۱سموئیل ۲۸

(‏۲)‏ ساؤل کے انجام کی پیش گوئی (‏باب ۲۸)‏

۲۸:‏ ۱‏،۲ اب داؤد ایک بہت بڑی اُلجھن میں پھنس گیا۔ فلستی اِسرائیل کے خلاف جنگ کرنے والے تھے اور داؤد کو بادشاہ نے حکم دیا کہ وہ بھی اُن کے ساتھ شامل ہو۔ یوں لگتا ہے کہ اِس کے لئے وہ رضامند ہو گیا‏، تاہم آیت ۲ میں اُس کے الفاظ ذُومعنی ہیں۔ ’’جو کچھ تیرا خادم تیری مدد کے لئے کرے گا وہ تجھے معلوم بھی ہو جائے گا‘‘‏، یا ’’جو کچھ تیرا خادم دوغلے پن سے کرے گا وہ تجھے معلوم بھی ہو جائے گا۔‘‘ اکِیس نے پہلے معانی اخذ کئے اور داؤد کو اپنا شخصی محافظ بنا لیا۔ 

۲۸:‏ ۳۔۸ مخالف فوجیں اسرائیل کے شمال مغرب میں اسدرلون کے میدان (‏ہرمجدون کی وادی)‏ میں جمع ہوئیں۔ فلستیوں نے شونیم میں اور اِسرائیل نے جلبوعہ میں ڈیرے ڈالے۔ جب ساؤل کو نہ تو خوابوں میں اور نہ ہی اوریم اور تمیم کے ذریعے سے کوئی جواب ملا تو اُس نے جنّ کی آشنا کو تلاش کرنے کی کوشش کی۔ اِس سے پہلے اُس نے شریعت کے مطابق جنّات کے تمام آشناؤں کو یا تو قتل کر دیا یا پھر اُنہیں ملک بدر کر دیا تھا۔ اب جب کہ ایک قریبی شہر عین دور میں جنّ کی آشنا کا پتا چلا تو وہ بھیس بدل کر اُس کے پاس گیا تاکہ اُس کی معرفت مُردے سے مشورہ لے۔ 

۲۸:‏ ۹‏، ۱۰ جنّ کی آشنا کی پہلی فکر اپنی جان کی تھی۔ اُس نے ملاقاتی کو جناّت کے آشناؤں اور افسوں گروں کے خلاف بادشاہ کے فرمان کی یاد دلائی۔ ساؤل نے کیونکر خداوند کے نام میں تحفظ کا وعدہ کیا جس نے ایسے لوگوں کو موت کے گھاٹ اُتارنے کا حکم دیا تھا‏، یا جنّ کی آشنا کو خدا کی قسم سے تحفظ کا یقین دلایا‏، یہ ایک معما ہے۔ 

۲۸:‏ ۱۱۔۱۴ حقیقت میں اِس کے بعد کیا ہوا‏، مفسرین اِس پر متفق نہیں ہیں۔ بعض ایک کا خیال ہے کہ ایک بُری رُوح سموئیل کے رُوپ میں اُوپر آئی‏، جب کہ بعض ایک کی رائے یہ ہے کہ خدا نے غیر متوقع طور پر جنّات کی آشنا کی مدد کرتے ہوئے واقعی سموئیل کو ظاہر ہونے کی اِجازت دی۔ موخرالذکر خیال کو اِن وجوہات کی بنا پر ترجیح دی جاتی ہے:‏ جنّ کی آشنا‏، سموئیل کی روح کے اچانک ظہور سے ہراساں ہو گئی۔ اور آیت میں بھی صاف صاف بتایا گیا ہے کہ یہ سموئیل ہی تھا۔ پھر روح نے ٹھیک ٹھیک پیش گوئی کی کہ اگلے دن کیا ہو گا۔ 

۲۸:‏ ۱۵۔۱۹ ساؤل نے سموئیل کو بتایا کہ اُس نے کیوں اُسے مُردوں کی دُنیا سے بلایا ہے۔ سموئیل کی ملامت سے بادشاہ نہایت پریشان ہوا ہو گا۔ کیا اُس کی یہ سوچ درست تھی کہ سموئیل اُس کی مدد کر سکتا ہے جب کہ جس خدا کی وہ خدمت کرتا تھا‏، وہ خاموش تھا؟ بلکہ سموئیل نے ساؤل کے گہرے خدشات کی تصدیق کی۔ جیسا کہ اُسے پہلے بھی بتایا گیا تھا کہ سلطنت اُس سے لے لی جائے گی اور داؤد کو دے دی جائے گی۔ اگلے دن فلستی اِسرائیل کو شکست دیں گے‏، ساؤل اور اُس کے بیٹے مارے جائیں گے اور سموئیل 

