ج۔ آسا بادشاہ (ابواب ۱۴۔۱۶)
۱۴: ۱،۲ اگلے تین ابواب میں ہمیں آسا اور اُس کے ۴۱ سالہ دَورِ حکومت کے بارے میں مختصر طور پر بتایا گیا ہے۔ اِن ابواب کے ساتھ ۱۔سلاطین ۱۵: ۹۔۲۴ کا بھی مطالعہ کریں۔ آیت ۱، گذشتہ باب کے ساتھ تسلسل کو ظاہر کرتی ہے۔ عبرانی متن میں ۱۴:۲ سے باب کا آغاز کیا گیا ہے۔
۱۴: ۳۔۸ آسا کے پُراَمن دَورِ حکومت کا سبب یہ تھا کہ اُس کا دل یہوواہ کی طرف مائل تھا۔ اُس نے اپنے باپ دادا کے بہت سے گناہوں کو دُور کیا اور اپنی رعایا کو تاکید کی کہ خداوند کی طرف رجوع لائیں۔ نیز اُس نے اپنی سلطنت کو بت پرستی سے پاک کرنے میں خود قیادت کی۔ امن کے اِن ایام میں آسا نے شہروں کو فصیل دار بنایا اور بہت بڑی فوج اکٹھی کی۔
۱۴: ۹۔۱۵ کوشیوں کی دس لاکھ فوج اور تیس ہزار رتھوں سے یہوداہ میں امن و امان کی صورتِ حال خراب ہو گئی۔ یہوداہ کی فوج گو تعداد میں کم تھی، لیکن یہوواہ پر بھروسا کرنے کے باعث وہ فتح مند ہوئے اور کُوشی بھاگ اُٹھے۔
آیت ۱۱ میں آسا کی دعا بہت مختصر لیکن بامعنی ہے۔ جنگ کے دوران لمبی دعا کے لئے کوئی وقت نہیں ہوتا۔ آسا کی طرح اگر اِنسان کا تعلق خدا کے ساتھ دُرست ہو تو شدید ضرورت کے دوران کی ہوئی دعائیں بہت موثر ہوتی ہیں۔ چونکہ اُس نے امن کے دنوں میں خداوند کی پیروی کی، اِس لئے وہ جانتا تھا کہ خداوند جنگ میں اُس کی مدد کرے گا۔ یہ جنگ یہوداہ کے ایک شہر مریسہ میں شروع ہوئی، اور فلستیوں کے شہر جرار میں اِختتام پذیر ہوئی۔ بہت سے لوگ مارے گئے، اِن میں وہ لوگ بھی شامل تھے جن کے مویشی بھی تھے۔ یروشلیم میں بہت سا مالِ غنیمت اور مویشی لے جائے گئے۔
مقدس کتاب
۱ اور ابیاہ اپنے باپ دادا کے ساتھ سو گیا اور انہوں نے اُسے داؤد کے شہر میں دفن کیا اور اُس کا بیٹا آسا اُس کی جگہ بادشاہ ہوا ۔اُس کے دنوں میں دس برس تک مُلک میں امن رہا ۔
۲ اور آسا نے وہی کیا جو خُداوند اُس کے خُدا کے حضور بھلا اور ٹھیک تھا۔
۳ کیونکہ اُس نے اجنبی مذبحوں اور اُونچے مقاموں کو دور کیا اور لاٹوں کو گرا دیا اور یسیرتوں کو کاٹ ڈالا۔
۴ اور یہوداہ کو حُکم کیا کہ خُداوند اپنے باپ دادا کے خُدا کے طالب ہوں اور شریعت اور فرمان پر عمل کریں۔
۵ اور اُس نے یہوداہ کے سب شہروں میں سے اُونچے مقاموں اور سورج کی مورتوں کو دور کر دیا اور اُس کے سامنے سلطنت میں امن رہا ۔
۶ اور اُس نے یہوداہ میں فصیل دار شہر بنائے کیونکہ مُلک میں امن تھا اور اُن برسوں میں اُسے جنگ نہ کرنا پڑا کیونکہ خُداوند نے اُسے امان بخشی تھی۔
۷ اس لیئے اُس نے یہوداہ سے کہا کہ ہم یہ شہر تعمیر کریں اور اُن کے گرد دیوار اور بُرج بنائیں اور پھاٹک اور اڑبنگے لگائیں یہ مُلک ابھی ہمارے قابو میں ہے کیونکہ ہم خُداوند اپنے خُدا کے طالب ہوئے ہیں ۔ہم اُس کے طالب ہوئے اور اُس نے ہم کو چاروں طرف سے امان بخشی ہے۔سو انہوں نے اُس کو تعمیر کیا اور کامیاب ہوئے ۔
۸ اور آسا کے پاس بنی یہوداہ کے تین لاکھ آدمیوں کا لشکر تھا جو ڈھال اور بھالا اُٹھاتے تھے اور بنیمین کے دو لاکھ اَسی ہزار تھے جو ڈھال اُٹھاتے اور تیر چلاتے تھے ۔یہ سب زبردست سورما تھے ۔
۹ اور اُن کے مقابلہ میں زارح کُوشی دس لاکھ کی فوج اور تین سو رتھوں کو لے کر نکلا اور مریسہ میں آیا۔
۱۰ اور آسا اُس کے مقابلہ کو گیا اور انہوں نے مریسہ کے بیچ صفاتہ کی وادی میں جنگ کے لیئے صف باندھی۔
۱۱ اور آسا نے خُداوند اپنے خُدا سے فریاد کی اور کہا اے خُداوند زور آور اور کمزور کے مقابلہ میں مدد کرنے کو تیرے سِوا اور کوئی نہیں ۔اے خُداوند ہمارے خُدا تو ہماری مدد کر کیونکہ ہم تُجھ پر بھروسہ رکھتے ہیں اور تیرے نام سے اس انبوہ کا سامنا کرنے آئے ہیں ۔تو اَے خُداوند ہمارا خُدا ہے ۔انسان تیرے مُقابلہ میں غالب ہونے نہ پائے۔
۱۲ پس خُداوند نے آسا اور یہواہ کے آگے کُوشیوں کو مارا اور کُوشی بھاگے۔
۱۳ اور آسا اور اُس کے لوگوں نے اُن کو جرار تک رگیدا اور کُوشیوں میں سے اتنے قتل ہوئے کہ وہ پھر سنبھل نہ سکے کیونکہ وہ خُداوند اور اُس کے لشکر کے آگے ہلاک ہوئے اور وہ بُہت سی لُوٹ لے آئے۔
۱۴ اور انہوں نے جرار کے پاس کے سب شہروں کو مارا کیونکہ خپدا کا خوف اُن پر چھا گیا تھا اور انہوں نے سب شہروں کو لُوٹ لیا کیونکہ اُن میں بڑی لُوٹ تھی۔
۱۵ اور اُنہوں نے مواشی کے ڈیروں پر بھی حملہ کیا اور کثرت سے بھیڑیں اور اونٹ لے کر یروشلیم کو لَوٹے۔