لے کر آئے اور اُس سے کپڑوں کا مطالبہ کیا۔ تب سمسون کو احساس ہوا کہ اُنہوں نے اِس پہیلی کو بوجھنے کے سلسلے میں اُس کی بیوی کا تعاون حاصل کیا ہے۔
۱۴: ۱۹،۲۰ نوجوانوں کو کپڑے دینے کے لئے سمسون نے بڑے غصے میں اِسقلون کے تیس آدمیوں کو مار کر اُن کے کپڑوں کے جوڑے لے لئے۔ ساتویں دن جب شادی اپنے اِختتام کو پہنچی تو وہ گھر واپس آیا۔ اُس کی بیوی اُس کے دوست یعنی شہ بالا کو دے دی گئی۔
مقدس کتاب
۱ اور سمسون تمنت کو گیا ور تمنت میں اس نے فلستیوں کی بیٹیوں میں سے ایک عورت دیکھی ۔
۲ اور اس نے آکر اپنے ماں باپ سے کہا میں نے فلستیوں کی بیٹیوں میں سے تمنت میں ایک عورت دیکھی ہے سو تم اس سے میرا بیاہ کرادو ۔
۳ اس کے ماں باپ نے اس سے کہا کیا تیرے بھائیوں کی بیٹیوں میں یا میری ساری قوم میں کوئی عورت نہیں ہے جو تو جامختون فلستیوں میں بیاہ کرنے جاتا ہے ؟سمسون نے اپنے باپ سے کہا اسی سے میرا بیاہ کرا دے کیونکہ وہ مجھے بہت پسند آتی ہے ۔
۴ پراس کے ماں باپ کو معلوم نہ تھا کہ یہ خدا وند کی طرف سے ہے کیونکہ وہ فلستیوں کے خلاف بہانہ ڈھونڈتا تھا ۔اس وقت فلستی اسرائیلیوں پر حکمران تھے ۔
۵ پھر سمسون اور اس کے ماں باپ تمنت کو چلے اور تمنت کے تاکستانوں میں پہنچے اور دیکھو ایک جوان شیر سمسون کے آگے آکر گرجنے لگا۔
۶ تب خداوند کی روح اس پر زور سے نازل ہو ئی اور اس نے اسے بکری کے بچے کی طرح چیڑ دالا گو اس کے ہاتھ میں کچھ نہ تھا لیکن جو اس نے کیا اسے اپنے باپ یا ماں کو نہ بتایا ۔
۷ اور اس نے جا کر اس عورت سے باتیں کیں اور وہ سمسون کو بہت پسند آئی ۔
۸ اور کچھ عرصہ کے بعد وہ اسے لینے کو لوٹا اور شیر کی لاش دیکھنے کو کترا گیا اور دیکھا کہ شیر کے پنجر میں شہد کی مکھیوں ک ہجوم اور شہد ہے ۔
۹ اس نے اسے ہاتھ میں لے لیا اور کھاتا ہوا چلا اور اپنے ماں باپ کے پاس آکر انکو بھی دیا اور انہوں نے بھی کھایا پر ا نے ان کو نہ بتایا کہ یہ شہد اس نے شیر کے پنجر میں سے نکالا تھا ۔
۱۰ پھر اس کا باپ اس عورت کے ہاں گیا ۔وہاں سمسون نے بڑی ضیافت کی کیونکہ جوان ایسا ہی کرتے تھے۔
۱۱ وہ اسے دیکھ کر اس کے لئے تیس رفیقوں کو لے آئے کہ اس کے ساتھ رہیں ۔
۱۲ سمسون نے ان سے کہا میںتم سے ایک پہیلی پوچھتا ہوں سو اگر تم ضیافت کے سات دن کے اندر اندر اسے بوجھ کر مجھے اسکا مطلب بتا دو میں تیس کتانی کرتے اور تیس جوڑے کپڑے تم کو دونگا ۔
۱۳ اور اگر تم بتا نہ سکو تو تم تیس کتانی کرتے اور تیس جوڑے کپڑے مجھ کو دینا ۔انہوں نے اس سے کہا کہ تو اپنی پہیلی بیان کر تا کہ ہم اسے سنیں ۔
۱۴ اس نے ان سے کہا ”کھانے والے میں سے تو کھانا نکلا اور زبرست میں سے مٹھاس نکلی “ اور وہ تین دن تک اس پہیلی کو حل نہ کر سکے ۔
۱۵ اورساتویں دن انہوں نے سمسون کی بیوی سے کہا کہ اپنے شوہر کو پھسلا تا کہ اس پہیلی کا مطلب وہ ہم کوبتا دے نہیں تو ہم تجھ کو اور تیرے باپ کے گھر کو آگ سے جلا دیں گے ۔کیا تم نے ہم کو اسی لئے بلایا ہے کہ ہم کو فقیر کردو ؟کیا بات بھی یوں ہی نہیں ؟
۱۶ اور سمسون کی بیوی اس کے آگے رو کر کہنے لگی تجھے تو مجھ سے نفرت ہے ۔تو مجھ کو پیار نہیں کرتا۔تو نے میری قوم کے لوگوں سے پہیلی پوچھی پر وہ مجھے نہ بتائی ۔اس نے اس سے کہا خوب!میں نے اسے اپنے ماں باپ کو تو بتایا نہیں اور تجھے بتا دوں ؟
۱۷ سو وہ اس کے آگے جب تک ضیافت رہی سات دن روتی رہی اور ساتویں دن ایسا ہوا کہ اس نے اسے بتا ہی دیا کیو نکہ اس نے اسے نہایت تنگ کیا تھا اور اس عورت نے وہ پہیلی اپنی قوم کے لوگوں کو بتا دی ۔
۱۸ اور اس شہر کے لوگوں نے ساتویں دن سورج ڈوبنے سے پہلے اس سے کہا ”شہد سے میٹھا اور کیا ہو تا ہے ؟اور شیر سے زور آور اور کون ہے “؟اس نے ان سے کہا ”اگر تم میری بچھیا کو ہل میں نہ جوتے تو میر ی پہیلی کبھی نہ بوجھتے “۔
۱۹ پھر خداوند کی روح اس پر زور سے نازل ہو ئی اور وہ اسقلون کو گیا ۔وہاں اس نے ان کے تیس آدمی مارے ان کو لوت کر کپڑوں کے جوڑے پہیلی بوجھنے والوں کو دئے اور اس کا قہر بھڑک اٹھا اور وہ اپنے ماں باپ کے گھر چلا گیا ۔
۲۰ پر سمسون کی بیوی اس کے ایک رفیق کو جسے سمسو ن نے دوست بنایا تھا دے دی گئی ۔