(۲) اخی مَلِک کی داؤد پر مہربانی(باب ۲۱)
عظیم اِنسان بھی آخر اِنسان ہی ہوتے ہیں، اور داؤد اِس حقیقت سے مستثنیٰ نہیں ہے۔ اِس افسوس ناک باب میں نوب میں خیمۂ اِجتماع کے سامنے اُس کے جھوٹ بیان کئے گئے ہیں (آیات ۱۔۹)، اور یہ بیان بھی درج ہے کہ اُس نے فلستیوں کے سامنے اپنے آپ کو دیوانہ ظاہر کیا (آیات ۱۰۔۱۵)۔
۲۱: ۱۔۶ ساؤل سے بھاگ کر پہلے وہ سموئیل کے پاس گیا (باب ۱۹)۔ پھر یونتن کے پاس (باب ۲۰) اور اَب وہ سردار کاہن کے پاس آتا ہے۔ اخی مَلِک، داؤد سے خائف تھا، اور وہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ وہ کیوں اکیلا سفر کر رہا ہے (اُس کے کچھ ساتھی تھے جو اَور کہیں اِنتظار کر رہے تھے (آیت ۲؛ متی ۱۲: ۳)۔ داؤد نے یہ کہہ کر جھوٹ بولا کہ وہ بادشاہ کے لئے ایک خفیہ مہم پر نکلا ہے۔ پھر اُس نے اُس سے روٹی مانگی۔ لیکن وہاں صرف نذر کی روٹیاں تھیں، مقدس روٹی جو مقدِس کی عبادت میں استعمال ہوتی تھی۔ کاہن نے وہ روٹیاں داؤد کو دے دیں، اور یہ شرط رکھی کہ اُس کے آدمی گذشتہ چند دِنوں سے عورتوں کے ساتھ آلودہ نہ ہوئے ہوں۔ داؤد نے کہا کہ اُس کے آدمی نہ صرف عورتوں سے الگ رہے ہیں بلکہ وہ اپنے خصوصی مشن کی وجہ سے پاک ہیں۔ شیکسپیئر یہ کہنے میں حق بجانب تھا ’’جب ہم شروع میں فریب دیتے ہیں تو ہم فریب کے ایک تانے بانے میں پھنس جاتے ہیں۔‘‘ نذر کی روٹی جو پاک مقام سے ابھی ابھی اُٹھائی گئی، وہ داؤد کو دے دی گئی۔
متی ۱۲: ۳،۴ میں خداوند نے نذر کی روٹی کے اِس غیر شرعی استعمال کو درست قرار دیا، اِس کی وجہ یہ تھی کہ اِسرائیل میں گناہ تھا اور داؤد راست بازی کے موقف کی نمائندگی کرتا تھا۔ اگر داؤد کو اُس وقت تخت پر اُس کا جائز مقام دیا جاتا تو اُسے روٹیاں مانگنے کی قطعاً کوئی ضرورت نہ ہوتی۔ شریعت کا تقاضا تھا کہ اِن روٹیوں کو بے حرمتی سے استعمال نہ کیا جائے، لیکن اِس موجودہ صورتِ حال کے تحت رحم کے کام سے شریعت منع نہیں کرتی تھی۔
۲۱: ۷۔۹ ساؤل کا دوئیگ نامی ایک خادم اُس وقت نوب میں خداوند کے آگے رُکا ہوا تھا۔ گو وہ ادومی تھا لیکن اُس نے عبرانی مذہب قبول کر لیا تھا۔ وہ شاید کسی مَنّت یا قسم کے سبب سے، یا ناپاکی کی وجہ سے یا پھر کسی اَور رسمی ضرورت کے تحت وہاں رُکا ہوا تھا۔ اُس نے داؤد کے ساتھ اخی مَلِک کے رابطے کو دیکھا اور اِس کی ساؤل کو خبر دی۔ اِسی اثنا میں داؤد نے ایک دوسری درخواست کی یعنی اسلحے کی۔ اُس نے پھر جھوٹ بول کر کہا کہ مَیں بادشاہ کے لئے ایک خصوصی مہم پر نکلا ہوں۔ اِس پر اُسے جولیت کی تلوار دی گئی۔ اُس نے جاتی جولیت کو قتل کرتے وقت خداوند پر بھروسا کیا تھا لیکن اب اُس کی یہ بھول ہے کہ وہ ایک مقتول دشمن کی تلوار پر بھروسا کرتا ہے۔
۲۱: ۱۰۔۱۵ اِس کے بعد داؤد اسرائیل کو چھوڑ کر جولیت کے آبائی شہر جات کو بھاگ گیا۔ یہاں اِسرائیل کا ممسوح بادشاہ خدا کے لوگوں کے دشمنوں کے درمیان پناہ کا متلاشی ہے۔ جب فلستی اُس کے بارے میں شک کرنے لگے تو اُسے جان بچانے کے لئے مجبوراً ایک دیوانے کی اداکاری کرنا پڑی۔ DeRothschild لکھتا ہے کہ ’’داؤد جانتا تھا کہ دیوانوں کو مقدس تصور کیا جاتا ہے جنہیں خدا نے اِس حالت میں رکھا ہے اور جن کی حفاظت خدا خود کرتا ہے۔‘‘ یوں اِسرائیل کا زبور نویس اپنی ڈاڑھی پر اپنا تھوک بہانے اور پھاٹک کے کواڑوں پر لکیریں کھینچنے لگا۔ خدا کے لوگوں کی بے حسی اور داؤد کے اپنے ایمان کی کمزوری کے باعث اُسے اِس حد تک شرم ناک رویہ اپنانا پڑا۔
