یشوؔع ۱۰

ط۔ جنوبی مہمات (‏باب ۱۰)‏

۱۰:‏۱۔۶ باب دس میں جنوبی مہمات کا ذکر کیا گیا ہے۔ جب پانچ کنعانی شہروں کے بادشاہوں نے سنا کہ جبعونیوں نے اِسرائیلیوں سے صلح کر لی‏، تو اُنہیں احساس ہوا کہ اِس سے مرکزی کوہستانی علاقے غیر محفوظ ہو گئے‏، چنانچہ اُنہوں نے جبعون پر حملہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ جبعونیوں نے فوجی معاونت کے لئے یشوع سے درخواست کی۔

۱۰:‏۷‏،۸ ایک بار پھر خداوند کے منہ سے یشوع نے وہی تسلی بخش کلمات سنے:‏ ’’اُن سے مت ڈر۔‘‘ اُس نے یہ الفاظ یریحو کی فتح اور عی کی کامیاب گھات سے پہلے سنے تھے۔ دشمنوں کی تعداد کے باوجود یہ الفاظ فتح کی یقین دہانی تھے۔ 

۱۰:‏۹۔۱۱ خداوند کی طرف سے فتح کی یقین دہانی کے بعد یشوع نے جبعون کے مقام پر دشمنوں کی فوجوں کا مقابلہ کر کے اُنہیں بھگا دیا۔ دشمن کی تباہی کے سلسلے میں دو معجزات رُونما ہوئے۔ اوّلاً بہت بڑے ژالہ باری کے طوفان سے بہت زیادہ جنگی مرد مر گئے اور یہ اُس تعداد سے زیادہ تھے‏، جنہیں اِسرائیل نے قتل کیا۔ ملاحظہ فرمایئے کہ اَولوں نے صرف دشمنوں کو مارا۔

۱۰:‏۱۲۔۱۵ پھر یشوع کی درخواست پر سورج اور چاند ٹھہرے رہے تاکہ اِسرائیلیوں کو اپنے دشمنوں کا تعاقب کرنے کے لئے زیادہ وقت مل جائے۔ اِس سے پیشتر کہ وہ اپنے فصیل دار شہروں میں چھپ جائیں۔ یہ لغوی طور پر تصریحی زُبان ہے کہ سورج اور چاند ٹھہرے رہے۔ جیسے ہم کہتے ہیں کہ سورج ڈوب گیا ہے۔ اِس سلسلے میں مختلف تشریحات پیش کی گئی ہیں کہ حقیقت میں اِس وقت کیا وقوع پذیر ہوا۔ لیکن یہی جاننا کافی ہے کہ یہ ایک معجزہ تھا‏، تاکہ جنگ کرنے کے لئے طویل دن مل جائے۔ سپرجن (‏Spurgeon)‏ کہتا ہے:‏

’’یہ سوال کرنا ہمارا کام نہیں کہ اُس نے یہ کیسے کیا … اور یہ بھی ہمارا کام نہیں کہ معجزات میں کسی طرح کی کمی کریں بلکہ اِن معجزات کے لئے خدا کا جلال ظاہر کریں۔‘‘

آشر کی کتاب (‏آیت ۱۳)‏ کا یہ مطلب بھی ممکن ہے کہ ’’راست باز کی کتاب۔‘‘ آج کل اِس نام کی ایسی کوئی کتاب موجود نہیں اور بے شک یہ اِلہامی کتاب نہیں تھی۔

یہ جنگ اِسرائیلیوں کے لئے نہایت بڑا کام تھا۔ وہ ساری رات چلتے رہے اور تاریخ میں طویل ترین دن میں لڑتے رہے۔ اُنہوں نے اپنی قوت سے بڑھ کر محنت کی‏، تاہم یہ فتح خداوند کی تھی (‏آیات ۱۰‏،۱۱)‏۔ میتھیو ہنری (‏Matthew Henry)‏اِس ضمن میں کہتا ہے:‏

