یشوؔع ۲۴

ز۔ بنی اِسرائیل کو یشوع کا الوداعی خُطبہ (‏۲۴:‏۱۔۱۵)‏

۲۴:‏۱۔۱۴ دوسرا الوداعی خطبہ بنی اِسرائیل کی جماعت کو سکم کے مقام پر دیا گیا۔ اِس موقعے پر یشوع نے خدا کی قوم کی تاریخ کو دُہرایا۔ اُس نے تارح سے شروع کر کے ابرہام‏، اضحاق اور یعقوب کے ایام تک حالات کو بیان کیا۔ اُس نے لوگوں کو مصر سے عجیب و غریب مخلصی‏، بیابان کے سفر اور یردن کے مشرق میں موآبیوں پر فتح کی یاد دلائی۔ تب اُس نے موعودہ مُلک میں اُن کے داخلے‏، یریحو پر فتح اور کنعان کے بادشاہوں کی ہلاکت کا ذکر کیا (‏آیات ۲۔۱۳)‏۔ آیت ۷ میں مذکور تاریکی کا تعلق خروج ۱۴:‏۱۹‏،۲۰ سے ہے جہاں بادل نے اِسرائیل کو روشنی بخشی اور مصریوں کو تاریکی میں مبتلا کر دیا۔ 

پیدائش سے یشوع تک اِس تاریخی خلاصے میں ایک حقیقت بہت نمایاں ہے اور یہ ہے خدا کے قادرِ مطلق ہونے کی صفت کا اِظہار۔ ملاحظہ فرمائیے کہ وہ کس طرح کہانی بیان کرتا ہے۔ ’’ مَیں نے … راہبری کی‘‘ (‏آیت ۳)‏‏، ’’ مَیں نے … دیا‘‘ (‏آیت ۴)‏‏، ’’ مَیں نے … بھیجا‘‘ (‏آیت۵)‏‏، ’’ مَیں …لے آیا‘‘ (‏آیت۶‏،۷)‏‏، ’’ مَیں نے نہ چاہا کہ … سنوں‘‘ (‏آیت ۱۰)‏‏، ’’ مَیں نے … ہاتھ میں کر دیا‘‘ (‏آیت ۱۱)‏‏، ’’ مَیں نے بھیجا‘‘ (‏آیت ۱۲)‏‏، ’’ مَیں نے … عنایت کئے‘‘ (‏آیت ۱۳)‏۔ یہوواہ اپنے ازلی ارادے کے مطابق کام کرتا ہے۔ اُس کے ہاتھ کے سامنے کون کھڑا رہ سکتا ہے؟ایسے خدا سے ڈریں اور اُس کی فرماں برداری کریں (‏آیت ۱۴)‏۔ 

۲۴:‏۱۵ یہاں اِنتخاب خداوند اور بتوں کے درمیان نہیں تھا۔ یشوع نے پہلے سے مفروضہ قائم کر لیا تھا کہ بنی اِسرائیل نے خداوند کے خلاف فیصلہ کر لیا ہے۔ چنانچہ اُس نے اُنہیں چیلنج کیا کہ وہ اُن دیوتاؤں جن کو اُن کے آبا و اجداد مسوپتامیہ میں پوجتے رہے اور ملکِ کنعان میں اموریوں کے دیوتاؤں میں سے چن لیں۔ یشوع کا اپنے اور اپنے گھرانے کے لئے خوبصورت فیصلہ ایمان داروں کی آنے والی نسلوں کے لئے پُرتاثیر تحریک کا باعث رہا ہے۔ ’’اَب رہی میری اور میرے گھرانے کی بات سو ہم تو خداوند کی پرستش کریں گے۔‘‘

ح۔ سِکم کے مقام پر تجدیدِ عہد (‏۲۴:‏۱۶۔۲۸)‏

۲۴:‏۱۶۔۲۸ جب لوگوں نے وعدہ کیا کہ وہ یہوواہ کی پرستش کریں گے تو یشوع نے کہا ’’تم خداوند کی پرستش نہیں کر سکتے‘‘ (‏آیت ۱۹)‏۔ اِس کا مطلب ہے کہ وہ یہوواہ اور بتوں دونوں کی ایک ساتھ پرستش نہیں کر سکتے۔ بلاشبہ یشوع کو یہ احساس تھا کہ لوگ بت پرستی کی طرف رجوع کریں گے‏، کیونکہ اُس وقت تک اجنبی معبود اُن کے خیموں میں موجود تھے۔ لیکن لوگوں نے بڑے وثوق سے وعدہ کیا کہ وہ خدا سے وفادار رہیں گے‏، چنانچہ یشوع نے بلوط کے درخت کے نیچے ایک بڑا پتھر کھڑا کیا تاکہ یہ اِسرائیل کے عہد کا گواہ ٹھہرے۔ (‏آیت ۲۶ میں مذکور مقدِس کا تعلق خیمۂ اِجتماع سے نہیں جو سیلا میں تھا بلکہ اِس کا مطلب محض ’’مقدس جگہ‘‘ ہے)‏۔

