(۲) یہوداہ کو میراث دینا (ابواب ۱۴،۱۵)
۱۴:۱۔۵ اِس باب کے آغاز میں یردن کے مغرب میں ساڑھے نو قبائل میں زمین کی تقسیم کا بیان ہے۔ خداوند نے موسیٰ کو حکم دیا تھا کہ وہ قرعہ اندازی سے تقسیم کی جائے۔ غالباً اِس کا یہ مطلب ہے کہ قبیلے کے حصے کے جغرافیائی عمومی محلِ وقوع کا قرعہ اندازی سے تعین کیا گیا، لیکن علاقے کی وسعت کا قبیلے کی آبادی کے حساب سے تعین کیا گیا (گنتی ۲۶:۵۳۔۵۶)۔
۱۴:۶۔۱۵فہرست میں سب سے پہلے یہوداہ کا ذکر ہے (۱۴:۶۔۱۵:۶۳)۔ یہوداہ کے مرد اِسرائیل کی فوجوں کی قیادت کرتے تھے (گنتی ۱۰:۱۴) اور یہ سب سے بڑا اور زور آور قبیلہ تھا۔ وہ اپنے ۰۰۰،۷۶ جنگی مردوں پر فخر کرتے تھے۔
علاقائی سرحدوں کی تقسیم سے قبل خدا کا روح حبرون کے شہر کے لئے کالب کی خوبصورت درخواست کو درج کرتا ہے۔ گو وہ اِس وقت ۸۵ سال کا تھا تو بھی اُس کا ایمان، حوصلہ اور قوت پہلے کی طرح قائم تھی۔ وہ روحانی فتوحات کا زیادہ خواہاں تھا۔ اپنی میراث کے طور پر اُسے حبرون حاصل ہوا۔ حبرون سے مراد صرف شہر ہی نہیں بلکہ اُس کا ارد گرد کا علاقہ بھی اِس میں شامل ہے (آیت ۱۲)۔ یشوع نے پہلے ہی اِس شہر کو فتح کر لیا تھا (۱۰:۳۶،۳۷)۔ بعد ازاں یہ کاہنوں کو دیا گیا لیکن کالب کے پاس میراث کے طور پر مضافاتی علاقہ تھا۔
کالب اُس وَبا سے بچ گیا تھا جس نے ۴۵ سال قبل بے اعتقاد جاسوسوں کی جان لے لی تھی (گنتی ۱۴:۳۶۔۳۸)۔ وہ بیابانی آوارگی میں بھی محفوظ رہا اور کنعان میں کئی سالہ جنگوں میں بھی بچا رہا۔ وہ جانتا تھا کہ خدا جس نے اُس کے ایمان کے اَجر کے وعدے کے لئے اُسے زندہ رکھا، اُسے عناقیم کے حوالے نہیں کرے گا۔ اُن کے جبار ہونے کی اُسے کوئی پروا نہ تھی۔ وہ اُس کے قبضے میں تھے اور خدا کی قوت سے وہ اُنہیں نکال باہر کرے گا۔ وہ اَب بھی حالات کو اُن کی ظاہری صورت میں نہیں بلکہ ایمان کی آنکھوں سے دیکھتا تھا۔ یہ اُس کی قوت اور عجیب و غریب کامیابی کا راز تھا۔ وہ اُس وقت تک اپنے کام سے سبک دوش نہیں ہو گا (حالانکہ وہ ۸۵ سال کا تھا) جب تک وہ اپنی وراثت و ملکیت پر قابض نہ ہو جائے۔
مقدس کتاب
۱ اور وہ حصے جن کو کنعان کے ملک میں بنی اسرائیل نے میراث کے طور پر پایا اور جن کو العزر کاہن اور نون کے بیٹے یشوع اور بنی اسرائیل کے قبیلوں کے آبائی خاندانوں کے سرداروں نے ان کو تقسیم کیا یہ ہیں۔
۲ ان کی میراث قرعہ سے دی گئی جیسا خداوند نے ساڑھے نو قبیلوں کے حق میں موسیٰ کو حکم دیا تھا ۔