’’یشوع کو کیا ضرورت پڑی تھی کہ وہ اور اُس کے لوگ اِس قدر طویل وقت تک لڑتے؟ کیا خدا نے اُس سے وعدہ نہیں کیا تھا کہ وہ اُس کے دشمنوں کو اُس کے ہاتھوں میں کر دے گا؟ یہ سچ ہے کہ اُس نے یہ وعدہ کیا تھا۔ لیکن خدا کے وعدوں کا مقصد یہ نہیں کہ ہم سُست پڑ جائیں بلکہ یہ کہ ہم اَور بھی جاں فشانی کریں۔‘‘

۱۰:‏۱۶۔۲۷ پانچ بادشاہوں کو مقیدہ کے مقام پر ایک غار میں بند کر دیا گیا‏، بعد ازاں اُنہیں قتل کر کے اُن کی لاشوں کو درختوں پر ٹانگ دیا گیا‏، اور بالآخر اُنہیں غار میں دفن کر دیا گیا۔

۱۰:‏۲۸۔۳۹ اِس کے بعد یشوع نے کنعانی شہروں مقیدہ (‏آیت ۲۸)‏‏، لِبناہ (‏آیات ۲۹‏،۳۰)‏‏، لکیس (‏آیات ۳۱‏،۳۲)‏‏، جزر (‏آیت ۳۳)‏‏، عجلُون (‏آیات ۳۴‏،۳۵)‏‏، حبرون (‏آیات ۳۶‏،۳۷)‏ اور دبِیر (‏آیات ۳۸‏،۳۹)‏ کو فتح کیا۔ آیت ۳۷ میں مذکور حبرون کابادشاہ‏، آیت۲۶میں قتل کئے ہوئے بادشاہ کا جانشین تھا۔ 

۱۰:‏۴۰۔۴۳ اِن آیات میں جنوبی مہمات کا خلاصہ پیش کیا گیا ہے۔ اِس باب میں تباہی کو عمومی معنوں میں لیا جائے۔ جیسے کہ ہیلی (‏Haley)‏ کہتا ہے:‏

’’یشوع نے بڑی تیزی سے اِس علاقے میں کامیابی حاصل کی اور اِس کی آبادی کو کُلی طور پر ختم کر دیا گیا۔ جن کا اُس نے تعاقب کیا اُنہیں اُس نے ہلاک کر دیا‏، لیکن اُس نے ممکنہ چھپنے کی جگہوں کی تلاشی نہ لی۔ اور یہ کام ہر ایک قبیلے پر چھوڑ دیا گیا کہ وہ اپنی میراث میں تلاش کرنے کی ذمہ داری سنبھالے۔‘‘

