۳۵: ۱۔۶ حزقیاہ کی طرح یوسیاہ نے بھی کاہنوں اور لاویوں کی اپنی مقررہ خدمات کو جاری رکھنے کے لئے حوصلہ افزائی کی۔ اُنہوں نے عہد کے صندوق کو واپس ہیکل میں رکھا اور اپنی اپنی باری کا تقرر کیا اور ہیکل میں اپنے اپنے مقامات پر ذمہ داریوں کو سنبھالا، اپنے آپ کو پاک کیا اور عید فسح منانے کے لئے تیار ہوئے۔ ہیکل میں سے عہد کے صندوق کو کیوں نکال دیا گیا اور اُسے اب واپس رکھ دیا گیا، اِس کے بارے میں کئی نظریات ہیں۔ ممکن ہے کہ کاہن اُسے جگہ بہ جگہ اپنے کندھوں پر اُٹھائے پھرتے رہے ہوں تاکہ اِسے بے حرمتی سے بچائیں۔ ممکن ہے کہ منسی یا کسی دوسرے بت پرست بادشاہ نے اِسے ہیکل سے نکالنے کا حکم دیا ہو۔ ممکن ہے کہ ہیکل کی مرمت کے دوران یوسیاہ نے اِسے نکال کر کہیں رکھ دیا ہو۔
۳۵: ۷۔۱۹ چونکہ اسوریوں نے ملک کو مفلس بنا دیا تھا، اِس لئے عید فسح کے لئے بیشتر جانور یوسیاہ نے مہیا کئے۔ دیگر سرداروں اور کاہنوں نے بھی جانور مہیا کرنے کے سلسلے میں جو کچھ کر سکے کیا۔ عید فسح اور فطیری روٹی کی عید عین موسیٰ کے احکام کے مطابق منائی گئی۔ سموئیل نبی کے ایام کے بعد اَب بادشاہ اور لوگوں نے حمد و تعریف کے گیتوں کے ساتھ نہایت اعلیٰ انداز میں فسح کی عید منائی۔ یہ اِس قدر بڑا اِجتماع نہیں تھا اور نہ ہی یہ اپنی تفصیلات کے لحاظ سے شان دار تھی، لیکن یہ عید یہوواہ کو نہایت پسندیدہ تھی۔ اِس کی شاید یہ وجہ تھی کہ اندازِ پرستش نہایت سنجیدہ تھا۔ یہ عید اُسی سال منائی گئی جب ہیکل کی بحالی ہوئی (آیات ۱۹، بمقابلہ ۳۴:۸ سے آگے)۔
۳۵: ۲۰۔۲۴ یوسیاہ کے اگلے تیرہ سالہ دَورِ حکومت کے بارے میں کچھ نہیں بتایا گیا۔ جب اُس کی عمر ۳۹ سال تھی تو وہ شاہِ مصر نکوہ کے خلاف جنگ کے لئے نکلا۔ مصری فوج شاہِ اسور سے لڑنے کو نکلی تھی اور وہ بابل کی طرف بڑھ رہی تھی (۲۔سلاطین ۲۳: ۲۹)۔ یوسیاہ کو قطعاً یہ تصور نہیں تھا کہ نکوہ کی نقل و حرکت کے پیچھے خدا کا ہاتھ ہے اور نہ ہی اُس نے خداوند سے پوچھا کہ آیا فرعون کی باتیں درست ہیں۔ گو اُس نے بھیس بدل رکھا تھا، لیکن اِس کے باوجود وہ جنگ میں مارا گیا۔ اُس کے عوام نے اُس کی موت پر بہت ماتم کیا۔ جن لوگوں کا خدا کے کلام پر ایمان تھا، جانتے تھے کہ یوسیاہ کے اِس دُنیا سے چلے جانے سے خدا کا غضب نازل ہو گا (۳۴: ۲۲۔۲۸)۔
جان وِٹکوم (Whitcomb) اِن واقعات کی یوں تشریح کرتا ہے:
