(۳) ساؤل کی ادھوری فرماں برداری (باب ۱۵)
۱۵: ۱۔۳ ساؤل بڑی تیزی سے رُوبہ زوال تھا۔ جو کام اُسے کرنے کے لئے دیا گیا، اُس نے پوری فرماں برداری سے سرانجام نہ دیا۔ اِس باب میں خدا نے اُسے حکم دیا کہ وہ عمالیقیوں یعنی اُس قوم کو برباد کرے جس نے گھات لگا کر پیچھے رہ جانے والے تھکے ماندے عبرانیوں کو بے رحمی سے ہلاک کر دیا تھا جب وہ کنعان کے سفر میں تھے (اِستثنا ۲۵: ۱۷۔۱۹)۔ حکم بالکل واضح تھا کہ ہر ایک جان دار کو برباد کر دیا جائے۔ یہ حکم خدا سے وفاداری کا اِظہار تھا۔ خدا کئی برسوں سے عمالیقیوں کو برداشت کرتا رہا، لیکن اُن کے خلاف اُس کا کلام تبدیل نہیں ہوا تھا (خروج ۱۷: ۱۴۔۱۶؛ گنتی ۲۴:۲۰)۔ اُن کے گناہ کے سبب سے اُن کا نام و نشان صفحۂ ہستی سے مٹانا تھا۔
۱۵: ۴۔۱۲ ساؤل نے فوج جمع کر کے عمالیق کے شہر کی طرف کوچ کیا۔ حملے سے قبل اُس نے قینیوں کو خبردار کیا کہ وہ عمالیقیوں کے بیچ میں سے نکل جائیں کیونکہ خروج کے دوران اُنہوں نے اِسرائیل پر مہربانی کی تھی۔ اِس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ساؤل محض قتل و غارت میں دلچسپی نہیں لیتا تھا، بلکہ وہ شریر لوگوں سے خدا کا اِنتقام بھی لینا چاہتا تھا۔ اُس نے عمالیقیوں کو بُری طرح سے شکست دی اور سوائے بادشاہ اور لُوٹ کے مال میں سے موٹے موٹے جانوروں کے ہر ایک جاندار کو تلوار سے قتل کیا (ایک بقیہ جو غالباً کہیں اَور رہتا تھا بچ گیا۔ دیکھیں ۳۰: ۱۔۶؛ ۲۔سموئیل ۸: ۱۲؛ ۱۔تواریخ ۴:۴۳)۔ اِس وقت سموئیل، ساؤل سے کئی میل دُور تھا، لیکن خدا نے اُسے ساؤل کی نافرمانی کے بارے میں بتایا۔ اِس سے سموئیل نہایت پریشان ہوا یہاں تک کہ ساری رات دعا میں گزاری۔ صبح کے وقت بالکل واضح ہو چکا تھا کہ اُسے کیا کرنا ہے۔
۱۵: ۱۳۔۳۵ ساؤل جلجال کی راہ پر ٹھہرا اور اُس نے فتح کی خوشی میں ایک یاد گار کھڑی کی۔ لیکن سموئیل نے دیکھا کہ اصل حالات مختلف ہیں۔ اُس نے ساؤل کو اُس کی نافرمانی کے سبب سے ملامت کی۔ ساؤل ہمیشہ بہانہ بازی میں بڑا ماہر تھا۔ اُس کی نافرمانی کا شور نبی کے کانوں تک پہنچا اور ساؤل کے بہانے بے معنی ہو کر رہ گئے۔ ’’تجھے ردّ کر دیا گیا‘‘ __ ساؤل نے یہ پہلے بھی سنا تھا (۱۳: ۱۴)، لیکن اِس بار اُسے زور دار انداز میں بتایا گیا کہ وہ پریشان ہو گیا۔ ساؤل مسلسل خدا کے احکام میں ترمیم کرتا رہا۔ جو کچھ اُسے خود بہتر معلوم ہوا اُس نے کیا بجائے اِس کے کہ جو خدا کی نظر میں بہتر تھا، کرتا۔ اُس نے توبہ کا اِظہار کیا اور سموئیل سے التجا کی کہ اُسے چھوڑ کر نہ جائے۔ جب نبی نے جانا چاہا تو اُس نے اُس کے جُبے کا دامن پکڑ لیا اور وہ چاک ہو گیا۔ یہ بھی ایک نشان تھا کہ اِسرائیل کی بادشاہی چاک ہو جائے گی اور ساؤل سے لے کر کسی دوسرے کو دی جائے گی۔