لیکن داؤد نے اِس کڑی آزمائش کے دوران نہایت اہم اسباق سیکھے۔ اگلے باب کا
مطالعہ کرنے سے پہلے زبور ۳۴ پڑھیں جو تقریباً اِسی وقت لکھا گیا۔ اِس زبور میں ہم داؤد کے کردار کے بارے میں نئی بصیرت حاصل کرتے ہیں۔ ناکامیوں کے باوجود اُسے خدا کے عرفان میں بڑھنے کی توفیق ملی۔
مقدس کتاب
۱ اور داؔؤد نؔوب میں اؔخیملک کاہن کے پاس آیا اور اؔخمیلک داؔؤد سے مِلنے کو کانپتا ہُؤا آیا اور اُس سے کہا تُو کیون اکیلا ہے اور تیرےساتھ کو ئی آدمی نہیں ؟۔
۲ داؔؤد نے اِخؔمیلک کاہن سے کہا کہ بادشاہ نے مھے ایک کام کا حُکم کر کے کہا ہے کہ جِس کرم پر مَیں تجھے بھیجتا ہوُں اور جو حُکم میں تجھے نے تجھے دیا ہے وہ کِسی شخص پر ظاہر نہ ہو ۔ سو میں نے جونوں کو فُلانی فُلانی جگہ بِٹھا ید اہے۔
۳ پس اب تیرے ہاں کیا ہے؟ میرے ہاتھ میں روٹیوں کے پانچ گِدے یا جو کچُھ موَجوُ د ہوے۔
۴ کاہن نے داؔؤد کو جواب دیا میرے ہاں عام روٹیاں تو نہیں پر مُقدس روٹیا ہیں بشرطیکہ وہ جوان عَورتوں سے الگ رہے ہوَ
۵ داؤد نے کاہن کو جواب دِیا سچ تو یہ ہے کہ تین دِن سے عَورتیں ہم سے الگ رہی ہیں اور اگرچہ یہ معُمولی سفت ہے تَو بھی جب مَیں چلا تھا تب اِن جوانوں کے برتن پاک تھے تو آج تو ضرُور ہی وہ برتن پاک ہونگے ۔
۶ تب کاہن نے مُقدّس روٹی اُسکو دی کیونکہ اَور روٹی وہاں نہیں تھ فقط نذر کی روٹی تھی جو خُداوند کے آگے سے اُٹھائی گئی تھی۔ تاکہ اُسکے عِوض اُس دِن جب وہ اُٹھائی جائے گرم روٹی رکھی جائے۔
۸ اور وہاں اُس دِن ساؔؤل کے خادِموں میں سے ایک شخص خُداوند کے آگے رُکا ہُؤا تھا ۔ اُسکا نام ادومی دوؔئنگ تھا ۔ یہ ساؔؤل کے چرواہوں کا سردار تھا۔
۷ پھر داؔؤد نے اِخؔیملک سے پوچھا کیا یہاں تیرے پاس کوئی نیزہ یا تلوار نہیں؟ کیونکہ اپنی تلوار اپنے ہتھار اپنے ساتھ نہیں لایا؟ کیونکہ بادشاہ کے کام کی جلدی تھی۔
۹ اپس کاہِن نے کہا کہ فلِستی جؔولیت کی تلوار جِسے تُو نے اؔیلاہ کی وادی میں قتل کیا کپڑے میں لپٹی ہُؤئی اَفوُ د کے پیچھے رکھّی ہے ۔ اگر تُو اُسے لینا چاہتا ہے تو لے ۔ اُسکے سِوا یہاں کو ئی اور نہیں ہے۔ داؔؤد نے کہا وَیسی تو کوئی ہے ہی نہیں ۔ وہی مجھے دے۔
۱۰ اور داؔؤد اُٹھا اور ساؔؤل کے خَوف سے اُسی دِن بھاگا اور جاؔت کے بادشاہ اِکؔیس کے پاس چلا گیا۔
۱۱ اور اکؔیس کے مُلازِموں نے اُس سے کہ کے کیا یہی اُس مُلک کا بادشا ہ داؤد نہیں ؟ کیا اِسی کے بارہ میں ناچتے وقت گا گا کر اُنہوں نے آپس میں نہیں کہا تھا کہ ساؔؤل نے تو ہزاروں کو پر داؤد نے لاکھوں کو مارا؟۔
۱۲ داؔؤد نے یہ باتیں اپنے دِل میں رکھّیں اور جاؔت کے بادشاہ اِکؔیس سے نہایت ڈرا۔
۱۳ سو وہ اُنکے آگے دُوسری چال چلا اور اُنکے ہاتھ پڑ کر اپنے کو دِیوانہ بنا لیا اور پھاٹک کے کواڑوں پر لکیرٰیں کھینچنے اور اپنے تھُوک کو اپنی داڑی پر بہانے لگا۔
۱۴ تب اِکؔیس نے اپنے نوکروں سے کہا لو یہ آدمی تو سِڑہے ۔ تُم اُسے میرے پاس کیوں لائے؟۔
۱۵ کیا مُجھے سِڑیوں کی ضرُورت ہے جو تُم اُسکو میرے پاس لائے ہو کہ میرے سامنے سِڑی پن کرے؟ کیا اَیسا آدمی میرے گھر میں آنے پائیگا۔؟۔