ج۔ کوڑھ کی تشخیص (باب ۱۳)
باب ۱۳ میں کوڑھ کی تشخیص اور باب ۱۴ میں کوڑھی کو پاک قرار دیئے جانے کا بیان ہے۔ بائبل میں مذکور کوڑھ کی ماہیت سے متعلق مختلف آرا ہیں۔ بائبل میں مذکور کوڑھی بدنما نہیں تھے، جب مکمل طور پر اُن کے جسم پر کوڑھ پھیل جاتا تو بے ضرر ہوتے، اور بعض اوقات اُن کا علاج بھی ہو جاتا تھا۔
ایک طرح سے کاہن طبیب کا کردار بھی ادا کرتا۔ شاید یہ اِس اَمر کی یاد دہانی تھی کہ روحانی اور جسمانی امور میں گہرا تعلق ہے۔ اِنسان تین حصوں پر مشتمل مخلوق ہے۔ اگر ایک حصہ متاثر ہوتا ہے تو تمام حصے متاثر ہوتے ہیں۔
فی الحقیقت باب ۱۳ بہت مشکل ہے کیونکہ اِس میں کوڑھ اور کوڑھ نہ ہونے کی بیماریوں، اور کپڑوں اور مکانوں میں ’’کوڑھ‘‘ کے مرض کا ذکر ہے۔ ڈاکٹر آر۔ کے۔ ہیری سن جو ایک ماہر معالج اور عبرانی عالم ہے، اِس اَمر کی نشان دہی کرتا ہے کہ عبرانی لفظ میں پوشیدہ تمام کیفیت اور حالت کو بیان کرنے کے لئے کوئی بھی ترجمہ تسلی بخش نہیں ہے۔
وہ عبرانی اِصطلاح اور اُس کے یونانی ترجمے کے متعلق تمام حقائق کا خلاصہ بیان کرتا ہے:
’’عبرانی اصطلاح صارَعَت اُس لفظ سے مشتق ہے جس کا مطلب ہے ’کھال کی بیماری۔‘ پرانے عہدنامے میں اِسی لفظ کا استعمال کسی کپڑے اور عمارتوں کی دیواروں پر پھپھوندی کے لئے بھی ہوتا تھا۔ ہفتادی ترجمے میں عبرانی لفظ کا یونانی لفظ lepra استعمال ہوا ہے جو اپنی ماہیت اور معانی کے لحاظ سے وسیع ہے۔ یونانی ماہرینِ طب نے اِس لفظ کو ایک ایسی بیماری کو بیان کرنے کے لئے استعمال کیا جس سے جِلد پر پپڑی بن جاتی ہے جب کہ ہیروڈوٹس نے اِس کا ایک ایسی بیماری کے لئے استعمال کیا جو موجودہ زمانے میں طبی کوڑھ کے لئے مستعمل ہے۔‘‘
۱۳:۱۔۳ اِس باب کے افتتاحیہ پیرے میں بیان کیا گیا ہے کہ کاہن بائبل میں مذکور کوڑھ کی علامات کی تشخیص کرتا تھا۔
۱۳:۴۔۸ اِس کے بعد باقاعدہ طریقِ کار کا تفصیلی بیان کیا گیا ہے۔ متاثرہ شخص کو سات دِنوں تک بند کر دیا جاتا۔ اگر تو داغ نہ پھیلتا، تب اُسے مزید سات دنوں کے لئے بند کر دیا جاتا۔ اگر یہ داغ نہ پھیلتا تو کاہن اُسے پاک قرار دیتا۔ اگر یہ داغ جِلد میں پھیل جاتا تو کاہن اُسے ناپاک قرار دیتا۔
۱۳:۹۔۱۱ اگر کوڑھ پرانا ہوتا تو کاہن اُسے ناپاک قرار دیتا۔
۱۳:۱۲، ۱۳ عجیب بات ہے کہ اگر کسی شخص کا سارا بدن سفید ہو جاتا تو بیماری مزید نقصان دِہ نہ تھی لہٰذا کاہن کوڑھی کو پاک قرار دیتا۔
