۷: ۱۔۷ جونہی سلیمان نے دعا ختم کی آسمان پر سے آگ اُتری اور سوختنی قربانی اور ذبیحوں کو بھسم کر دیا اور مسکن خداوند کے جلال سے معمور ہو گیا۔ جب لوگوں نے دیکھا کہ خداوند کا جلال اُس گھر پر چھا گیا تو اُنہوں نے منہ کے بل زمین تک جھک کر سجدہ کیا۔ اِس کے بعد سلیمان نے ہزاروں بیلوں اور بھیڑ بکریوں کی قربانی دی۔
پتیل کا مذبح اِتنی زیادہ قربانیوں کے لئے بہت چھوٹا تھا۔
۷: ۸۔۱۰ یومِ کفارہ سمیت رسمِ مخصوصیت سات دن تک جاری رہی۔ اِس کے بعد خیموں کی عید منائی گئی۔ بعد ازاں سلیمان نے لوگوں کو رُخصت کیا۔
۷: ۱۱۔۱۶ جب سلیمان نے ہیکل اور اپنے محل کی تعمیر ختم کی تو خداوند رات کے وقت اُس پر ظاہر ہوا اور اُس سے وعدے کئے اور اُسے آگاہ بھی کیا۔ خشک سالی، ٹڈیوں اور وبا کی صورت میں لوگ خاکسار بن کر دعا کریں، خداوند کے دیدار کے طالب ہوں اور اپنی بُری راہوں سے پھریں۔ تب وہ اُن کے گناہ کو معاف کر دے گا اور اُن کے ملک کو بحال کر دے گا۔
آیت ۱۴ ساری کتاب کی سنہلی آیت ہے۔ گو یہ آیت بنیادی طور پر بنی اِسرائیل کی برگزیدہ قوم کے لئے کہی گئی اِس کا اطلاق اُن سب قوموں پر ہوتا ہے جن کی بائبلی وراثت ہے۔ یہ ہر زمانے کے لئے بحالی اور بیداری کا یقینی راستہ ہے۔ اگر اِن شرائط کو پورا کیا جائے تو اِن وعدوں کی تکمیل یقینی ہے۔
جے۔ بارٹن پین (Barton Payne) اپنے تاثرات دیتا ہے:
’’یہ عظیم آیت، تواریخ کی پوری کتاب کی سب سے مشہور آیت ہے۔ یہ نہایت خوبصورتی سے خدا کے تقاضوں کو ظاہر کرتی ہے۔ لازم ہے کہ ایمان دار اپنے گناہوں کو ترک کریں، خودی کی زندگی کو ترک کریں، اور خدا کے کلام اور اُس کی مرضی کے تابع ہوں۔ صرف اور صرف ایسی صورت میں آسمان سے بیداری آئے گی۔‘‘
۷: ۱۷۔۲۲ اگر سلیمان خداوند کی فرماں برداری کرے تو وہ اُس کے تخت کو قائم کرے گا اور اُس کی نسل کو بھی اُس پر بٹھائے گا۔ دوسری طرف اگر سلیمان اور اُس کے لوگوں نے غیر معبودوں کی خاطر خداوند کو چھوڑ دیا، تو اُنہیں اسیری میں لے جایا جائے گا، اور وہ اِس ہیکل کو بھی ردّ کر دے گا اور قومیں اُسے دیکھ کر اُن کا مذاق اڑائیں گی کہ اِسرائیل کو خداوند نے چھوڑ دیا ہے۔
آیت ۱۶ کا یہ مطلب ہے کہ ہیکل ہمیشہ قائم رہے گی، تاہم ہم جانتے ہیں کہ اِسے ۵۸۶ ق م میں برباد کر دیا گیا۔ اِس کی وضاحت کے لئے ہم کہہ سکتے ہیں کہ خدا کا وعدہ مشروط تھا کہ اگر اِسرائیل وفادار اور فرماں بردار رہے۔ آیات ۱۹ اور ۲۰ میں خصوصی طور پر آگاہ کیا گیا ہے کہ اگر لوگ بت پرستی کی طرف مائل ہو گئے تو خداوند ہیکل کو ردّ کر دے گا۔
مقدس کتاب
۱ اور جب سلیمان دُعا کر چُکا تو آسمان پر سے آگ اُتری اور سوختنی قربانی اور ذبیحوں کو بھسم کر دیا اور مسکن خُدا کے جلال سے معمور ہو گیا۔
۲ اور کاہن خُداوند کے گھر میں داخل نہ ہوسکے اس لیئے کہ خُدا وند گھر خُداکے جلال سے معمور تھا۔
۳ اور جب آگ نازل ہوئی اور خُداوند کا جلال اُس گھر پر چھا گیا تو سب بنی اسرائیل دیکھ رہے تھے ۔ تو انہوں نے وہیں فرش پر منہ کے بل زمین تک جُھک کر سجدہ کیا اور خُدا کا شُکر ادا کیا کہ وہ بھلا ہے کیونکہ اُس کی رحمت ابدی ہے۔
۴ تب بادشاہ اور سب لوگوں نے خُداوند کے گے ذبیحے ذبح کیے۔
۵ اور سلیمان بادشاہ نے بائیس ہزار بیل ور ایک لاکھ بیس ہزار بھیڑ بکریو ں کی قربانی چڑھائی ۔یُوں بادشاہ اور سب لوگوں نے خُدا کے گھر کو مخصُوص کیا۔
