(۷) ساؤل کی دوسری بار جان بخشی (باب ۲۶)
۲۶: ۱۔۴ ایک بار پھر اہلِ زیف نے ساؤل کو داؤد کے ٹھکانوں کی خبر دی (قب ۲۳:۱۹)۔ ساؤل فوری طور پر داؤد کے ایک چھوٹے سے جتھے کے مقابلے میں پانچ گُنا فوج جمع کر کے زیف کے دشت میں گیا۔ ہمیں نہیں بتایا گیا کہ کس بات سے ساؤل پھر اشتعال میں آ گیا۔ جب یہ دونوں شخص گذشتہ بار ایک دوسرے سے جدا ہوئے تھے تو یوں لگتا تھا کہ دونوں میں صلح ہو گئی ہے (باب ۲۴)۔ ممکن ہے کہ شریر لوگوں نے پھر سے بادشاہ کو متنفر کر دیا ہو (دیکھیں آیت ۱۹)۔
۲۶: ۵۔۱۲ داؤد نے ساؤل کے لشکر کے پڑاؤ کے بارے میں جاسوسی کی اور شام کے وقت وہ اور اُس کا ایک رِشتے دار ابی شے لشکر میں گھس کر اُس جگہ آئے جہاں ساؤل سویا ہوا تھا۔ خداوند کی طرف سے غیر فطری نیند نے یہ ممکن بنا دیا۔ ابی شے بادشاہ کو فوراً وار کر کے مار دینا چاہتا تھا، لیکن داؤد نے اِس کام سے منع کیا۔ گو ساؤل ایک شریر اِنسان تھا، لیکن وہ خدا کا ممسوح تھا۔ اُس سے نپٹنا خدا کا کام تھا۔ اِس کے بجائے داؤد ساؤل کا بھالا اور صراحی اُٹھا کر چلا گیا۔
۲۶: ۱۳۔۱۶ جب داؤد بحفاظت لشکرگاہ سے نکل گیا تو اُس نے بلند آواز سے ابنیر کو طعنہ دیا کہ وہ بادشاہ کی حفاظت کے بارے میں بے پروا تھا۔ ایسی بے پروائی کی تو سزائے موت دی جانی چاہئے۔ بھالے اور صراحی سے جسے داؤد لے گیا تھا، ساؤل کودوسری بار اُس کے ہاتھوں موت سے رِہائی پانے کا ثبوت مل گیا۔
۲۶: ۱۷۔۲۰ داؤد ابھی تک اِس اُلجھن میں تھا کہ ساؤل بادشاہ کیوں اِس قدر ہاتھ دھو کر اُس کے پیچھے پڑا ہوا ہے جب کہ اُس نے ثابت کر دیا تھا کہ وہ اُسے کوئی نقصان نہیں پہنچانا چاہتا۔ اُس نے کہا اگر خداوند نے ساؤل کو میرے خلاف اُبھارا ہو، تو مَیں اُسے کسی ہدیے سے مطمئن کرنے کو تیار ہوں لیکن اگر اِنسانوں نے ساؤل کو مشتعل کیا ہے تو وہ ملعون ہوں، کیونکہ اُنہوں نے اُسے واحد مسکن سے جہاں وہ خدا کی عبادت کر سکتا تھا خارج کر دیا تھا۔ داؤد کو فکر لاحق تھی کہ ’’خداوند کی حضوری سے الگ میرا خون زمین پر نہ بہے‘‘ یعنی پردیسی ملک میں مَیں نہ مروں (آیت ۲۰)۔ ساؤل ایک پِسُو ڈھونڈنے نکلا ہے جیسے کوئی پہاڑوں پر تیتر کا شکار کرتا ہے۔
۲۶: ۲۱۔۲۵ جب ساؤل کو اِس بات کا احساس ہوا کہ داؤد نے ایک بار پھر اُس کی جان بخشی کی تو ظاہری طور پر توبہ کی۔ اُس نے تسلیم کیا کہ داؤد اُس کی نسبت زیادہ راست باز ہے، کیونکہ وہ خود بغیر کسی وجہ کے اُس کی جان لینے کے درپے ہے، جب کہ داؤد نے اُس کی جان بچائی، حالانکہ وہ بادشاہ کو اپنے دفاع میں قتل کر سکتا تھا۔ تب ساؤل نے داؤد کو برکت دی اور ’’بیٹا داؤد‘‘ کہہ کر اُس کی آنے والی عظمت کی نبوت کی۔ اِس پر داؤد نے اپنی راہ لی اور ساؤل اپنے شہر کو چلا گیا۔
