ج۔ پاکیزگی اور اقرار (۵:۱۔۱۰)
اِس حصے میں بنی اِسرائیل کو آگاہ کرنے کے لئے ہدایات دی گئیں کہ وہ لشکرگاہ کو ناپاک نہ ہونے دیں۔ آیت ۳ میں دیئے ہوئے حکم کی وجوہات اِستثنا ۲۳:۱۴ میں ملاحظہ فرمائیے۔ خدا لشکرگاہ میں چل پھر رہا تھا۔
۵:۱۔۴ کوڑھیوں، جریان کے مریضوں اور مُردے کو چھونے کے سبب ناپاک لوگوں کو لشکر گاہ سے باہر نکال دیا جاتا۔ لشکرگاہ میں خیمۂ اجتماع اور وہ تمام جگہ شامل تھی جس میں بنی اِسرائیل نے خیمے لگائے ہوئے تھے۔
۵:۵۔۱۰ اگر کوئی مرد یا عورت کسی کا گناہ کرتا تو وہ اپنے گناہ کا اِقرار کرتا اور معاوضے کے طور پر خطا کی قربانی گزرانتا اور پانچواں حصہ زائد ادا کرتا۔ جس شخص کا قصور کیا جاتا اگر وہ مر جاتا یا اُس کا پتا نہ چلتا اور اُس کا کوئی قریبی رِشتے دار بھی نہ ہوتا تب یہ ادائیگی کاہن کو کی جاتی۔
د۔ غیرت کے بارے میں قانون (۵:۱۱۔۳۱)
اِس حصے میں جھوٹ کو پکڑنے کی رسم کا بیان کیا گیا ہے جسے غیرت کا مقدمہ کہا گیا ہے۔ اِس رسم کا یہ مقصد تھا کہ اِس اَمر کا تعین کیا جائے کہ کوئی عورت اپنے خاوند سے بے وفائی کے شبے میں گنہگار یا بے گناہ ہے۔ خیمۂ اجتماع کے فرش کی گرد پانی میں ملائی جاتی اور اِسے عورت کو پلایا جاتا۔ اگر وہ قصور وار ہوتی تو اِس سے وہ ملعون ٹھہرتی اور اُس کا پیٹ پھول جاتا اور اُس کی ران سڑ جاتی۔ اگر وہ بے گناہ ہوتی تو اُسے کوئی نقصان نہ پہنچتا۔ آیات ۱۲۔۱۴ سے یہ صاف ظاہر ہے کہ خاوند کو یہ علم نہیں ہوتا تھا کہ اُس کی بیوی نے اُس سے بے وفائی کی ہے کہ نہیں۔ اِس کے لئے لازم تھا کہ پہلے اپنی بیوی کو کاہن کے پاس لائے اور اِس کے ساتھ نذر کی قربانی بھی لائے۔
۵:۱۶۔۳۱ کاہن مٹی کے باسن میں مٹی اور پانی کا مرکب تیار کرتا۔ وہ اُس کے بال کھلوا کر اُس کے ہاتھوں میں نذر کی قربانی دیئے ہوئے مذبح کے پاس لاتا۔ تب وہ اُسے قسم کھلاتا جس کے باعث اگر وہ قصوروار ہوتی تو ملعون ٹھہرتی۔ کسی کتاب میں لعنتیں لکھنے کے بعد کاہن اُنہیں کڑوے پانی میں دھو ڈالتا، نذر کی قربانی کو خداوند کے حضور ہلاتا، اُس میں سے مُٹھی بھر لے کر مذبح پر جلاتا اور پھر عورت کو پانی پلاتا۔ آیت ۲۴ میں اِس بیان کو کہ وہ عورت کو پانی پلاتا، آیت ۲۶ میں دُہرایا گیا ہے۔ وہ صرف ایک بار پیتی تو اُسے اِس باب میں مذکور سزائیں ملتیں اور اِن سزاؤں میں بانجھ پن بھی شامل تھا۔ اگر وہ بے گناہ ہوتی تو اُسے پاک قرار دیا جاتا، اور وہ سزا سے بَری ہوتی، اور معمول کے مطابق ازدواجی زندگی گزارتی اور بچوں کو جنم دیتی۔ آیات ۲۹۔۳۱ میں غیرت کے مقدمے کا خلاصہ پیش کیا گیا ہے۔
