احبار ۱۲

ب۔ بچے کی پیدائش کے بعد طہارت (‏باب ۱۲)‏

۱۲:‏۱۔۴ باب ۱۲ میں بچے کی پیدائش کے سلسلے میں ناپاکی کا ذکر ہے۔ کوئی عورت لڑکے کی پیدائش کے بعد سات دن تک ناپاک رہتی‏، بعینہٖ جیسے وہ حیض کے ایام میں ناپاک ہوتی تھی۔ آٹھویں دن لڑکے کا ختنہ کیا جاتا (‏آیت ۳)‏۔ جہاں تک خون کے منجمد ہونے کی بات ہے آٹھواں دن محفوظ ترین دن تھا۔ دَورِ حاضر میں خون کو منجمد کرنے کے لئے وٹامن ’’کے‘‘ کا ٹیکہ لگایا جاتا ہے۔ اِس کے بعد وہ مزید تیس دن تک نہ تو کسی مقدس چیز کو چھو سکتی تھی اور نہ ہی مقدِس یعنی خیمۂ اجتماع کے بیرونی صحن میں داخل ہو سکتی تھی۔

۱۲:‏۵ لڑکی کی پیدائش پر ماں دو ہفتوں کے لئے ناپاک رہتی اور پھر مزید ۶۶ دنوں تک گھر میں رہتی۔ 

۱۲:‏۶۔۸ طہارت کے ایام پورے ہونے کے بعد ماں کے لئے یہ حکم تھا کہ وہ سوختنی قربانی کے لئے یک سالہ برّہ اور خطا کی قربانی کے لئے کبوتر کا ایک بچہ یا قمری کا بچہ لائے۔ اگر وہ اِس قدر غریب ہوتی کہ وہ برّہ نہ لا سکتی تو کبوتر کے دو بچے یا قمری کے دو بچے لاتی۔ ایک سوختنی قربانی کے لئے اور دوسرا خطا کی قربانی کے لئے۔ مسیح کی ماں دو پرندے لائی (‏لوقا ۲:‏۲۲۔۲۴)‏‏، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہمارا نجات دہندہ کیسی غربت میں پیدا ہوا۔ 

یہ بڑی عجیب بات ہے کہ بچے کی پیدائش کے ساتھ ناپاکی منسلک ہے‏، حالانکہ خدا نے دُنیا میں گناہ کے داخل ہونے سے پہلے شادی کے دستور کو مقرر کیا‏، اور کتابِ مقدس میں یہ تعلیم دی گئی ہے کہ شادی پاک ہے اور خدا نے خود اِنسان سے کہا کہ وہ بڑھے اور پھلے۔ ناپاکی غالباً اِس بات کی یاد دہانی ہے کہ سوائے مسیح خداوند کے ہم سب نے بدی میں صورت پکڑی اور گناہ کی حالت میں ماں کے پیٹ میں پڑے (‏زبور ۵۱:‏۵)‏۔ لڑکی کی پیدائش کے سلسلے میں ناپاکی کے مزید وقت سے غالباً اِس اَمر کی یاد دہانی کرائی گئی ہے کہ مرد کو عورت سے پہلے پیدا کیا گیا‏، اور کہ عورت کو مرد کے تابع رہنے کا حکم دیا گیا (‏لیکن مراد کم تر ہونا نہیں)‏ اور کہ عورت نے پہلے گناہ کیا۔ 

اِس قانون کے سلسلے میں وِلیمز (‏Williams)‏ کا یہ خیال ہے کہ خدا ماں کو اُس کی کمزوری کی حالت میں ملاقاتیوں اور ہر طرح کے متعدی امراض کے جراثیم سے بچانا چاہتا تھا۔

مقدس کتاب

۱ اور خداوند نے موسی سے کہا۔
۲ بنی اسرائی سے کہہ کہ اگر کوئی عورت حاملہ ہو اور اسکے لڑکا ہو تو وہ سات دن ناپاک رہیگی جیسے حیض کے ایام میں رہتی ہے
۳ اور آٹھویں دن لڑکے کا ختنہ کیا جائے۔
۴ اسکے بعد تینتیس دن تک وہ طہارت کے خون میں رہے اور جب تن اسکی طہارت کے ایام پورے نہ ہوں تب تک نہ تو کسی مقدس چیز کو چھوئے اور مقدس میں داخل ہو۔
۵ اور اگر اسکے لڑکی ہو تو وہ دو ہفتے ناپاک رہیگی جیسے حیض کے ایام میں رہتی ہے۔اسکے بعد وہ چھیاسٹھ دن تک طہارت کے خون میں رہے۔
۶ اور جب اسکی طہارت کے ایام پورے ہو جائیں تو خواہ اسکے بیٹا ہوا ہو یا بیٹی وہ سوختنی قربانی کے لئے ایک یکسالہ برہ اور خطا کی قربانی کے لئے کبوتر کا ایک بچہ ایک قمری خیمہ اجتماع کے دروازہ پر کاہن کے پاس لائے۔
۷ اور کاہن اسے خداوند کے حضور گذرانے اور اسکے لئے کفارہ دے۔ تب وہ اپنے جریان خون سے پاک ٹھہریگی۔جس عورت کے لڑکا یا لڑکی ہو اسکے بارے میں شرع یہ ہے۔
۸ اور اگر اسکو برہ لانے کا مقدور نہ ہو تووہ دو قمریاں یا کبوتر کے دو بچے ایک سوختنی قربانی کے لئےاور دوسرا خطا کی قربانیکے لئے لائے۔یوں کاہن اسکے لئے کفارہ دے تو وہ پاک ٹھہریگی۔