ساؤل کے ساتھ خداوند کی پرستش کرنے کے بعد سموئیل نے اجاج کو بلوایا۔ یہ سوچتے ہوئے کہ اُس کی جان بخشی کر دی جائے گی وہ خوشی خوشی یہ کہتا ہوا آیا، ’’فی الحقیقت موت کی تلخی گزر گئی‘‘ (آیت ۳۲)۔ لیکن سموئیل نے اُسے تلوار سے ٹکڑے ٹکڑے کر دیا۔ عمر رسیدہ قاضی کی باقی ماندہ زندگی میں ساؤل کی ناکامی کے سبب سے دل پر بڑا بوجھ رہا۔ ایک طرح سے خداوند ساؤل کو بنی اِسرائیل کا بادشاہ کر کے ملول ہوا۔
ہمیں آیت ۲۲ کو زبانی یاد کرنا چاہئے۔ یہ خدا کے کلام کی ایک نہایت عمدہ آیت ہے۔ ہر صورتِ حال میں فرماں برداری __ یہ اُن لوگوں کا نصب العین ہو جو خداوند کی خدمت کرنا اور اُس کی خوشی کا باعث بننا چاہتے ہیں۔
آیات ۲۹ اور ۳۵ متضاد معلوم ہوتی ہے۔ آیت ۲۹ میں لکھا ہے کہ وہ نہ تو اپنا اِرادہ تبدیل کرتا اور نہ ہی پچھتاتا ہے، لیکن آیت ۳۵ میں لکھا ہے کہ وہ ساؤل کو بادشاہ بنا کر ملول ہوا۔ آیت ۲۹ میں خدا کو اُس کے دائمی کردار کی صورت میں پیش کیا گیا ہے۔ وہ لاتبدیل ہے۔ آیت ۳۵ کا مطلب ہے کہ ساؤل کے رویے میں تبدیلی سے خدا نے بھی اُس کے لئے اپنے منصوبے اور مقاصد کو تبدیل کر لیا۔ اپنی ذات سے وفاداری کی خاطر لازم ہے کہ خدا فرماں برداری کے لئے برکت دے اور نافرمانی کی سزا دے۔
مقدس کتاب
۱ اور سؔموئیل نے ساؔؤل سے کہا کہ خُداوند نے مجھے بھیجا ہے کہ مَیں تجھے مسح کرُوں تا کہ تو اُسکی قَوم اَؔسرائیل کا بادشاہ ہو۔ سو اب تو خُداوند کی باتیں سُن ۔
۲ ربُّ الافواج یُوں فرماتا ہے کہ مجھے اِسکا خیال ہے کہ عماؔلیق نے اِؔسرائیل سے کیاکیا اور جب یہ مؔصر سے نِکل آئے تو وہ راہ میں اُنکا مخُالف ہو کر آیا۔
۳ سو اب تُو جا اور عؔمالیق کو مار اور جو کچھ اُنکا ہے سب کو بالُکل نابُود کردے اور اُن پر رحم مت کر بلکہ مرد اور عورت ننّھے بچےّ اور شیر خوار ۔ گائے بیل اور بھیڑ بکریاں ۔ اُونٹ اور گدھے سب کو قتل کر ڈال۔
۴ چُنانچہ سؔاؤل نے لوگوں کو جمع کیا اور طؔلائمِ میں اُنکو گِنا سو وہ دو لاکھ بیادے اور یُہوداہ کے دس ہزار مرد تھے۔
۵ اور سؔاؤل عؔمالیق کے شہر کو آیا اور وادی کے بیچ گھات لگا کر بَیٹھا ۔
۶ اور سؔاؤل نے قینیوں سے کہا کہ تُم چل دو۔ عمالیقیوں کے بیچ سے نِکل جاؤ تا نہ ہو کہ مَیں تُمکو اُنکے ساتھ ہلاک کر ڈالُوں اِسلئِے کہ تُم سب اِسرائیلیوں سے جب وہ مصر سے نِکل آئے مِہر کے ستھ پیش آئے۔ سو قِینی عمالِیقِیوں میں سے نِکل گئے۔