بتوں کے مسئلے کے سلسلے میں کارل آمرڈِنگ (‏Amerding)‏ لکھتا ہے:‏

’’یوں محسوس ہوتا ہے کہ بت پرستی بنی اِسرائیل کا نہایت بڑا مسئلہ تھا۔ جیسا کہ ہم دیکھ چکے ہیں کہ آبا و اجداد دوسرے دیوتاؤں کی پرستش کرتے تھے (‏آیت۲)‏۔ جب یعقوب اپنے خاندان سمیت لابن سے جدا ہوا‏، تو راخل نے اپنے باپ کے بت چرا لئے (‏پیدائش ۳۱:‏۳۰۔۳۴)‏۔ لیکن جب وہ اپنے مُلک میں پہنچے تو یعقوب نے اپنے گھرانے کو حکم دیا کہ وہ ’’بیگانہ دیوتاؤں‘‘ کو دُور کریں اور اُس نے اُنہیں سکم میں بلوط کے درخت کے نیچے دبا دیا (‏پیدائش ۳۵:‏۲۔۴)‏۔ اور اِسی مقام پر یشوع نے اپنی نسل کو حکم دیا کہ وہ اُن دیوتاؤں کو دُور کریں جنہیں اُن کے آبا و اجداد پوجتے تھے (‏آیت ۱۴)‏۔‘‘

ط۔ یشوع کا اِنتقال (‏۲۴:‏۲۹۔۳۳)‏

ایک سو دس سال کی عمر میں یشوع کا اِنتقال ہوا اور اُسے اپنی میراث کے شہر میں دفن کیا گیا۔ جب تک یشوع کی پشت کے لوگ زندہ رہے بنی اِسرائیل خداوند سے وفادار رہے۔ ہم نہیں جانتے کہ اِس کتاب کی آخری آیات کو کس نے لکھا اور یہ جاننا ضروری بھی نہیں‏، ورنہ اِس کا ضرور ذکر کر دیا جاتا۔ 

یوسف کی خواہش پر مصر سے لائی ہوئی اُس کی ہڈیاں اَب سِکم میں دفن کر دی گئیں (‏پیدائش ۵۰:‏۲۴؛ خروج ۱۳:‏۱۹)‏۔

با لآخر ہارون کے بیٹے الیعزر نے رِحلت کی۔ اُسے افرائیم کے کوہستانی ملک میں دفن کر دیا گیا۔ 

اِس کتاب کی آخری آیات میں تین اشخاص کی تدفین کا ذکر کیا گیا ہے:‏ یشوع (‏آیات ۲۹۔۳۱)‏‏، یوسف (‏آیت ۳۲)‏ اور الیعزر (‏آیت ۳۳)‏۔ اِن تینوں کو یوسف کے علاقے میں دفن کیا گیا۔ اِن تینوں نے اپنے خدا اور ملک کی بہت اچھی طرح سے خدمت کی۔ یشوع اور یوسف اپنے ایام میں مخلصی دینے والے عظیم شخص تھے‏، اور الیعزر اپنی موت تک مخلصی دینے والا تھا‏، کیونکہ وہ سردار کاہن تھا۔ اُس کی موت نے اُن سب کو آزاد کر دیا جو پناہ کے شہروں میں بھاگ کر گئے تھے (‏۲۰:‏۶)‏۔ پیدائش اور اِستثنا کی کتابوں کی طرح یشوع کی کتاب بھی عظیم اور دین دار لوگوں کی موت کے ساتھ اِختتام پذیر ہوتی ہے۔ ’’خدا اپنے کارکنوں کو دفن کرتا ہے‏، لیکن وہ اپنے کام کو جاری رکھتا ہے۔‘‘