۱۳:۱۴، ۱۵ جب کسی کوڑھی شخص کا گوشت کچا نظر آتا تو کاہن اُسے ناپاک قرار دیتا۔ یہ کوڑھ تھا۔
۱۳:۱۶، ۱۷ اگر کچا گوشت شفایاب ہو کر پھر سفید ہو جاتا تب اُس کوڑھی شخص کو پھر پاک قرار دیا جاتا۔
۱۳:۱۸۔۲۳ اِس کے بعد پھوڑے کے سلسلے میں تین ممکنہ قسم کی تشخیص پیش کی گئی ہیں۔ جب کاہن کو واضح طور پر دِکھائی دے کہ پھوڑا جِلد میں گہرا ہے اور اُس کے بال سفید ہو گئے ہیں تو وہ مریض کو لازمی طور پر ناپاک قرار دیتا (آیات ۱۸۔۲۰)۔ جب آزمائشی ایام میں یہ پھیل جاتا تو یہ کوڑھ تھا (آیات ۲۱،۲۲)۔ اور اگر یہ نہ پھیلتا تو کاہن اُسے پاک قرار دیتا (آیت ۲۳)۔
۱۳:۲۴۔۲۸ یہاں کھال کے جل جانے کے باعث کوڑھ کا بیان ہے۔ جب یہ اپنی علامات سے کوڑھ نظر آتا تو کاہن ایسے شخص کو ناپاک قرار دیتا (آیات ۲۴،۲۵)۔ سات دن کے آزمائشی وقت کے دوران اِس حالت کا پتا چل جاتا کہ اگر یہ داغ پھیل جاتا تو یہ کوڑھ تھا (آیات۲۶،۲۷)۔ اگر جل جانے کے باعث جگہ پھول جاتی تو یہ کوڑھ نہ تھا (آیت ۸)۔
۱۳:۲۹۔۳۷ اِس کے بعد سر یا ٹھوڑی پر داغ کے بارے میں بیان کیا گیا ہے جہاں مرد یا عورت میں ظاہراً کوڑھ کی علامات پائی جاتیں تو اُسے ناپاک قرار دیا جاتا (آیات ۲۹،۳۰)۔ جب واضح طور پر معلوم نہ ہوتا (آیات ۳۱۔۳۷) اُس شخص کو سات دن تک بند رکھا جاتا۔ اگر سعفہ نہ پھیلتا تو وہ شخص اپنے بالوں کو مونڈتا اور مزید سات دن تک اِنتظار کرتا۔ اگر سعفہ پھیل جاتا تو اُس شخص کو ناپاک قرار دیا جاتا۔ اگر سعفہ نہ پھیلتا تو اُس شخص کو پاک قرار دیا جاتا۔
۱۳:۳۸، ۳۹ اگر کسی مرد یا عورت کے جسم کی جِلد پر سفید چمکتے ہوئے داغ ہوتے تو اُسے رسمی طور پر پاک قرار دیا جاتا۔ ہیری سن کے ترجمے کے مطابق یہ ’’دھبے ہوتے جو جِلد پر پیدا ہو جاتے۔‘‘
۱۳:۴۰۔۴۴ عام قسم کا گنجاپن چندلے پن پر کوڑھ سے مختلف ہوتا تھا۔
۱۳:۴۵، ۴۶ ایک کوڑھی بہت دُکھی اِنسان ہوتا تھا۔ اُسے لشکرگاہ سے باہر نکال دیا جاتا، وہ پھٹے ہوئے کپڑے پہنتا، اور اُس کے سر کے بال بکھرے رہتے۔ جب کوئی شخص اُس کے نزدیک جاتا تو وہ اوپر والے ہونٹ اور مونچھوں کو ڈھانپ کر پکارتا ناپاک، ناپاک۔ یہ مرض سے بچنے کی احتیاطی تدبیر تھی۔ کسی شخص کو علیٰحدہ رکھنا طبی طریقہ ہے کہ متعدی مرض نہ پھیلے۔
۱۳:۴۷۔۵۹ کسی کپڑے پر ’’کوڑھ‘‘ کا مطلب اُونی، سوتی کپڑے یا چمڑے کے لباس پر پھپھوندی ہے۔ ہیری سن اِس کی تشریح کرتے ہوئے لکھتا ہے کہ ایسے لباس کو جلا دینے میں کیا حکمت تھی۔