کے ساتھ آ ملیں گے۔ اِس کا یہ مطلب نہیں کہ اُن کا ایک جیسا ابدی انجام ہو گا۔ اگر ہم اُن کے کاموں کے لحاظ سے جائزہ لیں تو صاف ظاہر ہے کہ ساؤل بے ایمان‏، جب کہ یونتن ایمان دار شخص تھا۔ 

۲۸:‏ ۲۰۔۲۵ اگلی رات سے پہلے پہلے ساؤل کو اُس کے تمام گناہوں کی سزا ملنے والی تھی۔ واپس جانے سے پہلے بڑی مشکل سے اُسے کچھ کھانے پر آمادہ کیا گیا۔ ایک موٹا بچھڑا ذبح کیا گیا‏، لیکن یہ کسی ضیافت کے لئے ذبح نہیں کیا گیا تھا۔ بڑی پریشانی اور اُداسی کے عالم میں اِس مسترد شخص نے رات کے اندھیرے میں رُخصت ہونے سے پہلے اپنا آخری کھانا کھایا۔ 

مقدس کتاب

۱ اور اُن ہی دِنوں میں اَیسا ہُؤا کہ فلِسِتیوں نے اپنی فَوجیں جنگ کے لئے جمع کیں تاکہ اِؔسرائیل سے لڑیں اور اِکؔیِس نے داؔؤد سے کہا تُو یقین جان کہ تجھے اور تیرے لوگوں کو لشکر میں ہو کر میرے ساتھ جانا ہوگا۔
۲ داؔؤد نے اِکیؔس سے کہا پھر جو کُچھ تیرا خادِ م کریگا وہ تجھے معلوم بھی ہو جائیگا ۔ اکؔیِس نے داؔؤد سے کہا پھر تو سدا کے لئے تجھ کو میں اپنے سر کا نگہبان ٹھہراؤنگا۔
۳ اور سؔموئیل مر چُکا تھا اور سب اِسرائیلیوں نے اُس پر نَوحہ کرکے اُسے اُسکے شہر راؔمہ میں دفن کیا تھا اور ساؔؤل نے جنات کے آشناؤن اور افسُون گروں کو مُلک سے خارِج کر دیا تھا۔
۴ اور فلِستی جمع ہُوئے اور آکر شؔوُنیم میں ڈیرے ڈالے اور ساؔؤل نے بھی سب اِسرائیلیوں کو جمعح کیا اور وہ جلؔبوؑہ میں خَیمہ زن ہُوئے ۔ اور جب ساؔؤل نے فلِستیوں کا لشکر دیکھا تو ہراسان ہُؤا اور اُسکا دِل بہت کانپنے لگا۔
۵
۶ اور جب ساؔؤل نے خُداوند سے سوال کیا تو خُداوند نے اُسے نہ تو خوابوں اور نہ اُوریم اورنہ نبیوں کے وسِیلہ سے کوئی جواب دِیا۔
۸ تب ساؔؤل نے اپنے مُلازِموں سے کہا کو ئی اَیسی عَورت میرے لئے تلاش کر و جسکا آشنا جِنّ ہو تاکہ مَیں اُسکے پاس جا کر اُس سے پُوچھُوں ۔ اُسکے مُلازموں نے اُس سے کہا یدکھ عَینؔ دور میں ایک عَورت ہے جسکا آشنا جن ہے ۔
۷ سو ساؔؤل نے اپنا بھیس بدل کر دُوسری پوشاک پہنی اور دو آدمیوں کو ساتھ لیکر چلا اور وہ رات کو اُس عورت کے پاس آئے اور اُس نے کہا ذرا میری خاطِر جن کے ذریعہ سےمیرا فال کھول اور جسکا نام مَیں تجھے بتاؤُں اُسے اُوپر بُلا دے ۔
۹ تب اُس عَورت نے اُس سے کہا دیکھ تُو جانتا ہے کہ ساؔؤل نے کیا کیا کہ اُس نے جنات کے آشناؤں اور افسُون گروں کو مُلک سے کاٹ ڈالا ہے ۔ پس تُو کیوں میری جان کے لئے پھندا لگاتا ہے تا کہ مجھے مروا ڈالے؟۔
۱۰ تب ساؔؤل نے خُداوند کی قسم کھا کر کہا کہ خُداوند کی حیات کی قسم اِس بات کے لئے تجھے کوئی سزا نہیں دی جائیگی ۔
۱۱ تب اُس عورت نے کہا میں کِس کو تیرے لئے اُوپر بُلادُوں؟ ۔ اُس نے کہا سؔموئیل کو میرے لئے بُلا دے۔
