(۲) عہد کے صندوق کی قدرت (باب ۵)
۵: ۱۔۵ فلستی خدا کے صندوق کو ابنِ عزر سے اشدود میں لائے اور پھر اُسے دجون کے مندر میں رکھ دیا۔ دجون فلستیوں کا قومی دیوتا تھا۔ کتابِ مقدس میں ہم اکثر بعل کے بارے میں پڑھتے ہیں، یہی بعل، دجون کا باپ تصور کیا جاتا تھا۔ فلستیوں نے خدا کے صندوق کو دجون کے بت کے پاس رکھ دیا۔ اُن کا یہ خیال تھا کہ یہ دونوں ہمسر ہیں۔ لیکن جب وہ صبح کے وقت مندر میں واپس آئے تو اُنہوں نے دیکھا کہ خداوند کی قدرت سے دجون کا بت عہد کے صندوق کے سامنے اَوندھے منہ پڑا ہے۔ اِس واقعے کا مطلب نہ سمجھتے ہوئے اُنہوں نے ایک بار پھر دجون کو صندوق کے ساتھ کھڑا کر دیا۔ لیکن اگلی صبح اِس بات میں کوئی شک و شبہ نہ رہا کہ کون زور آور ہے، کیونکہ دجون کا سر اور ہاتھ دہلیز پر ٹوٹ کر نیچے گرے ہوئے تھے۔ اگر دجون سچا دیوتا ہوتا تو وہ خود اپنا دفاع کرتا۔ اچھا ہوتا اگر اُس کے پرستار حقائق کا سامنا کرتے، لیکن اِس کے برعکس اُنہوں نے ایک توہماتی قانون بنا دیا کہ کوئی شخص دہلیز پر پاؤں نہ رکھے۔ دجون اِسرائیل کے مقابلے میں قائم نہ رہا۔ سمسون نے غزہ میں اُس کے مندر کو تباہ کر دیا، کیونکہ خدا نے اُسے قوت دی تھی۔ اُس نے فلستی سرداروں پر پوری عمارت گرا دی (قضاۃ ۱۶ باب)۔ اب یہوواہ نے خود دجون کے بت کو ناکارہ کر دیا اور یوں واضح کر دیا کہ بتوں میں کوئی حکمت (سر) یا قوت (ہاتھ) نہیں۔
۵: ۶۔۹ نہ صرف اُن کے بت بلکہ خود اشدودیوں نے بھی خدا کے غضب کا مزہ چکھنا شروع کر دیا۔ اُن میں ہلچل مچ گئی، اور خدا نے اُنہیں گلٹیوں سے مارا۔ مایوسی کے عالم میں فلستیوں نے فیصلہ کیا کہ وہ صندوق کو اپنے ایک اَور بڑے شہر جات میں چھوڑ آئیں۔ یہاں بھی لوگوں کو گلٹیاں نکلنے لگیں۔
۵: ۱۰۔۱۲ جب صندوق عقرون میں بھیج دیا گیا تو لوگ نہایت ڈر گئے اور اُن کا خدشہ صحیح نکلا کیونکہ مہلک وبا سے بہت سے لوگ مر گئے۔ اور جو مرے نہیں وہ گلٹیوں کے مارے پڑے رہے۔ چنانچہ اُنہوں نے درخواست کی کہ صندوق کو واپس اِسرائیل میں بھیج دیا جائے۔
مقدس کتاب
۱ اور فلِستیوں نے خُدا کا صندوق چھین لیا اور وہ اُسے ابنؔ عزر سے اشدؔدُود کو لے گئے۔
۲ اور فلستی خُدا کے صندُوق کو لیکر اُسے دجؔون کے گھر میں لائے اور دؔجون کے پاس اُسے رکھاّ ۔
۳ اور اشدُودی جب صُبح کو سویرے اُٹھے تو دیکھا کہ دؔجون خُداوند کے صندُوق کے آگے اوندے منُہ زمین پر گِرا پڑا ہے ۔ تب اُنہوں نے دؔجون کی لیکر اُسی کی جگہ اُسے پھر کھڑا کر دیا۔
۴ پھر وہ جو دُوسرے دِن کی صُبح کو سویرے تو دیکھا کہ دَؔجون خُداوند کے صندُوق کے آگے اُندے مُنہ زمین پر گرا پڑا ہےاور دجوؔن کا سر اور اُسکی ہتھیلیاں دہلیز پر کٹی پڑی تھیں ۔ فقط دؔجون کا دھڑ ہی دھڑ رہ گیا تھا ۔
۵ اِس لئِے دجؔون کے پجاری اور جتنے دؔجون کے گھر میں آتے ہیں آج تک اشؔدود میں دؔجون کی دہلیز پر پاؤں نہیں رکھتے۔
۶ پر خُداوند کا ہا تھ اشدُویوں پر بھاری ہوا اور وہ اُنکو ہلاک کرنے لگا ور اشدؔوُد اور اُسکی نوحی کے لوگوں گلٹیوں سے مارا۔
۸ اور اشدُود یوں نے جب یہ حال دیکھا تو کہنے لگے کہ اِؔسرائیل کے خُدا کا صندُوق ہمارے ساتھ نہ رہے کیونکہ اُسکا ہاتھ بُری طرح ہم پر اور ہمارے دیوتا دؔجون پر ہے۔
۷ سو اُنہوں نے فِلستیوں کے سب سرداروں کو بُلوا کر اپنے ہاں جمع کیا اور کہنے لگے ہم اِسؔراؑیل کے خُدا کا صندُوق کو وہاں لے گئے ۔
۹ اور جب وہ اُسے لے گئے تو یُوں ہُؤا کہ خُداوند کا ہاتھ اُس شہر کے خلاف اَیسا اُٹھا کہ اُس میں بڑی بھاری ہل چل مچ گئی اور اُس نے اُس شہر کے لوگوں کو چھوٹے سے بڑے تک مارا اور اُنکے گِلٹیاں نکِلنے لگیں ۔
۱۰ پس اُنہوں نے خُدا کا صندُوق عقرؔوُن کو بھیج دیا اور جُوں ہی خُدا کا صندُوق عقرؔوُن میں پہنچا عقرُونی چلاّنے لگے کہ وہ اِؔسرائیل کے خُدا کا صندُوق ہم میں اِسلئِے لائے ہیں کہ ہمکو اور ہمارے لوگوں کو مروا ڈالیں ۔
۱۱ سو اُنہوں نے فلِستیوں کے سرداروں کو بُلوا کر جمع کیا اور کہنے لگے کہ اِؔسرائیل کے خُدا کے صندُوق کو روانہ کر دو کہ وہ پھر اپنی جگہ پر جائے اور ہم کو اور ہمارے لوگوں کو مار ڈالنے نہ پائے کیونکہ وہا ں سارے شہر میں موَت کی لچل مچ گئی تھی اور خُدا کا ہاتھ وہاں نہایت بھاری ہوا۔
۱۲ اور جو لوگ مرے نہیں وہ گِلٹیوں کے مارے پڑے رہے اور شہر کی فریاد آسمان تک پُہنچی ۔