۱۰۔ سبت کا سال اور سالِ یوبلی (باب ۲۵)
ابواب ۲۵۔۲۷ میں مذکور قوانین موسیٰ کو خیمۂ اِجتماع میں سے نہیں بلکہ کوہِ سینا پر سے دیئے گئے (۱۵:۱؛ ۲۶:۴۶؛ ۲۷:۳۴)۔
۲۵:۱۔۷ ہر ساتویں سال کو سبت کے طور پر منایا جاتا تھا۔ زمین میں کاشت نہیں کی جاتی تھی۔ جو فصل خود بخود اُگتی اُسے لوگوں اور چوپایوں کے استعمال کے لئے چھوڑ دیا جاتا۔ مالک اُس کی کٹائی نہ کرتا، بلکہ چھوڑ دیتا تاکہ لوگ اُسے آزادی سے استعمال کر سکیں۔
۲۵:۸۔۱۷ پچاسواں سال بھی سبت تھا جسے سالِ یوبلی کہا جاتا تھا۔ اِس کا آغاز یومِ کفارہ پر ہوتا اور اِس کے بعد سات ’’سبتی سال‘‘ (یعنی ۴۹ سال) گزر جاتے۔ اِس سال غلاموں کو آزاد کر دیا جاتا، زمین بے کاشت رہتی اور اِس کے اصل مالک کو واپس دے دی جاتی۔ جب سالِ یوبلی قریب آتا تو زمین اور غلام کی قیمت میں کمی واقع ہو جاتی (آیات ۱۵۔۱۷)۔ تمام کاروباری معاہدوں میں اِس حقیقت کو مدِنظر رکھا جاتا۔ یہ الفاظ ’’تمام ملک میں سب باشندوں کے لئے آزادی کی منادی کرانا‘‘ امریکہ کی آزادی کی گھنٹی پر کندہ ہیں۔ ایمان داروں کے لئے خداوند کی آمد یوبلی کی مانند ہے جوں جوں ہم اُس کی آمد کے قریب ہوتے جاتے ہیں، مادی دولت کی قدر میں کمی واقع ہوتی جاتی ہے۔ جونہی خداوند آ جائے گا، ہمارا روپیہ، ہمارے مکانات و اراضی اور ہماری سرمایہ کاری سب ہمارے لئے بے کار ہو جائیں گے۔ اِس لئے آج ہی سے اُنہیں خداوند کے کام کے لئے استعمال کرنا شروع کر دیں۔
۲۵:۱۸۔۲۲ سبتی سال (یعنی ساتویں سال) کے سلسلے میں لوگ شاید حیران ہوں کہ اُس سال اور آئندہ کے سال کے لئے اُن کے پاس کھانے کے لئے کافی کچھ ہو گا۔ خدا نے اُن کے ساتھ وعدہ کیا کہ اگر اُنہوں نے فرماں برداری کی تو وہ اُنہیں چھٹے سال اِتنی فصل دے گا کہ وہ تین سال کے لئے کافی ہو گی۔
پچاس سالوں میں ایک بار دو مسلسل ایسے سال ہوں گے جن میں کاشت کاری نہیں ہو گی، یعنی جب عام سبتی سال کے بعد سالِ یوبلی آئے گا۔ واضح ہے کہ خداوند اُنچاسویں سال میں اُنہیں اِتنی فصل دیتا جو اُن کے چار سال کے گزارے کے لئے کافی ہوتی۔
بعض علما کا خیال ہے کہ پچاسویں سال سمیت شمار کرنے سے یہ دراصل اُنچاسواں سال تھا۔ بہرکیف یہ ماحولیات کی ایک بہترین قدیمی مثال ہے۔ یعنی زمین کو کاشت نہ کرنے سے اُس کی زرخیزی کی قوت میں اضافہ ہوتا ہے۔ دورِ حاضر میں اِنسان ہمارے اِس سیارے کے وسائل کے تحفظ کے لئے فکر مند ہے۔ لیکن اکثر اوقات خدا کا کلام صدیوں پہلے اِس کے حل کے بارے میں بیان کرتا ہے۔
