(۲) اِفتاح اِسرائیل کا دِفاع کرتا ہے (۱: ۱۔۲۸)
۱۱: ۱۔۳ افتاح جلعادی زبردست سورما اور غیر عورت کا بیٹا تھا۔ جب اُس کے اپنے ملک کے لوگوں نے اُسے ردّ کر دیا تو وہ طوب کے ملک میں رہنے لگا (غالباً شام) جہاں وہ شُہدے (بدمعاش یا لُچے) لوگوں کا قائد بن گیا۔
۱۱: ۴۔۱۱ جلعاد کے بزرگوں نے اِفتاح سے کہا کہ عمونیوں کے خلاف اِسرائیلی فوج کی قیادت کرے اور اُس سے وعدہ کیا کہ اگر وہ دشمنوں کو شکست دے دے تو وہ اُسے اپنا حکمران تسلیم کر لیں گے۔
اُس کی پیدائش پر ایک پردہ تھا اور اُسے اُس کے بھائیوں نے ردّ کر دیا۔ جب اِسرائیلی غلامی میں گرفتار ہو گئے تو اُنہوں نے اُسے یاد کیا، اور اُس سے مدد مانگی۔ وہ جلعادیوں کی مدد کرنے کو تیار ہو گیا اور ایسا کرتے ہوئے وہ اُن کا حاکم بننے کو بھی راضی ہوا۔
۱۱: ۱۲۔۲۸ افتاح کا پہلا کام یہ تھا کہ اُس نے عمونی بادشاہ کے پاس ایلچی بھیجے، اور اُسے موقع فراہم کیا کہ وہ اپنے ظلم کی وضاحت کرے۔ بادشاہ نے شکایت کی کہ جب بنی اِسرائیل مصر سے کنعان میں آئے تو اُنہوں نے اُس کی زمین پر قبضہ کیا تھا۔ افتاح نے بتایا کہ ایسا ہرگز نہیں خداوند نے اپنے لوگوں کو ہدایت کی تھی کہ ادومیوں (اِستثنا ۲: ۴،۵)، موآبیوں (اِستثنا ۲:۹) یا عمونیوں (اِستثنا ۲:۱۹) کو بالکل چھیڑا نہ جائے کیونکہ یہ یہودیوں کے دُور کے رشتہ دار ہیں۔ چنانچہ بنی اِسرائیل ادوم اور موآب کی سرزمین پر سے چکر کاٹ کر گزر گئے۔ تاہم جب وہ عمونیوں کے علاقے میں آئے، تو اُسے پہلے سے اموریوں نے فتح کر لیا تھا جن کا بادشاہ سیحون تھا۔ اِسرائیلیوں نے اموریوں کو شکست دے کر ملک پر قبضہ کیا تھا۔
جب عمونی بادشاہ نے اپنے اِس دعوے سے دست بردار ہونے کے لئے اِنکار کر دیا تو افتاح جنگ کے لئے تیار ہو گیا۔
(۳) اِفتاح کی مَنّت (۱۱: ۲۹۔۴۰)
جنگ پر جانے سے قبل افتاح نے بڑی جلد بازی سے مَنّت مانی کہ جب وہ فتح کر کے واپس لوٹے تو جو اُس کے گھر میں سے پہلے اُس سے ملے وہ خداوند کا ہو گا۔ خداوند نے اُسے عمونیوں پر فتح بخشی اور جب وہ اپنے گھر آیا تو سب سے پہلے اُسے ملنے کے لئے اُس کی بیٹی باہر آئی۔ چنانچہ اُس نے اُسے خداوند کے حضور پیش کر دیا۔
افتاح نے اپنی بیٹی کے ساتھ کیا کیا اِس کے متعلق کئی مختلف آرا ہیں۔ ایک نظریہ یہ ہے کہ اُس نے اُسے ذبح کر کے سوختنی قربانی کے طور پر خداوند کے حضور پیش کر دیا۔ متن کے لحاظ سے تو یہی مطلب اخذ ہوتا ہے حالانکہ اِنسانی قربانی کا تصور نہایت مکروہ ہے اور خدا نے کبھی اِسے پسند نہیں کیا (اِستثنا ۱۸: ۹۔۱۴)۔ صرف جانوروں کی قربانی دی جاتی تھی، اِنسانوں کو مخصوص کیا جاتا تھا اور زرِ فدیہ دے کر اُنہیں چھڑا لیا جاتا تھا (خروج ۱۳:۱۲،۱۳؛ احبار ۲۷: ۱۔۸)۔
