۲۔توارِیخ ۱۰

۲۔ سلطنت کی تقسیم (‏باب ۱۰)‏

۱۰:‏ ۱۔۵ شاید شمالی قبائل کی ہمدردیاں حاصل کرنے کے لئے رحبعام نے اپنی حکومت کے آغاز میں سکم جانے کا فیصلہ کیا۔ لوگوں نے وعدہ کیا کہ وہ اُس کی خدمت کریں گے‏، بشرطیکہ وہ اُس بھاری جوئے کو ہلکا کر دے جو سلیمان نے اُن پر رکھا تھا۔ ’’سب اِسرائیلی‘‘ (‏آیت ۳)‏ سے مراد شمالی قبائل کے تمام نمائندے ہیں۔ رحبعام نے لوگوں کی درخواست پر غور کرنے کے لئے تین دن کی مہلت مانگی۔

۱۰:‏ ۶۔۱۱ پہلے تو رحبعام نے بزرگوں سے مشورہ کیا جو اُس کے باپ سلیمان کی خدمت کرتے تھے۔ اُنہوں نے صلاح دی کہ وہ لوگوں کو راضی کرے۔ اِس کے بعد اُس نے اُن کی صلاح کو ردّ کر کے اپنے نوجوان دوستوں سے مشورہ کیا۔ اُنہوں نے اُسے بتایا کہ وہ عوام کے ساتھ سختی سے پیش آئے۔ 

۱۰:‏ ۱۲۔۱۹ جب لوگ تین دن کے بعد واپس آئے اور بادشاہ کی دھمکیوں کو سنا‏، تو اُنہوں نے یربعام کی قیادت میں بغاوت کر دی۔ نتیجے میں سلطنت تقسیم ہو گئی۔ یہ اخیاہ کی معرفت خدا کے کلام کی تکمیل تھی۔ بیگاریوں کے داروغہ ہدورام کے قتل کے بعد رحبعام یروشلیم کو واپس آ گیا‏، جہاں اُس نے یہوداہ اور بنیمین پر حکومت کی۔ وِلیمز (‏Williams)‏ اپنے تاثرات دیتا ہے:‏

’’اخیاہ کی پیش گوئی کی یہ تکمیل کتابِ مقدس میں دیگر واقعات کی طرح ایک ایسی مثال ہے‏، جہاں اِنسانی خواہشات کے باعث پیش گوئیوں کی تکمیل ہوئی ہے۔ لوگ یہ سوچتے ہیں کہ وہ اپنی مرضی کو پورا کرتے ہوئے اپنے منصوبوں کی تکمیل کر رہے ہیں‏، لیکن وہ اِس بات سے بے خبر ہیں کہ یہ معاملہ خدا کا ہے اور اُس نے اپنے کلام کی تکمیل کے لئے ایسے کاموں کو ہونے دیا ہے۔‘‘ 