۱۲ جب اُس عورت نے سؔموئیل کو دیکھا تو بلند آواز سے چلائی اور اُس عورت نے ساؤل سے کہا تُو نے مجھ سے کیون دغا کی کیونکہ تُو تو ساؔؤل ہے؟۔
۱۳ تب بادشاہ نے اُس سے کہا ہراسان مت ہو۔ تجھے کیا دِکھائی دیتا ہے ؟ اُ سنے ساؔؤل سے کہا مجھے ایک دیوتا زمین سے اُوپر آتے دِکھائی دیتا ہے ۔
۱۴ تب اُس نے اُس سے کہا اُسکی شکل کیَسی ہے ؟ اُس نے کہا ایک بُڈّھا اُوپر کو آرہا ہے اور جُبہّ پہنے ہے ۔ تب ساؔؤل جان گیا کہ وہ سؔموئیل ہے اور اُس نے مُنہ کے بل گِر کر سجدہ کیا۔
۱۵ سؔموئیل نے ساؔؤل سے کہا تُ ونے کیوں مجھے بے چین کیا کہ مجھے اُوپر بُلوایا۔؟ ساؔؤل نے جواب دیا میں سخت پریشان ہوُں کیونکہ فلِستی مجھ سے لڑتے ہیں اور خُدا مجھ سے الگ ہو گیا ہے اور نہ توہ نبیوں اور نہ خوابوں کے وسِیلہ سے مجھے جواب دیتا ہے اِسلئے مَیں نے تجھے بُلایا تاکہ تو مجھے بتائے کہ مَیں کیا کرُوں ۔
۱۶ سؔموئیل نے کہا پس تو مجھ سے کس لئے پوچھاتا ہے جس حال کہ خُداوند جتھ سے الگ ہو گیا اور تیرا دُشمن بنا ہے؟
۱۸ اور خُداوند نے جِیسا میری معرفت کہا تھا وَیسا ہی کیا ہے ۔ خُداوند نے تیرے ہاتھ سے سلطنت چاک کر لی اور تیرے پڑوسی داؔؤد کو عنایت کی ہے ۔
۱۷ اِسلئے کہ تُو نے خُداوند کی بات نہیں مانی اور عمالیقیوں سے اُسکے قہر شدید کے مُوافق پیش نہیں آیا ا،سی سبب سے خُداوند نے آج کے دِن تجھ سے یہ برتاؤکیا ۔
۱۹ ماسِوا اِسکے خُداوند تیرے ساتھ اِسرائیلیوں کو بھی فلِستیوں کے ہاتھ میں کر دیگا اور کل تُو اور تیرے بیٹے میرے ساتھ ہو گے اور خُداوند ً اِسرا ئیلی لشکر کو بھی فلِستیوں کے ہاتھ میں کر دیگا۔
۲۰ تب ساؔؤل فوَراً زمین پر لمبا ہو کر گِرا اور سؔموئیل کی باتوں کے سبب سے نہایت ڈر گیا اور اُس میں کچھ قوت باقی نہ رہی کیونکہ اُس نے اُس سارے دِن اور ساری رات روٹی نہیں کھائی تھی۔
۲۱ تب وہ عَورت ساؔؤل کے پاس آئی اور دیکھا کہ وہ نہایت پریشان ہے ۔ سو اُس نے اُس سے کہا دیکھ تیری لَونڈی نے تیری بات مانی اور میں نے اپنی جان اپنی ہتھیلی پر رکھی اور جو باتیں تو نے مجھ سے کہیں میں نے اُنکو مانا ہے ۔
۲۲ سو اب میں تیری مِنت کر تی ہوں کہ تو اپنی لَونڈی کی بات سُن اور مجھے اجازت دے کہ روٹی کا ٹکڑا تیرے آگے رکھوں ۔ تو کھا تا کہ جب تو اپنی راہ لے تو تجھے طاقت مِلے۔
۲۳ پر اُس نے اِنکار کیا اور کہا کہ میں نہیں کھاؤنگا لیکن اُسکے مُلازم اُس عورت کے ساتھ ملکر اُس سے بجد ہوُئے ۔ تب اُس نے اُنکا کہا مانا اور زمین پر سے اُٹھ کر پلنگ پر بَیٹھ گیا ۔
۲۴ اُس عورت کے گھر میں ایک موٹا بچھڑا تھا۔ سو اُس نے جلدی کی اور اُسے ذبح کیا اور آٹا لیکر گوُندھا اور بے خمیری روٹیا پاکائیں ۔
۲۵ اور اُنکو ساؔؤل اور اُسکے مُلازِموں کے آگے لائی اور اُنہوں نے کھا یا ۔ تب وہ اُٹھے اور اُسی رات چلے گئے۔