گنتی ۸

ز۔ خیمۂ اجتماع کی خدمات (‏باب ۸)‏

۸:‏۱۔۴ ہارون کو ہدایت کی گئی کہ وہ شمع دان پر چراغوں کو اِس انداز سے ترتیب دے کہ روشنی شمع دان کے سامنے ہو۔ اگر روشنی روح القدس کی اور شمع دان مسیح کی علامت ہو تب یہ ہمارے لئے یاد دہانی ہے کہ روح کی خدمت یہ ہے کہ مسیح کو جلال ملے۔

۸:‏۵۔۱۳ اِس کے بعد لاویوں کی تقدیس کا بیان ہے۔ پہلے اُن پر خطا کا پانی چھڑکنے (‏وضاحت ۱۹ باب میں)‏‏، اُن کے سارے جسم پر اُسترہ پھروانے‏، کپڑے دھونے اور اُنہیں صاف کرنے سے اُن کو پاک کیا جاتا۔ جماعت کے نمائندے خیمۂ اِجتماع کے دروازے پر لاویوں کے سر پر ہاتھ رکھتے اور ہارون لاویوں کو خداوند کے حضور ہلانے کی قربانی کے طور پر پیش کرتا۔ اِس سے ہمیں رومیوں بارہ باب کی پہلی دو آیات یاد آتی ہیں جہاں ایمان داروں کو اپنے بدن زندہ اور پسندیدہ قربانی ہونے کے لئے پیش کرنے کو کہا گیا ہے۔ اِس کے بعد موسیٰ نے سوختنی اور خطا کی قربانی پیش کی۔ 

۸:‏۱۴۔۲۲ خدا اِس بات کو دُہراتا ہے کہ خروج کے بعد پہلوٹھوں کو اپنی ملکیت قرار دینے کے لئے اُس نے لاویوں کو چن لیا کہ وہ اُس کی ملکیت ہوں۔ لاویوں کو مقرر کیا گیا کہ وہ کاہنوں کی خدمت کریں۔ جیسا کہ حکم دیا گیا تھا لاویوں کی تقدیس کی گئی اور وہ خیمۂ اِجتماع میں خدمت کرنے لگے۔ 

۸:‏۲۳۔۲۶ لاوی پچیس برس کی عمر سے شروع کر کے پچاس برس کی عمر تک خدمت کر سکتے تھے (‏آیت ۲۴)‏۔ گنتی ۴:‏۳ میں خدمت کے آغاز کی عمر تیس سال بیان کی گئی ہے۔ بعض لوگ باب ۴ کے حوالے کا اُن لوگوں پر اطلاق کرتے ہیں جو بیابان میں خیمۂ اِجتماع کو اُٹھاتے تھے۔ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ باب ۸ میں خیمۂ اِجتماع کی خدمت کے لئے کم عمر کا تعلق موعودہ ملک میں خیمۂ اجتماع لگانے سے ہے۔ بعض ایک یہ خیال پیش کرتے ہیں کہ اضافی پانچ سال تربیتی عرصہ تھا۔ جو پچاس سال کی عمر پر ریٹائرڈ ہوتے تھے‏، مزید بھاری کام نہیں کرتے تھے‏، لیکن اُنہیں نگران کی حیثیت سے کام کرنے کی اِجازت تھی (‏آیات ۲۵‏،۲۶)‏۔ اِن آیات میں ’’کام‘‘ اور خدمت کے فرق کو ظاہر کیا گیا ہے۔ پہلے میں بھاری کام شامل ہے اور موخرالذکر میں نگہبانی کا کام شامل ہے۔ 

کسی شخص نے اِس بات کی نشان دہی کی ہے کہ لاوی سچے مسیحیوں کی تصویر پیش کرتے ہیں جنہیں مخلصی دِلائی گئی‏، پاک صاف کیا گیا‏، خداوند کی خدمت کے لئے مخصوص کیا گیا اور زمین پر جن کی کوئی وراثت نہیں ہے۔ 

