ب۔ سلیمان کی ہیکل کے لئے تیاری، تعمیر اور مخصوصیت (ابواب ۲۔۷)
۲: ۱،۲ سلیمان نے ہیکل کی تعمیر کی تیاری کے لئے ستر ہزار لوگوں کو چنا کہ وہ بوجھ اُٹھائیں، اَسّی ہزار پتھر کاٹنے والے اور تین ہزار چھے سو نگران مقرر کئے۔
۲: ۳۔۱۰ تب اُس نے صور کے بادشاہ حیرام کو مدد کے لئے پیغام بھیجا، جس نے داؤد کے شاہی محل کے لئے دیودار کی لکڑی مہیا کی تھی۔ اِسی منصوبے کی روحانی اہمیت کو بیان کرنے کے بعد سلیمان نے خصوصی طور پر ماہر کاریگر مانگے تاکہ وہ اُن کاری گروں کے ساتھ کام کریں جنہیں داؤد نے اُجرت پر لیا تھا اور اُس نے عمارتی لکڑی بھی مانگی۔ سلیمان نے وعدہ کیا کہ اُس کی طرف سے دی گئی اِمداد کا خاطر خواہ معاوضہ دے گا۔ اصل رقم کے بارے میں کچھ اِختلاف ہے۔
نمایاں فرق کی وضاحت
۲۔تواریخ کی تفسیر کرتے ہوئے ہمیں یاد رکھنا چاہئے کہ اِس کتاب اور ۱،۲۔سلاطین کے متوازی بیانات میں کچھ واضح فرق نظر آتے ہیں۔ اگر ہم اِس فرق کو نظر انداز کر دیں تو ہم اپنے قارئین سے اِنصاف نہیں کرتے۔ دوسری طرف اگر ہم اِن اِختلافات پر زیادہ زور دیں تو کلام پر اعتماد کو ٹھیس پہنچے گی۔ یقیناًہم یہ قدم نہیں اُٹھانا چاہتے۔ ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ نمایاں اِختلافات کو سامنے لائیں خواہ ہم اِن سب کا حل نہ بھی پیش کر سکیں۔ اِس کے ساتھ ساتھ ہم یہ بھی واضح کر دینا چاہتے ہیں کہ ان سے کتابِ مقدس کا الہامی ہونا کسی طرح سے بھی متاثر نہیں ہوتا۔ ہمارا ایمان ہے کہ بائبل کے قلمی نسخے خدا کے الہام سے لکھے گئے اور کہ یہ خدا کا لاخطا کلام ہے۔
ہم اِن مسائل پر ذیل میں تبصرہ کرتے ہیں۔ یوں بظاہر متضاد تفصیلات کی تکنیکی بحث سے تفسیر کی روانی میں کسی طرح کی رُکاوٹ حائل نہیں ہو گی۔ دوسری طرف ہمیں موقع ملے گا کہ مسائل کی آزادانہ، مگر اِختصار سے تحقیق و تفتیش کر سکیں۔ مثلاً:
(۲: ۳۔۱۰): حیرام کو سلیمان نے کتنا کچھ دیا؟ ۱۔سلاطین ۵:۱۱ میں ایک رقم دی گئی ہے، جب کہ ۲۔تواریخ ۲: ۱۰ میں ایک فرق رقم کا ذکر ہے۔ ۱۔سلاطین میں حیرام کے گھرانے کو دیئے گئے شخصی انعام کا ذکر ہے، جب کہ ۲۔تواریخ ۲:۱۰ میں حیرام کے کارندوں کی اُجرت کا ذکر ہے جو سلیمان کے لئے لکڑی کاٹ رہے تھے۔
(۲: ۱۱۔۱۶): حورام کی ماں کون تھی؟ ۲۔تواریخ ۲: ۱۴ میں کہا گیا ہے کہ اُس کا دان کے قبیلے سے تعلق تھا جب کہ ۱۔سلاطین میں بیان ہے کہ وہ نفتالی کے قبیلے کی ایک بیوہ تھی۔ اِس کا جواب یہ ہے کہ وہ دان کے قبیلے سے تھی جس کا پہلا شوہر نفتالی کے قبیلے سے تھا۔ چنانچہ وہ نفتالی تھی۔ اُس کے دوسرے شوہر کا تعلق صور کے شہر سے تھا۔