ایک دوسرا عام نظریہ یہ ہے کہ افتاح نے اپنی بیٹی کو خداوند کی خدمت کے لئے مخصوص کر دیا اور کہ وہ اِس خدمت کے لئے ہمیشہ کنواری رہے۔ اِس نظریے کے حامل لوگوں کا یہ خیال ہے کہ اِفتاح کی منت یہ تھی کہ کوئی اُس کے گھر کے دروازے سے نکل کر اُس کے اِستقبال کو آئے ’’وہ خداوند کا ہو گا یا مَیں اُس کو سوختنی قربانی کے طور پر گزرانوں گا‘‘ (آیت ۳۱)۔ مسلسل کنوارپن کے تصور کو آیات ۳۷۔۳۹ سے تقویت ملتی ہے۔ بہرکیف اِس سے ہم یہ سبق اخذ کرتے ہیں کہ ہم جلد بازی میں وعدے نہ کریں۔
مقدس کتاب
۱ اور جلعادی افتاح بڑا زبردست سورما اور کسبی کا بیٹا تھا اور جلعاد سے افتاح پیدا ہوا تھا ۔
۲ اور جلعاد کی بیوی کے بھی اس سے بیٹے ہوئے اور جب اسکی بیوی کے بیٹے بڑے ہو ئے تو انہوں نے افتاح کو یہ کہہ کر نکال دیا کہ ہمارے باپ کے گھر میں تجھے کو ئی میراث نہیں ملیگی کیو نکہ تو غیر عورت ک بیٹا ہے ۔
۳ تب افتاح اپنے بھائیوں کے پاس سے بھاگ کر طوب کے ملک میں رہنے لگا اور افتاح کے پاس شہدے جمع ہو گئے اور اس کے ساتھ پھرنے لگے ۔
۴ اور کچھ عرصہ کے بعد بنی عمون نے بنی اسرائیل سے جنگ چھیڑ دی ۔
۵ اور جب بنی عمون بنی اسرائیل سے لڑنے لگے تو جلعادی بزگ چلے کہ افتاح کو طوب کے ملک سے لے آئیں ۔
۶ سو وہ افتاح سے کہنے لگے کہ تو چل کر ہمارا سردار ہو تا کہ ہم بنی عمون سے لڑیں ۔
۷ اور افتاح نے جلعادی بزرگوں سے کہا کیا تم نے مجھ سے عداوت کرکے مجھے میرے باپ کے گھر سے نکال نہیں دیا ؟سو اب جو تم مصیبت میں پڑ گئے ہو تو میرے پاس کیوں آئے ؟
۸ جلعادی بزرگوں نے افتاح سے کہا کہ اب ہم نے پھر اس لئے تیری طرف رخ کیا ہے کہ تو ہمارے ساتھ چل کے بنی عمون کے ساتھ جنگ کرے اور تو ہی جلعاد کے سب باشندوں پر ہمارا حاکم ہو گا ۔
۹ اور افتاح نے جلعادی بزرگوں سے کہا اگر تم مجھے بنی عمون سے لڑنے کو میرے گھر لے چلو اور خداوند ان کو میرے حوالہ کر دے تو کیا میں تمہارا حاکم ہو نگا؟
۱۰ جلعادی بزرگوں نے افتاح کو جواب دیا کہ خداوند ہمارے درمیان گواہ ہو ۔ یقینا جیسا تو نے کہا ہے ہم ویسا ہی کرینگے ۔
۱۱ تب افتاح جلعادی بزرگوں کے ساتھ روانہ ہوا اور لوگوں نے اسے اپنا حاکم اور سردار بنایااور افتاح نے مصفاہ میں خداوند کے آگے اپنی سب باتیں کہہ سنائیں ۔
