یشوؔع ۲۳

و۔ بنی اِسرائیل کے قائدین کو یشوع کا الوداعی خُطبہ (‏باب ۲۳)‏

یہاں یشوع کے دو الوداعی خطبوں میں سے پہلا خطبہ ہے۔ یہاں وہ اِسرائیل کی قیادت سے ہم کلام ہوا۔ 

ہمت باندھنے اور شریعت پر عمل کرنے (‏آیت ۶)‏ کے یشوع کے حکم سے خداوند کے اُن الفاظ کی گونج سنائی دیتی ہے جو اُس نے شروع میں کہے تھے (‏۱:‏۷)‏۔ چونکہ اُس نے زندگی کی مشکلات میں اِن الفاظ کی صداقت کی تصدیق دیکھی تھی اِس لئے اُس نے بڑے اعتماد سے یہ الفاظ دوسری پشت کو بتائے۔ 

اُس نے اُنہیں ملک اور اُس کے غیر قوم باشندوں کے سلسلے میں خدا کے وعدوں کی تکمیل کی یاد دلائی۔ خداوند مسلسل دشمنوں کو نکالتا رہے گا‏، لیکن اِس کے لئے لازم ہے کہ لوگ اُس کے فرماں بردار رہیں۔ مزید براں وہ دیگر قوموں کی بت پرستی سے باز رہیں اور کنعانیوں سے مخلوط شادیاں نہ کریں۔ ورنہ بے دین لوگ اِسرائیل کے لئے مسلسل تکلیف کا باعث بنے رہیں گے۔ 

خدا کا کلام حرف بہ حرف پورا ہوا (‏آیت ۱۴)‏۔ اُس کی ایک بات بھی نہ چھوٹی۔ اِس کا یہ مطلب نہیں کہ سارا ملک اَب تک یہودیوں کے قبضے میں آ چکا تھا‏، کیونکہ خداوند نے خود کہا تھا کہ وہ ایک ہی بار نہیں بلکہ کنعانیوں کو تھوڑا تھوڑا کر کے دفع کرے گا (‏اِستثنا ۷:‏۲۲)‏۔ اِس حقیقت کے پیشِ نظر کہ خداوند کا ایک بھی وعدہ نہ چھوٹا تھا‏، یشوع نے سرداروں کو تلقین کی کہ جس کام کو اُس نے شروع کیا ہے‏، اُسے پایۂ تکمیل تک پہنچائیں۔ اِس نصیحت کے ساتھ اُس نے اِنتباہ بھی کیا (‏آیات ۵‏،۱۶)‏ کہ اگر وہ اپنے عہد پر قائم نہ رہے بلکہ بتوں کی طرف راغب ہو گئے تو یہوواہ اُنہیں برباد کرنے میں حق بجانب ہو گا جیسا کہ اُس نے کنعانیوں کو برباد کیا تھا۔ 

عہد جدید میں اِس باب کے متوازی ۲۔کرنتھیوں ۶:‏۱۴۔۱۸ ہے۔ مردِ خدا کے لئے علیٰحدگی بہت زیادہ اہم ہے۔ ہم بیک وقت خدا سے لپٹے رہنے اور اُس کے دشمنوں سے رفاقت رکھنے کا دعویٰ نہیں کر سکتے۔ 