۲۵: ۲۳۔۲۸ زمین بیچی جا سکتی تھی لیکن ہمیشہ کے لئے نہیں کیونکہ یہوواہ مالک ہے۔ تین طریقوں سے زمین ’’چھڑائی‘‘ جا سکتی تھی (اُس کے اصل مالک کو واپس کی جائے)۔ بیچنے والے کا قریبی رشتے دار اُسے اصل مالک کے لئے خرید سکتا تھا (آیت ۲۵)۔ اگر بیچنے والے (اصل مالک) کی مالی حالت دوبارہ بحال ہو جائے تو سالِ یوبلی کے قریب یا دُور ہونے کے تناسب سے قیمتِ خرید ادا کر دے (آیات۲۶،۲۷) ورنہ زمین سالِ یوبلی پر اصل مالک کے پاس خود بخود واپس چلی جاتی (آیت ۲۸)۔
۲۵:۲۹۔۳۴ لازم تھا کہ فصیل دار شہر میں بیچا ہوا مکان ایک سال کے اندر اندر چھڑایا جائے، اِس کے بعد یہ دائمی طور پر نئے مالک کی ملکیت بن جاتا۔ بغیر فصیل کے دیہاتوں میں گھر زمین کا حصہ متصور کئے جاتے تھے، اِس لئے وہ سالِ یوبلی میں چھوٹ جاتے تھے۔ لاویوں کے مخصوص شہروں میں لاویوں کے مکان، صرف لاوی ہی واپس خرید سکتے تھے۔ لاویوں کو دیئے ہوئے کھیتوں کو بیچنے کی اِجازت نہیں تھی۔
۲۵:۳۵۔۳۸ اگر کوئی اِسرائیلی قرض کی وجہ سے مفلس ہو جاتا، تو اُس کے یہودی قرض خواہ کو اُس کا اِستحصال کرنے کی اِجازت نہیں تھی۔ اُسے ادھار دیئے ہوئے روپے پر سود لینے کی اِجازت نہیں تھی، اور نہ ہی کھانے پر کسی طرح کا نفع لے سکتا تھا۔
۲۵:۳۹۔۴۶ اگر کوئی مفلس اِسرائیلی اپنے آپ کو قرض کی عدم ادائیگی کے سبب سے اِسرائیلی قرض خواہ کے ہاتھ میں بیچ دیتا، تو اُس کے ساتھ غلاموں کا سا نہیں بلکہ اُجرتی مزدور کا سا سلوک کیا جاتا تھا، اور اُسے سالِ یوبلی میں آزاد کر دیا جاتا۔ یہودیوں کو غیر قوموں میں سے غلام رکھنے کی اِجازت تھی، اور یہ اُن کی ملکیت تھے اور یہ اُن کی اولاد کی میراث ٹھہرتے۔ لیکن یہودی شخص کو غلام نہیں بنایا جا سکتا تھا۔
۲۵:۴۷۔۵۴ اگر کوئی یہودی اپنے آپ کو ملک کے کسی غیر قوم کے ہاتھ بیچ دیتا، تو یہودی کو ہمیشہ واپس خرید کر آزاد کروایا جا سکتا تھا۔ مخلصی کی قیمت کا، سالِ یوبلی کے باقی ماندہ سالوں کے حساب سے تعین کیا جاتا۔ اور اِس یہودی کو چھڑانے والے رشتے دار اُسے سالِ یوبلی کے باقی ماندہ سالوں تک تنخواہ دار نوکر کے طور پر رکھ سکتے تھے۔ اگر کوئی رِشتے دار اُسے نہ چھڑاتا، تو وہ سالِ یوبلی میں خود بخود آزاد ہو جاتا۔
۲۵:۵۵ یہ آیت ایک واضح یاد دہانی ہے کہ اِسرائیلی اور اُن کی زمین (آیت ۲۳) خداوند کی ملکیت تھی اور اُسے اِس کا جائز مالک تسلیم کیا جائے۔ خدا کے لوگوں اور خدا کی زمین کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے نہ بیچا جائے۔
مقدس کتاب
۱ اور خداوند نے کوہ سینا پر موسی سے کہا کہ ۔
۲ بنی اسرائیل سے کہہ کہ جب تم اس ملک میں جو میں تمکو دیتا ہوں داخل ہو جاؤ تو اسکی زمین بھی خداوند کے لئے سبت کو مانے۔
۳ تو اپنے کھیت کو چھ برس بونا اور اپنے انگورستان کو چھ برس چھانٹنا اور اسکا پھل جمع کرنا۔
