۱سموئیل ۱۷

ج۔ جولیت کی شکست (‏باب ۱۷)‏

۱۷:‏ ۱۔۱۱ فلستیوں نے یروشلیم کے جنوب مغرب میں جات اور ایلہ کی وادی کے نزدیک جنگ کے لئے فوجیں جمع کیں۔ ساؤل اور اُس کی فوج بھی قریب ہی فراہم ہوئے۔ ایلہ کی وادی اُن کے درمیان تھی۔ فلستی لشکر سے جولیت نامی ایک سورما چالیس دن تک ہر روز نکل کر اسرائیل کی فوجوں کی تضحیک کرتے ہوئے کہتا کہ میرے مدِمقابل لڑنے کے لئے نکلو۔ کوئی بھی نہ نکلا۔ اِس جبار کا قد ۹ فٹ ۹ اِنچ تھا اور تقریباً ۸۷ کلوگرام وزنی زِرہ پہنے ہوئے تھا۔ اُس کے نیزے کا پھل سات کلو وزنی تھا۔ یہ بھاری ہتھیار اُس کے لئے کسی طرح کا مسئلہ نہیں تھے کیونکہ اُس کا اپنا وزن ۳۰۰ تا ۳۷۵ کلو گرام کے درمیان ہو گا (‏ممکن ہے کہ اُس کی جسامت کے لحاظ سے اِس سے زیادہ بھی ہو)‏۔ اِس وجہ سے اُس کی طاقت عام آدمی کی نسبت زیادہ تھی۔ 

۱۷:‏ ۱۲۔۳۰ ایک دن جب داؤد اپنے تین بڑے بھائیوں کے لئے کھانے پینے کی چیزیں لے کر لشکر گاہ میں آیا تو اُس نے اِس پہلوان کے طعنے سنے اور اِسرائیلی سپاہیوں کے خوف زدہ چہرے دیکھے۔ اُس نے پوچھا کہ جو کوئی اِس ظالم شخص کو مار دے اُسے کیا انعام ملے گا؟ اُس کے بڑے بھائی الیاب نے اُسے ملامت کی‏، غالباً وہ اپنی بُزدلی کو چھپانا چاہتا تھا۔ لیکن داؤد نے اصرار کیا کہ جو کوئی اِس پہلوان کو مار ڈالے اُسے کیا ملے گا۔ 

۱۷:‏ ۳۱۔۴۰ ساؤل کو خبر دی گئی کہ ایک نوجوان اِسرائیل کی طرف سے لڑنا چاہتا ہے۔ داؤد کو اُس کے سامنے حاضر کیا گیا۔ جب ساؤل نے داؤد کو دیکھا تو کہا ’’ تُو محض لڑکا ہے۔‘‘ لیکن داؤد جانتا تھا کہ مَیں نے خدا کی قدرت سے اپنے گلّے کا شیر اور ریچھ سے دِفاع کیا تھا۔ اُس نے خدا کی قدرت کا تجربہ کیا تھا‏، اور اَب وہ علانیہ خدا پر بھروسا کر سکتا تھا۔ اُس کے حوصلے اور عزم کو دیکھتے ہوئے ساؤل نے اُسے اپنے ہتھیار دیئے‏، لیکن داؤد نے اُنہیں ردّ کر دیا کیونکہ یہ اُس کے لئے رکاوٹ کا باعث تھے۔ اِن کے بجائے وہ پانچ چکنے پتھروں‏، ایک فلاخن‏، ایک لاٹھی اور زندہ خدا کی قوت سے مسلح ہو کر آگے بڑھا۔ 

