ب۔ میکاہ اور دان کا قبیلہ (باب ۱۸)
۱۸: ۱۔۶ عین اِنہی ایام میں دان کے قبیلے کے لوگوں نے سکونت کے لئے اضافی علاقے کی تلاش شروع کی۔
(جب آیت ۱ میں یہ لکھا گیا ہے کہ دان کے قبیلے کو میراث نہیں ملی تھی، تو اِس کا یہ مطلب نہیں کہ جب ملکِ کنعان کی تقسیم ہوئی، تو اُنہیں کوئی علاقہ نہیں دیا گیا تھا (یشوع ۱۹:۴۰۔۴۸)، بلکہ اِس کا یہ مطلب ہے کہ بارہ قبائل میں اُن کی میراث بہت کم تھی)۔ جب اُن کے کچھ جاسوس افرائیم کے کوہستانی ملک میں جاسوسی کے لئے میکاہ کے گھر آئے، تو اُنہوں نے جوان لاوی کی آواز پہچانی اور اُس سے اپنے منصوبوں کے لئے الٰہی برکت کی یقین دہانی کے لئے درخواست کی۔
۱۸: ۷۔۱۳ دان کے پانچ آدمیوں نے لَیس کے شمالی شہر کی جاسوسی کی تو اُنہیں پتا چلا کہ وہ اِطمینان اور اَمن اور چین سے رہتے ہیں۔ مزید برآں اُن کا کسی سے سروکار نہ تھا، یعنی وہ اَمن پسند لوگ تھے اور ’’اپنے پڑوسی لوگوں سے کسی طرح کا باہمی معاہدہ نہ تھا۔‘‘
اُن کی غیر محفوظ حالت کو نعمتِ خداوندی تصور کرتے ہوئے، دان کے چھے سو مردوں نے لَیس پر چڑھائی کر دی۔
۱۸: ۱۴۔۲۶ بعد ازاں جب وہ پانچ آدمی لَیس کو فتح کرنے کے لئے شمال کی طرف جا رہے تھے، تو اُنہوں نے میکاہ کے گھر میں گھس کر سارے بتوں پر قبضہ کر لیا۔ ہلکے سے اِحتجاج کے بعد لاوی نے خوشی سے مان لیا کہ وہ میکاہ کے ایک گھرانے کی خدمت کرنے کے بجائے دان کے قبیلے کی خدمت کرے گا۔ جب میکاہ اور اُس کے شہر کے کچھ لوگ دان کے لوگوں کے پاس جا کر بتوں کی چوری کے لئے اِحتجاج کرنے لگے، تو بنی دان نے کہا کہ میکاہ اِس سلسلے میں خاموش رہے، بلکہ اُنہوں نے اُسے خالی ہاتھ واپس بھیج دیا۔
۱۸: ۲۷۔۳۱ دان کے آدمیوں نے لَیس کے پُراَمن شہر پر حملہ کیا اور اُس کا نام تبدیل کر کے دان رکھا۔ اُنہوں نے کُھدا ہوا بت وہاں نصب کیا اور یونتن بِن جیرسوم بن موسیٰ اور اُس کے بیٹوں کو کاہن مقرر کیا۔
غالباً یونتن اُس لاوی کا نام ہے جس کا پہلے ذکر کیا گیا ہے۔ دان کا شہر اِس وقت کے بعد بت پرستی کا مرکز بن گیا۔ یہیں پر بعد ازاں یربعام نے سونے کے بچھڑوں میں سے ایک کو نصب کیا۔ یہ معلوم نہیں کہ آیا آیت ۳۰ میں مذکور اسیری کا اُس علاقے میں فلستی اسیری سے (مثلا ۱۔سموئیل ۴:۱۱) یا اسور کی اسیری سے تعلق ہے (۲۔سلاطین ۱۵:۲۹)۔
دان کے قبیلے کے سب افراد لَیس میں نہیں گئے (آیت ۱۱) اور نہ ہی سب بت پرستی کا شکار ہوئے۔ بعض یہوداہ اور افرائیم کے درمیان اپنے علاقے میں ٹھہرے رہے۔ اِس قبیلے کے سب سے مشہور فرد سمسون کا تعلق دان کے قبیلے کے اُن لوگوں سے تھا۔
مقدس کتاب
۱ ان دنوں اسرائیل میںن کوئی بادشاہ نہ تھا اور انہی دنوں میں دان کا قبیلہ اپنے رہنے کے لئے میراث ڈھونڈتا تھاکیونکہ ان کو اس دن تک اسرائیل کے قبیلوں میں میراث نہیں ملی تھی۔