’’ایسی بلا ایک قسم کی پھپھوندی ہے جو مرے ہوئے جانور یا سبزی پر ظاہر ہوتی ہے۔ یہ مختلف رنگوں کے دھبوں میں ظاہر ہوتی ہے۔‘‘
وہ اِس کا روحانی اطلاق کرتا ہے:
’’پھپھوندی بڑھتے ہوئے ساری شے کو متاثر کرتی ہے جیسے موروثی گناہ اِنسانی شخصیت کے تمام پہلوؤں کو متاثر کرتا ہے۔ یہوواہ کے لوگوں کو ظاہری اور باطنی طور پر پاک ہونا لازم ہے۔‘‘
مقدس کتاب
۱ پھر خداوند نے موسی اور ہارون سے کہا۔
۲ اگر کسی کے جسم کی جلد میں ورم یا پپڑی یا سفید چمکتا ہوا داغ ہو اور اسکے جسم کی جلد میں کوڑھ سی بلا ہو تو اسے ہارون کاہن کے پاس یا اسکے بیٹوں میں سے جو کاہن ہیں کسی کے پاس لے جائیں۔
۳ اور کاہن اسکےجسم کی جلد کی بلا کو دیکھے۔اگر اس بلا کی جگہ کے بال سفید ہو گئے ہوں اور وہ بلادیکھنے میں کھال سے گہری ہو تو وہ کوڑھ کا مرض ہے اور کاہن اس شخص کو دیکھ کر اسے ناپاک قرار دے۔
۴ اور اگر اسکے جسم کی جلد کا چمکتا ہوا داغ سفید تو ہو پر کھال سے گہرا نہ دکھائی دے اور نہ اسکے اوپر کے بال سفید ہو گئے ہوں تو کاہن اس شخص کو سات دن تک بند رکھے۔
۵ اور ساتویں دن کاہن اسے ملاخط کرے اور اگر وہ بلا اسے وہیںکی وہیں دکھائی دےاور جلد پر پھیل نہ گئی ہو تو کاہن اسے سات دن اور بند رکھے۔
۶ اور ساتویں دن کاہن اسے پھر ملاخط کرے اور اگر دیکھے کہ اس بلا کی چمک کم ہے اور وہ جلد کے اوپر پھیلی بھی نہیں ہے تو کاہن اسے پاک قرار دے کیونکہ وہ پپڑی ہے۔سو وہ اپنے کپڑے دھوڈالے اور صاف ہو جائے۔
۷ لیکن اگر کاہن کے اس ملاخط کے بعد جس میں وہ صاف قرار دیا گیا تھا وہ پپڑی اسکی جلد پر بہت پھیل جائے تو وہ شخص کاہن کو پھر دکھایا جائے۔
۸ اور کاہن اسے ملاخطہ کرے اور اگر دیکھے کہ وہ پپڑی جلد پر پھیل گئی ہے تو وہ اسے ناپاک قرار دے کیونکہ وہ کوڑھ ہے۔
۹ اگر کسی شخص کو کوڑھ کا مرض ہو تو اسے کاہن کے پاس لے جائیں۔
۱۰ اور کاہن اسے ملاخطہ کرے اور اگر دیکھے کہ جلد پر سفید ورم ہے اور اس نے بالوں کو سفید کر دیا ہے اس ورم کی جگہ کا گوشت جیتا اور کچا ہے۔
۱۱ تو یہ اسکے جسم کی جلد میں پرانا کوڑھ ہے۔سوکاہ اسے ناپاک قرار دے پر اسے بند نہ کرے کیونکہ وہ ناپاک ہے۔
۱۲ اور اگر کوڑھ جلد میں چاروں طرف پھوٹ آئے اور جہاں تک کاہن کو دکھائی دیتا ہے یہی معلوم ہو کہ اسکی جلد سر سے پاؤں تک کوڑھ سے ڈھک گئی ہے۔
