۱سموئیل ۲۷

و۔ فلستیوں کی سرزمین میں سکونت (‏ابواب ۲۷۔۳۰)‏

(‏۱)‏ صقلاج کو لے لیا گیا (‏باب ۲۷)‏

۲۷:‏ ۱۔۴ ایک جگہ سے دوسری جگہ مسلسل موت کے تعاقب سے بھاگنے سے داؤد ہمت ہار گیا۔ خدا نے مسلسل معجزانہ طور پر اُس کی حفاظت کی‏، اِس کے باوجود داؤد کا ایمان متزلزل ہو گیا۔ وہ اِس حقیقت کو بھول گیا کہ وہ اِسرائیل کا ممسوح بادشاہ ہے۔ کیا خدا اُسے بادشاہ مقرر کر کے حکومت کرنے سے پہلے ہی اُسے مرنے دے گا؟ کیا خدا جولیت کے ہاتھوں سے رہائی دلا کر ساؤل کے ہاتھوں میں پکڑوا دے گا؟ بالکل نہیں‏، لیکن مخالف حالات انسان کی بصیرت کو بگاڑ دیتے ہیں۔ حالیہ خطرات اکثر خدا کے وعدوں کو دُھندلا کر دیتے ہیں۔ داؤد پھر فلستیوں کے ملک میں بھاگ گیا اور جات کے بادشاہ اکیس سے معاہدہ کر لیا۔ کافی عرصہ ہوا جب وہ یہاں پہلے بھی آیا تھا۔ غالباً اکیس کو اِس بات کا علم تھا کہ وہ مفرور ہے۔ غیر قوم بادشاہ نے پُرتپاک طریقے سے اُس کو خوش آمدید کہا‏، کیونکہ اُس نے دیکھا کہ وہ ایک بہادر جنگی مرد ہے اور اُسے اُمید تھی کہ وہ اسرائیل کے خلاف اُس کا ساتھ دے گا۔ لازم نہیں کہ یہ وہی اکیس ہو جو داؤد کو ۲۱:‏۱۰ میں ملا تھا‏، کیونکہ ’’اکیس‘‘ فلستیوں میں شاہانہ لقب تھا۔ جب ساؤل نے سنا کہ داؤد ملک سے بھاگ گیا ہے‏، تو اُس نے اُس کا تعاقب کرنا ترک کر دیا۔ 

۲۷:‏ ۵۔۷ گذشتہ بار جب داؤد جات میں آیا (‏باب ۲۱)‏ تو اکیس کے خادم اُس پر شک کر رہے تھے یہاں تک کہ اُسے مار ڈالنا چاہتے تھے۔ داؤد اِسے نہیں بھولا تھا۔ اِس لئے اُس نے اب دارالسلطنت میں رہنا نہ چاہا بلکہ اپنے لئے الگ شہر مانگا۔ اُسے صقلاج دیا گیا۔ یہ شہر اسرائیل کی سرحد کے ساتھ تھا‏، جو کسی وقت یہوداہ کی ملکیت تھا (‏یشوع ۱۵:‏ ۳۱)‏۔

۲۷:‏ ۸۔۱۲ فلستیوں کی سرزمین میں سولہ ماہ تک قیام کے دوران داؤد نے جسوریوں‏، جزریوں اور عمالیقیوں پر حملے کئے۔ یہ کنعان کے غیر قوم باشندے تھے جنہیں ہلاک کرنے کا خدا نے حکم دیا تھا (‏خروج ۱۷:‏ ۱۴؛ یشوع ۱۳:‏۱۳؛ ۱۔سموئیل ۱۵:‏ ۲‏،۳)‏۔ جلاوطنی میں بھی داؤد خداوند کی جنگیں لڑ رہا تھا۔ اِس سے ایک عجیب سے تناقض کی کیفیت نظر آتی ہے۔ اُس کو خدا پر بھروسا تھا کہ وہ اِسرائیل کے دشمنوں کو فتح کرنے میں اُس کی حفاظت کرے گا‏، لیکن اُس نے ساؤل سے تحفظ کے لئے اُس پر بھروسا نہ کیا۔ 