مقدس کتاب

۱ اور رحبعام سِکم کو گیا اس لیئے کہ سب اسرائیلی اُسے بادشاہ بنانے کو سِکم میں اکٹھے ہوئے تھے۔
۲ جب نباط کے بیٹے یُربعام نے یہ سُنا کیونکہ وہ مصر میں تھا جہاں وہ سلیمان بادشاہ کے آگے سے بھاگ گیا تھا( تو یُربعام مصر سے لَوٹا۔
۳ اور یُربعام اور سب اسرائیلی آئے اور رحبعام سے کہنے لگے۔
۴ کہ تیری باپ نے ہمارا جُوا سخت کر رکھا تھا۔سو تُو اب اپنے باپ کی اُس سخت خدمت کو اور اُس بھاری جُوئے کو جو اُس نے ہم پرڈال رکھا تھا کُچھ ہلکا کر دے اور ہم تیری خدمت کرینگے۔
۵ اور اُس نے اُن سے کہا تین دن کے بعد پھر میرے پاس آنا۔چنانچہ وہ لوگ چلے گئے۔
۶ تب رحبعام بادشاہ نے اُن بزرگوں سے جو اُس کے باپ سلیمان کے حضور اُس کے جیتے جی کھڑے رہتے تھے مشورت کی اور کہا تمہاری کیا صلاح ہے ؟ میں ان لوگوں کو کیا جواب دوں؟۔
۷ اُنہوں نے اُس سے کہا کہ اگر تُم ان لوگوں پر مہربان ہو اور اُن کو راضی کرے اور اُن سے اچھی اچھی باتیں کہے تو وہ ہمیشہ تیری خدمت کرینگے گے۔
۸ لیکن اُس نے اُن بزرگوں کی صلاح کو جو اُنہوں نے اُسے دی تھی چھوڑ کر اُن جوانوں سے جنہوں نے اُس کے ساتھ پرورش پائی تھی اور اُس کے آگے حاضر رہتے تھے مشورت کی۔
۹ اور اُن سے کہا تُم مُجھے کیا صلاح دیتے ہو کہ ہم ان لوگوں کو کیا جواب دیں جنہوں نے مُجھ سے یہ درخواست کی ہے کہ اُس جوئے کو جو تیرے باپ نے ہم پر رکھا کُچھ ہلکا کر؟
۱۰ اُن جوانوں نے جنہوں نے اُس کے ساتھ پرورش پائی تھی اُس سے کہا تُو اُن لوگوں کو جنہوں نے تُجھ سے کہا تیرے باپ نے ہمارے جُوئے کو بھاری کیا پر تُو اُس کو ہمارے لیئے کُچھ ہلکا کر دے یوں جواب دینا اور اُن سے کہنا کہ میری چھنگلی میرے باپ کی کمر سے بھی موتی ہے ۔
۱۱ اور میرے باپ نو تو بھاری جوا تُم پر رکھا ہی تھا پر میں اُس جُوئے کو اور بھی بھاری کرونگا۔میرے باپ نے تُمیں کوڑوں سے ٹھیک کیا پر میں تُم کو بچھوؤں سے ٹھیک کروں گا۔
۱۲ اور جیسا بادشاہ نے حُکم دیا تھا کہ تیسرے دن میرے پاس پھر آنا تیسرے دن یُربعام اور سب لوگ رحبعام کے پاس حاضر ہوئے۔
۱۳ تب بادشاہ نے اُن کو سخت جواب دیا اور رحبعام بادشاہ نے بزرگوں کی صلاح کو چھوڑکر۔
۱۴ جوانوں کی صلاح کے مُوافق اُن سے کہا کہ میرے باپ نے تُمہارا جُوا بھاری کیا پر میں اُس کو اور بھی بھاری کرونگا ۔میرے باپ نے تُم کو کوڑوں سے ٹھیک کیا پر میں تُم کو بچھوؤں سے ٹھیک کروں گا۔
۱۵ سو بادشاہ نے لوگوں کی نہ مانیکیونکہ یہ خُدا ہی کی طرف سے تھا تاکہ خُداوند اس بات کو جو اُس نے سیلانی اخیاہ کی معرفت بناط کے بیٹے یُربعام کع فرمائی تھی پُورا کرے۔
۱۶ جب سب اسرائیلیوں نے یہ دیکھا کہ بادشاہ نے اُن کی نہ مانی تو لوگوں نے بادشاہ کو جواب دیااور یوں کہا کہ داؤد کے ساتھ ہمارا کیا حصہ ہے ؟ یسی کے بیٹے کے ساتھ ہماری کُچھ میراث نہیں۔اَے اسرائیلیوں اپنے اپنے ڈیرے کو چلے جاؤ۔اب اَے داؤد اپنے ہی گھرانے کو سنبھال ۔پس سب اسرائیلی اپنے ڈیروں کو چلے گئے۔
۱۷ لیکن اُن بنی اسرائیل پر جو یہوداہ کے شہروں میں رہتے تھے رحبعام سلطنت کرتا رہا۔
۱۸ تب رحبعام بادشاہ نے ہدُورام کو جو بیگاریوں کادروغہ تھا بھیجا لیکن بنی اسرائیل نے اُس کو سنگسار کیا اور وہ مرگیا۔ تب رحبعام یروشلیم کو بھاگ جانے کے لیئے جھٹ اپنے رتھ پر سوار ہو گیا ۔
۱۹ پس اسرائیلی آج کے دن تک داؤد کے گھرانے سے باغی ہیں ۔