۱۳ تو کاہن غور سے دیکھے اور اگر اس شخص کا سارا جسم کوڑھ سے ڈھکا ہوا نکلے تو کاہن اس مریض کو پاک قرار دے کیونکہ وہ سب سفید ہو گیا ہےاور وہ پاک ہے۔
۱۴ پر جس دن جیتا اور کچا گوشت اس پر دکھائی دے وہ ناپاک ہوگا۔
۱۵ اور کاہن اس کچے گوشت کو دیکھ کر اس شخص کو ناپاک قرار دے۔کچا گوشت ناپاک ہوتا ہے۔وہ کوڑھ ہے۔
۱۶ اور اگر وہ کچا گوشت پھر کر سفید ہو جائے تو وہ کاہن کے پاس جائے۔
۱۷ اور کاہن اسے ملاخطہ کرے اور اگر دیکھے کہ مرض کی جگہ سب سفید ہو گئی ہے تو کاہن مریض کو پاک قرار دے وہ پاک ہے۔
۱۸ اور اگر کسی کے جسم کی جلد پر پھوڑا ہو کر اچھا ہو جائے۔
۱۹ اور پھوڑے کی جگہ سفید ورم یا سرخی مائل چمکتا ہوا سفید داغ ہو تو وہ کاہن کو دکھایا جائے۔
۲۰ اور کاہن اسے ملاخط کرے اور اگر دیکھے کہ وہ کھال سے گہرا نظر آتااور اسپر کے بال بھی سفید ہو گئے ہیں تو کاہن اس شخص کو ناپاک قرار دے کیونکہ وہ کوڑھ ہے جو پھوڑے میں سے پھوٹ کر نکلا ہے۔
۲۱ پر اگر کاہن دیکھے کہ اس پر سفید بال نہیں اور وہ کھال سے گہرا بھی نہیں ہے اور اسکی چمک کم ہے تو کاہن اسے سات دن تک بند رکھے۔
۲۲ اور اگر وہ جلد پر چاروں طرف پھیل جائے تو کاہن اسے ناپاک قرار دے کیونکہ وہ کوڑھ کی بلا ہے۔
۲۳ پر اگر وہ چمکتا ہوا داغ اپنی جگہ پر وہیں کا وہیں رہے اور پھیل نہ جائے تو وہ پھوڑے کا داغ ہے۔پس کاہن اس شخص کو پاک قرار دے۔
۲۴ یا اگر جسم کی کھال کہیں سے جل جائے اور اس جلی ہوئی جگہ کا جیتاگوشت ایک سرخی مائل چمکتا ہوا سفی داغ یا بالکل ہی سفید داغ بن جائے۔
۲۵ تو کاہن اسے ملا خط کرے اور اگر دیکھے کہ اس چمکتے ہوئے داغ کے بال سفید ہو گئے ہیں اور وہ کھال سے گہرا دکھائی دیتا ہے تو وہ کوڑھ ہے جو اس جل جانے سے پیدا ہوا ہے اور کاہن اس شخص کو ناپاک قرار دے کیونکہ اسے کوڑھ کی یماری ہے۔
۲۶ لیکن اگر کاہن دیکھے کہ اس چمکتے ہوئے داغ پر سفید بال نہیں اور نہ کھال سے گہرا ہےبلکہ اسکی چمک بھی کم ہے تو وہ اسے سات دن تک بند رکھے۔
۲۷ اور ساتویں دن کاہن اسے دیکھے۔اگر وہ جلد پر بہت پھیل گیا ہو تو کاہن اس شخص کو ناپاک قرار دے کیونکہ اسے کوڑھ کی بیماری ہے۔
۲۸ اور اگر وہ چمکتا ہوا داغ اپنی جگہ پر وہیں کا وہیں رہے اور جلد پر پھیلا ہو نہ ہو بلکہ اسکی چمک بھی کم ہو تو وہ فقط جل جانے کے باعث پھولا ہوا ہے اور کاہن اس شخص کو پاک قرار دے کیونکہ وہ داغ جل جانے کے سبب سے ہے۔