۸ اور سؔاؤل نے عمالِیقِیوں کو حؔوِیلہ سے شؔور تک جو مصر کے سامنے ہے مارا۔
۷ اور عمالیقیوں کے بادشاہ اجؔاج کو جِیتا پکڑا اور سب لوگوں کو تلوار کی دھارے سے نیست کر دِیا ۔
۹ لیکن ساؔؤل نے اور اُن لوگوں نے اجؔاج کو اور اچھّی اچھّی بھیڑ بکریوں گائے بَیلوں اور موٹےموٹے بچّوں اور بروّں کو اور جو کچُھ اچّھا تھا اُسے جِیتا رکھّا اور اُنکو نیست کرنا نہ چاہا لیکن اُنہوں نے ہر ایک چِیز کو جو ناقِص اور نِکمّی تھی نیست کر دِیا۔
۱۰ تب خُداوند کا کلام سؔموئیل کو پُہنچا کہ ۔
۱۱ مُجھے افسوس ہے کہ میں نے ساؔؤل کو بادشاہ ہونے کے لئے مقرر کیا کیونکہ وہ میری پَیروی سے پھر گیا ہے اور اُس نے میرے حُکم نہیں مانے۔ پس سؔموئیل کا غُصہ بھڑکا اور وہ ساری رات خُداوند سے فریاد کرتا رہا۔
۱۲ اور سؔموئیل سویرے اُٹھا کہ صُبح کو سؔاؤل کرؔمِل کو آیا تھا اور اُس نے اپنے لئِے یادگار کھڑی کی اور پھر کر گُذرتا ہُؤا جلؔجال کو چلا گیا ہے۔ پھر سؔموئیل سؔاؤل کے پاس گیا اور سؔاؤل نے اُس سے کہا تُو خُداوند کی طرف سے مُبارک ہو! مَیں نے خُداوند کے حُکم پر عمل کِیا۔
۱۳
۱۴ سؔموئیل نے ککہا پھر یہ بھیڑ بکریوں کا ممیانا اور گائے بَیلوں کا بنبانا کَیسا ہے جو مَیں سُنتا ہُوں ؟۔ سؔاؤل نے کہا کہ یہ لوگ اُنکو عمالِیقیوں کے ہاں سے لے آئے ہیں اِسلیئے کہ لوگوں نے اچھّی اچھّی بھیڑ بکریوں اور گائے بیَلوں کو جِیتا رکھاّ تا کہ اُنکو خُداوند تیرے خُدا کے لئِے ذبح کریں ۔ اور باقی سب کو تو ہم نے نیست کر دیا۔
۱۵
۱۶ تب سؔموئیل نے سؔاؤل سے کہا ٹھہرجا اور جو کچھ خُداوند نے آج کی رات مجھ سے کہا ہے وہ مَیں تجھے بتاؤنگا۔ اُس نے کہا بتائیے ۔
۱۸ سؔموئیل نے کہا گو تُو اپنی ہی نظر میں حقیر تھا تو بھی کیا تُو بنی اِسرائیل کے قبیلوں کا سردار نہ بنایا گا؟ اور خُداوند نے تجھے مسح کِیا تا کہ تُوبنی اِسرائیل کا بادشاہ ہو۔
۱۷ اور خُداوند نے تجھے سفر پر بھیجا اور کہا کہ جا اور گُنہگار عمالِیقِیوں کو نیست کر اور جب تک وہ فنا نہ ہوجائیں اُن سے لڑتا رہ۔
۱۹ پس تُو نے خُداوند کی بات کیوں نہ مانی بلکہ لُوٹ پر ٹوُٹ کر وہ کام کر گُذرا جو خُداوند کی نظر میں بُرا ہے ؟ ۔
۲۰ ساؔؤ ل نے سموؔئیل سے کہا مَیں نے تو خُداوند کا حُکم مانا اور جس راہ پر خُداوند نے مجھے بھیجا چلا اور عؔمالیق کے بادشاہ اؔجاج کو لے آیا ہُو ں اور عمؔالیق کے بادشاہ اجؔاج کو ہے آیا ہُوں اور عمالِیقیوں کو نیست کر دیا۔