مقدس کتاب

۱ اس کے بعد یشوع نے اسرائیل کے سب قبیلوں کو سکم میں جمع کیا اور اسرائیل کے بزرگوں اور سرداروں اور قاضیوں اور منصبداروں کو بلوایا اور وہ خدا کے حضور حاضر ہوئے۔
۲ تب یشوع نے ان سے لوگوں سے کہا کہ خداوند اسرائیل کا خدا یوں فرماتا ہے کہ تمہارے ابا یعنی ابراہام اور بحور کا باپ تارح وغیرہ قدیم زمانہ میں بڑے دریا کے پار رہتے اور دوسرے معبودوں کی پرستش کرتے تھے۔
۳ اور میں نے تمہارے باپ ابراہا م کو بڑے دریا سے لے کر کعنان کے سارے ملک میں اسکی رہبری کی اور اسکی نسل کو بڑھایا اور اسکو اضحاق عنایت کیا۔
۴ اور میں نے اضحاق کو عیسو اور یعقوب بخشے اور عیسو کو کوہ شعیر دیا کہ وہ اس کا مالک ہو اور یعقوب اپنی اولاد سمیت مصر میں گیا۔
۵ اور میں نے موسیٰ اور ہارون کو بھیجا اور مصر پر جو جو میں نے اس میں کیا اس کے مطابق میری مار پڑی اور اس کے بعد میں تم کو نکال لایا۔
۶ تمہارے باپ دادا کو میں نے مصر سے نکالا اور تم سمندر پر آئے۔ تب مصریوں نے رتھوں اور سواروں کو لے کر بحر قلزم تک تمہارے باپ دادا کا پیچھا کیا۔
۷ اور جب انہوں نے خداوند سے فریاد کی تو اس نے تمہارے اور مصریوں کے درمیان اندھیرا کر دیااور سمندر کو ان پر چڑھا لایا اور ان کو چھپا دیا اور تم نے جو کچھ میں نے مصر میں کیا اپنی آنکھوں سے دیکھا اور تم بہت دنوں تک بیابان میں رہے۔
۸ پھر میں تم کو اموریوں کے ملک میں جو یردن کے اس پار رہتے تھے لے آیا۔ وہ تم سے لڑے اور میں نے تم ان کو تمہارے ہاتھ میں کر دیا اور تم نے ان کے ملک میں قبضہ کر لیا اور میں نے ان کو تمہارے آگے سے ہلاک کیا۔
۹ پھر صفور کا بیٹا بلق موآب بادشاہ اٹھ کر اسرائیلیوں سے لڑا اور تم پر لعنت کرنے کو بعور کے بیٹے بلعام کو بلوا بھیجا۔
۱۰ پر میں نے نہ چاہا کہ بلعام کی سنوں۔ اس لئے وہ تم کو برکت ہی دیتا گیا۔ سو میں نے تم کو اس کے ہاتھ سے چھڑایا۔
۱۱ پھر تم یردن پار ہو کر یریحو کو آئے اور یریحو کے لوگ یعنی اموری اور فرزی اور کعنانی اور حتی اور جرجاسی اور حوی اور یبوسی تم سے لڑے اور میں نے ان کو تمہارے ہاتھ میں کر دیا۔
۱۲ اور میں نے تمہارے آگے زنبوروں کو بھیجا جنہوںنے دونوں اموری بادشاہوں کو تمہارے سامنے سے بھگا دیا۔ یہ نہ تمہاری تلوار اور نہ تمہاری کمان سے ہوا۔
۱۳ اور میں نے تم کو وہ ملک جس پر تم نے محنت نہ کی اور وہ شہر جن کو تم نے بنایا نہ تھا عنائت کئے اور تم ان میں بسے ہو اور تم ایسے تاکستانوں اور ایسوں زیتون کے باغوں کا پھل کھاتے ہو جن کو تم نے نہیں لگایا۔
۱۴ پس تم خداوند کا خوف رکھو اور نیک نیتی اور صداقت سے اسکی پرستش کرو اور ان دیوتاﺅں کو دور کر دو جن کی پرستش تمہارے باپ دادا دریا کے پار اور مصر میں کرتے تھے اور خداوند کی پرستش کرو۔
۱۵ اور اگر خداوند کی پرستش تمہیں بری معلوم ہوتی ہے تو آج ہی اسے جس کی تم پرستش کرو گے چن لو۔ خواہ وہ وہی دیوتا ہوں جن کی پرستش تمہارے باپ دادا بڑے دریا کے اس پار کرتے تھے یا اموریوں کے دیوتا ہوں جن کے ملک میں تم بسے ہو۔ اب رہی میری اور میرے گھرانے کی بات سو ہم تو خداوند کی پرستش کریں گے۔