۱۲ اور افتاح نے بنی عمون کے بادشاہ کے پاس ایلچی روانہ کئے اور کہلا بھیجا کہ تجھے مجھ سے کیا کام جو تو میری ملک میں لڑنے کو میری طرف آیا ؟
۱۳ بنی عمون کے بادشاہ نے افتاح کے ایلچیوں کو جواب دیا اسلئے کہ جب اسرائیلی مصر سے نکل کر آئے تو ارنون سے یبوق اور یردن تک جو میرا ملک تھا اسے انہوں نے چھین لیا ۔سو اب تو ان علاقوں کو صلح و سلامتی سے مجھے پھیر دے ۔
۱۴ تب افتاح نے پھر ایلچیوں کو بنی عمون کے بادشاہ کے پاس روانہ کیا ۔
۱۵ اور یہ کہلا بھیجا کہ افتاح یوں کہتا ہے کہ اسرائیلیوں نے نہ تو موآب کا ملک اور نہ بنی عمون کا ملک چھینا ۔
۱۶ بلکہ اسرائیلی جب مصر سے نکلے اور بیابان چھانتے ہوئے بح قلزم تک آئے اور قادس میں پہنچے ۔
۱۷ تو اسرائیلیوں نے ادوم کے بادشاہ کے پاس ایلچی روانہ کئے اور کہلا بھیجا کہ ہم کو ذرا اپنے ملک سے ہو کر گذر جانے دے لیکن ادوم کا بادشاہ نہ مانا ۔اسی طرح انہوں نے موآب کے بادشاہ کا کہلا بھیجا اور وہ بھی راضی نہ ہوا چنانچہ اسرائیلی قادس میں رہے۔
۱۸ تب وہ بیابان میں ہو کر چلے اور ادوم کے ملک اور موآب کے ملک کے باہر چکر کاٹ کر موآب کے ملک کے مشرق کی طرف آئےاور ارنون کے اس پار ڈیرے ڈالے پر موآب کی سرحد میں داخل نہ ہو ئے اسلئے کہ موآب کی سرحد ارنون تھا ۔
۱۹ پھر اسرائیلیوں نے اموریوں کے بادشاہ سیحون کے پاس جو حسبون کا کا بادشاہ تھا ایلچی روانی کئے اور اسرائیلیوں نے اسے کہلا بھیجا کہ ہم کو ذرا اجازت دے دے کہ تیرے ملک میں سے ہو کر اپنی جگہ کو چلے جائیں ۔
۲۰ پر سیحون نے اسرائیلیوں کا اتنا اعتبار نہ کیا کہ انکو اپنی سرحد سے گذرنے دے بلکہ سیحون اسرائیلیوں سے لڑا ۔
۲۱ اور خداوند اسرائیل کے خدا نے سیحون اور اس کے سارے لشکر کو اسرائیلیوں کے ہاتھ میں کر دیا اور انہوں نے ان کو مار لیا ۔سو اسرائیلیوں نے اموریوں کے جو وہاں کے باشندے تھے سارے ملک پر قبضہ کر لیا ۔
۲۲ اور وہ ارنون سے یبوق تک اور بیابان سے اردن تک اموریوں کی سب سرحدوں پر قابض ہو گئے ۔
۲۳ پس خداوند اسرائیل کے خدا نے اموریوں کو اس کے ملک سے اپنی قوم اسرائیل کے سامنے سے خارج کیا ۔سو کیا تو اب اس پر قبضہ پا ئیگا ؟
۲۴ کیا جو کچھ تیرا دیوتا کموس تجھے قبضہ کرنے کو دے تو اس پر قبضہ نہ کریگا ؟پس جس جس کو خداوند ہمارے خدا نے ہمارے سامنے سے خارج کر دیا ہم بھی ان کے ملک پر قبضہ کرینگے ۔
۲۵ اور کیا تو صفور کے بیٹے بلق سے جو موآب کا بادشاہ تھا کچھ بہتر ہے ؟کیا اس نے اسرائیلیوں سے کبھی جھگڑا کیا یا کبھی ان سے لڑا ؟