۲۱ پر لوگ لُوٹ کے مال میں سے بھیڑ بکریاں اور گائے بَیل یعنی اچھّی اچھّی چیزیں جنکو نیست کرنا تھا لے آئے تاکہ جلجؔال میں خُداوند تیرے خُدا کے حُضُور قُربانی کریں۔
۲۲ سؔموئیل نے کہا کیا خُداوند سو ختنی قُربانیوں اور ذبیِحوں سے اِتنا خُوش ہوتا ہے جِتنا اِس بات سے کہ خُداوند کا حُکم مانا جائے ؟ دیکھ فرمانبرداری قُربانی سے اور بات ماننا مینڈھوں کی چربی سے بہتر ہے۔
۲۳ کیونکہ بغاوت اور جادُوگری برابر ہیں اور سرکشی اَیسی ہی ہے جَیسی مُورتوں اور بتوں کی پرستش ۔ سو چُونکہ تُو نے خُداوند کے حُکم کو ردّ کیا ہے اِسلئے اُس نے بھی تجھے رد کیا ہے کہ بادشاہ نہ رہے۔ ساؔؤل نے سؔموئیل سے کہا میں نے گُناہ کیا کہ میں نے خُدواند کے فرمان کو اور تیری باتوں کو ٹال دِیا ہے کیونکہ میں لوگوں سے ڈرا اور اُنکی بات سُنی ۔
۲۴
۲۵ سو اب میں تیری مِنت کرتا ہُوں کہ میرا گناہ بخش دے اور میرے ساتھ لَوٹ چل تا کہ مَیں خُداوند کو سِجدہ کرُوں ۔
۲۶ سموؔئیل نے سؔاؤل سے کہا مَیں تیرے ساتھ نہیں لَوٹونگا کیونکہ تو نے خُداوند کے کلام کو ردّ کیا کہ اِؔسرائیل کا بادشاہ نہ رہے۔
۲۸ اور جَیسے ہی سؔموئیل جانے کو مُڑا سؔاؤل نے اُسکے جُبہّ کا دامن پکڑ لیا اور وہ چاک ہو گیا۔
۲۷ تب سؔموئیل نے اُس سے کہا خُداوند نے اؔسرائیل کی بادشاہی تُجھ سے آج ہی چاک کر کے چھِین لی اور تیرے ایک پڑوسی کو جو تُجھ سے بہتر ہے دیدی ہے۔
۲۹ اور جو اَؔسرائیل کی قُوّت ہے وہ نہ تو جھوٹبولتا اور نہ پچھتاتا ہے کیونکہ وہ اِنسان نہیں ہے کہ پچھتائے ۔
۳۰ اُس نے کہا میں نے گُناہ تو کیا ہے تو بھی میری قوم کے بُزرگُوں اور اِؔسراؑیل کے آگے میری عِزت کر اور میرے ساتھ لَوٹ چل کتاکہ میں خُداوند تیرے خُدا کو سِجدہ کروں ۔
۳۱ پس سؔموئیل لَوٹ کر سؔاؤل کے پیچھے ہو لیا اور سؔاؤل نے خُداوند کو سِجدہ کیا۔
۳۲ تب سؔموئیل نے کہا کہ عمالیِقیوں کے بادشاہ اؔجاج کو یہاں میرے پاس لاؤ ۔ سو اؔجاج خُوشی خُوشی اُسکے پاس آیا اور اؔجاج کہنے لگا فی الحقِیقت مَوت کی تلخی گُر گئی۔
۳۳ سؔموئیل نے کہا جَیسے تیری تلوار نے عَورتوں کو بے اَولاد کیا وَیسے ہی تیری ماں عَورتوں میں بے اَولاد ہوگی اور سؔموئیل نے اؔجاج کو جؔلجال میں خُداوند کے حُضُور ٹکڑے ٹکڑے کیا۔
۳۴ اور سؔموئیل رؔامہ کو چلا گیا اور سؔاؤل اپنے گھر سؔاؤل کے جؔبعہ کو گیا ۔
۳۵ اور سؔموئیل اپنے مرتے دم تک سؔاؤل کو پھر دیکنے نہ گیا کیونکہ سؔموئیل سؔاؤل کے لیے ٹم کھاتا رہا اور خُداوند ساؔؤل کو بنی اِسرائیل کا بادشاہ کر کے ملُول ہُؤا۔