’’اب عہد عتیق کی تاریخ میں ایک عجیب و غریب واقعہ رُونما ہوا۔ ایک غیر قوم بادشاہ یعنی مصر کے نکوہِ دوم نے یوسیاہ کو بتایا: ’’خدا نے مجھ کو جلدی کرنے کا حکم دیا ہے‘‘ اور اگر یوسیاہ نے خدا کے منصوبے میں دخل اندازی کی تو خدا اُسے برباد کرے گا (۲۔تواریخ ۳۵: ۲۱)۔ اگر ۲۔تواریخ کا مصنف اِس بات کی وضاحت نہ کرتا کہ ’’یوسیاہ نے نکوہ کی بات جو خدا کے منہ سے نکلی تھی نہ مانی‘‘، تو ہم نکوہ کے مذکورۂ بالا بیان کو محض پروپیگنڈہ تصور کر کے ردّ کر دیتے۔ مزید برآں ہمیں نکوہ کی بات کا یقین کرنا چاہئے کیونکہ یوسیاہ مارا گیا۔ اِس کا کیا مطلب ہے؟ کیا نافرمانی کے سبب سے یوسیاہ کی نجات چھن گئی؟ نہیں! کیونکہ خُلدہ نے پیش گوئی کی تھی کہ وہ ’’سلامتی سے‘‘ گور میں پہنچایا جائے گا (۲۔سلاطین ۳۴:۲۸)۔ کیا فرعون نکوہ خدا کا نبی تھا؟ نہیں! کیونکہ خدا کئی بار بے دین بادشاہوں کا دل تبدیل کئے بغیر اُن سے ہم کلام ہوا تھا (دیکھیں پیدائش ۱۲: ۱۷۔۲۰؛ ۲۰: ۳۔۷)۔ ہم یہ نتیجہ اخذ کر سکتے ہیں کہ خدا مصری فوج کو فرات میں لے جانا چاہتا تھا تاکہ نبوکدنضر اُسے اور اسوری فوج کو برباد کر سکے، اور یوں اپنی پیش گوئی کی تکمیل کر سکے کہ بابلی یہوداہ کو فتح کر کے اُسے سزا دیں (دیکھیں یرمیاہ ۲۵: ۸۔۱۱)۔‘‘
۳۵: ۲۵۔۲۷ یرمیاہ نے یوسیاہ پر نوحہ کیا۔ گانے والوں نے تو اُسے اسیری کے بعد بھی یاد رکھا۔ یوسیاہ نے خدا کی شریعت کے مطابق زندگی بسر کی اور اُس کی وفاداری کو ہمیشہ خدا کے کلام میں یاد رکھا گیا ہے۔ یرمیاہ ۲۲: ۱۶ میں ہم پڑھتے ہیں ’’اُس نے مسکین اور محتاج کا اِنصاف کیا۔ اِسی سے اُس کا بھلا ہوا۔ کیا یہی میرا عرفان نہ تھا؟ خداوند فرماتا ہے۔‘‘ یوسیاہ نے اپنی زندگی سے ثابت کیا کہ وہ خدا کو جانتا تھا۔ اُس نے اوائل عمری میں خدا کی طرف رجوع کیا (۳۴: ۳) اور جو عرفان بھی اُسے ملا، اُس نے اُس کی فرماں برداری کی۔ ’’اور اُس سے پہلے کوئی بادشاہ اُس کی مانند نہیں ہوا تھا جو اپنے سارے دل اور اپنی ساری جان اور اپنے سارے زور سے موسیٰ کی ساری شریعت کے مطابق خداوند کی طرف رجوع لایا ہو اور نہ اُس کے بعد کوئی اُس کی مانند برپا ہوا‘‘ (۲۔سلاطین ۲۳:۲۵)۔
مقدس کتاب
۱ اور یوسیاہ نے یروشلیم میں خُداوند کے لیئے عید فسح کی اور اُنہوں نے فسح کو پہلے مہینے کی چودھویں تاریخ کو ذبح کیا۔
۲ اور اُس نے کاہنوں کو اُن کی خدمت پر مُقرر کیا اور اُن کو خُداوند کے گھر کی خدمت کی ترغیب دی۔
