۱۷:۱۔۱۳ منسی کی کچھ میراث یردن کے مشرق میں جلعاد اور بسن میں تھی (آیت ۱) اور کچھ حصہ یردن کے مغرب میں تھا (آیات ۷۔۱۱)۔ یردن کے مغرب کا علاقہ چھے کنعانی قلعہ بند شہروں یعنی بیت شان، ابلیعام، دور، عین دور، تعناک اور مجدو کے پہلو میں تھا (آیات ۱۱،۱۲)۔
افرائیم کے بعض ایک شہر منسی کے علاقے میں، اور منسی کے بعض ایک قصبے آشر اور اشکار کے علاقے میں تھے (آیات ۷۔۱۲)۔
جیسے خدا نے موسیٰ کو حکم دیا تھا (آیات۳،۴) (گنتی۲۷:۱۔۷) صلافحاد کی بیٹیوں کو منسی کے بیٹوں کے ساتھ میراث ملی۔ گو صلافحاد کی کوئی نرینہ اولاد نہ تھی، تاہم اُس کے گھرانے کو میراث میں حصہ ملا۔ بیٹیوں کو اپنے ہی قبیلے کے مردوں سے شادی کرنا تھی تاکہ دوسرے قبیلوں میں شادیوں کے باعث منسی کی میراث اُن کے قبیلوں کی میراث میں ضم نہ ہو جائے (گنتی ۳۶:۱۔۱۳)۔
۱۷:۱۴۔۱۸ جب افرائیم اور منسی کو یردن کے مغرب میں ملحقہ میراث دی گئی تو اُنہوں نے شکایت کی کہ ہمیں صرف ایک ہی حصہ ملا ہے (آیت ۱۴)، اور ہم شمالی قلعوں کے گھیرے میں ہیں (آیت ۱۶)۔ یشوع نے اُن کے تمام دلائل کو ردّ کر دیا۔ جب اُنہوں نے کہا کہ وہ تعداد میں زیادہ ہیں اِس لئے اُنہیں زیادہ زمین کی ضرورت ہے (آیت ۱۴) تو اُس نے اُنہیں بتایا کہ وہ اپنے علاقے میں جنگل کو صاف کرنے کے لئے اپنی افرادی قوت کو استعمال کریں اور وہاں سکونت کریں (آیت ۱۵)۔ جب اُنہوں نے یہ شکایت کی کہ اُن کی سرحدوں میں کنعانی ہیں جن کے پاس لوہے کے رتھ ہیں (آیت ۱۶) تو اُس نے اُنہیں یقین دلایا کہ کنعانیوں کو خارج کرنے کے لئے اُن کے پاس اِس سے اعلیٰ قوت ہے (آیت ۱۸)۔ آیت ۱۴ میں مذکور ’’ایک حصہ‘‘ کا مطلب ہے یردن کے مغرب میں منسی اور افرائیم کے مشترکہ علاقے۔ جب یشوع نے کہا کہ ’’تمہارے لئے فقط ایک ہی حصہ نہ ہو گا‘‘ (آیت ۱۷ ب) تو اِس کا یہ مطلب نہیں تھا کہ اُنہیں اضافی زمین دی جائے گی بلکہ یہ کہ وہ اُس ساری زمین پر قبضہ کریں جو اُنہیں دی گئی ہے۔
مقدس کتاب
۱ اور منسی کے قبیلہ کا حصہ قرعہ ڈال کر یہ ٹھہرا کیونکہ وہ یوسف کا پہلوٹھا تھا اور چونکہ منسی کا پہلوٹھا بیٹا مکیر جو جلعاد کا باپ تھا جنگی مرد تھا اسلئے اسکو جلعاد اور بسن ملے ۔
۲ سو یہ حصہ بنی منسی کے باقی لوگوں کے لئے ان کے گھرانوں کے مطابق تھا یعنی بنی ابیعزر اور بنی خلق اور بنی اسری ایل اور بنی سکم اور بنی حضر اور بنی سمید ع کے لئے ۔یوسف کے بیٹے منسی کے فرزند نرینہ اپنے اپنے گھرانے کے مطابق یہی تھے۔
۳ اور صلافحادبن جلعاد بن مکیر بن منسی کے بیٹے نہیں بلکہ بیٹیاں تھیں اور اس کی بیٹیوں کے نام یہ ہیں محلاہ اور نوعاہ اور حجلا ہ اور ہلکاہ اور ترضاہ ۔