۱۷:‏ ۴۱۔۵۴ جب جولیت نے داؤد کو جو اُس وقت تقریباً بیس برس کا ہو گا دیکھا تو بہت ناراض ہوا۔ اُس کا خیال تھا کہ اِسرائیل نے اُس کی تذلیل کے لئے ایسے شخص کو بھیجا جو اُس کی نظر میں محض بچہ ہے۔ اُس پہلوان کی لعنتوں اور طعنوں کے جواب میں داؤد بالکل نہیں ڈرا۔ اُس کا کامل ایمان تھا کہ خداوند مجھے فتح دے گا۔ جب جولیت اُس کی طرف بڑھا تو داؤد نے فلاخن سے پہلا پتھر مارا‏، جو اُس کے ماتھے میں گھس گیا۔ یہ پہلوان منہ کے بل گر گیا۔ تب داؤد نے اُس فلستی کی تلوار ہی سے اُس کا سر تن سے جدا کر دیا۔ جب فلستیوں نے دیکھا تو وہ بھاگ کھڑے ہوئے اور اِسرائیل نے اُن کا تعاقب کیا۔ 

۱۷:‏ ۵۵۔۵۸ اِن آیات میں ایک مشکل در پیش ہے۔ عجیب بات ہے کہ ساؤل نے داؤد کو نہ پہچانا‏، حالانکہ اُس نے اِس سے پہلے ہی اُسے اپنا سلح بردار مقرر کر رکھا تھا (‏۱۶:‏۲۱)‏۔ تاہم یہ بات یاد رکھیں کہ یہ نہیں لکھا کہ ساؤل نہیں جانتا تھا کہ یہ نوجوان ہیرو کون ہے‏، بلکہ صرف یہ لکھا ہے ’’یہ نوجوان کس کا بیٹا ہے؟‘‘ ممکن ہے کہ ساؤل داؤد کے خاندانی پس منظر کو بھول گیا ہو۔ وِلیمز اِس کی یوں تفسیر کرتا ہے:‏

’’چونکہ ساؤل نے وعدہ کیا تھا کہ وہ فاتح کے خاندان سے ٹیکس نہیں لے گا اور شاہانہ جہیز کے ساتھ اپنی بیٹی کو اُس سے بیاہ دے گا‏، اِس لئے یہ فطری بات تھی کہ وہ ابنیر سے داؤد کے باپ اور سماج میں اُس کی حیثیت کے بارے میں پوچھتا …‘‘ 

مقدس کتاب

۱ پھر فِلستیوں نے جنگ کے لئے اپنی فَوجیں جمع کِیں اور یہُودؔا کے شہر شؔوکہ میں فراہم ہُوئے اور شؔوکہ اور عؔزیقہ کے درمیان افسؔدمیمِ میں خَیمہ زن ہوئے۔
۲ اور سؔاؤل اور اِؔسرائیل کے لوگوں نے جمع ہو کراؔیلہ کی وادی میں ڈیرے ڈالے اور لڑائی کے لئے فِلستیِوں کے مُقابل صف آرائی کی۔
۳ اور ایک طرف کے پہاڑ پر فِلستی اور دُوسری طرف کے پہاڑ پر بنی اِسرائیل کھڑے ہُوئے اور اِن دونوں کے درمیان وادی تھی۔ (۴) اور فِلستیوں کے لشکر سے ایک پہلوان نِکلا جسکا نام جاتی جوؔلیت تھا۔ اُسکا قد چھ ہاتھ اور ایک بالشِت تھا۔
۴
۵ اور اُسکے سر پر پِتیل کا خود تھا اور وہ پیتل ہی کی زِرہ پہنے ہُوئے تھا جو تول میں پانچ ہزار پیتل کی مِثقال کے برابر تھی۔ اور اُسکی ٹانگوں پر پَیتل کے دو ساق پوش تھے اور اُسکے دونوں شانوں کے درمیان پیتل کی برچھی تھی۔
۶
۸ اور اُسکے بھالے کی چھڑ اَیسی تھی ج،جَیسے جُلا ہے کا شہتیر اور اُسکے نیزہ کا پھل چھ سَو مِثقال لوہے کا تھا اور ایک شخص سِپر لئے ہوئے اُسکے آگے آگے چلتا تھا۔
