۳۔ مذہبی، اخلاقی اور سیاسی زوال (ابواب ۱۷۔۲۱)
قضاۃ کی کتاب کا آخری حصہ، ضمیمہ جیسا ہے۔ جہاں تک وقت کا تعلق ہے، ابواب ۱۷۔۲۱ کہانی کو آگے نہیں بڑھاتے بلکہ مذہبی، اخلاقی اور سیاسی حالت کے اُس زوال کی خوف ناک جھلکیاں پیش کرتے ہیں جس کا بنی اِسرائیل قاضیوں کے دَور میں شکار ہو چکے تھے۔ اِسی طرح رُوت کی چھوٹی سی کتاب، قاضیوں کی تاریخ کو آگے نہیں بڑھاتی، بلکہ موازنے کی صورت میں، عبرانی تاریخ کے اِس تاریک دَور میں دین دار بقیہ کی دل کش جھلکیاں پیش کرتی ہے۔
الف۔ میکاہ کا بت خانہ قائم کرنا (باب ۱۷)
۱۷: ۱۔۴ پہلا بیان مذہبی بدی کا بیان ہے۔ افرائیم کے قبیلے کے ایک شخص میکاہ نے اپنی ماں کے گیارہ سو سکے چرا لئے تھے۔ اِس کے لئے اُس کی ماں نے چور پر لعنت بھیجی، لیکن اُسے علم نہیں تھا کہ یہ اُس کا اپنا ہی بیٹا ہے۔ صاف ظاہر ہے کہ وہ لعنت کے نتائج سے خائف تھا، چنانچہ اُس نے وہ چاندی کے سکے ماں کو واپس کر دیئے۔ ماں نے لعنت واپس لے لی اور چاندی لوٹانے کے لئے اپنے بیٹے کو برکت دی۔ اَب وہ اِسے اپنے مقصد کے مطابق استعمال کر سکتی تھی۔ اُس نے چاندی کے دو سو سِکے لے کر اُن سے دو بت بنوائے۔ ایک تو کھدا ہوا لکڑی کا بت تھا جس پر چاندی منڈھی ہوئی تھی۔ دوسرا ڈھالا ہوا تھا یعنی سارے کا سارا چاندی کا تھا۔
۱۷: ۵،۶ میکاہ نے بتوں کو، اپنے گھرانے کے بتوں کے ساتھ بت خانہ میں رکھا۔ اُس نے اپنے گھرانے میں کہانت کے قیام کا بھی فیصلہ کیا، چنانچہ اُس نے ایک افود (کہانتی لباس) بنوایا۔ یہ سراسر خدا کی شریعت کے خلاف تھا، کیونکہ کوئی افرائیمی کاہن نہیں بن سکتا تھا۔ حقیقت تو یہ ہے کہ سارا طریقِ کار موسوی شریعت کے خلاف تھا۔
۱۷: ۷۔۱۳ کچھ عرصے کے بعد یہوداہ کے علاقے کے بیت لحم میں رہنے والا ایک لاوی اِفرائیم کے کوہستانی ملک کو گیا اور وہاں رہنے کے لئے جگہ تلاش کی (اُسے تو قوم کی خدمت کرتے ہوئے قوم کی دہ یکی پر بسر اوقات کرنا چاہئے تھا۔ چونکہ شریعت کی پابندی نہیں ہو رہی تھی اِس لئے وہ اپنا مقام بنانے کے لئے مجبور تھا)۔ میکاہ نے اپنے گھرانے کی کہانت کی پیش کش کی۔ یہ شخص لاوی تو تھا، لیکن وہ ہارون کے گھرانے سے نہیں تھا، اِس لئے وہ کہانت کے عہدے پر فائز نہیں ہو سکتا تھا۔ میکاہ کی تنخواہ، کھانے اور کپڑوں کی پیش کش پر وہ اُن کا کاہن بننے کے لئے رضامند ہو گیا۔ لاوی کو چاہئے تھا کہ وہ میکاہ کو صاف صاف جواب دے دیتا کہ یہ تمام اِنتظامات خدا کے نظام کے خلاف ہیں۔ لیکن اِس کے بجائے اُس نے تنخواہ اور دیگر مفادات کی خاطر اپنے منہ کو بند رکھا اور خدا کی پوری مرضی کو ظاہر نہ کیا۔
