۲۔توارِیخ ۱

تفسیر

تواریخ کی دو کتابیں شروع شروع میں ایک ہی کتاب تھیں‏، لیکن قاری کی سہولت کے پیشِ نظر اِسے دو حصوں میں تقسیم کر دیا گیا۔ چنانچہ ۱۔تواریخ میں جہاں بات ختم ہوتی ہے‏، ۲۔تواریخ کی کتاب وہیں سے شروع کرتی ہے۔ اِس کی تقسیم نہایت خوبصورت انداز میں کی گئی ہے۔ یعنی نقطۂ تقسیم داؤد اور سلیمان کے اَدوارِ حکومت کے درمیان ہے۔

۱۔ تواریخ ۲۹ باب میں داؤد نے سلیمان کو اپنا جانشین مقرر کیا۔ ۲۔تواریخ میں داؤد کی نسل کا سلیمان سے لے کر بابلی اسیری سے یہودی بقیہ کی واپسی تک کا بیان ہے۔ ۱‏،۲۔سلاطین میں بھی تقریباً اُسی دَور کا بیان ہے‏، لیکن تواریخ کی کتاب میں یہوداہ کی سلطنت پر زور دیا گیا ہے۔ اِسرائیل کے بادشاہوں کا صرف وہاں تک ذکر کیا گیا ہے جہاں تک اُن کا یہوداہ کی تاریخ سے تعلق ہے۔ یہ بات بھی قابلِ غور ہے کہ تواریخ کی کتاب میں روحانی پہلو پر جب کہ سلاطین کی کتاب میں تاریخی پہلو پر زور دیا گیا ہے۔ گو دونوں کتابوں میں بیشتر مواد ایک جیسا ہے‏، تاہم تواریخ کی کتاب میں بعض مقامات پر ایسی تفصیلات دی گئی ہیں جو سلاطین کی کتاب میں موجود نہیں ہیں‏، کیونکہ تواریخ کی کتاب سلاطین کی کتاب کے بعد اور مختلف مقصد کے تحت لکھی گئی۔ ہم اِن دونوں کتابوں میں بعض ایک اِختلافات کی وضاحت کریں گے‏، لیکن سب کی وضاحت کرنا ناممکن ہے (‏دیگر کتابیں اِسی مقصد کے لئے لکھی گئی ہیں)‏۔

۱۔ سلیمان کی بادشاہت (‏ابواب ۱۔۹)‏

الف۔ سلیمان کی پرستش‏، حکمت اور دولت (‏باب ۱)‏

۱:‏ ۱۔۳ ۱۔سلاطین ۱۔۳ ابواب میں بتایا گیا ہے کہ داؤد کی موت (‏۱۔تواریخ ۲۹ باب)‏ اور سلیمان کے بادشاہ بننے کے درمیانی عرصے میں کیا کچھ ہوا۔ ادونیاہ اور یوآب اقتدار کی کش مکش میں مارے گئے‏، جب کہ خدا کے کلام کے مطابق سلیمان اپنے باپ کے تخت پر متمکن ہوا (‏۱۔تواریخ ۲۲:‏ ۹‏،۱۰)‏۔ 

سلطنت کے حصول کے بعد سلیمان نے اپنے ماتحتوں کو فراہم کیا اور وہ جبعون کو جہاں خیمہ اجتماع تھا‏، ایک جلوس کی صورت میں گئے۔ 

۱:‏ ۴۔۶ داؤد عہد کے صندوق کو یروشلیم میں لے آیا (‏۱۔تواریخ ۱۳۔۱۵ ابواب)‏‏، لیکن پیتل کا مذبح اور خیمہ اجتماع کا باقی سامان ابھی تک جبعون میں تھا۔ سلیمان نے ایک ہزار سوختنی قربانیاں گزرانیں جو اُس کے باپ کے خدا یعنی یہوواہ سے اُس کی عقیدت کا اِظہار تھا۔ 

۱:‏ ۷۔۱۲ خداوند نے اُس رات اُس پر خواب میں ظاہر ہو کر اُس سے پوچھا کہ اُس کی سب سے بڑی خواہش کیا ہے (‏آیت ۷‏، ۱۔سلاطین ۳:‏۵)‏۔ سلیمان نے درخواست کی کہ اُسے اپنی قوم پر حکومت کرنے کے لئے حکمت اور معرفت عطا کی جائے۔ خدا اِس خواہش سے اِس قدر خوش ہوا کہ اُس نے اُس سے بے حساب مال و دولت اور عزت کا وعدہ کیا۔ ایک طرح سے خدا ہر ایک ایمان دار پر ظاہر ہوتا اور اُس سے پوچھتا ہے کہ تُو کیا چاہتا ہے۔ 

۱:‏ ۱۳۔۱۷ سلیمان یروشلیم کو لوٹا۔ اُس کے دَورِ حکومت میں بہت خوش حالی تھی۔ اِن آیات میں اُس کے رتھوں‏، گھڑ سواروں‏، رتھوں کے شہروں‏، سونے چاندی‏، دیوداروں اور گھوڑوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ لیکن جیسا کہ عموماً ہوتا ہے‏، یہ خوش حالی بالآخر اُس کی ناکامی اور زوال کا باعث بنی۔ 