مقدس کتاب

۱ اور یروشلِیم کے بادشاہ اُدونی صدق نے سنا کہ یشوع نے عی کو سر کر کے اسے نیست و نابُودکر دیا اور جیسا اس نے یریحو اور وہاں کے بادشاہ سے کیا ویسا ہی عیاور اس کے بادشا ہ سے کیا اور جبعون کے باشندوں نے بنی اسرائیل سے صلح کر لی اور ان کے درمیان رہنے لگے ہیں۔
۲ تو وہ سب بہت ہی ڈرے کیونکہ جبعون ایک بڑا شہر بلکہ شہروں میں سے ایک کی مانند اور عی سے بڑا تھا اور اس کے سب مرد بڑے بہادر تھے۔
۳ اس لئے یروشلِیم کے بادشاہ اُدونی صدق نے حبرون کے بادشاہ ہُوہام اور یرموت کے بادشاہ پِیرام اور لکِیس کے بادشاہ یافیع اور عجلون کے بادشاہ دبِیرکو یوں کہلا بھیجا کہ۔
۴ میرے پاس آو اور میری کُمک کرو اور چلو ہم جبعون کو ماریں کیونکہ اُس نے یشوع اور بنی اسرائیل سے صلح کر لی ہے۔
۵ اس لئے اموریوں کے پانچ بادشاہ یعنی یروشلِیم کا بادشاہ اور حبرون کا بادشاہ اور یرموت کا بادشاہ اور لکِیس کا بادشاہ اور عجلونکا بادشاہ اِکٹھے ہوئے اور انہوں نے اپنی سب فوجوں کے ساتھ چڑھائی کی اور جبعون کے مُقابل ڈیرے ڈال کر اس سے جنگ شروع کی۔
۶ تب جبعون کے لوگوں نے یشوع کو جو جلجال میں خیمہ زن تھا کہلا بھیجا کہ اپنے خادموں کی طرف سے اپنا ہاتھ مت کھینچ ۔جلد ہمارے پاس پہنچ کر ہم کو بچا اور ہماری مدد کر اسلئے کہ سب اموری بادشاہ جو کوہستانی ملک میں رہتے ہیں ہمارے خلاف اکھٹا ہو ئے ہیں ۔
۷ تب یشوع سب جنگی مردوں اور سب زبردست سورماﺅں کو ہمرا لیکر جلجال سے چل پڑا ۔
۸ اور خداوند نے یشوع سے کہا ان سے نہ ڈر ۔اس لئے کہ میںنے ان کوتیرے ہاتھ میں کر دیا ہے ۔ان میں سے ایک مرد بھی تیرے ساتھ کھڑا نہ رہ سکے گا ۔
۹ پس یشوع راتوں رات جلجال سے چل کر ناگہان ان پر آن پڑا ۔
۱۰ اور خداوند نے ان کو بنی اسرائیل کے سامنے شکست دی اور اس نے ان کو جبعون میں بڑی خونریزی کے ساتھ قتل کیا اور بیت خورون کی چڑھائی کے راستہ پر انکو رگیدا اور عزیقاہ اور مقیدہ تک انکو مارتا گیا ۔
۱۱ اور جب وہ اسرائیلیوں کے سامنے سے بھاگے اور بیت خورون کے اتار پر تھے توخداوند نے عزیقاہ تک آسمان سے ان پر بڑے بڑے پتھر برسائے اور وہ مر گئے اور جو اولوں سے مرے وہ ان سے جنکو بنی اسرائیل میں تہ تیغ کیا کہیں زیادہ تھے ۔
۱۲ اور اس دن جب خداوند نے اموریوں کو بنی اسرائیل کے قابو میں کر دیا یشوع نے خداوند کے حضور بنی اسرائیل کے سامنے یہ کہا ۔ اے سورج !تو جبعون پر اور اے چاند!تو وادی ایالون میں ٹھہرا رہ۔
۱۳ اور سورج ٹھہر گیا اور چاند تھما رہا جب تک قوم نے اپنے دشمنوں سے اپنا انتقام لے لیا ۔کیا یہ آشر کی کتاب میں نہیں لکھا ہے ؟اور سورج آسمان کے بیچوں بیچ ٹھہر ا رہا اور تقریباََ سارے دن ڈوبنے میں جلدی نہ کی ۔
۱۴ اور ایسا دن نہ کبھی اس سے پہلے ہوا اور نہ اسکے بعد جس میں خداوند نے کسی آدمی کی بات سنی ہو کیونکہ خداوند اسرائیلیوں کی خاطر لڑا ۔
۱۵ پھر یشوع اور اسکے ساتھ سب اسرائیلی جلجال کو خیمہ گاہ میں لوٹے ۔