۷ وہ کھرا ہُؤا اور اِسؔرائیل کے لشکروں کو پُکا کر اُن سے کہنے لگا کہ تُم نے آکر جنگ کے لئے کیوں صف آرائی کی ؟ کیا مَیں فلِستی نہیں اور تُم سؔاؤل کے خادِم نہیں ؟ سو اپنے لئے کِسی شخص کو چُنو جو میرے پاس اُتر آئے ۔
۹ اگر وہ مُجھ سے لڑ سکے اور مُجے قتل کر ڈالے تو ہم تُمہارے خادِ م ہو جائینگے پر اگر مَیں اُس پر غالب آؤ ں اور اُسے قتل کر ڈالوُں تو تُم ہمارے خادِم ہو جانا اور ہماری خِدمت کرنا ۔ پھر اُس فِلستی نے کہا کہ مَیں آج کے دِن اِسرائیلی فَوجوں کی فِضیحت کرتا ہُوں ۔ کوئی مرد نِکالو تاکہ ہم لڑیں ۔
۱۰
۱۱ جب سؔاؤل اور سب اِسرائیلیوں نے اُس فِلستی کی باتیں سُنیں تو ہراسان ہوئے اور نہایت ڈر گئے ۔
۱۲ اور دؔاؤد بیَت ؔالحم یُہوؔداہ کے اُس افراتی مرد کا بیٹا تھا جسکا نام یؔسّی تھا۔ اُسکے آٹھ بیٹے تھے اور وہ آپ سؔاؤل کے زمانہ کے لوگوں کے درمیان بُڈھا اور عُمر رِسیدہ تھا۔
۱۳ اور یؔسّی کے تین بڑے بیٹے سؔاؤل کے پیچھے پیچھے جنگ میں گئے تھے اور اُسکے تینوں بیٹوں کے نام جو جنگ میں گئے تھے یہ تھے اؔلیاب جو پہلوٹھا تھا ۔ دُوسرا اؔبینداب اور تِیسرا سؔمہّ۔
۱۴ اور دؔاؤد سب سے چھوٹا تھا اور تینوں بڑے بیٹے سؔاؤل کے پیچھے پیچھے تھے۔
۱۵ اور دؔاؤد بیتؔ لحم میں اپنے باپ کی بھیڑ بکریاں چرانے کو سؔاؤل کے پاس سے آیا جایا کرتا تھا ۔
۱۶ اور وہ فِلستی صُبح اور شام نزدِیک آتا اور چالِیس دِن تک نِکلکر آتا رہا۔
۱۸ اور یؔسّی نے اپنے بیٹے دؔاؤد سے کہا کہ اِس بُنے اناج میں سے ایک ایفہ اور یہ دس روٹیاں اپنے بھائیوں کے لئے لیکر اِنکو جلد لشکر گاہ میں اپنے بھائیوں کے پاس پُہنچا دے ۔ اور اُنکے ہزاری سردار کے پاس پِنیر کی یہ دس ٹِکیاں لے جا اور دیکھ کہ تیرے بھائیوں کا کیا حال ہے اور اُنکی کچھ نشانی لے آ۔
۱۷
۱۹ اور سؔاؤل اور وہ بھائی اور سب اِسرائیلی مرد ایلہؔ کی وادی میں فِلستیوں سے لڑرہے تھے۔
۲۰ اور دؔاؤد صبح کو سویرے اُٹھا اور بھیڑ بکریوں کو ایک نگِہبان کے پاس چھوڑ کر یؔسّی کے حُکم کے مُطابق سب کچھ لیکر روانہ ہُؤا اور جب وہ لشکر جو لڑنے جا رہا تھا جنگ کے لئے للکار رہا تھا اُس وقت وہ چھکڑوں کے پڑاؤ میں پُہنچا۔
۲۱ اور اِسرائیلیوں اور فِلستیوں نے اپنے اپنے لشکر کو آمنے سامنے کر کے صف آرائی کی۔