۴ لیکن ساتویں سال زمین کے لئے خاص آرام کا سبت ہو۔یہ سبت خداوند کے لئے ہو۔اس میں تو نہ اپنے کھیت کو بونا اور نہ اپنے انگوستان کو چھانٹنا۔
۵ اور نہ اپنی خودرد فصل کو کاٹنا اور نہ اپنی بے چھٹی تاکوں کے انگوروں کو توڑنا۔یہزمین کے لئے خاص آرام کا سال ہو۔
۶ اور زمین کا یہ سبت تیرے اور تیرے غلاموں اور تیری لونڈیوں اور مزدوروں اور ان پردیسیوں کے لئے جو تیرے ساتھ رہتے ہیں تمہاری خوراک کا باعث ہوگا۔
۷ اور اسکی ساری پیدوار تیرے چوپایوں اور تیرے ملک کے اور جانوروں کے لئے خوش ٹھہریگی۔
۸ اور تو برسوں کے سات سبتوں کو یعنی سات گنا سات سال گن لینا اور تیرے حساب سے برسوں کے سات سبتوں کی مدت کل انچاس سال ہونگے۔
۹ تب تو ساتویں مہینے کی دس کو بڑا نرسنگا سے پھنکوانا۔تم کفارہ کے روز اپنے سارے ملک میں یہ نرسنگا پھنکوانا۔
۱۰ اور تم پچاسویں برس مقدس جاننا اور تمام ملک میں سے باشندوں کے لئے آزادی کی منادی کرانا۔یہ تمہارے لئے یوبلی ہو۔اس میں تم میں سے ہر ایک اپنی ملکیت کا مالک ہو اور ہرشخص اپنے خاندان میں پھر شامل ہو جائے۔
۱۱ وہ پچاسواںبرس تمہارے لئے یوبلی ہو۔تم اس میں کچھ نہ بونا اور نہ اسے جو اپنے آپ پیدا ہو جائےکاٹنا اور نہ بے چھڑی تاکوں کا انگورجمع کرنا۔
۱۲ کیونکہ وہ سال یوبلی ہوگا۔سو وہ تمہارے لئے مقدس ٹھہرے۔تم اسکی پیداوار کو کھیت سے لے لیکر کھانا۔
۱۳ اس سال یوبلی میں میں تم میں سے ہر ایک اپنی ملکیت کا پھر مالک ہو جائے۔
۱۴ اور اگر تو اپنے ہمسایہ کے ساتھ کچھ بیچے یا اپنے ہمسایہ سے کچھ خریدے تو تم ایک دوسرے پر اندھیرے نہ کرنا۔
۱۵ یوبلی کے بعد جتنے برس گذرے ہوں انکے شمار کے موافق تو اپنے ہمسایہ سے اسے خریدنا اور وہ اسے فصل کے برسوں کے شمار کے مطابق تیرے ہاتھ بیچے۔
۱۶ جتنے زیادہ برس ہوں اتنا ہی دام زیادہ کرنا اور جتنے کم برس ہوں اتنی ہی اسکی قیمت گھٹانا کیونکہ برسوں کے شمار کے موافق وہ انکی فصل تیرے ہاتھ بیچتا ہے۔
۱۷ اور تم ایک دوسرے پر اندھیرنہ کرنا بلکہ تو اپنے خدا سے ڈرتے رہنا کیونکہ میں خداوند تمہارا ہوں۔
۱۸ سو تم میری شریعت پر عمل کرنا اور میرے حکموں کو ماننا اور ان پر چلنا تو تم اس ملک میں امن کے ساتھ بسے ہوگے۔
۱۹ اور زمین پھلیگی اور تم پیٹ بھر کر کھاؤگے اور وہاں امن کے ساتھ رہا کروگے۔
۲۰ اور اگر تمکو خیال ہو کہ ہم ساتویں برس کیا کھائینگے؟کیونکہ دیکھو ہمکو نہ تو بونا ہے اور نہ اپنی پیداوار کو جمع کرنا ہے۔
۲۱ تو میں چھٹے ہی برس ایسی برکت تم پر نازل کرونگا کہ تینوں سال کے لئے کافی غلہ پیدا ہو جایئگا۔