۳ کیونکہ موسیٰ نے یرون کے اس پار ڈھائی قبیلوں میراث ان کو دے دی تھی پر اس نے لاویوں کو ان کے درمیان کچھ میراث نہیں دی ۔
۴ کیونکہ بنی یوسف کے دو قبیلے تھے منسی اور افرائیم ۔سو لاویوں کو اس ملک میں کچھ حصہ نہ ملا سوا شہروں کے جو ان کے رہنے کے لئے تھے اور ان کی نواحی کے جو ان کے چوپایوں اور مال کے لئے تھی ۔
۵ جیسا خداوند نے موسیٰ کو حکم دیا تھا ویسا ہی بنی اسرائیل نے کیا اور ملک کو بانٹ لیا ۔
۶ تب بنی یہوداہ جلجال میں یشوع کے پاس آئے اور قنزی یفنہ کے بےٹے کالب نے اس سے کہا تجھے معلوم ہے کہ خدا وند نے مرد خدا موسیٰ سے میری اور تیری بابت قادس برنیع میں کیا کہا تھا ۔
۷ جب خداوند کے بندہ موسیٰ نے قادس برنیع سے مجھ کو اس ملک کا حال دریافت کرنے کو بھیجا اس وقت میں چالیس برس کا تھا اور میں نے اس کو وہی خبر لا دی جو میرے دل میں تھی۔
۸ تو بھی میرے بھائیوں نے جو میرے ساتھ گئے تھے لوگوں کے دلوں کو پگھلا دیا لیکن میں نے خداوند اپنے خدا کی پوری پیروی کی ۔
۹ تب موسیٰ نے اس دن قسم کھا کر کہا کہ جس زمین پر تیرا قدم پڑا ہے وہ ہمیشہ کے لئے تیری اور تیرے بیٹوں کی میراث ٹھہریگی کیونکہ تو خداوند میرے خدا کی پوری پیروی کی ہے ۔
۱۰ اور اب دیکھ جب سے خداوند نے یہ بات موسیٰ سے کہی تب سے ان پینتالیس برسوں تک جن میں بنی اسرائیل بیابان میں آوارہ پھرتے رہے خداوند نے مجھے اپنے قول کے مطابق جیتا رکھا اور اب دیکھ میں آج کے دن پچاسی برس کا ہوں ۔
۱۱ اور آج کے دن بھی میں ویسا ہی ہوں جیسا اس دن تھا جب موسیٰ نے مجھے بھیجا تھا اور جنگ کے لئے اور باہر جانے اور لوٹنے کے لئے جیسی قوت مجھ میں اس وقت تھی ویسی ہی اب بھی ہے ۔
۱۲ سو یہ پہاڑی جس کا ذکر خداوند نے اس روز کیا تھا مجھ کو دے دے کیونکہ تو نے اس دن سن لیا تھا کہ عناقیم وہاں بستے ہیں اور وہاں کے شہر بڑے او ر فصیل دار ہیں ۔یہ ممکن ہے کہ خداوند مےرے ساتھ ہو اور میں ان کو خدداوند کے قول کے مطابق نکال دوں ۔
۱۳ تب یشوع نے یفنہ کے بیٹے کالب کو دعا دی اور اس کو حبرون میراث کے طور پر دے دیا۔
۱۴ سو حبرون اس وقت سے آج تک قنزی یفنہ کے بیٹے کالب کی میراث ہے اس لئے اس نے خداوند اسرائیل کے خدا کی پوری پیروی کی ۔
۱۵ اور اگلے وقت میں حبرون کا نام قریت اربع تھا اور وہ اربع عناقیم میں سب سے بڑا آدمی تھا اور اس ملک کو جنگ سے فراغت ملی ۔