۲۲ اور دؔاؤد اپنا سامان اسباب کے نِگہبان کے ہاتھ میں چھوڑ کر آپ لشکر میں دَوڑ گیا اور جا کر اپنے بھائیوں سے خَیر و عافیت پوچھی ۔
۲۳ اور وہ اُن سے باتیں کرتا ہی تھا کہ دیکھو وہ پہلوان جاؔت کا فِلستی جسکا نام جؔولیت تھا فِلستی صفوں میں سے نِکلا اور اُس نے پھر وَیسی ہی باتیں کہیں اور دؔاؤد نے اُنکو سُنا۔
۲۴ اور سب اسرئیلی مرد اُس شخص کو دیکھ کر اُسکے سامنے سے بھاگے اور بہت ڈر گئے۔
۲۵ تب اِسرائیلی مرد یُوں کہنے لگے تُم اِس آدمی کو جو نِکلا ہے دیکھتے ہو ؟ یقیناً یہ اِؔسرائیل کی فضِیحت کرنے کو آیا ہے۔ سو جو اُسکو مار ڈالے اُسے بادشاہ بڑی دَولت سے نِہال کریگا اور اپنی بیٹی اُسے بیاہ دیگا اور اُسکے باپ کے گھرانے کو اِؔسرائیل کے دریمان آزاد کردیگا۔
۲۶ اور دؔاؤد نے اُن لوگوں سے جو اُسکے پاس کھڑے تھے پُوچھا کہ جو شخص اِس فِلستی کو ماکر یہ ننگ اِؔسرائیل سے دُور کرے اُس سے کیا سَلوُک کِیا جائیگا؟ کیونکہ یہ نامخُتون فِلستی ہو تاکہ کَون ہے کہ وہ زِندہ خُد ا کی فَوجوں کی فضِیحت کرے؟۔
۲۸ اور لوگوں نے اُسے یہی جواب دِیا کہ اُس شخص سے جو اُسے مار ڈالے یہ سُلُوک کِیا جائیگا۔
۲۷ اور اُسکے سب سے بڑے بھائی الؔباب نے اُسکی باتوں کو جو وہ لوگوں سے کرتا تھا سُنا اور اؔلباب کا غُصہّ دؔاؤد پر بھڑکا اور وہ کہنے لگا تُو یہاں کیوں آیا ہے اور وہ تھوڑی سی بھیڑ بکریاں تُو نے جنگل میں کِس کے پاس چھوڑیں ؟ مَیں تیرے گھمنڈ اور تیرے دِل کی شرارت سے واقِف ہُوں ۔ تُو لڑائی دیکھنے آیا ہے ۔
۲۹ دؔاؤد نے کہا مَیں نے اب کیا کیا؟ کیا بات ہی نہیں ہو رہی ہے؟ ۔
۳۰ اور وہ اُسکے پاس سے پھِر کر دُوسرےکی طرف گیا اور وَیسی ہی باتیں کرنے لگا اور لوگوں نے اُسے پھر پہلے کی طرح جواب دِیا۔
۳۱ اور جب وہ باتیں جو دؔاؤد نے کِہیں سُننے میں آئیں تُو اُنہوں نے سؔاؤل کے آگے اُس کا چرچا کیا اور اُس نے اُسے بُلا بھیجا ۔
۳۲ اور دؔاؤد نے سؔاؤل سے کہا کہ اُس شخص کے سبب سے کِسی کا دِل نہ گھبرائے ۔ تیرا خادِ م جا کر اُس فِلستی سے لڑیگا۔
۳۳ ساؔؤل نے دؔاؤد سے کہا کہ تُو اِس قابِل نہیں کہ اُس فِلستی سے لڑنے کو اُسکے سامنے جائے کیونکہ تُو محض لڑکا ہے اور وہ اپنے بچپن سے جنگی مرد ہے ۔