(۲: ۱۷،۱۸): ہیکل کے منصوبے میں کتنے نگران تھے، ۶۰۰،۳ (۲: ۱۸) یا ۳۰۰،۳ (۱۔سلاطین ۵:۱۶)؟ اِس مسئلے کے حل کے لئے دو اَور اہم حوالوں پر غور کرنا ضروری ہے۔ ۲۔تواریخ ۸:۱۰ میں لکھا ہے کہ سلیمان کے مقرر کردہ ۲۵۰ منصب دار تھے جو کام کی نگرانی کرتے تھے۔ اِس تعداد کو ۶۰۰،۳ ناظروں (۲:۱۸) میں جمع کریں تو یہ کُل تعداد ۸۵۰،۳ بنے گی۔ ۱۔سلاطین ۹: ۲۳ میں سلیمان کے منصب داروں کی تعداد ۵۵۰ بیان کی گئی ہے۔ اِس تعداد کو ۱۔سلاطین ۵:۱۶ میں مذکور ناظروں میں جمع کریں، تو بھی یہ کُل تعداد ۸۵۰،۳ بنے گی۔ چنانچہ دونوں کتابوں میں منصب داروں اور ناظروں کی تعداد ایک ہی ہے۔ تناسب کو مختلف اعداد میں بیان کیا گیا ہے۔ اصطلاح ’’منصب دار‘‘ فوجی یا سیاسی عہدے داروں کو ظاہر کرتی ہے، جب کہ اِصطلاح ’’ناظر‘‘ کاری گر سٹاف کو ظاہر کرتی ہے (یعنی یہ سپرنٹنڈنٹ یا فورمین تھے)۔
(۳: ۱۔۴): کیا اُسارے کی اونچائی ۱۲۰ بالشت (۳:۴) یا ۳۰ بالشت تھی (۱۔سلاطین ۶:۲)؟ یوسیفس اور بعض دیگر لوگوں کا خیال ہے کہ ۱۲۰ بالشت ہی اُونچائی تھی۔ میتھیو پُول (Poole) کا خیال ہے کہ ۱۲۰ بالشت کا حوالہ ایک چھوٹے بُرج کے لئے دیا گیا ہے۔
(۳: ۱۴۔۱۷): کیا ہیکل کے سامنے کے ستون، ۳۵ بالشت بلند تھے (۳:۱۵) یا ۱۸ بالشت (۱۔سلاطین ۷:۱۵؛ یرمیاہ ۵۲: ۲۱)؟ ملاحظہ فرمایئے کہ ۱۔سلاطین میں خصوصی طور پر ہر ایک ستون کی بلندی کو بیان کیا گیا ہے، جب کہ آیت ۱۵ کے حاشیے میں لکھا ہے کہ ستون ۳۵ بالشت لمبے تھے (یعنی ملا کر)۔ دوسرے لفظوں میں ۳۵ بالشت ستونوں کی مجموعی لمبائی تھی، جنہیں ایک ٹکڑے میں ڈھالا گیا اور پھر اُسے دو حصوں میں کاٹ لیا گیا۔ یوں دونوں ستونوں میں سے ہر ایک کی لمبائی ۱۸ بالشت ہو جائے گی۔
(۴: ۱۔۲۲): ۴:۲ میں پیتل کے مذبح کا ناپ بعض اوقات اِس بات کو ثابت کرنے کے لئے پیش کیا جاتا ہے کہ بائبل میں غلطیاں ہیں۔ اگر قُطر ۱۰ بالشت (۱۸۰ اِنچ) تھا تو محیط ۱۸۰ گُنا پائی (۱۴ء۳236 ) یعنی تیس بالشت (۵۴۰ اِنچ) کے بجائے ۴۹ء ۵۶۵ اِنچ ہو گا۔ یہ مشکل یوں حل ہو جاتی ہے کہ پیتل کے مذبح کی موٹائی ۴ اِنچ تھی۔ آیت ۲ میں بیرونی قُطر اور اِندرونی π محیط کو بیان کیا گیا ہے۔ اگر پائی (۱۴ء۳) کو ۱۷۲ سے ضرب دیں تو یہ ۳۶ء۵۴۰ اِنچ بنے گا، جو اِنچوں کے حساب سے متن میں ۳۰ بالشت کے قریب قریب ہو گا۔
پیتل کے مذبح میں کتنا پانی سما سکتا تھا۔ کیا ۲۰۰۰ بَت (۱۔سلاطین ۷:۲۶) یا ۰۰۰،۳ بَت (۴:۵)؟ جواب ہے دونوں۔ ۲۰۰۰ بت غالباً عموماً سمائی ہوتی تھی، لیکن لبریز کرنے سے اِس میں ۰۰۰،۳ بت پانی سما سکتا تھا۔