۲۹ اگر کسی مرد یا عورت کے سر یا ٹھوڑی میں داغ ہو۔
۳۰ تو کاہن اس داغ کو ملا خط کرے اور اگر دیکھے کہ وہ کھال سے گہرا معلوم ہوتا ہے اس پر زرد زرد باریک رونگٹے ہیں۔تو کاہن اس شخص کو ناپاک قرار دے کیونکہ وہ سعفہ ہے جو سر یا ٹھوڑی کا کوڑھ ہے۔
۳۱ اور اگر کاہن دیکھے کہ وہ سعفہ کی بلا کھال سے گہری نہیں معلوم ہوتی اور اس پر سیاہ بال نہیں ہیں تو کاہن اس شخص کو جسے سعفہ کا مرض ہے سات دن تک بند رکھے۔
۳۲ اور ساتویں دن کاہن اس بلا کا ملاخط کرے اور اگر دیکھے کہ سعفہ پھیلا نہیں اور اس پر کوئی زرد بال بھی نہیں اور سعفہ کھال سے گہرا نہیں معلوم ہوتا۔
۳۳ تو اس شخص کے بال مونڈے جائیں لیکن جہاں سعفہ ہو وہ جگہ نہ مونڈی جائے اور کاہن اس شخص کو جسے سعفہ کا مرض ہے سات دن اور بند رکھے۔
۳۴ پھر ساتویں روز کاہن سعفہ کا ملا خط کرے اور اگر دیکھے کہ سعفہ جلد میں پھیلا نہیں اور نہ وہ کھال سے گہرا دکھائی دیتا ہے تو کاہن اس شخص کو پاک قرار دے اور وہ اپنے کپڑے دھوئے اور صاف ہو جائے۔
۳۵ پر اگر اسکی صفائی کے بعد سعفہ اسکی جلد پر بہت پھیل جائے تو کاہن اسے دیکھے۔
۳۶ اور اگر سعفہ اسکی جلد پر پھیلا ہوا نظر آئے تو کاہن زرد بال کو نہ ڈھونڈے کیونکہ وہ شخص ناپاک ہے۔
۳۷ پر اگر اسکو سعفہ اپنی جگہ پر وہیں کا وہیں دکھائی دے اور اس پر سیاہ بال نکلے ہوئے ہوں تو سعفہ اچھا ہو گیا۔وہ شخص پاک ہے اور کاہ اسے پاک قرار دے۔
۳۸ اور اگر کسی مرد یا عورت کے جسم کی جلد میں چمکتے ہوئے داغ یا سفید چمکتے ہوئے داغ ہوں۔
۳۹ تو کاہن دیکھے اور اگر انکے جسم کی جلد کے داغ سیاہی مائل سفید رنگ کے ہوں تو وہ چھیپ ہے جو جلد میں پھوٹ نکلی ہے۔وہ شخص پاک ہے ۔
۴۰ اور جس شخص کے سر کے بال گر گئے ہوں وہ گنجا تو ہے مگر پاک ہے۔
۴۱ اور جس شخص کے سر کے بال پیشانی کی طرف سے گر گئے ہوں وہ چندلا تو ہے مگر پاک ہے۔
۴۲ لیکن اس گنجے یا چندلے سر پر سرخی مائل سفید داغ ہو تو یہ کوڑھ ہے جو اسکے گنجے یا چندلے سر پر نکلا ہے۔
۴۳ سو کاہن اسے ملاخط کرے اور اگر وہ دیکھے کہ اسکے گنجے یا چندلے سر پر وہ داغایسا سرخی مائل سفید رنگ لئے ہوئے ہے جیسا جلد کے کوڑھ میں ہوتا ہے۔
۴۴ تو وہ آدمی کوڑھی ہے۔وہ ناپاک ہے اور کاہن اسے ضرورہی ناپاک قرار دے کیونکہ وہ مرض اسکے سر پر ہے۔