۲۲ اور آٹھویںبرس پھر جوتنا بونا اور پچھلا غلہ کھاتے رہنا بلکہ جب تک نویں سال کے بوئے ہوئے کی فصل نہ کاٹ لو اس وقت تک وہی پچھلا غلہ کھاتے رہوگے۔
۲۳ اور زمین ہمیشہ کے لئے بیچی نہ جائے کیونکہ زمین میری ہے اور تم میرے مسافر اور مہمان ہو۔
۲۴ بلکہ تم اپنی ملکیت کے ملک میں ہر جگہ زمین کو چھڑا لینے دینا۔
۲۵ اور اگر تمہارا بھائی مفلس ہو جائے اور اپنی ملکیت کا کچھ حصہ بیچ ڈالے تو جو اسکا سب سے قریبی رشتہ دار ہے وہ آکر اسکو جسے اسکے بھائی نے بیچ ڈالا ہے چھڑا لے۔
۲۶ اور اگر اس آدمی کا کوئی نہ ہو جو اسے چھڑائے اور وہ خود مالدار ہو جائے اور اسکے چھڑانے کے لئے اسکے پاس کافی ہو۔
۲۷ تو وہ فروخت کے بعد کے برسوں کو لنگر باقی دام اسکو جسکے ہاتھ زمین بیچی ہے پھیردے۔تب وہ پھر اپنی ملکیت کا مالک ہو جائے۔
۲۸ لیکن اگر اس میں اتنا مقدورنہ ہو کہ اپنی زمین واپس کرالے تو جو کچھ اسس نے بیچ ڈالا ہے وہ سال یوبلی تک خریدار کے ہاتھ میں رہے اور سال یوبلی میں چھوٹ جائے۔تب یہ آدمی اپنی ملکیت کا پھر مالک ہو جائے۔
۲۹ اور اگر کوئی شخص رہنے کے ایسے مکان کو بیچے جو کسی فصیل دار شہر میں ہو تو وہ اسکے بک جانے کے بعد سال بھر کے اندر اندر اسے چھڑا سکیگا یعنی پورے ایک سال تک وہ اسے چھڑانے کا حقدار رہیگا۔
۳۰ اور اگر وہ پورا ایک سال کی میعاد کے اندر چھڑایا نہ جائے تو اس فصیل دار شہر کے مکان پر خریدار کا نسل در نسل دائمہ قبضہ ہو جائے اور وہ سال یوبلی میں بھی نہ چھوٹے۔
۳۱ لیکن جن دیہات کے گرد کوئی فصیل نہیں ان کے مکانوں کا حساب ملک کے کھیتوں کی طرح ہوگا۔وہ چھڑائے بھی جا سکینگے اور سال یوبلی میں وہ چھوٹ بھی جایئنگے۔
۳۲ تو بھی لاویوں کے جو شہر ہیں لاوی اپنی ملکیت کے شہروں کے مکانوں کو چاہے کسی وقت چھڑالیں۔
۳۳ اور اگر کوئی دوسرا لاوی انکو چھڑا لے تو وہ مکان جو بیچا گیا اورع اسکی ملکیت کا شہر دونوں سال یوبلی میں چھوٹ جائیں کیونکہ جو مکان لاویوں کے شہروں میں ہیں وہی بنی اسرائیل کے درمیان لاویوں کی ملکیت ہیں۔
۳۴ پر انکے شہروں کی نواحی کے کھیت نہیں بک سکتے کیونکہ وہ انکی دائمی ملکیت ہیں۔
۳۵ اور اگر تیرا کوئی بھائی مفلس ہو جائے اور وہ تیرے سامنے تنگ دست ہو تو تو اسے سنبھالنا۔وہ پردیسی اور مسافر کی طرح تیرے ساتھ رہے۔
۳۶ تو اس سے سود یا نفع مت لینا بلکہ اپنے خدا کا خوف رکھنا تاکہ تیرا بھائی تیرے ساتھ زندگی بسر کرسکے۔
۳۷ تو اپنا روپیہ اسے سود پر مت دینا اور اپنا کھانا بھی اسے نفع کے خیال سے نہ دینا۔
۳۸ میں خداوند تمہارا خدا ہوں جو تمکو اسی لئے ملک مصر سے نکالکر لایا کہ ملک کنعان تمکو دوں اور تمہارا خدا ٹھہروں۔