۲ سو بنی دان نے اپنے سارے شمار میں سے پانچ سورماﺅں کو صرعہ اور استال سے روانہ کیا تا کہ ملک کا حال دریافت کریں اور اسے دیکھیں بھالیں اور ان سے کہہ دیا کہ جا کر اس ملک کو دیکھو بھالو ۔سو وہ افرائیم کے کوہستانی ملک میں میکاہ کے گھر آئے اور وہیں اترے ۔
۳ جب وہ میکاہ کے گھر کے پاس پہنچے تو اس لاوی جوان کی آواز پہچانی ۔پس وہ ادھر کو مڑ گئے اور اس سے کہنے لگے تجھ کو یہاں کو ن لایا؟تو یہاں کیا کرتا ہے اور یہاں تیرا کیا ہے ؟
۴ اس نے ان سے کہا میکا ہ نے مجھ سے ایسا ایسا سلوک کیا اور مجھے نوکر رکھ لیا ہے اور میں اس کا کاہن بنا ہوں ۔
۵ انہوں نے اس سے کہا کہ خدا سے ذرا صلاح لے تا کہ ہم کو معلوم ہو جائے کہ ہمارا یہ سفر مبارک ہو گا یا نہیں ۔
۶ اس کاہن نے ان سے کہا سلامتی سے چلے جاﺅ کیونکہ تمہارا یہ سفر خداوند کے حضور ہے۔
۷ سو وہ پانچوں شخص چل نکلے اور لیس میں آئے ۔انہوں نے وہاں کے لوگوں کو دیکھا کہ صیدانیوں کی طرح کیسے اطمعینان اور امن اور چین سے رہتے ہیں کیونکہ اس ملک میں کوئی حاکم نہیں تھا جو ان کو کسی بات میں ذلیل کرتا ۔وہ صیدانیوں سے بہت دور تھے اور کسی سے ان کو کوئی کچھ سرو کار نہ تھا ۔
۸ سو وہ صرعہ اور استال کو اپنے بھائیوں کے پاس لو ٹے اور ان کے بھائیوں نے ان سے پوچھا کہ تم کیا کہتے ہو ؟
۹ انہوں نے کہا چلو ہم ان پر چڑھ جائیں کیونکہ ہم نے اس ملک کو دیکھا کہ وہ بہت اچھا ہے اور تم کیا چپ چاپ ہی رہے ؟اب چل کر اس ملک پر قابض ہو نے میں سستی نہ کرو ۔
۱۰ اگر تم چلے تو ایک مطمین قوم کے پا س پہنچو گے اور وہ ملک وسیع ہے کیونکہ خدا نے اسے تمہورے ہاتھ میں کر دیا ۔وہ ایسی جگہ ہے جس مین دنیا کی کسی چیز کی کمی نہیں ۔
۱۱ تب بنی دان کے گھرانے کے چھ سو مر د جنگ کے ہتھیار باندھے ہوئے صرہ اور استال سے روانہ ہوئے ۔
۱۲ اور جا کر یہوداہ کے قریت یعریم میں خیمہ زن ہوئے ۔اسی لئے آج کے دن تک اس جگہ کو محنے دان کہتے ہیں اور یہ قریت یعریم کے پیچھے ہے ۔
۱۳ اور وہاں سے چل کر افرائیم کے کوہستانی ملک میں پہنچے اور میکاہ کے گھر آئے ۔
۱۴ تب وہ پانچوں مرد جو لیس کے ملک کا حال دریافت کرنے گئے تھے اپنے بھائیوں سے کہنے لگے کیا تم کو خبر ہے کہ ان گھروں میں ایک افود اور ترافیم اور ایک کھدا ہوا بت اور ایک ڈھالا ہوا بت ہے ؟سو اب سوچ لو کہ تم کو کیا کرنا ہے ۔
۱۵ تب وہ اس طرف مڑ گئے اور اس لاوی جوان کے مکان میں یعنی میکاہ کے گھر میں داخل ہوئے اور اسے خیرو عافیت پوچھی۔
۱۶ اور وہ چھ سو مرد جو بنی دان میں سے تھے جنگ کے ہتھار باندھے پھاٹک پر کھڑے رہے ۔