(۸:۱۷،۱۸): کیا سلیمان کو اوفیر سے ۴۵۰ قنطار (۸:۱۸) یا ۴۲۰ قنطار (۱۔سلاطین ۹: ۲۸) سونا ملا؟ عین ممکن ہے کہ بعد ازاں کاتب نے عبرانی عدد ۲، اور ۵ کو خلط ملط کر دیا ہو کیونکہ اِن کی شکل ایک دوسرے سے ملتی ہے۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ ۳۰ ہزار قنطار رسد اور مزدوری کے لئے ادا کر دیا گیا، اِس لئے یہ فرق ہے۔
(۹: ۱۳۔۲۸): ترسیس کا نام عام معنوں میں اُن علاقوں کے لئے استعمال کیا گیا ہے جن کا دھاتوں کو ڈھالنے سے تعلق تھا۔ عہد عتیق میں یہ ایک دُور کے ملک کے لئے مستعمل ہوا جو دھاتوں کے لحاظ سے بہت امیر تھا۔ اکثر علما کا خیال ہے کہ ترسیس نام کا جنوب مغربی سپین میں ایک شہر ترتیسس (Tartessus) سے تعلق ہے جو چاندی، تانبے اور سیسے کے لحاظ سے بہت امیر ہے۔ شاید ترسیس کے جہازوں کا مطلب گہرے سمندر میں سفر کرنے والے وہ جہاز ہوں جو صاف کی ہوئی دھاتوں کو لاتے تھے، اور ضروری نہیں کہ اِس کا تعلق سپین سے تجارت کے ساتھ ہو۔
(۹: ۱۳۔۲۸): کیا سلیمان کے پاس اپنے گھوڑوں کے لئے ۴۰۰۰ تھان تھے (آیت ۲۵)، یا ۰۰۰، ۴۰ (۱۔سلاطین ۴:۲۶) تھے؟ New American Standard Bible (NASB) ترجمے کے حاشیے میں اِس اَمر کی نشان دہی کی گئی ہے کہ ایک قدیم نسخے میں ۱۔سلاطین ۴:۲۶ میں ۰۰۰،۴ کا عدد لکھا ہے۔ چونکہ صرف ۰۰۰،۱۲ گھڑ سوار تھے، اِس لئے ۱۔سلاطین میں اِتنی بڑی تعداد، کاتب کی غلطی ہو گی۔
(۱۳: ۱۔۳): ابیاہ کی ماں میکایاہ اوری ایل کی بیٹی تھی (۱۳:۲)۔ لیکن ۲۔تواریخ ۱۱:۲۰ میں لکھا ہے کہ معکہ ابی سلوم کی بیٹی تھی۔ یہودی مورخ یوسیفس ہمیں بتاتا ہے کہ اوری ایل ابی سلوم کا داماد تھا اور وہ میکایاہ یا معکہ (ایک ہی شخصیت کے دو نام) کا باپ تھا۔ یوں میکایاہ اوری ایل کی بیٹی ابی سلوم کی نواسی لگتی ہے (عبرانی لفظ بیٹی کا مطلب پوتی یا نواسی بھی ہو سکتا ہے)۔
(۱۴: ۳۔۸): ۲۔تواریخ ۱۴:۳ اور ۱۴:۵ میں بیان ہے کہ آسا نے اُونچے مقام ڈھا دیئے، لیکن ۱۵:۱۷ میں لکھا ہے کہ اُس نے نہ ڈھائے۔ اِن دونوں میں سے کون سا بیان درست ہے؟ دونوں بیانات درست ہیں۔ بعض ایک اونچے مقامات بت پرستی کے لئے مخصوص تھے، جب کہ بعض ایک یہوواہ کی پرستش کے لئے (مثلاً ۱۔سلاطین ۳:۲)۔ بعض علما کا خیال ہے کہ آسا نے صرف بت پرستی کے اُونچے مقامات ڈھائے۔