۳ اور اُن لاویوں سے جو خُداوند کے لیئے مُقدس ہو کر تمام اسرائیل کو تعلیم دیتے تھے کہا کہ پاک صندوق کو اُس گھر میں جسے شاہ اسرائیل سلیمان بن د اؤد نے بنایا تھا رکھو۔آگے کو تمہارے کندھوں پر کوئی بوجھ نہ ہوگا۔سو اب تُم خُداوند اپنے خُدا کی اور اُس کی قوم اسرائیل کی خدمت کرؤ۔
۴ اور اپنے آبائی خاندانوں اور فریقوں کے مُطابق جیسا شاہِ اسرائیل داؤد نے لکھا اور جیسا اُس کے بیٹے سلیمان نے لکھا ہے اپنے آپ کو تیار کر لو۔
۵ اور تُم مقدس میں اپنے بھائیوں یعنی قوم کے فرزندوں کے آبائی خاندانوں کی تقسیم کے مُطاق کھڑے ہو تاکہ اُن میں سے ہر ایک کے لیئے لاویوں کے کسی نہ کسی آبائی خاندان کی کوئی شاخ ہو۔
۶ اور فسح کو ذبح کرو اور خُداون کے کلام کے مُطابق جو موسیٰ کی معرفت ملا عمل کرنے کے لیئے اپنے آپ کو پاک کرے اپنے بھائیوں کے لیئے تیار ہو۔
۷ اور یوسیاہ نے لوگوں کے لیئے جتنے وہاں موجود تھے ریوڑوں میں سے برے اور حلوان سن کے سب فسح کی قربانیوں کے لیئے دئے جو گنتی میں تیس ہزار تھے اور تین ہزار بچھڑے تھے ۔یہ سب بادشاہی مال مین سے دئے گئے۔
۸ اور اُس کے سرداروں نے رضا کی قربانی کے طور پر لوگوں کو اور کاہنوں کو اور لاویوں کو دیا۔ خلقیاہ اور زکریا ہ یحیٹیل نے جو خُدا کے گھر کے ناظم تھے کاہنوں کو فسح کی قربانی کے لیئے دو ہزار چھ سو بھیڑ بکری اور تیس سو بیل دئے۔
۹ اور کنعنیاہ نے اور اُس کے بھائیوں سمعیاہ اور نتنیئیل نے اور یعی ایل اور یوزبد نے جو لاویوں کے سردار تھے لویوں کو فسح کی قربانی کے لیئے پانچ ہزار بھیڑ بکری اور پانچ سو بیل دئے ۔
۱۰ یوں عبادت کی تیاری ہوئی اور بادشاہ کے حُکم کے مُطابق کاہن اپنی اپنی جگہ پر اور لاوی اپنے اپنے فریقے کے مُطابق کھڑے ہوئے۔
۱۱ انہوں نے فسح کو ذبح کیا اور کاہنوں نے اُن کے ہاتھ سے خون لے کر چھڑکا اور لاوی کھال کھینچتے گئے۔
۱۲ پھر اُنہوں نے سوختنی قربانیاں الگ کیں تاکہ وہ لوگوں کے آبائی خاندانوں کی تقسیم کے مُطابق خُداوند کے حضور چڑھانے کو اُن کو دیں جیسا موسیٰ کی کتاب میں لکھا ہے اور بیلوں سے بھی اُنہوں نے ایسا ہی کیا۔
۱۳ اور اُنہوں نے دستور کے مُوافق فسح کو آگ پر بھونا اور پاک ہڈیوں کو دیگوں اور ہنڈوں اور کڑاہیوں میں پکایا اور اُن کو جلد لوگوں کو پُہنچادیا۔
۱۴ اُس نے بعد اُنہوں نے اپنے لیئے اور کاہنوں کے لیئے تیار کیا کیونکہ کاہن یعنی بنی ہارون سوختنی قربانیوں اور چربی کے چڑھانے میں رات تک مشغول رہے۔ سو لاویوں نے اپنے لیئے اور کاہنوں کے لیئے جو بنی ہارون تھے تیار کیا۔