اِس باب میں حالات کو بیان کرنے کے لئے کلیدی لفظ ’’گڑبڑی‘‘ ہے۔ چرائی ہوئی رقم بتوں کے لئے استعمال کی گئی اور چور کو برکت دینے کے لئے خداوند سے دعا کی گئی (آیت ۲)، خیمہ اِجتماع میں پرستش کی بجائے اِنفرادی بت خانے کو متبادل بنایا گیا، لاویوں اور عام لوگوں کی کاہنوں کے طور پر تقدیس کی گئی، یہوواہ کی پرستش میں بتوں کو استعمال کیا گیا (آیت ۱۳)۔ یہ گڑبڑی اِنسان کے دل سے نکلی (آیت ۶)۔ اگر خداوند کی شریعت کی اِس وقت پابندی کی جاتی، تو اِن میں سے کوئی بات بھی وقوع پذیر نہ ہوتی۔ ’’ایسی راہ بھی ہے جو اِنسان کو سیدھی معلوم ہوتی ہے، پر اِس کی اِنتہا میں موت کی راہیں ہیں‘‘ (اَمثال ۱۴:۱۲)، جیسا کہ ہم آئندہ باب میں دیکھیں گے۔
مقدس کتاب
۱ اور افرائیم کے کوہستانی ملک کاایک شخص تھا جسکا نام میکاہ تھا ۔
۲ اس نے اپنی ماں سے کہا چاندی کے وہ گیارہ سو سکے جو تےرے پاس سے لئے گئے تھے اور جنکی بابت تو نے لعنت بھیجی اور مجھے بھی یہی سنا کر کہا سو دیکھ وہ چاندی میرے پاس ہے۔ میں نے اس کو لے لیا تھا۔ اس کی ماں نے کہا میرے بیٹے کو خداوند کی طرف سے برکت ملے۔
۳ اور اس نے چاندی کے وہ گیارہ سو سکے اپنی ماں کو پھیر دیے ۔ تب اس کی ماں نے کہا میں اس چاندی کو اپنے بیٹے کی خاطر اپنے ہاتھ سے خداوند کےلئے مقدس کئے دیتی ہوں تاکہ وہ ایک بت کھدا ہوا اور ایک ڈھالا ہوا بنائے۔ سو اب میں اس کو تجھے پھیر دیتی ہوں۔
۴ پر جب اس نے وہ نقدی اپنی ماں کو پھیر دی تو اس کی ماں نے چاندی کے دو سو سکے لے کر ان کو ڈھالنے والے کو دیا جس نے اس سے ایک کھدا ہوا اور ایک ڈھالا ہوا بت بنایا اور وہ میکاہ کے گھر میں رہے۔
۵ اور اس شخص میکاہ کے ہاں ایک بت خانہ تھا اور اس نے ایک افود اور ترافیم کو بنوایا اور اپنے بیٹوں میں سے ایک کو مخصوص کیا جو اس کا کاہن ہوا۔
۶ ان دنوں اسرائیل میں کوئی بادشاہ نہ تھا اور ہر شخص جو اس کی نظر میں اچھا معلوم ہوتا وہی کرتا تھا۔
۷ اور بیت الحم یہوداہ میں یہوداہ کے گھرانے کا ایک جوان تھا جو لاوی تھا۔ یہی وہی ٹکا ہوا تھا۔
۸ یہ شخص اس شہر یعنی بیت الحم یہوداہ سے نکلا کہ اور کہیں جہاں جگہ ملے جا ٹکے۔ سو وہ سفر کرتا ہوا افرائیم کے کوہستانی ملک میں میکاہ کے گھر آنکلا۔
۹ اور میکاہ نے اس سے کہا تو کہاں سے آتا ہے؟ اس نے اس سے کہا میں بیت الحم یہوداہ کا ایک لاوی ہوں اور نکلا ہوں کہ جہاں کہیں جگہ ملے وہیں رہوں۔
۱۰ میکاہ نے اس سے کہا میرے ساتھ رہ جا اور میرا باپ اور میرا کاہن ہو۔ میں تجھے چاندی کے دس سکے سالانہ اور ایک جوڑا کپڑا اور کھانا دوں گا۔ سو وہ لاوی اندر چلا گیا۔
۱۱ اور وہ اس مرد کے ساتھ رہنے پر راضی ہوا اور وہ جوان اس کےلئے ایسا ہی تھا جیسا اس کے اپنے بیٹوں میں سے ایک بیٹا۔
۱۲ اور میکاہ نے اس لاوی کو مخصوص کیا اور وہ جوان اس کا کاہن بنا اور میکاہ کے گھر میں رہنے لگا۔
۱۳ تب میکاہ نے کہا اب میں جانتا ہوں کہ خداوند میرا بھلا کرے گا کیونکہ ایک لاوی میرا کاہن ہے۔