۴۵ اور جو کوڑھی اس بلا میں مبتلا ہو اسکے کپڑے پھٹے اور اسکے سر کے بال بکھرے رہیں اور وہ اپنے اوپر کے ہونٹ کو ڈھانکے اور چلا چلا کر کہے ناپاک ناپاک۔
۴۶ جتنے دنوں تک وہ اس بلا میں مبتلا رہے وہ ناپاک رہیگا اور وہ ہے بھی ناپاک۔ پس وہ اسکیلا رہا کرے۔اسکا مکان لشکر گاہ کے باہر ہو۔
۴۷ اور وہ کپڑا بھی جس میں کوڑھ کی بلا خواہ وہ اون کا ہو یاکتان کا۔
۴۸ اور وہ بلا بھی خواہ کتان یا اون کے کپڑے کے تانے میں یا اسکے بانے میں ہو یا وہ چمڑے میں ہو یا چمڑے کی بنی ہوئی کسی چیز میں ہو۔
۴۹ اگر وہ بلا کپڑے میں یا کپڑے میں۔کپڑے کے تانے میں یا بانے میں یاچمڑے کی کسی چیز میں سبزی مائل یا سرخی مائل رنگ کی ہو تو وہ کوڑھ کی بلا ہے اور کاہن کو دکھائی جائے۔
۵۰ اور کاہن اس بلا کو دیکے اور اس چیز کو جس میں وہ بلا ہے سات دن تک بند رکھے
۵۱ اور ساتویں دن اسکو دیکھے۔اگر وہ بلا کپڑے کے تانے میں یا بانے میں یا چمڑے پر یا چمڑے کی بنی ہوئی کسی چیز پر پھیل گئی تو وہ کھا جانے والا کوڑھ ہے اور ناپاک ہے۔
۵۲ اور اس اون یاکتان کے کپڑے کو جسکے تانے میں یا بانے میں وہ بلا ہے یا چمڑے کی اس چیز کو جس میں وہ ہے جلا دے کیونکہ یہ کھا جانے والا کوڑھ ہے۔وہ آگ میں جلایا جائے۔
۵۳ اور اگر کاہن دیکھے کہ وہ بلا کپڑے کے تانے میں یا بانے میں یا چمڑے کی کسی چیز میں پھیلی ہوئی نظر نہیں آتی۔
۵۴ تو کاہن حکم کرے کہ اس چیز کو جس میں وہ بلا ہے دھوئیں اور وہ پھر اسے اور سات دن تک بند رکھے۔
۵۵ اور اس بلا کے دھوئے جانے کے بعد کاہن پھر اسے ملا خط کرے اور اگر دیکھے کہ اس بلا کا رنگ نہیں بدلا اور وہ پھیلی بھی نہیں ہے تو وہ ناپاک ہے تو اس کپڑے کو آگ میں جلا دینا کیونکہ وہ کھا جانے والی بلا ہے خواہ اسکا فساد اندرونی ہو یا بیرونی ۔
۵۶ اور اگر کاہن دیکھے کہ دھونے کے بعد اس بلا کی چمک کم ہو گئی ہے تو وہ اسے اس کپڑے سے یا چمڑے سے۔تانے یابانے سے پھاڑ کر نکال پھینکے۔
۵۷ اور اگر وہ بلا پھر بھی کپڑے کے تانے یا بانے میں یا چمڑے کی چیز میں دکھائی دے تو وہ پھوٹ کر نکل رہی ہے۔پس تو اس چیز کو جس میں وہ بلا ہے آگ میں جلا دینا۔
۵۸ اور اگر اس کپڑے کے تانے یا بانے میں سے یا چمڑے کی چیز میں سے جسے تو نے دھویا ہے وہ بلا جاتی رہے تو وہ چیز دوبارہ دھوئی جائے اور وہ پاک ٹھہریگی۔
۵۹ اون یاکتان کے تانے یا بانے میں یا چمڑے کی کسی چیز میں اگر کوڑھ کی بلا ہو تو اسے پاک یا ناپاک قرار دینے کے لئے شرع یہی ہے۔