۲۶ جب اسرائیلی حسبون اور اس کے قصبوں اور عروعیر اور اس کے قصبوں اور ان سب شہروں میں جو ارنون کے کنارے کنارے ہیں تین سو برس سے بسے ہیں تو اس عرصے میں تم نے ان کو کیونکہ نہ چھڑا لیا ؟
۲۷ غرض میں نے تیری خطا نہیں کی بلکہ تیرا مجھ سے لڑنا تیری طرف سے مجھ پر ظلم ہے ۔پس خداوند ہی منصف ہے بنی اسرائیل اور بنی عمون کے درمیان آج انصاف کرے ۔
۲۸ لیکن بنی عمون کے بادشاہ نے افتاح کی یہ باتیں جو اس نے اسے کہلا بھیجی تھیں نہ مانیں ۔
۲۹ تب خداوند کی روح افتاح پر نازل ہو ئی اور وہ جلعاد اور منسی سے گذر کر جلعاد کے مصفاہ میں آیا اور جلعا د کے مصفاہ سے بنی عمون کی طرف چلا ۔
۳۰ اور افتاح نے خداوند کی منت مانی اور کہا کہ اگر تو یقینا بنی عمون کو میرے ہاتھ میں کر دے ۔
۳۱ تو جب میں بنی عمون کی طرف سے سلامت لوٹونگا اس وقت جو کوئی پہلے میرے گھر کے دروازے سے نکل کر میرے استقبال کو آئے وہ خداوند کا ہو گا اور میں ا سکو سوختنی قربانی کے طور پر گذرانونگا ۔
۳۲ تب افتاح بنی عمون کی طرف ان سے لڑنے کو گیا اور خداوند نے ان کو اس کے ہاتھ میں کر دیا ۔
۳۳ اور اس نے عروعیر سے منیت تک جو بیس شہر ہیں اور ابیل کرامیم تک بڑی خونریزی کے ساتھ انکو مارا ۔اس طرح بنی عمون بنی اسرائیل سے مغلوب ہوئے ۔
۳۴ اور افتاح مصفاہ کو اپنے گھر آیا اور اس کی طبلے بجاتی اور ناچتی ہو ئی اس کے استقبال کو نکل کر آئی اور وہی ایک اس کی اولاد تھی۔ اس کے سوا اس کے کوئی بیٹی بیٹا نہ تھا ۔
۳۵ جب اس نے اسکو دیکھا تو اپنے کپڑے پھاڑ کر کہا ہائے میری بیٹی تو نے مجھے پست کر دیا اور جو مجھے دکھ دیتے ہیں ان میں سے ایک تو ہے کیونکہ میں نے خداوند کو زبان دی ہے اور میں پلٹ نہیں سکتا ۔
۳۶ اس نے اس سے کہا اے میرے باپ تو نے خدا وند کو زبان دی ہے سو جو کچھ تیرے منہ سے نکلا ہے وہی میرے ساتھ کر اسلئے کہ خداوند تیرے دشمنوں بنی عمون سے تیرا انتقام لیا ۔
۳۷ پھر اس نے اپنے باپ سے کہا میرے لئے اتنا کر دیا جائے کہ دو مہینے کہ مہلت مجھے ملے تا کہ میں جا کر پہاڑو ں پر اپنی ہمجولیوں کے ساتھ اپنے کنور پن پر ماتم کرتی پھروں ۔
۳۸ اس نے کہا جا اور اس نے اسے دو مہینے کہ رخصت دی اور وہ اپنی ہمجولیوں کو لیکر گئی اور پہاڑوں پر ماتم کرتی پھری ۔
۳۹ اور دو مہینے کے بعد وہ اپنے باپ کے پاس لوٹ آئی اور وہ اس کے ساتھ ویسا ہی پیش آیا جیسی منت اس نے مانی تھی ۔اس لڑکی نے باپ کا منہ نہ دیکھا تھا ۔سو بنی اسرائیل میں یہ دستور چلا ۔
۴۰ کہ سال بسال اسرائیلی عورتیں جا کر برس میں چار دن تک افتاح جلعادی کی بیٹی کی یاد گاری کرتی تھیں ۔