مقدس کتاب

۱ (باب نمبر ۲۸) (۱) اور داؔؤد نے اپنے دِل میں کہا کہ اب مَیں کسی نہ کسی دِن ساؔآل کے ہاتھ سے ہلاک ہونگا۔ پس میرے لئے اِس سے بہتر ااور کچھ نہیں کہ مَیں فلِستیوں کی سر زمین کو بھاگ جاؤں اور ساؔؤل مجھ سے نااُمید ہو کر بنی اِسرا ئیل کی سرحّدوں میں پھر مجھے نہیں ڈھُونڈیگا۔ یوں میں اُسکے ہاتھ سے بچ جاؤنگا۔
۲ سو داؔؤد اُٹھا اور اپنے ساتھ کے چھ سَو جوانوں کو لیکر جاؔت کے بادشاہ مؔعوک کے بیٹے اِکیؔس کے پاس گیا۔
۳ اور داؔؤد اور اُسکے لوگ جاؔت میں اِکیؔس کے ساتھ اپنے اپنے خاندان سمیت رہنے لگے اور داؔؤد کے ساتھ بھی اُسکی دونوں بیویاں یعنی یزرعیلی اِخیؔنوعم اور نابالؔ کی بیوی کرملی ابیجیؔل تھیں ۔
۴ اور ساؔؤل کو خبر مِلی کہ داؔؤد جاتؔ کو بھاگ گیا ۔ تب اُس نے پھر کبھی اُسکی تلاش نہ کی ۔
۵ اور داؔؤد نے اِکیؔس سے کہا کہ اگر مجھ پر تیرے کرم کی نظر ہے تومُجھے اِس مُلک کے شہروں میں کہیں جگہ دِلا دے تاکہ میں وہاں بسوں ۔ تیرا خادِم تیرے ساتھ دارُالسّلطنت میں کیوں رہے؟ ۔
۶ سو اِکؔیس نے اُس دِن صِؔقلاج اُسے دِیا ۔ اِسلئے صِقؔلاج آج کے دِن تک یُہوؔداہ کے بادشاہوں کا ہے۔
۸ اور داؔؤد فلِسِتیوں کی سر زمین میں کُل ایک برس اور چار مہینے تک رہا۔
۷ اور داؔؤد اور اُسکے لوگوں نے جا کر جُسور یوں اور جزریوں اور عمالیقیوں پر حملہ کیا کیونکہ وہ شؔور کی راہ سے مصر کی حد تک اُس سر زمین کے قدیم باشندے تھے ۔
۹ اور داؔؤد نے اُس سر زمین کو تباہ کر ڈالا اور عَورت مرد کِسی کو جیتا نہ چھوڑا اور اُنکی بھیڑ بکریاں بیل اور گدھے اور اُونٹ اور کپڑے لیکر لَوٹا اور اِکِؔیس کے پاس گیا ۔
۱۰ اکؔیِس نے پوُچھا کہ آج تُم نے کِدھر لُوٹ مار کی؟ داؔؤد نے کہا یؔہُوداہ کے جنوب اور یرحمیلیوں کے جنوب اور قینیوں کے جنوب میں ۔
۱۱ اور داؔؤد اُن میں سے ایک مرد یا عَورت کو بھی جیتا بچا کر جاؔت میں نہیں لاتا تھا اور کہتا تھا کہ کہیں وہ ہامری قلعی نہ کھول دیں اور کہ دیں کہ داؔؤد نے اَیسا اَیسا کیا اور جب سے وہ فلِستیِوں کی مملکت میں بسا ہے تب سے اُسکا یہی طریقہ رہا ہے ۔
۱۲ اور اِکؔیِس نے داؔؤد کا یقین کرکے کہا کہ اُس نے اپنی قوم اِسراؔئیل کو اپنی طرف سے کمال نفرت دِلا دی ہے سو اب ہمیشہ یہ میرا خادِم رہیگا۔