۴ سو الیعزر کاہن اور نون کے بیٹے یشوع اور سرداروں کے آگے آکر کہنے لگیں کہ خداوند نے موسیٰ کو حکم دیا تھا کہ وہ ہم کو ہمارے بھائیوں کے درمیان میراث دے چنانچہ خداوند کے حکم کے مطابق اس نے ان کے باپ کے بھائیوں کے درمیان ان کو میراث دی۔
۵ سو منسی کو جلعاد اور بسن کے ملک کو چھوڑ کر جو یردن کے اس پار ہے دس حصے اور ملے ۔
۶ کیونکہ منسی کی بیٹیوں نے بھی بیٹوں کے ساتھ میراث پائی اور ممنسی کے باقی بیٹوں کو جلعاد کاملک ملا ۔
۷ او ر آشر سے لے کر مکمتاہ تک جو سکم کے مقابل ہے منسی کی حد تھی اور وہی حد دہنے ہاتھ پر عین تفوح کے باشندوں تک چلی گئی ۔
۸ یوں تفوح کی زمین تو منسی کی ہوئی پر تفوح شہر جو منسی کی سرحد پر تھا بنی افرائیم کا حصہ ٹھہرا ۔
۹ پھر وہاں سے وہ حد قاناہ کے نالے کو اتر کر اس کے جنوب کی طرف پہنچی ۔یہ شہر جو منسی کے شہروں کے درمیان ہیں افرائیم کے ٹھہرے اور منسی کی حد اس نالے کے شمال کی طرف سے ہو کر سمندر پر ختم ہوئی ۔
۱۰ سو جنوب کی طرف افرائیم کی اور شمال کی طرف منسی کی میراث پڑی اور اس کی سرحد سمندر تھی۔یوں وہ دونوں شمال کی طرف آشر سے مشرق کی طرف اشکار سے جا ملیں ۔
۱۱ اور اشکار اور آشر کی حد میں بیت شان اور اس کے قصبے اور ابلیعام اور اس کے قصبے اور اہل دور اور اس کے قصبے اور اہل عین دور اور اس کے قصبے اور اہل تعناک اور اس کے قصبے اور اہل مجدو اور اس کے قصبے بلکہ تینوں مرتفع مقامات منسی کو ملے ۔
۱۲ تو بھی بنی منسی ان شہروں کے رہنے والوں کو نکال نہ سکے بلکہ اس ملک میں کنعانی بسے ہی رہے۔
۱۳ اور جب بنی اسرائیل زور آور ہو گئے تو انہوں نے کنعانیوں سے بیگار کا کام لیا اور ان کو بالکل نکال باہر نہ کیا ۔
۱۴ اور بنی یوسف نے یشوع سے کہا کہ تو نے کیوں قرعہ ڈال کر ہم فقط ایک ہی حصہ میراث کے لئے دیا اگرچہ ہم بڑی قوم ہیں کیونکہ خداوند نے ہم کو برکت دی ہے؟
۱۵ یشوع نے ان کو جواب دیا کہ اگر تم بڑی قوم ہو تو جنگل میں جاﺅ اور وہاں فرزیوں اور رفائیم کے ملک کو اپنے لئے کاٹ کر صاف کر لو کیونکہ افرئیم کا کوہستانی ملک تمہارے لئے بہت تنگ ہے ۔
۱۶ بنی یوسف نے کہا کہ یہ کوہستانی ملک ہمارے لئے کافی نہیں ہے اور سب کنعانیوں کے پاس جو نشیب کے ملک میں رہتے ہیں یعنی وہ جو بیت شان اور اس کے قصبوں میں اور جو یزرعیل کی وادی میں رہتے ہیں دونوں کے پاس لوہے کے رتھ ہیں ۔
۱۷ یشوع نے بنی یوسف یعنی افرائیم اور منسی سے کہا کہ تم بڑی قوم ہو او ر بڑا زور رکھتے ہو ۔سو تمہارے لئے فقط ایک ہی حصہ نہ ہوگا ۔
۱۸ بلکہ یہ کوہستانی ملک بھی تمہارا ہو گا کیونکہ اگرچہ وہ جنگل ہے تم اسے کاٹ کر صاف کر ڈالنا اور اس کے مخارج بھی تمہارے ہی ٹھہریں گے کیونکہ تم کنعانیوںکو نکال دو گے اگرچہ ان کے پاس لوہے کے رتھ ہیں اور وہ زور آور بھی ہیں ۔