مقدس کتاب

۱ اس کے بہت دنوں بعد جب خداوند نے بنی اسرائیل کو ان کے سب گردا گرد کے دشمنوں سے آرام دیا اور یشوع بڈھا اور عم رسیدہ ہوا ۔
۲ تو یشوع نے سب اسرائیلیوں اور ان کے بزرگوں اور سرداروں اور قاضیوں اور منصبداروں اور بلواکر ان سے کہا کہ میں بڈھا اور عمر رسیدہ ہوں ۔
۳ اور جو کچھ خداوند تمہارے خدا نے تمہارے سبب سے ان سب قوموں کے ساتھ کیا وہ سب تم دیکھ چکے ہو کیونکہ خداند تمہارے خدا نے آپ تمہارے لئے جنگ کی ۔
۴ دیکھو میں نے قرعہ ڈال کر ان باقی قوموں سمیت جنکو میں نے کاٹ ڈالا یردن سے لیکر مغرب کی طرف بڑے سمندر تک تمہارے قبیلوں کی میراث ٹھہریں ۔
۵ اور خداوند تمہارا خدا ہی انکو تمہارے سامنے سے نکالے گا اور تمہاری نظر سے انکو دور کردیگا اور تم ان کے ملک پر قابض ہو گے جیساخداوند تمہارے خدا نے تم سے کہا ہے ۔
۶ سو تم خوب ہمت باندھ کر جو کچھ موسیٰ کی شریعت کی کتاب میں لکھا ہے اس پر چلنا اور عمل کرنا تاکہ تم اس سے دہنے یا بائیں ہاتھ کونہ مڑ و۔
۷ اور ان قوموں میں جو تمہارے درمیان ہنوز باقی ہیں نہ جاﺅ اور نہ انکے دیوتاﺅں کے نام کا ذکر کرو اور نہ ان کی قسم کھلاﺅ اور نہ ان کی پرستش کرو اور نہ انکو سجدہ کرو ۔
۸ بلکہ خداوند اپنے خدا سے لپٹے رہو جیسا تم نے آج تک کیا ہے ۔
۹ کیونکہ خداوند نے بڑی بڑی اور زور آور قوموں کو تمہارے سامنے سے دفع کیا بلکہ تمہارا یہ حال رہا کہ آج تک کوئی آدمی تمہارے سامنے ٹھہر نہ سکا ۔
۱۰ تمہارا ایک ایک مرد ایک ایک ہزار کو رگیدے گا کیونکہ خداوند تمہارا خدا ہی تمہارے لئے لڑتا ہے جیسا اس نے تم سے کہا ۔
۱۱ پس تم خوب چوکسی کرو کہ خداوند اپنے خدا سے محبت رکھو ۔
۱۲ ورنہ اگر تم کسی طرح برگشتہ ہو کر ان قوموں کے بقیہ سے یعنی ان سے جو تمہارے درمیان باقی ہیں شیرو شکر ہو جاﺅ اور ان کے ساتھ بیاہ شادی کرو اور ان سے ملو اور وہ تم سے ملیں ۔
۱۳ تو یقین جانو کہ خداوند تمہارا خدا پھر ان قوموں کو تمہارے سامنے سے دفع نہیں کریگا بلکہ یہ تمہارے لئے جال اور پھندا اور تمہارے پہلوﺅں کے لئے کوڑے اورر تمہاری آنکھوں میں کانٹوں کی طرح ہونگی ۔یہاں تک کہ تم اس اچھے ملک سے جسے خداوند تمہارے خدا نے تمکو دیا ہے نابود ہو جاﺅگے۔
۱۴ اور دیکھو میں آج اسی راستے جانے والا ہوں جو سارے جہان کا ہے اور تم خوب جانتے ہو کہ ان سب اچھی باتوں میں سے جو خداوند تمہارے خدا نے تمہارے حق میں کہیں ایک بات بھی نہ چھوٹی۔ سب تمہارے حق میں پوری ہوئیں اور ایک بھی ان میں سے رہ نہ گئی ۔
۱۵ سو ایساہوگا کہ وہ سب بھلائیاں جن کا خداوند تمہارے خدا نے ذکر کیا تھا تمہارے آگے آئیں اسی طرح خداوند سب برائیاں تم پر لائے گا جب تک کہ اس اچھے ملک سے جو خداوند تمہارے خدا نے تم کو دیا ہے وہ تم کو نیست نابود نہ کر ڈالے۔
۱۶ جب تم خداوند اپنے خدا کے اس عہد کو جس کا حکم اس نے تمکو دیا توڑ ڈالو اور جا کر اور معبودوں کی پرستش اور ان کے آگے سجدہ کرنے لگو تو خداوند کا قہر تم پر بھڑکے گا اور تم اس اچھے ملک سے جواس نے تم کو دیا ہے جلد ہلاک ہو جاﺅ گے۔