۱۵ اور گانے والے جو بنی آسف تھے داؤد اور آسف اور ہیمان اور بادشاہ کے غیب بین یدُوتون کے حُکم کے مُوافق اپنی اپنی جگہ میں تھے اور ہر دروازہ پر دربان تھے ۔اُن کو اپنا اپنا کام چھوڑنا نہ پڑا کیونکہ اُن کے بھائی لاویوں نے اُن کے لیئے تیار کیا ۔
۱۶ سو اُسی دن یوسیاہ بادشاہ کے حُکم کے مُوافق فسح ماننے اور خُداوند کے مذبح پر سوختنی قربانیاں چڑھانے کے لیئے خُداوند کی پُوری عبادت کی تیاری کی گئی۔
۱۷ بنی اسرائیل نے جو حاضر تھے فسح کو اُس وقت اور فطیری روٹی کی عید کو سات دن تک منایا۔
۱۸ اُس کی مانند کوئی فسح سموئیل نبی کے دنوں سے اسرائیل میں نہیں منایا گیا تھا اور نہ شاہان اسرائیل میں سے کسی نے ایسی عید فسح کی جیسی یوسیاہ اور کاہنوں اور لاویوں اور سارے یہوداہ اور اسرائیل نے جو حاضر تھے اور یروشلیم کے باشندوں نے کی۔
۱۹ فسح یوسیاہ کے سلطنت کے اٹھارھویں میں منایا گیا ۔
۲۰ اس سب کے بعد جب یوسیاہ ہیکل کو تیار کر چُکا تو شاہِ مصر نکوہ نے کر کمیس سے جو فرات کے کنارے ہے لڑنے کے لیئے چڑھائی کی اور یوسیاہ اُس کے مقابلہ کو نکلا۔
۲۱ لیکن اُس نے اُس کے پاس ایلچیوں سے کہلا بھیجا کہ اَے یہوداہ کے بادشاہ تُجھ سے میرا کیا کام؟ میں آج دب تُجھ پر نہیں بلکہ اُس خاندان پر چڑھائی کر رہا ہوں جس سے میری جنگ ہے اور خُدا نے مُجھ کو جلدی کرنے کا حُکم دیا ہے سو تُو خُدا سے جو میرے ساتھ ہے مزاحم نہ ہوا ۔ایسا نہ ہو کہ وہ تُجھے ہلاک کر دے۔
۲۲ لیکن یوسیاہ نے اُس نے منہ نہ موڑا بلکہ اُس سے لڑنے کے لیئے اپنا بھیس بدلا ر نکوہ کی بات جو خُدا کے مُنہ سے نکلی تھی نہ مانی اور مجدو کی وادی میں لڑنے کو گیا ۔
۲۳ اور تیر اندازوں نے یوسیاہ بادشاہ کو تیر مارا اور بادشاہ نے اپنے نوکروں سے کہا کہ مُجھے لے چلو کیونکہ میں بُہت زخمی ہوگیا ہوں۔
۲۴ سو اُس کے نوکروں نے اُسے اُس رتھ پر سے اُتار کر اُس کے دوسرے رتھ پر چڑھایا اور اُسے یرشلیم کو لے گئے اور وہ مرگیا اور اپنے باپ دادا کی قبروں میں دفن ہوا اور سارے یہوداہ اور یروشلیم نے یوسیاہ کے لیئے ماتم کیا۔
۲۵ اور یرمیاہ نے یوسیاہ پر نوحہ کیا اور گانے والے اور گانے والیاں سب اپنے مرثیوں میں آج کے دن تک یوسیاہ کا ذخر کرتے ہیں۔ یہ اُنہوں نے اسرائیل میں ایک دستور بنا دیااور دیکھو وہ باتیں نوحوں میں لکھی ہیں ۔
۲۶ اور یوسیا ہ کے باقی کام اور جیساُ داوند کی شریعت میں لکھا ہے اُس کے مُطابق اُسے نیک اعمال۔
۲۷ اور اُس کے کام شروع سے آخر تک اسرائیل اور یہوداہ کے بادشاہوں کی کتاب میں قلمبند ہیں۔