قضاة ۱۳

ی۔ سمسون (‏ابواب ۱۳۔۱۶)‏

(‏۱)‏ سمسون کی دین داری کی میراث (‏باب ۱۳)‏

۱۳:‏ ۱۔۳ ساتویں بار ہم قضاۃ کی کتاب میں پڑھتے ہیں ’’بنی اِسرائیل نے پھر خداوند کے آگے بدی کی۔‘‘ یہ چکر پھر شروع ہوتا ہے۔ اِس بار بنی اِسرائیل چالیس سال تک فلستیوں کی غلامی میں رہے۔ یہ قوم کے لئے غلامی اور ظلم برداشت کرنے کا طویل ترین دَور تھا۔ جب بنی اِسرائیل فلستیوں کے ظلم کی چکی میں پس رہے تھے‏، خداوند کا فرشتہ (‏مسیح کا ظہور)‏ دان کے قبیلے کے منوحہ کی بیوی پر ظاہر ہوا۔ گو وہ بانجھ تھی تو بھی فرشتے نے اُسے بتایا کہ وہ ایک بیٹے کی ماں بنے گی۔ بانجھ پن اکثر خدا کے مقصد کے لئے نقطۂ آغاز ہوتا ہے۔ وہ موت میں سے زندگی پیدا کرتا ہے اور نیست سے ہست کرتا ہے۔ 

۱۳:‏ ۴۔۷ اِس بیٹے کے لئے پیش گوئی کی گئی کہ وہ ماں کے پیٹ سے اپنی موت تک نذیر ہو گا۔ بتایا گیا کہ وہ نہ تو مے پئے گا‏، نہ انگور یا کِشمِش کھائے گا اور نہ ہی اُس کے سر پر اُسترہ پھرے گا۔ اور ماں کو بھی شراب یا ناپاک شے سے گریز کرنا ہو گا۔ 

نذیر کی مَنّت کے لئے پس منظر کو گنتی ۶:‏۲ میں ملاحظہ فرمائیے۔ نذیر ہونے کے لئے کوئی شخص اپنی مرضی سے مَنّت مانتا تھا‏، لیکن سمسون کے سلسلے میں اُس کا نذیر ہونا اُس کی پیدائش سے موت تک تھا۔ 

۱۳:‏ ۸۔۱۴ منوحہ نے دعا کی کہ خداوند کا فرشتہ ایک بار پھر آئے اور اُسے مزید ہدایات دے۔ فرشتہ پھر اُس عورت کے پاس آیا اور وہ اِس آسمانی مہمان کی ملاقات کے لئے جلدی سے اپنے خاوند کو بلا لائی۔ تاہم فرشتے نے اِس بار مزید ہدایات نہ دیں۔ 

۱۳:‏ ۱۵۔۱۸ منوحہ نے پیش کش کی کہ وہ فرشتہ کے لئے کھانا تیار کرے گا‏، اُس کا یہ خیال تھا کہ وہ محض اِنسان ہے۔ فرشتے نے منوحہ کے ساتھ کھانا کھانے سے اِنکار کر دیا‏، کیونکہ وہ کسی صورت میں بھی اُس کے ہم پلہ نہ تھا۔ اِس کی بجائے اُس نے یہ مشورہ دیا کہ خداوند کے لئے بکری کا بچہ سوختنی قربانی کے طور پر پیش کیا جائے۔ جب منوحہ نے فرشتے کا نام پوچھا تو اُس نے جواب دیا کہ اُس کا نام ’’عجیب‘‘ ہے۔ یسعیاہ ۹:‏۶ میں یہ خداوند یسوع کے ناموں میں سے ایک نام ہے۔ 

۱۳:‏ ۱۹۔۲۳ اِس پر منوحہ نے بکری کے بچے کو خداوند کے حضور نذر کے طور پر پیش کیا۔ تب فرشتہ مذبح کے شعلہ میں آسمان کی طرف چلا گیا۔ یوں وہ واضح طور پر ظاہر کرنا چاہتا تھا کہ یہ بذاتِ خود خداوند کا ظہور تھا۔ منوحہ اور اُس کی بیوی نے منہ کے بَل ہو کر سجدہ کیا۔ اگر فرشتہ خدا کی ذات سے کم تر ہوتا تو یہ عمل غیر مناسب ہوتا۔ اُنہوں نے خداوند کو دیکھا تھا لیکن وہ اِس کے نتیجے میں نہ مرے کیونکہ خدا نے اُن سے سوختنی اور نذر کی قربانی قبول کر لی تھی۔ 

۱۳:‏ ۲۴‏،۲۵ اِس کے بعد بیٹا پیدا ہوا اور اُس کا نام سمسون (‏چھوٹا سورج)‏ رکھا گیا۔ یہ بہت جلدی ظاہر ہو گیا کہ خداوند کا روح بڑے زور سے اُس کی زندگی میں کارفرما تھا۔ 