۱۷ اور ان پانچوں شخصوں نے جو زمین کا حال دریافت کرنے کو نکلے تھے وہاں آکر کھدا ہوا بت اور افور اور ترافیم اور ڈھالا ہوا بت سب کچھ لے لیا اور وہ کاہن پھاٹک پر ان چھ سو مردوں کے ساتھ جو جنگ کے ہتھیار باندھے تھے کھڑا تھا ۔
۱۸ جب وہ میکاہ کے گھر میںگھس کر کھدا ہو ابت اور افود اور ترافیم اور ڈھالا ہوا بت لے آئے تو اس کاہن نے ان سے کہا تم یہ کیا کرتے ہو؟
۱۹ تب انہوں نے اس سے کہا چپ ر ہ۔منہ پر ہاتھ رکھ لے اور ہمارے ساتھ چل اور ہمارا باپ اور کاہن بن ۔کیا تیرے لئے ایک شخص کے گھر کا کاہن ہو نا اچھا ہے یا یہ کہ تو بنی اسرائیل کے ایک قبیلہ اور گھرانے کا کاہن ہو؟
۲۰ تب کاہن کا دل خوش ہو گیا اور وہ افود اور ترافیم اور کھدے ہوئے بت کو لے کر لوگوں کے بیچ چلا گےا ۔
۲۱ پھر وہ مڑے اور روانہ ہوئے اور بال بچوں اور چوپاﺅں اور اسباب کو اپنے آگے کر لیا ۔
۲۲ جب وہ میکاہ کے گھر سے دور نکل گئے تو جو لوگ میکال کے گھر کے پاس کے مکانوں میں رہتے تھے وہ فراہم ہوئے اور چل کر بنی دان کو جالیا ۔
۲۳ اور انہوں نے بنی دان کو پکارہ تبب انہوں نے ادھر منہ کرکے میکاہ سے کہا تجھ کو کیا ہو ا جو تو اتنے لوگوں کی جمعیت کو ساتھ لے آرہا ہے ؟
۲۴ اس نے کہا تم میرے دیوتاﺅں کو جن کو میں ے بناوایا اور میرے کاہن کو کو ساتھ لے کر چلے آئے ۔اب میرے پاس اور کیا باقی رہا؟سوتم مجھ سے یہ کیوں کر کہتے ہو کہ کیا ہوا ؟
۲۵ بنی دان نے اس سے کہا تیری آواز ہم لوگوں میں سنائی نہ دے تا نہ وہ کہ جھلے مزاج کے آدمی تجھ پر حملہ کر بےٹھیں اور تو اپنی جان اپنے گھر کے لوگوں کی جان کے ساتھ کھو بیٹھے ۔
۲۶ سو بنی دان تو اپنا راستہ ہی چلتے گئے اور جب میکاہ نے دیکھا کہ وہ اس کے مقابلہ میں بڑے زبردست ہیں تو وہ مڑا اور اپنے گھر کو لوٹا ۔
۲۷ یوں وہ میکاہ کی بنوائی ہوءچیزوںکو اور اس کاہن کو جو اس کے ہاں تھا لے کر لیس میں ایسے لوگوں کے پاس پہنچے جو امن اور چین سے رہتے تھے اور ان کو تہ تیغ کیا اور شہر جلا دیا۔
۲۸ اور بچانے والا کوئی نہ تھا کیونکہ وہ صیدا سے دور تھا اور یہ لوگ کسی آدمی سے سرو کار نہیں رکھتے تھے اور شہر بیت رحوب کے پا س کی وادی میں تھا ۔پھر انہوں نے وہ شہر بنایا اور اس میں رہنے لگے ۔
۲۹ اور اس شہر کا نام اپنے باپ دان کے نام پر جو اسرائیل کی اولا تھا دن ہی رکھا لیکن پہلے اس شہر کا نام لیس تھا ۔
۳۰ اور بنی دان نے وہ کھدا ہو ابت اپنے لئے نصب کر لیا اور یونتن بن جیر سوم بن موسیٰ اور اس کے بےٹے اس ملک کی اسیری کے دن تک بنی دان کے قبیلہ کے کاہن بنے رہے ۔
۳۱ اور سارے وقت جب تک خدا کا گھر سیلا میں رہا وہ میکاہ کے تراشے ہوئے بت کو جو اس بنوایا تھا اپنے لئے نصب کئے رہے ۔