ج۔ سنگین جرائم کی سزا (باب ۲۰)
اِس باب میں ۱۸ اور ۱۹ باب میں مذکور چند ایک جرائم کی سزاؤں کا بیان ہے۔ جو شخص مولک کے سامنے قربانی کے طور پر ایک بچے کو آگ میں سے گزارتا اُسے سنگسار کیا جاتا (آیات ۱۔۳)۔ اگر لوگ چشم پوشی کر کے اُسے نہ مارتے تو خدا اُسے اور اُس کے گھرانے کو برباد کرتا (آیات ۴،۵)۔ جو شخص جنات کے یاروں اور جادو گروں کے پاس جاتا اُسے سزائے موت دی جاتی (آیت۶)۔ جو شخص اپنے باپ یا ماں پر لعنت کرتا (آیت ۹)، زانی اور زانیہ (آیت ۱۰)، جو اپنے باپ کی بیوی سے مباشرت کرتا (آیت ۱۱) یا اپنی بہو سے ہم بستر ہوتا (آیت ۱۲)، لونڈے باز (آیت ۱۳) (اِس غیر فطری فعل کی صورت میں دونوں کو مار دیا جاتا) کو جان سے مارنے کا حکم تھا۔ اگر کوئی شخص اپنی بیوی اور اُس کی ماں (ساس) دونوں سے مباشرت کرتا، تو تینوں کو جلا دینے کا حکم تھا (آیت ۱۴)۔ کسی اِنسان کا حیوان کے ساتھ جماع کرنا ایک سنگین جرم تھا اور اُس اِنسان اور حیوان دونوں کو مار دیا جاتا (آیات ۱۵،۱۶)۔ جو کوئی اپنی بہن یا سوتیلی بہن کے ساتھ جنسی فعل کا مرتکب ہوتا وہ سزائے موت کے لائق ٹھہرتا (بعض لوگوں کا خیال ہے کہ اُنہیں اسرائیل کی اُمت سے خارج کر دیا جاتا تھا) (آیت ۱۸)۔ خالہ یا پھوپھی سے مباشرت بھی قابلِ سزا تھی، ’’اُن دونوں کا گناہ اُن کے سر لگے گا۔‘‘ لیکن کوئی تفصیلات نہیں دی گئیں (آیت ۱۹)۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ اِس کا یہ مطلب ہے کہ وہ بے اولاد مریں گے جیسا کہ آیت ۲۰ میں جہاں ایک شخص اپنے چچا یا تایا کی بیوی سے اور آیت ۲۱ میں اپنی بھاوَج سے مباشرت کرتا ہے، بیان کیا گیا ہے۔
آیت ۲۱ کا اِطلاق صرف اِسی صورت میں ہوتا تھا جب بھائی زندہ ہو۔ اگر وہ اولادِ نرینہ کے بغیر مر جاتا جس سے اُس کا نام چلتا تو اُس کے بھائی کے لئے حکم تھا کہ وہ اپنے مرحوم بھائی کی بیوہ سے شادی کرے، اور پہلے بیٹے کا نام بھائی کے نام سے رکھے (اِستثنا ۲۵:۵)۔
خدا کی دلی خواہش تھی کہ اُس کی اُمت پاک ہو۔ وہ غیر قوموں کی مکروہات سے پاک ہوں اور موعودہ ملک کی برکتوں سے مستفید ہوں (آیات ۲۲۔۲۶)۔ جس مرد یا عورت میں جِنّ ہوتا یا وہ جادوگری کے مرتکب ہوتے تو اُنہیں سنگسار کر کے مار دیا جاتا (آیت ۲۷)۔
مقدس کتاب
۱ پھر خداوند نے موسی سے کہا۔
۲ تو بنی اسرائیل سے یہ بھی کہہ دے کہ بنی اسرائیل میں سے یا ان پردیسیوں میں سے جو اسرائیلیوں کے درمیان بودوباش کرتے ہیں جو کوئی شخص اپنی اولاد میں سے کسی کو مولک کی نذر کرے وہ ضرور جان سے مارا جائے۔اہل ملک اسے سنگسار کریں۔
۳ اور میں بھی اس شخص کا مخالف ہونگا اور اسے اسکے لوگوں میں سے کاٹ ڈالونگا۔اسلئے کہ اس نے اپنی اولاد کو مولک کی نذر کر کے میرے مقدس اور میرے پاک نام کو ناپاک ٹھہرایا۔
۴ اور اگر اس وقت جب وہ اپنی اولاد میں سے کسی کو مولک کی نذر کرے اہل ملک اس شخص کی طرف سے چشم پوشی کرکے اسے جان سے نہ ماریں۔
۵ تو میں خود اس شخص کا اور اسکے گھرانے کا مخالف ہو کر اسکو اور ان سبھوں کو جو اسکی پیروی میں زنا کار بنیں اور مولک کے ساتھ زنا کریں انکی قوم میں سے کاٹ ڈلونگا۔
۶ اور جو شخص جنات کے یاروں اور جادوگروں کے پاس جائے کہ انکی پیروی میں زنا کرے میں اسکا مخالف ہونگا اوراسے اسکی قوم میں سے کاٹ ڈالونگا۔
۷ اسلئے تم اپنے آپ کو مقدس کرو اور پاک رہو۔میں خداوند تمہارا خدا ہوں۔
۸ اور تم میرے آئین کو ماننا اور اس پر عمل کرنا۔ میں خداوند ہوں جو تمکو مقدس کرتا ہوں۔