کیل (Keil)کے خیال میں دوسری آیت کا یہ مطلب ہے کہ بادشاہ اپنی اصلاحات کو پورے طور پر عملی جامہ پہنانے میں کامیاب نہ ہو سکا۔ رالنسن (Rawlinson)کا یہ نظریہ ہے کہ مذکورۂ بالا آیات کا مختلف اوقات سے تعلق ہے۔ آسا نے اپنے دَورِ حکومت کے اوّلین ایام میں بڑی سختی سے بت پرستی کو دبایا، لیکن آخری ایام میں جب اُس کا اپنا کردار بھی بگڑ چکا تھا، اُس نے بت پرستی کی پھر سے اِجازت دے دی۔
(۱۵: ۱۶۔۱۹): بعض مقامات پر سیاق و سباق کے تحت ’ماں‘ کے لئے عبرانی لفظ کا مطلب دادی یا نانی ہو سکتا ہے، جیسا کہ یہاں ہے۔
(۲۰: ۱۔۶): عبرانی زبان میں ارام کے لئے لفظ ادوم کے ہجوں کی مانند ہے۔ یہاں بھی کاتب کی غلطی ہو گی۔
(۲۲: ۱۔۹): ۲۔تواریخ ۲۲:۲ میں مسوراہی متن کے مطابق لکھا ہے کہ اخزیاہ ۴۲ برس کا تھا جب وہ حکومت کرنے لگا۔ لیکن ۲۔سلاطین ۸:۲۶ میں لکھا ہے کہ وہ ۲۲ سال کا تھا۔ یہ چھوٹی عمر درست لگتی ہے کیونکہ اُس کے باپ کی عمر چالیس برس تھی جب وہ مرا۔ ’’بیالیس سال عمر،‘‘ یقیناًکاتب کی غلطی ہو گی۔
(۲۴: ۴۔۱۴): کیا نقدی اکٹھی کرنے کا صندوق دروازے کے باہر (۲۴:۸) رکھا تھا، یا یہ مذبح کے پاس رکھا گیا تھا (۲۔سلاطین ۱۲:۹)؟ بعض ایک مفسرین کا خیال ہے کہ دو صندوق تھے، ایک دروازے کے باہر اور دوسرا مذبح کے پاس۔ لیکن بعض لوگوں کا یہ نظریہ ہے کہ صندوق صرف ایک ہی تھا، لیکن یہ کبھی ایک جگہ اور کبھی دوسری جگہ رکھ دیا جاتا تھا۔
(۲۴: ۴۔۱۴): ۲۔سلاطین ۱۲:۱۳ میں لکھا ہے کہ جمع شدہ نقدی میں سے ہیکل کے ظروف نہ بنائے گئے، لیکن ۲۔تواریخ ۲۴:۱۴ میں لکھا ہے کہ زائد نقدی سے ظروف بنائے گئے۔ ۲۔سلاطین میں یہ کہا گیا ہے کہ گھر کی مرمت کے لئے کاری گروں کو دیا گیا، جب کہ تواریخ کی کتاب میں یہ بتایا گیا ہے کہ اِس کے بعد زائد نقدی کا کیا استعمال کیا گیا۔
(۲۴: ۲۰۔۲۷): ۲۴:۲۰ میں بتایا گیا ہے کہ زکریاہ یہویدع کا بیٹا تھا۔ لیکن ہمارے خداوند نے کہا کہ وہ برکیاہ کا بیٹا تھا (متی ۲۳:۳۵)۔ ایک اَور زکریاہ جس کے نام سے ایک کتاب منسوب ہے، اِس کے لئے بتایا گیا ہے کہ وہ برکیاہ کا بیٹا تھا۔ ایک ممکنہ تشریح درج ذیل ہے: ۲۔تواریخ ۲۴ باب میں مذکور زکریاہ، یہویدع کا پوتا اور برکیاہ کا بیٹا تھا، عبرانی محاورے کے تحت بیٹے کا مطلب پوتا بھی ہے۔ جس زکریاہ نے کتاب لکھی وہ بھی برکیاہ کا بیٹا تھا، لیکن وہ مختلف برکیاہ تھا۔ عہد عتیق کے ایام میں یہ دونوں عام نام تھے۔