۳۴ تب دؔاؤد نے سؔاؤل کو جواب دِیا کہ تیرا خادِم اپنے باپ کی بھیڑ بکریاں چراتا تھا اور جب کبھی کوئی شیر یا ریچھ آکر جُھنڈ میں سے کوئی برّہ اُٹھا لے جاتا۔
۳۵ تو مَیں اُسکے پیچھے پیچھے جا کر اُسے مارتا اور اُسے اُسکے مُنہ سے چُھڑا لاتا تھا اور جب وہ مُجھ پر جھپٹتا تو مَیں اُسکی داڑی پکڑ کر اُسے مارتا اور ہلاک کر دیتا تھا۔
۳۶ تیرے خادِم نے شیر اور رِیچھ دونوں کو جان سے مارا۔ سو یہ نامختُون فِلستی اُن میں سے ایک کی مانند ہوگا اِسلئِے کہ اُس نے زندہ خُدا کی فَوجوں کی فضِیحت کی ہے۔
۳۸ پھر دؔاؤد نے کہا کہ خُداوند نے مُجھے شیر اور ریچھ کے پنجہ سے بچایا ۔ وُہی مُجھ کو اِس فِلستی کے ہاتھ سے بچائیگا۔ سؔاؤل نے دؔاؤد سے کہا جا خُداوند تیرے ساتھ رہے۔
۳۷ تب سؔاؤل نے اپنے کپڑے دؔاؤد کو پہنائے اور پیتل کا خد اُسکے سر پر رکھّا اور اُسے زِرہ بھی پہنائی ۔
۳۹ اور دؔاؤد نے اُسکی تلوار اپنے کپڑوں پر کس لی اور چلنے کی کوشِش کی کیونکہ اُس نے اِنکو آزمایا نہیں تھا۔ تب دؔاؤد نے سؔاؤل سے کہا مَیں اِنکو پہنکر چل نہیں سکتا کیونکہ میں نے اِن کو آزمایا نہیں ہے۔ سو دؔاؤد نے اُن سب کو اُتار دِیا۔
۴۰ اور اُس نے اپنی لاٹھی اپنے ہاتھ میں لی اور اُس نالہ سے پانچ چکنے پتھر اپنے واسطے چُن کر اُنکو چرواہے کے تھیلے میں جو اُسکے پاس تھا یعنی جھولے میں ڈال لیا اور اُسکا فلاخن اُسکے ہاتھ میں تھا ۔ پھِر وہ اُس فِلستی کے نزدیک چلا۔
۴۱ اور وہ فِلستی بڑھا اور دؔاؤد کے نزدیک آیا اور اُسکے آگے آگے اُسکا سِپر برادر تھا۔
۴۲ اور جب اُس فلِستی نے اِدھر اُدھر نگاہ کی اور دؔاؤد کو دیکھا تو اُسے ناچیز جانا کیونکہ وہ محض لڑکا تھا اور سُرخ رُو اور نازُک چہرہ کا تھا۔
۴۳ سو فِلستی نے دؔاؤد سے کہا کیا مَیں کُتاّ ہوُں جو تُو لاٹھی لیکر میرے پاس آتا ہے۔ ؟ اور فلسِتی نے اپنے دیوتاؤں کا نام لیکر دؔاؤد پر لعنت کی ۔
۴۴ اور اُس فِلستی نے دؔاؤد سے کہا تُو میرے پاس آ اور مَیں تیرا گوشت ہوائی پرنِدوں اور جنگلی دِرندوں کو دُونگا۔
۴۵ اور دؔاؤد نے اُس فِلستی سے ککہا کہ تُو تلوار بھالا اور برچھی لئے ہوُئے میرے پاس آتا ہے پر مَیں ربُّ الافواج کے نام سے جو اؔسرائیل کے لشکروں کا خُدا ہے جِسکی تُو نے فضیحت کی ہے تیرے پاس آتا ہُوں ۔
