ز۔ تولع اور یائیر (۱۰: ۱۔۵)
اشکار کے قبیلے کا تولع اِسرائیل کا ۴۳ سال تک قاضی رہا۔ وہ افرائیم کے کوہستانی ملک میں رہتا تھا۔
اگلا قاضی جلعادی یائیر تھا جس نے اِسرائیل پر ۲۲ سال تک حکمرانی کی۔ اِس بات کا بھی ذکر کیا گیا ہے کہ اُس کے تیس بیٹے، تیس قصبوں پر حکومت کرتے تھے۔
ح۔ اِفتاح (۱۰: ۶۔۱۲:۷)
(ا) اِسرائیل کی مصیبت (۱۰: ۶۔۱۸)
اب پھر ہم مایوس کن بیان پڑھتے ہیں کہ کس طرح بنی اِسرائیل نے خداوند کو چھوڑ کر بتوں کی طرف رجوع کیا۔ بتوں کی پرستش سے بنی اِسرائیل بت پرستوں کی غلامی میں چلے گئے۔ یردن کے مشرق میں رہنے والے عمونی اور مغرب میں رہنے والے فلستی یہودیوں سے لڑے، اور عمونیوں نے یردن کو پار کر کے، یہوداہ، بنیمین اور افرائیم سے بھی جنگ کی۔
اِسرائیلی فلستیوں اور عمونیوں کے سامنے بے بس تھے کیونکہ اُنہوں نے یہوواہ کی پرستش کو ترک کر کے، غیر قوموں کے دیوتاؤں کی پرستش شروع کر دی تھی (آیت ۶)۔
۱۰: ۱۰۔۱۶ جب بنی اِسرائیل نے خداوند سے فریاد کی تو پہلے تو اُس نے اُن کی فریاد کو سننے سے اِنکار کر دیا۔ اُس نے ماضی میں مخلصی کی کئی مثالیں پیش کرتے ہوئے اُنہیں یاد دلایا کہ ہر دفعہ مخلصی کے بعد وہ اُس سے پھر برگشتہ ہو گئے (آیت ۱۳)۔ لیکن جب اُنہوں نے مسلسل دعا کی اور اپنے بتوں کو دُور کیا تو خدا نے اُن کی فریاد کو سنا۔ آیت ۱۶ سے ہمیں پتا چلتا ہے کہ خدا کس قدر رحیم ہے۔ باپ کی طرح وہ اپنے برگشتہ بچوں کی بدحالی سے غمگین ہوا۔ اُن کی مصیبت نے اُسے مائل بہ کرم کیا۔
۱۰: ۱۷،۱۸ باب کے اِختتام پر عمونی فوج جلعاد میں فراہم ہوئی اور اِسرائیل مصفاہ میں اکٹھے ہوئے۔ جلعاد کے لوگ کسی فوجی راہنما کی تلاش میں تھے (آیات ۱۷،۱۸)۔
مقدس کتاب
۱ اور ابی ملک کے بعد تولع بن فوہ دودو جو اشکار کے قبیلہ کا تھا اسرائیلیوں کی حمایت کرنے کو اٹھا ۔وہ افرائیم کے کوہستانی ملک میں سمیر میں رہتاتھا ۔
۲ وہ تیئیس برس اسرائیلیوں کا قاضی رہا اور مر گیا اور سمیر میں دفن ہوا ۔
۳ اس کے بعد جلعادی یائیر اٹھا اور وہ بائیس برس اسرائیلیوں کا قاضی رہا ۔
۴ اسکے تیس بیٹے تھے جو تیس جوان گدھوں پر سوار ہوا کر تے تھے اور انکے تیس شہر تھے جو آج تک حووت یائیر کہلاتے ہیں اور جلعاد کے ملک میں ہیں ۔
۵ اور یائئیر مر گیا اور قامون میں دفن ہوا ۔
۶ اور بنی اسرائیل خداند کے حضور پھر بدی کرنے اور بعلیم اور عستارات اور ارام کے دیوتاﺅں اور صیدا کے دیوتاﺅں اور موآب کے دیوتاﺅں اور بنی عمون کے دیوتاﺅں اور فلستیوں کے دیوتاﺅں کی پرستش کرنے لگے اور خداوند کو چھوڑ دیا ۔اور اس کی پرستش نہ کی ۔
۷ تب خداوند کا قہر اسرائیل پر بھڑکا اور اس نے ان کو فلستیوں کے ہاتھ اور بنی عمون کے ہاتھ بیچ ڈالا۔
۸ اور انہوں نے اس سال بنی اسرائیل کو تنگ کیا اور ستایا بلکہ اٹھارہ برس تک وہ بنی اسرائیل پر ظلم کرتے رہے جو یردن پار اموریوں کے ملک میں جو جلعاد میں ہے رہتے تھے ۔
۹ اور بنی عمون یردن پار ہو کر یہوداہ اور بنیمین اور افرائیم کے خاندان سے لرنے کو بھی آجاتے تھے۔پس اسرائیلی بہت تنگ آگئے ۔
۱۰ اور بنی اسرائیل خداوند سے فریاد کر کے کہنے لگے ہم نے تیرا گناہ کیا کہ اپنے خدا کو چھوڑا اور بعلیم کی پرستش کی ۔
۱۱ اور خداوند نے بنی اسرائیل سے کہا کیا میں نے تم کو مصریوں اور اموریوں اور بنی عمون اور فلستیوں کے ہاتھ سے رہائی نہیں دی ۔
۱۲ اور صیدانیوں اور عمالیقیوں اور ماعونیوں نے بھی تم کو ستایا اور تم نے مجھ سے فریاد کی اور میں نے تم کو ان کے ہاتھ سے چھڑایا ۔
۱۳ تو بھی تم مجھے چھوڑ کر اور معبودوں کی پرستش کی ۔سو اب میں تم کو رہائی نہیں دونگا ۔
۱۴ تم جا کر ان دیوتاﺅں سے جن کو تم نے اختیار کیا ہے فریاد کرو ۔وہی تمہاری مصیبت کے وقت تم کو چھڑائیں ۔
۱۵ بنی اسرائیل نے خداوند سے کہا ہم نے تو گناہ کیا سو جو کچھ تیری نظر میں اچھا ہو ہم سے کر پر آج ہم کو چھڑا ہی لے ۔
۱۶ اور وہ اجنبی معبودوں کو اپنے بیچ سے دور کر کے خداوند کی پرستش کرنے لگے ۔تب اس کا جی اسرائیل کی پریشانی سے غمگین ہوا ۔
۱۷ پھر بنی عمون اکٹھے ہو کر جلعاد میں خیمہ زن ہو ئے اور بنی اسرائیل بھی فراہم ہو کر مصفاہ میں خیمہ زن ہو ئے ۔
۱۸ تب جلعا د کے لوگ اورسردار ایک دوسرے سے کہنے لگے وہ کون شخص ہے جو بنی عمون سے لڑنا شروع کریگا ؟وہی جلعا د کے سب باشندوں کا حاکم ہو گا ۔