(۲۸: ۱۔۴): آخز جب مرا، اگر وہ اُس وقت ۳۶ برس کا تھا (۲۸:۱) تو اِس حساب سے اُس کی عمر صرف گیارہ سال کی تھی جب صدقیاہ پیدا ہوا (۲۹:۱)، یا ایک اَور بیان کے مطابق وہ پندرہ برس کا تھا۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ آخز گیارہ سال کی عمر میں ایک بچے کا باپ ہو سکتا تھا، لیکن پندرہ سال کی عمر میں تو اُس کا باپ ہونا بالکل یقینی ہے۔ لیکن بعض دوسرے لوگوں کا یہ نظریہ ہے کہ یہاں کاتب کی غلطی کا امکان ہے۔ سادہ سی بات تو یہ ہے کہ ہمارے پاس اِس قدر معلومات نہیں کہ ہم آخز کے جدول کے مسئلے کو حل کر سکیں۔
(۲۸: ۱۶۔۲۷): ۲۔سلاطین ۱۶:۲۰ میں لکھا ہے کہ آخز کو اُس کے باپ دادا کے ساتھ دفن کیا گیا، جب کہ ۲۔تواریخ ۲۸: ۲۷ میں لکھا ہے کہ اُسے بادشاہوں کی قبروں میں دفن نہ کیا گیا۔ دونوں بیانات درست ہیں۔ وہ اپنے باپ دادا کے ساتھ سو گیا اور اُسے اُن کے ساتھ دفن کر دیا گیا (یعنی یروشلیم شہر میں)، لیکن اُسے شاہی قبرستان میں دفن نہ کیا گیا۔
(۳۵: ۲۰۔۲۴): کیا یوسیاہ نے یروشلیم میں وفات پائی (۳۵:۲۴) یا مجدو میں (۲۔سلاطین ۲۳:۲۹)؟ مجدو کی جنگ میں اُسے مہلک زخم لگا اور سلاطین کی کتاب میں لکھا ہے کہ وہ وہاں مرا کیونکہ اُسے وہاں مہلک زخم لگا۔ تواریخ کی کتاب میں خصوصی طور پر بیان کیا گیا ہے کہ اُس نے درحقیقت یروشلیم میں وفات پائی۔ آج کل ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ کوئی شخص کار کے حادثے میں مر گیا، حالانکہ وہ کچھ دیر کے بعد ہسپتال میں مرا۔ ہم یہ کہنا چاہتے ہیں کہ حادثہ اُس شخص کی موت کا سبب تھا، حالانکہ یہ وہ جگہ نہیں جہاں اُس نے دَم دیا۔
(۳۶: ۹،۱۵): آیت ۹ میں لکھا ہے کہ یہویاکین آٹھ سال کا تھا جب وہ بادشاہ بنا جب کہ ۲۔سلاطین ۲۴: ۸ میں لکھا ہے کہ وہ اٹھارہ برس کا تھا۔ بلاشبہ آیت ۹ میں کاتب کی غلطی ہے کیونکہ یہویاکین کی بیویاں تھیں، جب اُس نے بابلیوں کے سامنے ہتھیار ڈالے اور یہ اُس کے تخت نشین ہونے کے چند ماہ بعد وقوع پذیر ہوا (۲۔سلاطین ۲۴: ۱۵)۔ بعض ایک عبرانی نسخوں، ہفتادی ترجمہ اور ارامی تراجم میں ۱۸ سال عمر لکھی ہے۔
بہت سے فرق کاتب کی غلطیوں کی وجہ سے ہیں۔ اگر کاتبوں نے کئی صدیوں کے دوران، بائبل کو بار بار نقل کرتے ہوئے چھوٹی موٹی غلطیاں کیں تو ہمیں اُن سے ہرگز حیران نہیں ہونا چاہئے۔ حتیٰ کہ آج کل بھی یہ ممکن نہیں کہ کوئی کتاب کُلی طور پر کتابت کی غلطیوں سے پاک ہو۔