مقدس کتاب

۱ اور سُلیمان بن داؤد اپنی مملکت میں مُستحکم ہوا اور خُداوند اُس کا خُدا اُس کے ساتھ رہا اور اُسے نہایت سرفراز کیا۔
۲ اور سلیمان نے سارے اسرائیل یعنی ہزاروں اور سیکڑوں کے سرداروں اور قاضیوں اور سب اسرائیلیوں کے رئیسوں سے جو آبائی خاندانوں کے سردار تھے باتیں کیں۔
۳ اور سلیمان ساری جماعت سمیت جِبعُون کے اُونچے مقام کو گیا کیونکہ خُدا کا خیمہ اجتماع جسے خُداوند کے بندے موسیٰ نے بیابان میں بنایا تھا وہیں تھا۔
۴ لیکن خُدا نے صندُوق کو داؤد قریت یعریم سے اُس مقام میں اُٹھا لایا تھا جو اُس نے اُس کے لیئے تیار کیا تھا کیونکہ اُس نے اُس کے لیئے یروشلیم میں ایک خیمہ کھڑا کیا تھا۔
۵ پر پیتل کا وہ مذبح جسے بضلی ایل بِن اوری بِن حُور نے بنایا تھا وہیں خُداوند کے مسکن کے آگے تھا ۔ پس سلیمان اُس جماعت سمیت وہیں گیا۔
۶ اور سلیمان وہاں پیتل کے مذبح کے پاس جو خُداوند کے آگے خیمہ اجتماع میں تھا گیا ار اُس پر ایک ہزار سوختنی قربانیاں چڑھائیں۔
۷ اُسی رات خُدا سلیمان کو دِکھائی دیا اور اُس سے کہا مانگ میں تُجھے کیا دوں؟۔
۸ سلیمان نے خُدا سے کہا تُو نے میرے باپ داؤد پر بڑی مہربانی کی اور مُجھے اُس کی جگہ بادشاہ بنایا ۔
۹ اب اے خُداوند خُدا جو وعدہ تُو نے میرے باپ داؤد سے کیا وہ برقرار رہے کیونکہ تُو نے مُجھے ایک ایسی قوم کا بادشاہ بنایا ہے جو کثرت میں زمین کی خاک کے ذروں کی مانند ہے ۔
۱۰ سو مُجھے حکمت و معرفت عنایت کر تاکہ میں ان لوگوں کے آگے اندر باہر آیا جایا کرؤں کیونکہ تیری اس بڑی قوم کا انصاف کون کر سکتا ہے ۔
۱۱ تب خُداوند نے سلیمان سے کہا چونکہ تیرے دل میں یہ بات تھی اور تُو نے نہ تو دولت نہ مال نہ عزت نہ اپنے دشمنوں کی موت مانگی اور نہ عمر کی درازی طلب کی بلکہ اپنے لیئے حکمت و معرفت کی درخواست کی تاکہ میرے لوگوں کا جن پر میں نے تُجھے بادشاہ بنایا ہے انصاف کرے۔
۱۲ سو حکمت و معرفت تُجھے عطا ہوئی اور میں تُجھے اس قدر دولت اور مال اور عزت بخشوں گا کہ نہ تو اُن بادشاہوں میں سے جو تُجھ سے پہلے ہوئے کسی کو نصیب ہوئی اور نہ کسی کو تیرے بعد نصیب ہو گی۔
۱۳ چنانچہ سلیمان جِبعوُن کے اونچے مقام سے یعنی خیمہ اجتماع کے آگے سے یروشلیم کو لوٹ آیا اور بنی اسرائیل پر سلطنت کرنے لگا۔
۱۴ اور سلیمان نے رتھ اور سوار اکٹھے کر لیئے اور اُس کے پاس ایک ہزا ر چار سو رتھ اور بارہ ہزار سوار تھے جن کو اُس نے رتھوں کے شہروں میں اور یروشلیم میں بادشاہ کے پاس رکھا ۔
۱۵ اور بادشاہ نے یروشلیم میں چاندی اور سونے کو کثرت کی وجہ سے پتھروں کی مانند اور دیواروں کو نشیب کی زمین کے گُولر کے درختوں کی مانند بنادیا۔
۱۶ اور سلیمان کے گھوڑے مصر سے آتے تھیاور بادشاہ کے سوداگر اُنکے جُھنڈ کے جُھنڈ یعنی ہر جُھنڈ کا مول کر کے اُن کو لیتے تھے۔
۱۷ اور وہ ایک رتھ چھو سو مِثقال چاندی اور ایک گھوڑا ڈیڑھ سو مِثقال میں لیتیاور مصر سے لے آتے تھے اور اسی طرح حِتیوں کے سب بادشاہوں اور ارام کے بادشاہوں لیئے اُن ہی کے وسیلے سے اُن کو لاتے تھے ۔