بائبل کے بہت کم لوگوں میں قوت اور کمزوری اِس حد تک ساتھ ساتھ نظر آتی ہیں۔ جب ہم سمسون کے بارے میں سوچتے ہیں تو ہم عموماً اُس کی قوت کو یاد کرتے ہیں۔ اُس نے اپنے ہاتھوں سے شیر کو مار دیا (‏قضاۃ ۱۴:‏۶)‏۔ اُس نے اکیلے تیس فلستیوں کو مار دیا (‏۱۴:‏۱۹)‏‏، اُس نے اُن رسیوں کو توڑ دیا جن سے یہوداہ کے لوگوں نے اُسے باندھا تھا۔ اور گدھے کے جبڑے سے ایک ہزار فلستیوں کو مار ڈالا (‏۱۵:‏ ۱۴۔۱۶)‏۔ جب فلستیوں نے اُسے گھیرے میں لے لیا تو وہ غزہ شہر کے پھاٹک کو اُکھاڑ کر لے گیا (‏۱۶:‏۳)‏۔ تین بار وہ دلیلہ کے فریب سے بچا۔ ایک بار اُس نے سات ہری ہری بیدوں کو جن سے وہ جکڑا گیا تھا‏، توڑ دیا۔ پھر جب نئی رسی سے اُسے باندھا گیا تو اُس نے اُسے دھاگے کی مانند توڑ ڈالا‏، اور ایک بار جب اُس کی لٹوں کو بُن دیا‏، اور اُس نے بَلی کے کھونٹے کو تانے کے ساتھ اُکھاڑ دیا (‏۱۶:‏ ۶۔۱۴)‏۔ بالآخر اُس نے اُس گھر کے ستونوں کو گرانے سے اُن فلستیوں کو مار دیا جو اُس کا تماشا دیکھ رہے تھے۔ یوں اُس نے اپنی زندگی کے دوران لوگوں کو مارنے کی نسبت موت کے وقت زیادہ لوگوں کو مارا (‏۱۶:‏ ۳۰)‏۔

لیکن سمسون کی کمزوریاں زیادہ نمایاں ہیں۔ عورت اُس کی کمزوری تھی۔ اپنی پسندیدہ عورت کو حاصل کرنے کے لئے وہ خدا کی نافرمانی کرنے پر آمادہ تھا (‏۱۴:‏ ۱۔۷)‏۔ اُس نے اپنے والدین کی نافرمانی بھی کی (‏۱۴:‏۳)‏۔ اُس نے دھوکا دہی کو اپنایا (‏۱۴:‏۹؛ ۱۶:‏۷؛ ۱۱‏،۱۳ ب)‏۔ اُس نے تیس فلستیوں کے ساتھ جو خدا کے دشمن تھے بھائی چارا پیدا کیا (‏۱۴:‏ ۱۱۔۱۸)‏۔ وہ اِنتقامی اور کینہ پرور بن گیا (‏۱۴:‏۱۹ ب؛ ۱۵:‏۴‏،۵)‏۔ وہ فطری طور پر ظالم تھا (‏۱۵:‏ ۴‏،۵)‏۔ اُس نے ایک کسبی سے جنسی تعلقات قائم کئے (‏۱۶:‏ ۱‏،۲)‏۔ اُس نے بدی میں وقت ضائع کیا (‏۱۶:‏ ۶۔۱۴)‏۔ اُس نے اپنی قوت کا راز اپنے دشمن کو بتا دیا (‏۱۶:‏۱۷‏،۱۸)‏۔ وہ حد سے زیادہ اپنے پر اعتماد کرتا تھا (‏۱۶:‏۲۰ ب)‏۔ بالآخر اُس نے نذیر ہونے کی مَنت کو توڑ دیا (‏۱۴:‏۹)‏۔