۳۹ اور اگر تیرا کوئی بھائی تیرے سامنے ایسا مفلس ہو جائے کہ اپنے کو تیرے ہاتھ بیچ ڈالے تو تو اس سے غلام کی مانند خدمت نہ لینا۔
۴۰ بلکہ وہ مزدور اور مسافر کی مانند تیرے ساتھ رہے اور سال یوبلی تک تیری خدمت کرے۔
۴۱ اسکے بعد وہبال بچوں سمیت تیرے پاسسے چلا جائے اور اپنے گھرانے کے پاس اور اپنے باپ دادا کی ملکیت کی جگہ کو لوٹ جائے۔
۴۲ اسلئے کہ وہ میرے خادم ہیں جنکو میں ملک مصر سے نکالکر لایا ہوں۔وہ غلاموں کی طرح بیچے نہ جائیں۔
۴۳ تو ان پر سختی سے حکمرانی نہ کرنا بلکہ اپنے خدا سے ڈرتے رہنا۔
۴۴ اور تیرے جو غلام اور تیری جو لونڈیاں ہوں وہ ان قوموں میں سے ہوں جو تمہارے چوگرد رہتی ہیں۔ان ہی میں سے تم غلام اور لونڈیاں خریدا کرنا۔
۴۵ ماسوا انکے ان پردیسیوں کے لڑکے بالوں میں سے بھی جو تم میں بودباش کرتے ہیں اور انکے گھرانوں میں سے جو تمہارے ملک میں پیدا ہوئے اور تمہارے ساتھ ہیں تم خریدا کرنا اور وہ تمہاری ہی ملکیت ہونگے۔
۴۶ اور تم انکو میراث کے طور پر اپنی اولاد کے نام کردینا کہ وہ انکی موروثی ملکیت ہوں۔ان میں سے تم ہمیشہ اپنے لئے غلام لیاکرنا لیکن بنی اسائیل جو تمہارے بھائی ہیں ان میں سے کسی پر تم سختی سے حکمرانی نہ کرنا۔
۴۷ اور اگر کوئی پردیسی یا مسافر جو تیرے ساتھ ہو دولتمند ہو جائے اور تیرا بھائی اسکے سامنے مفلس ہو کر اپنے آپ کو اس پردیسی یا مسافر یا پردیسی کے خاندان کے کسی آدمی کے ہاتھ بیچ ڈالے۔
۴۸ تو بک جانے کے بعد وہ چھڑایا جا سکتا ہے۔اسکے بھایئوں میں سے کوئی اسے چھڑا سکتا ہے۔
۴۹ یا اسکا چچا یا تاؤ یا اسکے چچا یا تاؤ کا بیٹا یا اسکے خاندان کا کوئی اور آدمی جو اسکا قریبی رشتہ دار ہو وہ اسکو چھڑا سکتا ہے یا اگر وہ مالدار ہو جائے تو وہ اپنا فدیہ دیکر چھوٹ سکتا ہے۔
۵۰ وہ اپنے خریدار کے ساتھ اپنے کو فروخت کردینے کے سال سے لیکر یوبلی تک حساب کرے اور اسکا حساب مزدور کے ایام کی طرح اسکے ساتھ ہوگا۔
۵۱ اگر یوبلی کے ابھی بہت سے برس باقی ہوں تو جتنے روپوں میں وہ خریدا گیا تھا ان میں سے اپنے چھوٹنے کی قیمت اتنے ہی برسوں کے حساب کے مطابق پھیردے۔
۵۲ اور اگر سال یوبلی کے تھوڑے سے برس رہگئے ہوں تو اسکے ساتھ حساب کرے اور اپنے چھوٹنے کی قیمت اتنے ہی برسوں کے مطابق اسے پھیردے۔
۵۳ اور وہ اس مزدور کی طرح اپنے آقا کے ساتھ رہے جسکی اجرت سال بسال ٹھہرائی جاتی ہو اور اسکا آقا اس پر تمہارے سامنے سختی سے حکومت نہ کرنے پائے۔
۵۴ اور اگر وہ ان طریقوں سے چھڑایا نہ جائے تو سال یوبلی میں بال بچوں سمیت چھوٹ جائے۔
۵۵ کیونکہ بنی اسرائیل میرے لئے خادم ہیں۔وہ میرے خادم ہیں جنکو میں ملک مصر سے نکالکر لایا ہوں ۔میں خداوند تمہارا خدا ہوں۔