۲۔توارِیخ ۳۶

ف۔ یہوآخز بادشاہ (‏۳۶:‏ ۱۔۳)‏

یہوداہ کی اسیری مختلف مراحل میں ہوئی۔ ۶۰۵ ق م میں نبوکدنضر یروشلیم میں داخل ہوا‏، یہویقیم کو باج گزار بنایا اور دانی ایل سمیت بہت سے لوگوں کو اسیر کر کے لے گیا (‏۲۔سلاطین ۲۴:‏۱)‏۔ ۵۹۷ ق م میں نبوکدنضر نے دوبارہ یروشلیم پر حملہ کیا‏، یہویاکین کو گرفتار کیا اور حزقی ایل سمیت مزید اسیروں کو اپنے ساتھ لے گیا (‏۲۔سلاطین ۲۴:‏۱۰)‏۔ بالآخر ۵۸۶ ق م میں نبوکدنضر نے ہیکل کو برباد کر دیا اور غریبوں اور مسکینوں کے سوا باقی لوگوں کو اسیر کر کے لے گیا (‏۲۔سلاطین ۲۵:‏ ۱۔۱۰)‏۔ 

یہوآخز نے صرف تین ماہ تک حکومت کی۔ اُسے شاہِ مصر نے معزول کر دیا اور بھاری خراج ادا کرنے پر مجبور کیا۔ وہ اپنے باپ یوسیاہ کی مانند نہیں تھا بلکہ ایک بُرا شخص تھا (‏بمقابلہ ۲۔سلاطین ۲۳:‏ ۳۱۔۳۴)‏۔ اُسے مصر لے جایا گیا جہاں اُس نے وفات پائی۔

ص۔ یہویقیم بادشاہ (‏۳۶:‏ ۴۔۸)‏

الیاقیم جس کا نام یہویقیم بھی تھا‏، یہوآخز کا بڑا بھائی تھا۔ اُسے نکوہ نے تخت پر بٹھایا۔ اُس کے گیارہ سالہ دَورِ حکومت میں بدی ہی بدی تھی اور اُس کی حکومت کو بالآخر نبوکد نضر نے ختم کر دیا اور ۶۰۵ ق م میں ہیکل کو لوٹ لیا۔ نبوکدنضر نے یہویقیم کو بابل لے جانا چاہتا تھا‏، لیکن کامیاب نہ ہوا۔ گو تواریخ کا منصف اِس واقعے کو بیان نہیں کرتا لیکن ہم جانتے ہیں کہ وہ یرمیاہ کی پیش گوئی کے مطابق یروشلیم میں ہی بڑی ذلت کی حالت میں مر گیا (‏یرمیاہ ۲۲:‏ ۱۹؛ ۳۶:‏۳۰)‏۔ 

ق۔ یہویاکین بادشاہ (‏۳۶:‏۹‏،۱۰)‏

یہویاکین ۱۸ برس کا تھا جب وہ بادشاہ بنا۔ تین ماہ اور دس دن کی حکومت کے بعد اُس نے یروشلیم میں ہتھیار ڈال دیئے اور اگلے ۳۷ برس بابل کی قید میں گزارے۔ نبوکدنضر کی وفات کے بعد اُسے رہائی ملی اور اُسے سرفراز کیا گیا (‏۲۔سلاطین ۲۵:‏ ۲۷۔۳۰)‏۔

ر۔ صدقیاہ بادشاہ (‏۳۶:‏۱۱۔۱۹)‏

صدقیاہ جس کا دوسرا نام متنیاہ تھا‏، یوسیاہ کا ایک اَور بیٹا تھا۔ جب یہویاکین نے اہلِ بابل کے ساتھ بے وفائی کی‏، تو اُنہوں نے صدقیاہ کو اُس کا جانشین چنا۔ اُس نے خدا کی نظر میں بدی کی اور یرمیاہ نبی کے سامنے عاجزی نہ کی۔ اُس نے بھی نبوکدنضر سے عہد شکنی کرتے ہوئے بغاوت کی۔ یروشلیم کا بہت خوف ناک محاصرہ کیا گیا جو اٹھارہ ماہ تک جاری رہا۔ جب کسدیوں (‏بابلیوں)‏ نے ۵۸۶ ق م میں شہر پر قبضہ کر لیا تو اُنہوں نے اُس کو اور ہیکل کو برباد کر دیا۔ اور مُلک کے نہایت غریب و مسکین لوگوں کے سوا باقی سب لوگوں کو اسیر کر کے لے گئے۔ 