۹ اور جو کوئی اپنے باپ یا اپنی ماں پر لعنت کرے وہ ضرور جان سے مارا جائے اس نے اپنے باپ یا ماں پر لعنت کی ہے۔سو اسکا خون اسی کی گردن پر ہوگا۔
۱۰ اور جو شخص دوسرے کی بیوی سے یعنی اپنے ہمسایہ کی بیوی سے زنا کرے وہ زانی اور زانیہدونوں ضرور جان سے مار دئے جائیں۔
۱۱ اور جو شخص اپنی سوتیلی ماں سے صحبت کرے اس نے اپنے باپ کے بدن کو بے پردہ کیا وہ دونوں ضرور جان سے مارے جائیں۔انکا خون ان ہی کی گردن پر ہوگا۔
۱۲ اور اگر کوئی شخص اپنی بہو سے صحبت کرے تو وہ دونوں ضرور جان سے مارے جائیں۔انہوں نے اوندھی بات کی ہے انکا خون ان ہی کی گردن پر ہوگا۔
۱۳ اور اگر کوئی مرد سے صحبت کرے جیسے عورت سے کرتے ہیں تو ان دونوں نے نہایت مکروہ کام کیا ہے۔سو وہ دونوں ضرور جان سےمارے جائیں۔انکا خون ان ہی کی گردن پر ہوگا۔
۱۴ اور اگر کوئی شخص اپنی بیوی اور اپنی ساس دونوں کو رکھے تو یہ بڑی خباثت ہے۔سو وہ آدمی اور وہ عورتیں تینوں کے تینوں جلادئے جائیں تاکہ تمہارے درمیان خباثت نہ رہے۔
۱۵ اور اگر کوئی مرد کسی جانور سے جماع کرے تو وہ ضرور جان سے مارا جائے اور تم اس جانور کو بھی مار ڈالنا۔
۱۶ اور اگر کوئی عورت کسی جانور کے پاس جائے اور اس سے ہم صحبت ہو تو تو اس عورت اور جانور دونوں کو مار ڈالنا۔وہ ضرور جان سے مارےجائیں۔انکا خون ان ہی کی گردن پر ہوگا۔
۱۷ اور اگر کوئی مرد اپنی بہن کو جو اسکے باپ کی اسکی ماں کی بیٹی ہو لیکر اسکا بدن دیکھے اور اسکی بہن اسکا بدن دیکھے تو یہ شرم کی بات ہے۔وہ دونوں اپنی قوم کے لوگوں کی آنکھوں کے سامنے قتل کئے جائیں۔اس نے اپنی بہن کے بدن کو بے پردہ کیا۔اسکا گناہ اسی کے سرلگیگا۔
۱۸ اور اگر مرد اس عورت سے جو کپڑوں سے ہو صحبت کرکے اسکے بدن کوبے پردہ کرے تو اس نے اسکا چشمہ کھولا اور اس عورت نے اپنے خون کا چشمہ کھلوایا۔سو وہ دونوں اپنی قوم میں سے کاٹ ڈالے جائیں۔
۱۹ اور تو اپنی خالہ یا پھوپھی کے بدن کو بے پردہ نہ کرنا کیونکہ جو ایسا کرے اس نے اپنی قریبی رشتہ دار کو بے پردہ کیا۔ سو ان دونوں کا گناہ ان ہی کے سرلگیگا۔
۲۰ اور اگر کوئی اپنی چچی یا تائی سے صحبت کرے تو اس نے اپنے چچا یا تاؤ کے بدن کو بے پردہ کیا۔سوانکا گناہ انکے سرلگیگا۔وہ لاولد مرنیگے۔
۲۱ اگر کوئی شخص اپنے بھائی کی بیوی کو رکھے تو یہ نجاست ہے۔اس نے اپنے بھائی کے بدن کو بے پردہ کیا۔وہ لاولد رہینگے۔
۲۲ سو تم میرے سب آئین اور احکام ماننا اور ان پر عمل کرنا تاکہ وہ ملک جس میں میں تمکو بسانے کو لئے جاتا ہوں تم کو اگل نہ دے۔
۲۳ تمان قوموں کے دستوروں پر جنکو میں تمہارے آگے سے نکالتا ہوں مت چلنا کیونکہ انہوں نے یہ سب کام کئے۔اسی لئے مجھے ان سے نفرت ہوگئی۔
۲۴ پر میں نے تم سے کہا ہے کہ تمانکے ملک کے وارث ہوگے اور میں تمکو وہ ملک جس میں دودھ اور شہد بہتا ہے تمہاری ملکیت ہونے کے لئے دونگا۔میں خداوند تمہارا خدا ہوں جس نے تمکو اور قوموں سے الگ کیا ہے۔
۲۵ سو تم پاک اور ناپاک چوپایوں میں اور پاک اور ناپاک پرندوں میں فرق کرنا اور تم کسی جانور یا پرندے یا زمین پر کے رینگنے والے جاندار سے جنکو میں نے تمہارے لئے ناپاک ٹھہرا کر الگ کیا ہے اپنے آپکو مکروہ نہ بنالینا۔
۲۶ اور تم میرے لئے پاک بنے رہنا کیونکہ میں جو خداوند ہوں پاک ہوں اور میں نے تمکو اور قوموں سے الگ کیا ہے تاکہ تم میرے ہی رہو۔
۲۷ اور وہ مرد یا عورت جس میں جن ہو یاوہ جادوگر ہو تو وہ ضرور جان سے مارا جائے۔ایسوں کو الگ سنگسار کریں،انکا خون ان ہی کی گردن پر ہوگا۔