غیرت جائز اور ناجائز دونوں صورتوں میں ازدواجی زندگی کو برباد کر سکتی ہے۔ یہ رسم ہمیشہ ہمیشہ کے لئے معاملے کو طے کرنے کا ایک طریقہ تھا۔ قصور وار کو خدا سزا دیتا، اور بے گناہ ثابت ہونے سے مرد کا اپنی شریکِ حیات کے بارے میں شک دُور ہو جاتا۔
بائبل کے بعض ایک طلبا کا یہ نظریہ ہے کہ اِس حصے کا آنے والے دِنوں پر خصوصی اطلاق ہو گا جب بنی اِسرائیل قوم کو یہوواہ سے بے وفائی کے لئے سزا ملے گی۔
مقدس کتاب
۱ پھر خداوند نے موسیٰ سے کہا کہ
۲ بنی اسرائیل کو حکم دے کہ وہ ہر کوڑھی کو اور جریان کے مریض کو اور اور جو مردہ کے سبب سے ناپاک ہو اسکو لشکر گاہ سے باہر کردیں
۳ ایسوں کو خواہ وہ مرد ہو یا عورت تم انکو نکال کر لشکر گاہ کے باہر رکھو تاکہ وہ انکی لشکر گاہ کو جس کے درمیان میں رہتا ہوں ناپاک نہ کریں
۴ چنانچہ بنی اسرائیل نے ایسا ہی کیا اور انکو نکال کر لشکر گاہ کے باہر رکھا جیسا خداوند نے موسیٰ کو حکم دیا تھا ویسا ہی بنی اسرائیل نے کیا
۵ اور خداوند نے موسیٰ سے کہا کہ
۶ بنی اسرائیل سے کہہ کہ اگر کوئی مرد یا عورت خداوند کی حکم عدولی کر کے کوئی ایسا گناہ کرے جو آدمی کرتے ہیں اور قصور وار ہوجائے
۷ تو جو گناہ اس نے کیا وہ اسکا اقرار کرے اور اپنی تفصیر کے معاوضہ میں پورا دام اور اس میں اس کا پانچوں حصہ اور ملاکر اس شخص کو دے جس کا اس نے قصور کیا ہے
۸ لیکن اگر اس شخص کا رشتہ دار نہ ہو جس کو تفصیر کا معاوضہ دیا جائے تو تفصیر کا جو معاوضہ خداوند کو دیا جائے وہ کاہن کا ہو علاہ کفارہ کے اس مینڈھا کے جس سے اس کا کفارہ دیا جائے
۹ اورجتنی مقدس چیزیں اسرائیل اٹھا نے کی قربانی کے طور پر کاہن کے پاس لا ئیں وہ اسی کی ہوں
۱۰ اور ہر شخص کی مقدس کی ہوئی چیزیں اسی کی ہوں اور جو چیزیں کو ئی شخص کاہن کو دے وہ بھی اسی کی ہوں
۱۱ اور خداوند نے موسیٰ سے کہا کہ بنی اسرائیل سےکہہ کہ
۱۲ اگر کسی کی بیوی گمراہ ہو کر اس سے بے وفائی کرے
۱۳ اور کوئی دوسرا آدمی اس عور ت کے ساتھ مباشرت کرے اور اس کے شوہر کو معلوم نہ ہو بلکہ یہ اس سے پوشیدہ رہے اور وہ ناپاک ہو گئی ہو پر نہ کوئی شاہد ہو اور نہ وہ عین فعل کے وقت پکڑی گئی ہو
۱۴ اور اسکے شوہر کے دل میں غیر ت آئے اور وہ اپنی بیوی سے غیرت کھانے لگے حالانکہ وہ ناپاک ہوئی ہو یا اسکے شوہر کے دل میں غیرت آئے اور وہ اپنی بیوی سے غیرت کھانے لگے حالانکہ وہ ناپاک نہیں ہوئی
۱۵ تو وہ شخص اپنی بیوی کو کاہن کے پاس حاضر کرے اور اس عورت کوچڑھاوے کے لیے ایفہ دسویں حصہ کے برابر جو کا آٹا لائے پر اس پر نہ تیل ڈالے نہ لبان رکھے کیونکہ یہ نذر کی قربانی غیرت کی ہے یعنی یہ یادگاری نذر کی قربانی ہے جس سے گناہ یاد دلایا جاتا ہے