شاید کوئی شخص یہ سوال کرے ’’اگر خدا نے بائبل کے اصل مصنفین کی راہنمائی کی کہ وہ غلطیوں سے پاک الہامی کتابوں کو لکھیں، تو اُس نے کاتبوں اور نقل نویسوں کو کیوں توفیق نہ دی کہ وہ غلطیوں سے پاک اِن کتابوں کو نقل کریں؟‘‘ اِس کا جواب یہ ہے کہ وہ ایسا کر سکتا تھا، لیکن اپنی حکمت سے اُس نے ایسا نہ کیا۔ تاہم ضروری نکتہ یہ ہے کہ کتابت کی چھوٹی چھوٹی غلطیوں (عموماً ناموں کے اِملا اور تعداد کے سلسلے میں) کے باوجود، دَورِ حاضر میں ہمارے پاس بائبل مقدس، خدا کا کلام ہے۔ چھوٹی چھوٹی تفصیلات کی غلطیوں کے مسائل بائبل کے عقائد کو متاثر نہیں کرتے۔ ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ جب ہمارا خداوند اِس دُنیا میں تھا، اُس نے عہد عتیق کا ایڈیشن (اصلی نسخوں کو نہیں) استعمال کیا اور اُس نے اِس متن کا خدا کے کلام کے طور پر اِقتباس کیا۔ ہم دَورِ حاضر کے مشہور تراجم کو اِسی اعتقاد کے ساتھ استعمال کر سکتے ہیں کہ یہ خدا کا کلام ہیں۔
۲: ۱۱۔۱۶ حیرام نے سلیمان کو جو تحریری بیان بھیجا، ظاہر کرتا ہے کہ اُس نے دِلی اور روحانی طور پر تسلیم کیا کہ یہ ایک نہایت اہم کام ہے۔ اُس نے لکھا کہ وہ حورام کو بھیج رہا ہے جو بہت اعلیٰ صلاحیتوں کا مالک ہے۔ اُس نے یہ بھی وعدہ کیا کہ وہ گندم، جَو، تیل اور مَے کے بعد لبنان سے لکڑی بھیجے گا۔ عمارتی لکڑی بیڑے بنوا کر بحیرۂ روم میں سے یافا تک پہنچائیں گے، اور وہاں سے خشکی کے راستے اُنہیں یروشلیم میں پہنچایا جائے گا۔
۲: ۱۷،۱۸ ۰۰۰،۱۵۳ پردیسی وہ کنعانی تھے جنہیں اِسرائیلی ہلاک کرنے سے قاصر رہے تھے۔ اب اُنہیں جبری مشقت کے لئے استعمال کیا گیا۔
مقدس کتاب
۱ اور سلیمان نے ارادہ کیا کہ ایک گھر خُداوند کے لیئے اور ایک گھر اپنی سلطنت کے لیئے بنائے ۔
۲ اور سلیمان نے ستر ہزار بار بروار اور پہاڑ میں اَسی ہزار پتھر کاٹنے والے اور تین ہزار چھ سو آدمی اُن کی نگرانی کے لیئے گن کر ٹھہرا دیے۔
۳ اور سلیمان نے صُور کے بادشاہ حُورام کے پاس کہلا بھیجا کہ جیسا تُو نے میرے باپ داؤد کے ساتھ کیا اور اُس کے پاس دیودار کی لکڑی بھیجی کہ اپنے رہنے کے لیئے ایک گھر بنائے ویسا ہی میرے ساتھ بھی کر۔
۴ میں خُداوند اپنے خُدا کے نام کے لیئے ایک گھر بنانے کو ہوں کے اُس کے لیئے مُقدس کرؤں اور اُس کے آگے خوشبودار مصالج کا بخوُر جلاؤں اور وہ سبتوں اور نئے چاندوں اور خُداوند ہمارے خُدا کی مقررہ عیدوں پر دائمی نذر کی روٹی اور صبح اور شام کی سوختنی قربانیوں کے لیئے ہو کیونکہ یہ ابد تک اسرائیل پر فرض ہے۔
۵ اور وہ گھر جو میں بنانے کو ہوں عظیم اُلشان ہو گا کیونکہ ہمارا خُدا سب معبودوں سے عظیم ہے ۔
۶ لیکن کو ن اُس کے لیئے گھر بنانے کے قانل ہے ؟جس حال کہ آسمان میں بلکہ آسمانوں کے آسمان میں بھی وہ سما نہیں ستکتا تو بھلا میں کون ہوں جو اُسکے حضور بخوُر جلانے کے سوا کسی اور خیال سے اُس کے لیئے گھر بناؤں۔