مقدس کتاب
۱ اور زیفی جبؔعہ میں ساؔؤل کے پاس جا کر کہنے لگے کیا داؔؤد حِکیلہ کے پہاڑ میں جو دشت کے سامنے ہے چھپا ہُؤا نہیں ؟۔
۲ تب ساؔؤل اُٹھا اور تین ہزار چُنے ہوُئے اِسرائیلی جوان اپنے ساتھ لیکر دشتِ زِیف کو گیا تاکہ اُس دشت میں داؔؤد کو تلاش کرے۔
۳ اور ساؔؤل حِکیلہ کے پہاڑ میں جو دشت کے سامنے ہے راستہ کے کنارہ خَیمہ زن ہُؤا پر داؔؤد دشت میں رہا اور اُس نے دیکھا کہ ساؔؤل اُسکے پیچھے دشت میں آیا ہے۔
۴ پس داؔؤد نے جاسُوس بھیجکر معلُوم کر لیا کہ ساؔؤل فی الحقیقت آیا ہے۔
۵ تب داؔؤد اُٹھ کر ساؔؤل کی خَیمہ گاہ میں آیا اور وہ جگہ دیکھی جہاں ساؔؤل اور نؔی کا بیٹا ابنیرؔ بھی جو اُسکے لشکر کا سردار تھا آرام کر رہے تھے اور ساؔؤل گاڑیوں کی جگہ کے بیچ سوتا تھا اور لوگ اُسکے گرِد اِگرد ڈیرے ڈالے ہُوئے تھے۔
۶ تب داؔؤد ؛نے حتیّ اخؔیملک اور ضؔرویا کے بیٹے ابیشے اسے جو یؔوآب کا بھائی تھا کہا کَون میرے ساتھ ساؔؤل کے پاس خَیمہ گاہ میں چلیگا؟۔ ابیشے نے کہا میں تیرے ساتھ چلوُنگا۔
۸ ابیشے رات کو لشکر میں گھسے اور دیکھا کہ ساؔؤل گاڑیوں کی جگہ کے بیچ میں پڑا سو رہا ہے اور اُسکا نیزہ اُسکے سرہانے زمین میں گڑا ہُؤا ہے اور ابؔنیر اور لشکر کے لوگ اُسکے گِرد پرے ہیں ۔
۷ تب اؔبیشے نے دؔاؤد سے کہا خُدا نے آج کے دِن تیرے دُشمن کو تیرے ہاتھ میں کر دیا ہے سو اب تُو ذرا مجھ کو اجازت دے کہ نیزہ کے ایک ہی وار میں اُسے زمین سے پیوند کر دُوں اور مَیں اُس پر دُوسرا وار کرنے کا بھی نہیں ۔
۹ داؔؤد نے ابِیشؔے سے کہا اُسے قتل نہ کر کیونکہ کَون ہے جو خُداوند کے ممسُوح پر ہاتھ اُٹھائے اور بے گُناہ ٹھہرے ۔؟۔
۱۰ اور داؔؤد نے یہ بھی کہا کہ خُداوند کی حیات کی قسم خُداوند آپ اُسکو ماریگا یا اُسکی مَوت کا دِن آئیگا یا وہ جنگ میں جا کر مر جائیگا ۔
۱۱ لیکن خُداوند نہ کرے کہ مَیں خُداوند کے ممسُوح پر ہاتھ چلاؤں پر ذرا اُسکے سرہانے سے یہ نیزہ اور پانی کی صُراحی اُٹھا لے ۔ پھر ہم چلے چلیں ۔
۱۲ سو داؔؤد نے نیزہ اور پانی کی صُراحی ساؔؤل کے سرہانے سے اُٹھا لی اور وہ چل دِئے اور نہ کسی آدمی نے یہ دیکھا اور نہ کِسی کی خبر ہُوئی اور نہ کو ئی جاگا کیونکہ وہ سب کے سب سوتے تھے اِسلئے کہ خُداوند کی طرف سے اُن پر گہری نیند آئی ہُوئی تھی ۔
۱۳ پھر داؔؤد دُوسری طرف جا کر اُس پہاڑ کی چوٹی پر دُور کھڑا رہا اور اُنکے درمیان ایک بڑا فاصِلہ تھا۔