۴۔ بابلی اسیری (‏۳۶:‏ ۲۰‏،۲۱)‏

یہودیوں نے ۴۹۰ سال تک سبت کے سال ماننے سے اِنکار کر دیا تھا۔ اب اُن کی زمین مجبوراً ۷۰ سال تک سبت کا سال منائے گی۔ ستّر سال کی اسیری کے حساب کے مختلف طریقوں کے لئے عزرا کی تفسیر میں ’’تعارُف‘‘ ملاحظہ فرمائیے۔

۵۔ خورس کا فرمان (‏۳۶:‏ ۲۲‏،۲۳)‏

جب یہوداہ کے لوگ ابھی اسیری میں تھے تو بابل کو شاہِ فارس نے فتح کر لیا۔ اسیری کے ستّر سال بعد شاہِ فارس خورس نے ایک فرمان کے مطابق یہودیوں کو اِجازت دی کہ وہ اپنے ملک کو لوٹ جائیں۔

یہ بات قابلِ غور ہے کہ عبرانی عہد عتیق کی کتابوں کی ترتیب میں تواریخ کی کتاب آخری کتاب ہے۔ عبرانی بائبل لعنت کے الفاظ کے ساتھ نہیں بلکہ حوصلہ افزائی کے عمل سے اِختتام پذیر ہوتی ہے:‏

’’شاہِ فارس خورس یوں فرماتا ہے کہ خداوند آسمان کے خدا نے زمین کی سب مملکتیں مجھے بخشی ہیں اور اُس نے مجھ کو تاکید کی ہے کہ مَیں یروشلیم میں جو یہوداہ میں ہے اُس کے لئے ایک مسکن بناؤں۔ پس تمہارے درمیان جو کوئی اُس کی ساری قوم میں سے ہو خداوند اُس کا خدا اُس کے ساتھ ہو اور وہ روانہ ہو جائے۔ ‘‘