مقدس کتاب

۱ اور بنی اسرائیل نے پھر خداوند کے آگے بدی کی اور خداوند نے ان کو چالیس برس تک فلستیوں کے ہاتھ میں رکھا ۔
۲ اور دانیوں کے گھرانے میں صرعہ کا ایک شخص تھا جس کا نام منوحہ تھا ۔اس کی بیوی بانجھ تھی ۔سوا س کے کوئی بچہ نہ ہوا۔
۳ اور خداوند کے فرشتہ نے اس عورت کو دکھائی دے کر اس سے کہا دیکھ تو بانجھ ہے اور تیرے بچہ نہیں ہوتا پر تو حاملہ ہو گی اور تیرے بیٹا ہو گا ۔
۴ سو خبر دار مے یا نشہ کی چیز نہ پینا اور نہ کوئی ناپاک چیز کھانا۔
۵ کیونکہ دیکھ تو حاملہ ہو گی اور تیرے بیٹا ہو گا ۔اس کے سر پر کبھی استرہ نہ پھرے اسلئے کہ وہ لڑکا پیٹ ہی سے خدا کا نذیر ہو گا اور وہ اسرائیلیوں کو فلستیوں کے ہاتھ سے رہائی دینا شروع کریگا ۔
۶ اس عورت نے جا کر اپنے شوہر سے کہا کہ ایک مرد خدا میرے پاس آیا ۔اس کی صورت خدا کے فرشتی کی سی صورت کی طرح نہایت مہیب تھی اور میں نے اس سے نہیں پوچھا کہ تو کہاں کا ہے ؟اور نہ اس نے مجھے اپنا نام بتایا ۔
۷ پر اس نے مجھ سے کہا دیکھ تو حاملہ ہو گی اور تیرے بیٹاہو گا ۔سو تو مے یا نشہ کی چیز نہ پینا اور نہ کوئی ناپاک چیز کھانا کیونکہ وہ لڑکا پیٹ ہی سے اپنے مرنے کے دن تک خدا کا نذیر رہیگا ۔
۸ تب منوحہ نے خدا وند سے درخواست کی اور کہا اے میرے مالک میں تیری منت کرتا ہوں کہ وہ مرد جسے تو نے بھیجا تھا ہمارے پاس پھر آئے اور ہم کو سکھائے کہ ہم اس لڑکے سے جو پیدا ہو نے کو ہے کیا کریں ۔
۹ اور خدا نے منوحہ کی عرض سنی اور خدا کا فرشتہ اس عورت کے پا س جب وہ کھیت میں بیٹھی تھی پھر آیا پر اس کا شوہر منوحہ اس کے ساتھ نہیں تھا۔
۱۰ سو اس عورت نے جلدی کی اور دوڑ کر اپنے شوہر کو خبر دی اور اس سے کہا کہ دیکھ وہی مرد جو ا س دن میرے پاس آیا تھا اب پھر مجھے دکھائی دیا ۔
۱۱ تب منوحہ اٹھ کر اپنی بیوی کے پیچھے پیچھے چلا اوراس مرد کے پاس آکر اس سے کہا کیا تو وہی مرد ہے جس نے اس عورت سے باتیں کی تھیں ؟اس نے کہا میں وہی ہوں ۔
۱۲ تب منوحہ نے کہا تیری باتیں پوری ہوں !پر اس لڑکے کا کیا طور و طریق اور کیا کام ہو گا ؟
۱۳ خداوند کے فرشتہ نے منوحہ سے ان سب چیزوں سے جنکاذکر میں نے اس عورت سے کیا یہ پر ہیز کرے ۔
۱۴ وہ ایسی چیز جو تاک سے پید اہو تی ہے نہ کھائے اور مے یا نشہ کی چیز نہ پئے اور نہ کوئی ناپاک چیز کھائے اور جو کچھ میں نے اسے حکم دیا یہ اسے مانے ۔
۱۵ منوحہ نے خداوند کے فرشتہ سے کہا کہ اجازت ہو تو ہم تجھ کو روک لیں اور بکری کا ایک بچہ تیرے لئے تیار کریں ۔
۱۶ تب خداوند کے فرشتہ نے منوحہ کو جواب دیا اگر تو مجھے روک بھی لے تو بھی میں تیری روٹی نہیں کھانے کا پر اگر تو سوختنی قربانی تیار کرنا چاہے تو تجھے لازم ہے کہ اسے خداوند کے لئے گذرانے کیونکہ منوحہ نہیں جانتا تھا کہ وہ خداوند کا فرشہ ہے ۔
۱۷ پھر منوحہ نے خداوند کے فرشتہ سے کہا کہ تیرا نام کیا ہے تا کہ جب تیری باتیں پوری ہوں تو ہم تیرا اکرام کر سکیں ؟
۱۸ خداوند کے فرشتہ نے ا س سے کہا تو کیوں میرا نام پوچھتا ہے کیونکہ وہ تو عجیب ہے ؟
۱۹ تب منوحہ نے بکری کا وہ بچہ مع اسکی نذر کی قربانی کے لیکر ایک چٹان پر خداوند کے لئے ان کو گذرانا اور فرشتہ نے منوحہ اور اس کی بیوی کے دیکھتے دیکھتے عجیب کام کیا ۔
۲۰ کیونکہ ایسا ہوا کہ جب شعلہ مذبح پر سے آسمان کی طرف اٹھا تو خداوند کا فرشتہ مذبح کے شعلہ میں ہو کر اوپر چلا گیا اور منوحہ اور اس کی بیوی دیکھ کر اوندھے منہ زمین پر گرے ۔
۲۱ پر پر خداوند کا فرشتہ نپ پھر منوحہ کو دکھائی دیا نہ ا کی بیوی کو ۔تب منوحہ نے جانا کہ وہ خداوند کا فرشتہ تھا ۔
۲۲ اور منوحہ نے اپنی بیوی سے کہا کہ ہم ضرور مر جائیں گے کیونکہ ہم نے خدا کو دیکھا ۔
۲۳ اس کی بیوی نے اس سے کہا اگر خدا یہی چاہتا کہ ہم کو مار دے تو سوختنی اور نذر کی قربانی ہمارے ہاتھ سے قبول نہ کرتا اور نہ ہم کو یہ واقعات دکھاتا اور نہ ہم سے ایسی باتیں کہتا ۔
۲۴ اوراس عورت کے ایک بیٹا ہوا ور اس نے اس کا نام سمسون رکھا اور وہ لڑکا بڑھا اور خداوند نے اسے برکت دی ۔
۲۵ اور خداوند کی روح اسے محنے دان میں جو صرعہ اور استال کے درمیان ہے تحریک دینے لگی ۔