۱۴ اور داؔؤد نے اُن لوگوں کو اور نیؔر کے بیٹے ابنؔیر کو پُکار کر کہا کہ اَے ابؔنیر تو جواب نہیں دیاتا ؟ ابؔنیر نے جواب دِیا تُو کَون ہے جو بادشاہ کو پُکارتا ہے؟۔
۱۵ داؔؤد نے ابؔنیر سے کہا کیا تُو بڑا بہادر نہیں اور کون بنی اِسرائیل میں تیرا نِظیر ہے ؟ پس کِس لئے تو نے اپنے مالک بادشاہ کی نگہبانی نہ کی؟ کیونکہ ایک شخص تیرے مالک بادشاہ کو قتل کرنے گُھس تھا ۔
۱۶ پس یہ کام تُو نے کُچھ اچھا نہ کیا ۔ خُداوند کی حیات کی قسم تُم واجب القتل ہو کیونکہ تُم نے اپنے مالک کی جو خُداوند کا ممسُوح ہے نگہبانی نہ کی ۔ اب ذرا دیکھ کہ بادشاہ کا بھالا اور پانی کی صُراحی جو اُسکے سرہانے تھی کہاں ہیں ۔
۱۸ تب ساؔؤل نے اُسکی آواز پہچانی اور کہا اَے میرے بیٹے داؔؤد کیا یہ تیری آواز ہے ؟ داؔؤد نے کہا اَے میرے مالِک بادشاہ! یہ میری ہی آواز ہے۔
۱۷ اور اُس نے کہا میرا مالک کیون اپنے خادِ م کے پیچھے پڑا ہے؟ مَیں نے کیا کیا ہے اور مجھ میں کیا بدی ہے ؟۔
۱۹ سو اب ذرا میرا مالک بادشاہ اپنے بندہ کی باتیں سُنے اگر خُداوند نے تجھے کو میرے خِلاف اُبھارا ہو تو وہ کوئی ہدیہ منظور کرے اور اگر یہ آدمیوں کا کام ہو تو وہ خُداوند کے آگے ملُعون ہو کیونکہ اُنہوں نے آج کے دِن مجھکو خارج کیا ہے کہ مَیں خُداوند کی دی ہُوئی میراث میں شامل نہ رہُوں اور مجھ سے کہتے ہیں ج اور دیوتاؤں کی عبادت کر
۲۰ سو اب خُداوند کی حُضُوری سے الگ میرا خُون زمین پر نہ بہے کیونکہ بنی اِسرائیل کا بادشاہ ایک پسو ڈھونڈنے کو اِس طرح نِکلا ہے جَیسے کو ئی پہاڑوں پر تِیتر کا شکا کرتا ہو۔
۲۱ تب ساؔؤل نے کہا کہ مَیں نے خطا کی ۔ اَے میرے بیٹے داؔؤد لَوٹ آ کیونکہ مَیں پھر تجھے نقصان نہیں پہنچاؤنگا۔ اِسلئے کہ میری جان آج کے ددِن تیری نِگاہ میں قیمتی ٹھہری ۔ دیکھ میں نے حماقت کی اور نہایت بڑی گھُول مجھ سے ہُوئی ۔
۲۲ داؔؤد نے جواب دِیا اِے بادشاہ ! اِ س بھالا کو دیکھ ! سو جوانوں میں سے کوئی آکر اِسے لے جائے۔
۲۳ اور خُداوند ہر شخص کو اُسکی صداقت اور دیانتداری کے مُوافِق جزا دیگا کیونکہ خُدوند نے آج تجھے میرے ہاتھ میں کر دیا تھا پر میں نے نہ چا ہا کہ خُداوند کے ممسُوح پر ہاتھ اُٹھاؤں ۔
۲۴ اور دیکھ جس طرح تیری زِندگی آج میری نظر میں گِران قدر ٹھہری اِسی طرح میری زندگی خُداوند کی نگِاہ میں گرِان قدر ہو اور وہ مجھے سب تکلیفوں سے رہائی بخشے ۔
۲۵ تب ساؔؤل نے داؔؤد سے کہا اِے میرے بیٹے داؔؤد تو مُبارک ہو! تُو بڑے بڑے کام کریگا اور ضرور فتحمند ہوگا ۔ سو داؔؤد اپنی راہ چلا گیا اور ساؔؤل اپنے مکان کو لَوٹا۔