مقدس کتاب

۱ اور خدواند نے موسیٰ سے کہا کہ
۲ جب تو چراغوں کو روشن کرے تو ساتویں چراغ کی روشنی شمعدان کےسامنے ہو
۳ چنانچہ ہارون نے ایسا ہی کیا اس نے چراغوں کو ایسے جلایا کہ شمعدان کے سامنے روشنی پڑے جیسا خدواند نے موسیٰ کو حکم دیا تھا
۴ اور شمعدان کی بناوٹ ایسی تھی کہ وہ پایہ سے لے کر پھولو ں تک گھڑے ہوئے سونے کا بنا ہو ا تھا جو نمونہ خداوند نے موسیٰ کو دکھایا اسی کے موافق اس نے شمعدان کو بنایا
۵ اور خداوند نے موسیٰ سے کہا کہ
۶ لاویوں کو بنی اسرائیل سے الگ کر کے ان کو پاک کر
۷ اور انکو پاک کرنے کے لیے ان کے ساتھ یہ کرنا کہ خطا کا پانی لے کر ان پر چھڑکنا پھر وہ سارے جسم پر استرا پھروائیں اور اپنے کپڑے دھویں اور اپنے آپ کو صاف کریں
۸ اور تب وہ ایک بچھڑ ا اور نذر کی قربانی کے لیے تیل ملا ہو ا میدہ لیں اور تو خطا کی قربانی کے لیے ایک دوسرا بچھڑا بھی لینا
۹ اور تو لاویوں کو خیمہ اجتماع کے سامنے حاضر کرنااور بنی اسرائیل کی ساری جماعت کو جمع کرنا
۱۰ پھر لا ویوں کو خداوند کے آگے لانا تب بنی اسرائیل اپنے اپنے ہاتھ لاویوں پر رکھیں
۱۱ اور ہارون لاویوں کو بنی اسرائیل کی طرف سے ہلانے کی قربانی کے لیے خداوند کے حضور گذرانے تاکہ وہ خداوند کی خدمت کرنے پر رہیں
۱۲ پھر لاوی اپنے اپنے ہاتھ بچھڑوں کے سروں پر رکھیں اور تو ایک کو خطا کی قربانی اور دوسرے کو سوختنی قربانی کے لیے خداوند کے حضور گذراننا تاکہ لاویوں کے واسطے کفارہ دیا جائے
۱۳ پھر تو لاویوں کو ہارون اور اس کے بیٹوں کے سامنے کھڑا کرنا اور انکو ہلانے کی قربانی کے لیے خداوند کے حضور گذراننا
۱۴ یوں تو لاویوں کو بنی اسرائیل سے الگ کرنا اور لاوی میر ے ہی ٹھہریں گے
۱۵ اس کے بعد لاوی خیم اجتماع کی خدمت کے لیے اندر آیا کریں سو تو انکو پاک کر اور ہلانے کی قربانی کے لیے انکو گذران
۱۶ اس لیے کہ وہ سب کے سب بنی اسرائیل میں سے مجھے بالکل دے دیئے گئے کیونکہ میں نے ان ہی کو اُن سبھوں کے بدلے جو اسرائیلیوں میں پہلوٹھی کے بچے ہیں اپنے واسطے لے لیا
۱۷ اس لیے بنی اسرائیل کے سب پہلوٹھے کیا انسان کیا حیوان سب میرے ہیں میں نے جس دن ملک مصر کے پہلوٹھوں کو مارا اسی دن ان کو اپنے لیے مقدس کیا
۱۸ اور بنی اسرائیل کے سب پہلوٹھوں کے بدلے میں نے لاویوں لے لیا
۱۹ اور میں نے بنی اسرائیل میں سے لاویوں کو لے کر اسے ہارون اور اسکے بیٹوں کو عطا کیا تاکہ وہ خیمہ اجتماع میں بنی اسرائیل کی جگہ خدمت کریں اور بنی اسرائیل کے لیے کفارہ دیا کریں تاکہ جب بنی اسرائیل مقدِس کے نزدیک آئیں تو ان میں کو ئی وبا نہ پھیلے
۲۰ چنانچہ موسیٰ اور ہارون اور بنی اسرائیل کی ساری جماعت نے لاویوں کے ساتھ ایسا ہی کیا جو کچھ خداوند نے لاویوں کے بارے موسیٰ کو حکم دیا تھا ویسا ہی بنی اسرائیل نے ان کے ساتھ کیا ۔
۲۱ اور لاویوں نے اپنے آپ کو گناہ سے پاک کر کے اپنے کپڑے دھوئے اور اور ہارون نے انکو ہلانے کی قربانی کے لیے خداوند کے حضور گذرانا اور ہارون نے انکی طرف سے کفارہ دیا تاکہ وہ پاک ہو جائیں
۲۲ اس کے بعد لاوی اپنی خدمت بجا لانے کو ہارو ن اور اسکے بیٹوں کے سامنے خیمہ اجتماع میں جانے لگے سو جیسا خداوند نے لاویوں کی بابت موسیٰ کو احکم دیا تھا انہوں نے ویسا ہی ان کے ساتھ کیا
۲۳ پھر خداوند نے موسیٰ سے کہا
۲۴ اور لاویوں کے متعلق جو بات ہے وہ یہ ہے کہ پچیس برس سے لیکر اس سے اوپر اوپر کی عمر میں وہ خیمہ اجتماع کی خدمت کے لیے وہ کام کےلیے اندر حاضر ہوا کریں
۲۵ اور جب پچاس برس کے ہوں تو پھر اس کام کے لیے نہ آئیں اور خدمت نہ کریں ۔
۲۶ بلکہ خیمہ اجتماع میں اپنے بھائیوں کے ساتھ نگہبانی کے کام میں مشغول ہوں اور کوئی خدمت نہ کریں لاویوں کو جو کام سونپے جائیں انکے متعلق تو ان سے ایسا ہی کرنا ۔