۱۶ تب لوگوں نے جواب دیا کہ خدا نہ کرے کہ ہم خداوند کو چھوڑ کر اور معبودوں کی پرستش کریں۔
۱۷ کیونکہ خداوند ہمارا خدا وہی ہے جس نے ہم کو اور ہمارے باپ دادا کو ملک مصر یعنی غلامی کے گھر سے نکالا اور وہ بڑے بڑے نشان ہمارے سامنے دکھائے اور سارے راستہ جس میں ہم چلے اور ان سب قوموں کے درمیان جن میں سے ہم گزرے ہم کو محفوظ رکھا۔
۱۸ اور خداوند نے سب قوموں یعنی اموریوں کو جو اس ملک میں بستے تھے ہمارے سامنے سے نکال دیا۔ سو ہم بھی خداوند کی پرستش کریں گے کیونکہ وہ ہمارا خدا ہے۔ یشوع نے لوگوں سے کہا تم خداوند کی پرستش نہیں کر سکتے کیونکہ وہ پاک خدا ہے۔ وہ غیور خدا ہے۔ وہ تمہاری خطائیں اور تمہارے گناہ نہیں بخشے گا۔
۱۹ اگر تم خداوند کو چھوڑ کر اجنبی معبودوں کی پرستش کرو تو اگرچہ وہ تم سے نیکی کرتا رہا ہے تو بھی وہ پھر کر تم سے برائی کرے گا اور تم کو فنا کر ڈالے گا۔
۲۰
۲۱ لوگوں نے یشوع سے کہا نہیں ہم پھر بھی خداوند ہی کی پرستش کریں گے۔
۲۲ یشوع نے لوگوں سے کہا تم آپ ہی اپنے گواہ ہو کہ تم نے خداوند کو چنا ہے کہ اس کی پرستش کرو۔ انہوں نے کہا ہم گواہ ہیں۔
۲۳ تب اس نے کہا پس اب تم اجنبی معبودوں کو جو تمہارے درمیان ہیں دور کر دو اور اپنے دلوں کو خداوند اپنے خدا کی طرف مائل کرو۔
۲۴ لوگوں نے یشوع سے کہا ہم خداوند اپنے خدا کی پرستش کریں گے اور اسی کی بات مانیں گے۔
۲۵ سو یشوع نے اسی روز لوگوں کے ساتھ عہد باندھا اور ان کےلئے سکم میں آئیں اور قانون ٹھہرایا۔
۲۶ اور یشوع نے یہ باتیں خدا کی شریعت کی کتا ب میں لکھ دیں اور ایک بڑا پتھر لے کر اسے وہیں اس بلوط کے درخت کے نیچے جو خداوند کے مقدس کے پاس تھا نصب کیا۔
۲۷ اور یشوع نے سب لوگوں سے کہا کہ دیکھو یہ پتھر ہمارا گواہ رہے کیونکہ اس نے خداوند کی سب باتیں جو اس نے ہم سے کہیں سنی ہیں اس لئے یہی تم پر گواہ رہے تا نہ ہو کہ تم اپنے خداوند کا انکار کر جاﺅ۔
۲۸ پھر یشوع نے لوگوں کو ان کی اپنی اپنی میراث کی طرف رخصت کر دیا۔
۲۹ اور ان باتوں کے بعد یوں ہوا کہ نون کا بیٹ یشوع خڈاوند کا بندہ ایک سو دس برس کا ہو کر رحلت کر گیا۔
۳۰ اور انہوں نے اسی کی میراث کی حد پر تمنت سرح میں جو افرائیم کے کوہستانی ملک میں کوہ جعس کے شمال کی طرف کو ہے اسے دفن کیا۔
۳۱ اور اسرائیلی خدا کی پرستش یشوع کے جیتے جی اور ان بزرگوں کے جیتے جی کرتے رہے جو یشوع کے بعد زندہ رہے اور خداوند کے سب کاموں سے جو اس نے اسرائیلیوں کے لئے کئے واقف تھے۔
۳۲ اور انہوں نے یوسف کی ہڈیوں کو جن بنی اسرائیل مصر سے لے آئے تھے سکم میں اس زمین کے قطعہ میں دفن کیا جسے یعقوب نے سکم کے باپ حمور کے بیٹوں سے چاندی کے سو سکوں میں خریدا تھا اور وہ زمین بنی یوسف کی میراث ٹھہری۔
۳۳ اور ہارون کے بیٹے الیعرز نے رحلت کی اور انہوں نے اسے اس کے بیٹے فنحاس کی پہاڑی پر دفن کیا جو افرائیم کے کوہستانی ملک میں اسے دی گئی تھی۔