مقدس کتاب

۱ اور مُلک کے لوگوں نے یوسیاہ کے بیٹے یہو آخز کو اُس کے باپ کی جگہ یروشلیم میں بادشاہ بنایا۔
۲ یہو آخز تیس برس کا تھا جب وہ سلطنت کرنے لگا ۔اُس نے تین مہینے یروشلیم میں سلطنت کی۔
۳ اور شاہِ مصر نے اُسے یروشلیم میں تخت سے اُتار دیا اور مُلک پر سَو قنطار چاندی اور ایک قنطار سونا جرمانہ کیا۔
۴ اور شاہِ مصر نے اُس کے بھائی الیاقیم کو یہوداہ اور یروشلیم کا بادشاہ بنایا اور اُس کا نام بدل کر یہو یقیم رکھا اور نکوہ اُس کے بھائی یہو آخز کو پکڑکر مصر لے گئے۔
۵ یہو یقیم پچیس برس کا تھا جب وہ سلطنت کرنے لگا اور اُس نے گیارہ برس یروشلیم میں سلطنت کی اور اُس نے وہی کیا جو خُداوند اُس کے خُدا کی نظر میں بُرا تھا۔
۶ اُس پر شاہِ بابل بنوکد نظر نے چڑھائی کی اور اُسے بابل لے جانے کے لیے اُس کے بیڑیاں ڈالیں۔
۷ اور نبوکد نضر خُداوند کے گھر کے کُچھ ظرُوف بھی بابل کو لے گیا اور اُن کو بابل میں اپنے مندر میں رکھا ۔
۸ اور یہو یقیم کے باقی کام اور اُس کے نفرت انگیز اعمال اور جو کُچھ اُس میں پایا گیا وہ اسرائیل اور یہوداہ کے بادشاہوں کی کتاب میں قلمبند ہیں اور اُس کا بیٹا یہویاکین اُس کی جگہ بادشاہ ہوا۔
۹ یہویاکین آٹھ برس کا تھا جب وہ سلطنت کرنے لگا اور اُس نے تین مہینے دس دن یروشلیم میں سلطنت کی اور اُس نے وہی کیا جو خُداوند کی نظر میں بُرا تھا۔
۱۰ اور نئے سال کے شروع ہوتے ہی نبوکد نظر بادشاہ نے اُسے خُداوند کے گھر کے نفیس برتنوں کے ساتھ بابل کو بلوالیا اور اُس کے بھائی صدقیاہ کو یہوداہ اور یروشلیم کا بادشاہ بنایا ۔
۱۱ صدقیاہ اکیس برس کا تھا جب وہ سلطنت کرنے لگا اور اُس نے گیارہ برس یروشلیم میں سلطنت کی ۔
۱۲ اور اُس نے وہی کیا جو خُداوند اُس کے خُدا کی نظر میں بُرا تھا اور اُس نے یرمیاہ نبی کے حضور جس نے خُداوند کے منہ کی باتیں اُس سے کہیں عاجزی نہ کی۔
۱۳ اور اُس نے نبوکد نضر بادشاہ سے بھی جس نے اُسے خُدا کی قسم کھلائی تھی بغاوت کی بلکہ وہ گردن کش ہو گیا اور اُس نے اپنا دل ایسا سخت کر لیا کہ خُداوند اسرائیل کہ خُدا کی طرف رجوع نہ لایا۔
۱۴ اُس کے سوا کاہنوں کے سب سرداروں اور لوگوں نے اور قوموں کے سب نفرتی کاموں کے مُطابق بڑی بدکاریاں کیں اور اُنہوں نے خُداوند کے گھر کو جسے اُس نے یروشلیم میں مُقدس ٹھہرایا تھا نا پا ک کیا ۔
۱۵ اور خُداوند اُن کے باپ دادا کے خُدا نے اپنے پیغمبروں کو اُن کے پاس بر وقت بھیج بھیج کر پیغام بھیجا کیونکہ اُسے اپنے لوگوں اور اپنے مسکن پر تر آتاتھا۔
۱۶ لیکن اُنہوں نے خُدا کے پیغمبروں کو ٹھٹھوں میں اُڑایا اور اُس کی باتوں کو نا چیز جانا اور اُس کے نبیوں کی ہنسی اُڑائی یہاں تک کہ خُداوند کا غضب اپنے لوگوں پر ایسا بھڑکا کہ کوئی چارہ نہ رہا۔
۱۷ چنانچہ وہ کسدیوں کے بادشاہ کو اُن پر چڑھا لایا جس نے اُن کے مُقدس کے گھر میں اُن کے جوانوں کو تلوار سے قتل کیا اور اُس نے کیا جوان کیا کنواری کیا بُڈھا کیا عُمر رسیدہ کسی پر ترس نہ کھایا ۔اُس نے سب کو اُس کے ہاتھ میں دے دیا۔
۱۸ اور خُدا کے گھر کے سب ظرُوف کیا بڑے کیا چھوٹے ار خُداوند کے گھر کے خزانے اور بادشاہ اور اُس کے سرداروں کے خزانے یہ سب وہ بابل کو لے گیا۔
۱۹ اور اُنہوں نے خُدا کے گھر کو جلادیا اور یروشلیم کی فصیل ڈھادی اور اُس کے تمام محل آگ سے جلا دئے اور اُس کے سب قیمتی طرُوف کو برباد کیا ۔
۲۰ اور جو تلوار سے بچے وہ اُن کو بابل لے گیا اور وہاں وہ اُس کے اور اُس کے بیٹوں کے غلام رہے جب تک فارس کی سلطنت شروع نہ ہوئی۔
۲۱ تاکہ خُداوند کا وہ کلام جو یرمیاہ کی زبانی آیا تھا پُورا ہو کہ مُلک اپنے سبتوں کا آرام پا لے کیونکہ جب تک وہ سُنسان پڑا رہا تب تک یعنی ستر برس تک اُسے سبت کا آرام ملا۔
۲۲ اور شاہ فارس خورس کی سلطنت کے پہلے سال اس لیئے کہ خُداوند کا کلام جویرمیاہ کی زُبانی آیا تھا پُورا ہو خُداوند نے شاہ فارس خورس کا دل اُبھارا سو اُس نے اپنی ساری مملکت میں منادی کروائی اور اُس مضمون کا فرمان بھی لکھا کہ۔
۲۳ شاہ فارس خورس یوں فرماتا ہے کہ خُداوند آسمان کے خُدا نے زمین کی سب مملکتیں مُجھے بخشی ہیں اور اُس نے مُجھ کو تاکید کی ہے کہ میں یروشلیم میں جو یہوداہ میں ہے اُس کے لیئے یک مسکن بناؤں پس تُمہارے درمیان جو کوئی اُس کی ساری قوم میں سے ہو خُداوند اُس کا خُدا اُس کے ساتھ ہو اور وہ دانہ ہو جائے۔