۱۶ تب کاہن اس عورت کو نزدیک لا کر خداوند کے حضور کھڑی کرے
۱۷ اور کاہن مٹی کے ایک باسن میں مقدس پانی لے اور مسکن کے فرش کی گرد لے کر اس پانی میں ڈالے
۱۸ پھر کاہن عورت کو خداوند کے حضور کھڑی کرکے اس کے سر کے بال کھلوا دے اور یادگاری کی نذر کی قربانی جو غیرت کی نذرکی قربانی ہے اس کے ہاتھوں پر دھرے اور کاہن اپنے ہاتھ میں اس کڑوے پانی کو لے جو لعنت کو لاتا ہے
۱۹ پھر کاہن اس عورت کو قسم کھلا کر کہے کہ اگر کسی شخص نے تجھ سے صحبت نہیں کی ہے تو پنے شوہر کے ہوتی ہوئی ناپاکی کی طرف مائل نہیں ہوئی تو اس کڑوے پانی کی تاثیر سے جو لعنت لا تا ہے بچی رہ
۲۰ لیکن اگر شوہر کی ہوتی ہوئی گمراہ ہو کر ناپاک ہوگئی ہے اور تیرے شوہر کے سو ا کسی دوسرے شخص نے تجھ سے صحبت کی ہے
۲۱ تو کاہن اس عورت کو لعنت کی قسم کھلا کر اس سے کہے کہ خداوند تجھےتیری قوم میں تیری ران کو سڑا کر اور تیرے پیٹ کو پھلا کر لعنت ار پھٹکار کا نشانہ بنائے
۲۲ اور یہ پانی جو لعنت لاتا ہے تیری انتڑیوں میں جا کر تیرے پیٹ کو پھلائے اور تیری ران کو سڑائے اور عورت آمین آمین کہے
۲۳ پھر کاہن ان لعنتوں کو کسی کتاب میں لکھکر ان کو اسی کڑوے پانی میں دھو ڈالے
۲۴ اور وہ کڑوا پانی جو لعنت لاتا ہے اس عورت کو پلائے اور وہ پانی جو لعنت لاتا ہے اس عورت کے پیٹ میںجا کر کڑوا ہوجائے گا
۲۵ اور کاہن اس عورت کے ہاتھ سے غیرت کی نذر کی قربانی کو لے کر خداوند کے حضور اسے ہلائے اور اسے مذبح کے پاس لائے ۔
۲۶ پھر کاہن اس نذر کی قربانی میں سے یادگاری کے طور پر ایک مٹھی لے کر اسے مذبح کر جلائے بعد اس کے وہ پانی اس عورت کو پلائے
۲۷ اور جب وہ اسے وہ پانی پلا چکے گا توایسا ہو گا کہ وہ اگر ناپاک ہوئی اور اس نے اپنے شوہر سے بے وفائی کی تو وہ پانی جو لعنت کو لاتا ہے اسکے پیٹ میں جا کر کڑوا ہو جائے گا اوراس کا پیٹ پھول جائے گا اور اس کی ران سڑ جائے گی اور وہ عورت اپنی قوم میں لعنت کا نشانہ بنے گی
۲۸ پر اگر وہ ناپاک نہیں ہوئے بلکہ پاک ہے تو وہ بے الزام ٹھہرے گی اور اس سے اولاد ہوگی
۲۹ غیرت کے بارے یہی شرع ہے خواہ عورت اپنے شوہر کی ہوتی ہوئی گمراہ ہو کر ناپاک ہو جائے یا مرد پر غیرت سوار ہو
۳۰ اور وہ اپنی بیوی سے غیرت کھانے لگے ایسے حال میں وہ اس عورت کو خداوند کے آگے کھڑی کرے اور کاہن اس پر یہ ساری شریعت عمل میں لائے
۳۱ تب مرد گناہ سے بر ے ٹھہرے گا اور اس عورت کا گناہ اسی کے سر لگیگا۔