۷ سو اب تو میرے پاس ایک ایسے شخص کو بھیج دے جو سونے اور چاندی اور لوہے کے کام میں اور ارغوانی اور قرمزی اور نیلے کپڑے کے کام میں ماہر ہو اور نقاشی بھی جانتا ہو تاکہ وہ اُن کاریگروں کے ساتھ رہے جو میرے باپ داؤد کے ٹھہرائے ہوئے یہوداہ اور یروشلیم میں میرے پاس ہیں۔
۸ اور دیودار اور صنوبر اور صندل کے لٹھے لُبنان سے میرے پاس بھیجنا کیونکہ میں جانتا ہوں کہ تیرے نوکر لُبنان کی لکڑی کاٹنے میں ہوشیار ہیں اور میرے نوکر تیرے نوکروں کے ساتھ رہکر۔
۹ میرے لیئے بُہت سی لکڑی تیار کریں گے کیونکہ وہ گھر جو میں بنانے کو ہوں نہایت عالیشان ہو گا۔
۱۰ اور میں تیرے نوکروں کو یعنی لکڑی کاٹنے والوں کو بیس ہزار کُر صاف کیا ہوا گیہوُں اور بیس ہزار کُر جَو اور بیس ہزار بت مَے اور بیس ہزار بت تیل دونگا۔
۱۱ تب صوُر کے بادشاہ حوُرام نے جواب لکھکر اُسے سلیمان کے پاس بھیجا کہ چونکہ خُداوند کو اپنے لوگوں سے محبت ہے اس لیئے اُس نے تُجھ کو اُن کا بادشاہ بنایا ہے ۔
۱۲ اور حوُرام نے یہ بھی کہا خُداوند اسرائیل کا خُدا جس نے زمین اور آسمان کو پیدا کیا مُبارک ہو کہ اُس نے داؤد بادشاہ کو ایک دانا بیٹا فہم و معرفت سے معمور بخشا تاکہ وہ خُداوند کے لیئے ایک گھر اور اپنی سلطنت کے لیئے ایک گھر بنائے۔
۱۳ سو میں نے اپنے باپ حوُرام کے ایک ہوشیار شخص کو جو دانش سے معمو ر ہے بھیج دیا ہے۔
۱۴ وہ دان کی بیٹیوں میں سے ایک عورت کا بیٹا ہے اور اُس کا باپ صوُر کا باشندہ تھا۔ وہ سونے اور چاندی اور پیتل اور لوہے اور پتھر اور لکڑی کے کام میں اور ارغوانی اور نیلے اور قرمزی اور کتانی کپڑے کے کام میں ماہر اور ہر طرح کی نقاشی اور ہر قسم کی صنعت میں طاق ہے تاکہ تیرے ہُنر مندوں اور میرے مخدُوم تیرے باپ داؤد کے ہُنر مندوں کے ساتھ اُس کے لیئے جگہ مُقرر ہو جائے۔
۱۵ اور اب گیہوں اور جَو اور تیل اور مے جنکا میرے مالک نے ذکر کیا ہے وہ اُنکو اپنے خادموں کے لیئے بھیجے ۔
۱۶ اور جتنی لکڑی تُجھکو درکارہے ہم لُبنان سے کاٹینگے اور اُن کے بیڑے بنوا کر سمندر ہی سمندر تیرے پاس یافا میں پُہنچاینگے پھر تُو اُن کو یروشلیم کو لے جانا۔
۱۷ اور سلیمان نے سرائیل کے مُلک میں کے سب پردیسیوں کو شمار کیا جیسے اُس کے باپ داؤد نے اُن کو شمار کیا تھا اور وہ ایک لاکھ ترِپن ہزار چھ سَو نکلے۔
۱۸ اور اُس نے اُن میں سے ستر ہزار کو باربرداری پر اور اسَی ہزار کو پہاڑ پر پتھر کاٹنے کے لیئے اور تین ہزارچھ سَو کو لوگوں سے کام لینے کے لیئے ناظِر ٹھہرایا۔