۶ اور کاہن اپنے اپنے منصب کے مُطابق کھڑے تھے اور لاوی بھی خُداوند کے لیئے موسیقی کے ساز لیئے ہوئے تھے جنکو داؤد بادشاہ نے خُداوند کا شُکر بجالانے کو بنایا تھا جب اُس نے اُن کے ذریعہ سے اُس کی ستائش کی تھی کیونکہ اُس کی رحمت ابدی ہے اور کاہن اُن کے آگے نرسنگے پھونکتے رہے اور سب اسرائیلی کھڑے رہے۔
۷ اور سلیمان نے اُس صحن کے بیچ کے حصہ کو جو خُداوند کے گھر کا سامنے تھا مُقدس کیا کیانکہ اُس نے وہاں سوختنی قربانیوں اور سلامتی کی قربانیوں کی چربی چڑھائی کیونکہ پیتل کے اس مذبح پر جسے سلیمان نے بنایا تھا سوختنی قربانی اور نذر کی قربانی اور چربی کے لیئے گنجائش نہ تھی۔
۸ اور سلیمان اور اُس کے ساتھ حمات کے مدخل سے مصر کی ندی تک سب اسرائیلیوں کی بُہت بڑی جماعت نے اُس موقع پر سات دن تک عید منائی ۔
۹ اور آٹھویں دن اُن کا مُقدس مجمع فراہم ہوا کیونکہ وہ ساتھ دن مذبح کے مخصُوص کرنے میں اور سات دن عید منانے میں لگے رہے۔
۱۰ اور ساتویں مہینے کی تییسویں تاریخ کو اُس نے لوگوں کو رُخصت کیا تاکہ وہ اُس نیکی کے سبب سے جو خُدا نے داؤد اور سلیمان اور اپنی قوم اسرائیل سے کی تھی خوش اور شادمان ہو کر اپنے ڈیروں کو جائیں۔
۱۱ یوں سلیمان نے خُداوند کا گھر اور بادشاہ کا گھر تمام کیااور جو کُچھ سلیمان نے خُداوند کے گھر میں اور اپنے گھر میں بنانا چاہا اُس نے اُسے بخوبی انجام تک پُہنچایا۔
۱۲ اور خُداوند رات کو سلیمان پر ظاہر ہوا اور اُس سے کہا میں نے تیری دُعا سُنی اور اس جگہ کو اپنے واسطے چُن لیا کہ یہ قربانی کا گھر ہو۔
۱۳ اگر میں آسمان کو بند کردوں کہ بارش نہ ہو یا ٹڈیوں کو حُکم دوں کہ مُلک کو اُجاڑ ڈالیں یا اپنے لوگوں کے درمیان وبا بھیجوں ۔
۱۴ تب ار میرے لوگ جو میرے نام سے کہلاتے ہیں خاکسار بن کر دُعا کریں اور میرے دیدار کے طالب ہوں اور اپنی بُری راہوں سے پھریں تو میں آسمان پر سے سُن کر اُن کا گناہ معاف کروں گا اور اُن کے مُلک کو بحال کروں گا۔
۱۵ اب سے جو دُعا اس جگہ کی جائے گیا اُس پر میری آنکھیں کُھلی اور میرے کان لگے رہیں گے۔
۱۶ کیونکہ میں نے اس گھر کو اب چُنا اور مُقدس کیا ہے کہ میرا نام یہاں سدار ہے اور میری آنکھیں اور میرادل برابر یہیں لگے رہیں گے۔
۱۷ اور تُو اگر میرے حضور ویسے ہی چلے جیسے تیرا باپ داؤد چلتا رہا اور جو کُچھ میں نے تُجھ کو حُکم کیا اُس کے مُطابق عمل کرے اور میرے آئین اور احکام کو مانے۔
۱۸ تو میں تیرے تختے سلطنت کو قائم رکھونگا جیسا میں نے تیرے باپ داؤد سے عہد کر کے کہا تھا کہ اسرائیل کا سردار ہونے کے لیئے تیرے ہاں مرد کی کبھی کمی نہ ہوگی ۔
۱۹ پر اگر تُم برگشتہ ہو جاؤ اور میرے آئین و احکام کو جنکو میں نے تمہارے آگے رکھا ہے ترک کر دو اور جا کر غیر معبودوں کی عبادت کرو اور اُن کو سجدہ کرو۔
۲۰ تو میں اُن کو اپنے اِس مُلک سے جو میں نے اُنکو دیا ہے جڑ سے اُکھاڑ ڈالوں گا اور اس گھر جسے میں نے اپنے نام کے لیئے مققر کیا ہے اپنے سامنے سے دور کردونگا اور اُسکو سب قوموں میں ضربُ المثل اور انگُشت نُما بنادونگا۔
۲۱ اور یہ گھر جو ایسا عالیشان ہے سو ہر ایک جو اُسکے پاس سے گُزرے گا حیران ہوکر کہیگا کہ خُداوند نے اِس مُلک اور اس گھر کے ساتھ ایساکیوں کیا؟ ۔
۲۲ تب وہ جواب دینگے اس لیئے کہ اُنہوں نے خُداوند اپنے باپ دادا کے خُدا کو جو اُنکو مُلکِ مصر سے نکال لایا تھا ترک کیا اور غیر معبودوں کو اختیار کر کے اُنکو سجدہ کیا اور اُنکی عبادت کی ای لیئے خُداوند نے اُن پر یہ ساری مُصیبت نازل کی۔