۴۶ اور آج لی کے دِن خُداوند تُجھ کو میرے ہاتھ میں کر دیگا اور مَیں تُجھ کو مار کر تیرا سر تُجھ پر سے اُتار لوُ نگا اور مَیں آج کے دِن فِلسِتیوں کے لشکر کی لاشیں ہوائی پرنِدوں اور زمین کے جنگلی جانوروں کو دُونگا تاکہ دُنیا جان لے کہ اِؔسرائیل میں ایک خُدا ہے ۔
۴۸ اور یہ ساری جماعت جان لے کہ خُداوند تلوار اور بھالے کے ذریعہ سے نہیں بچاتا اِسلئے کہ جنگ تو خُداوند کی ہے اور وُہی تُم کو ہمارے ہاتھ میں کریدگا۔
۴۷ اور اَیسا ہُؤا کہ جب وہ فِلستی اُٹھا اور بڑھ کر دؔاؤد کے مُقابلہ کے لئے نزدیک آیا تو دؔاؤد نے جلدی کی اور لشکر کی طرف اُس فِلستی سے مُقابلہ کرنے کو دَوڑا۔
۴۹ اور دؔاؤد نے اپنے تَھیلے میں اپنا ہاتھ ڈالا اور اُس میں سے ایک پتّھر فلاخن میں رکھکر اُس فِلستی کے ماتھے پر مارا ااور وہ پتّھر اُسکے ماتھے کے اندر گُھس گیا اور وہ زمین پر مُنہ کے بل گِر پڑا ۔
۵۰ سو دؔاؤد اُس فلاخن اور ایک پتّھر سے اُس فلِستی پر غالب آیا اور اُس فِلستی کو مارا اور قتل کیا اور دؔاؤد کے ہاتھ میں تلوار نہتھی۔
۵۱ اور دؔاؤد دَوڑ کر اُس فِلستی کے اُوپر کھڑا ہوگیااور اُسکی تلوار پکڑ کر مِیان سے کھینچی اور اُسے قتل کیا اور اُسی سے اُسکا سر کاٹ ڈالا اور فِلسِتیوں نے جو دِیکھا کہ اُنکا پہلوان مارا گیا تو وہ بھاگے۔
۵۲ اِؔسرائیل اور یؔہُوداہ کے لوگ اُٹھے اور للکار کر فِلسِتیوں کو گؔٹی اور عؔقرُون تک گِرتے گئے۔
۵۳ تب بنی اؔسرائیل فِلستیوں کے تعاقب سے اُلٹے پھرے اور اُنکے خَیموں کو لُوٹا۔
۵۴ اور دؔاؤد اُس فلِستی کا سر لیکر اُسے یؔروشلِیم میں لایا اور اُسکے ہتھیاروں کو اُس نے اپنے ڈیرے میں رکھ دیا۔
۵۵ جب سؔاؤل نے دؔاؤد کو اُس فِلستی کا مُقابلہ کرنے کے لئے جاتے دیکھا تو اُس نے لشکر کے سردار اؔبنیر سے پُوچھا اؔبنیر یہ لڑکا کِس کا بیٹا ہے ؟ ابؔنیر نے کہا اَے بادشاہ تیری جان کی قسم مَیں نہیں جانتا۔
۵۶ تب بادشاہ نے کہا تُو تحقیق کر کہ یہ نَوجوان کِس کا بیٹا ہے۔
۵۸ اور جب دؔاؤد اُس فِلستی کو قتل کر کے پھرا تو اؔبینر اُسے لیکر سؔاؤل کے پاس لایا اور فِلستی کا سر اُسکے ہاتھ میں تھا ۔
۵۷ تب سؔاؤل نے اُس سے کہا اَے جوان تو کِس کا بیٹا ہے؟ داؔؤد نے جواب دِیا مَیں تیرے خادِم بَیت لحمی یؔسّی کا بیٹا ہُوں ۔