۱۶ اور وہ پانچوں بادشاہ بھاگ کر مقیدہ کے غار میںجا چھپے ۔
۱۷ اور یشوع کو یہ خبر ملی کہ وہ پانچوں بادشاہ مقیدہ کے غار میں چھپے ہو ئے ملے ہیں۔
۱۸ یشوع نے حکم کیا کہ بڑے بڑے پتھر ا س غار کے منہ پر لڑھکا دو اور آدمیوں کو اسکے پاس ان کی نگہبانی کے لئے بٹھا دو ۔
۱۹ پر تم نہ رکو ۔تم اپنے دشمنوں کا پیچھا کر و اور ان میں کے جو جو بچھڑ گئے ہیں ان کو مار ڈالو ۔ان کو مہلت نہ دو کہ اوہ اپنے اپنے شہر میں داخل ہوں ۔اس لئے خداوندتمہارے خدا نے ان کو تمہارے قبضہ میں کر دیا ہے ۔
۲۰ اور جب یشوع اور بنی اسرائیل بڑی خونریزی کے ساتھ ان کو قتل کر چکے یہاں تک کہ وہ نیست ونابود ہو گئے اور وہ جو ان میں سے باقی بچے فیصل دار شہر وں میں داخل ہو گئے ۔
۲۱ تو سب لوگ مقیدہ میں یشوع کے پاس لشکر گاہ کو سلامت لوٹے اورکسی نے بنی اسرائیل میں سے کسی کے بر خلاف زبان نہ ہلائی ۔
۲۲ پھر یشوع نے حکم دیا کہ غار کا منہ کھولو اورو ان پانچوں بادشاہوں کو غار سے باہر نکال کر میرے پاس لا ؤ۔
۲۳ انہوں نے ایسا ہی کیا اور وہ ان پانچوں بادشاہوں کو یعنی شاہ یروشلیم اور شاہ حبرون اور شاہ یرموت اور شاہ لکیس اور شاہ عجلون کو غار سے نکال کر ا س کے پاس لائے ۔
۲۴ اور جب وہ ان کو یشوع کے سامنے لائے تو یشوع نے سب اسرائیلیوں کو بلوایا اور ان جنگی مردوں کے سرداروں سے جو اس کے ساتھ گئے تھے یہ کہا کہ نزدیک آکر اپنے اپنے پاﺅں ان بادشاہوں کی گردنوں پر رکھو ۔ا نہوں نے نزدیک آکر انکی گردنوں پر اپنے اپنے پاؤں رکھے ۔
۲۵ اور یشوع نے ا ن سے کہا خوف نہ کرو اور ہراساں مت ہو ۔مضبوط ہو جاﺅ اور حوصلہ رکھو اس لئے کہ خداوند تمہارے سب دشمنوں سے جن کا مقابلہ تم کرو گے ایسا ہی کریگا ۔
۲۶ اس کے بعد یشوع نے ان کو مارا اور قتل کیا اور پانچ درختوں پر ان کو ٹانگ دیا ۔سو وہ شام تک درختوں پر ٹنگے رہے ۔
۲۷ اور سورج ڈوبتے وقت انہوں نے یشوع کے حکم سے انکو درختوں پر سے اتار کر اسی غار میں جس میں وہ جا چھپے تھے ڈال دیا اور غار کے منہ پر بڑے بڑے پتھر دھر دئے جو آج تک ہیں ۔
۲۸ اور اسی دن یشوع نے مقیدہ کو سر کر کے اسے تہ تیغ کیا اور اس کے بادشاہ کو اور اس کے سب لوگوں کو بالکل ہلاک کر ڈالا اور ایک کو بھی باقی نہ چھوڑا اور مقیدہ کے بادشاہ سے اس نے وہی کیا جو یریحو کے بادشاہ سے کیا تھا ۔
۲۹ پھر یشوع اور اس کے ساتھ سب اسرائیلی مقیدہ سے لبناہ کو گئے اور وہ لبناہ سے لڑا۔
۳۰ اور خداوند نے اس کو بھی بنی اسرائیل کے ہاتھ میں کر دیا اور اس نے اسے اور اس کے سب لوگوں کو تہ تیغ کیا اور ایک کو بھی باقی نہ چھوڑا اور وہاں کے بادشاہ سے ویسا ہی کیا جو یریحو کے بادشاہ سے کیا تھا ۔
۳۱ پھر لبناہ سے یشوع اور اس کے ساتھ سب اسرائیلی لکیس کو گئے اور اسکے مقابل ڈیرے ڈال لئے اور وہ اس سے لڑا ۔
۳۲ اور خداوند نے لکیس کو اسرائیل کے قبضہ میں کر دیا ۔اس نے دوسرے دن اس پر فتح پائی اور اسے تہ تیغ کیا اور سب لوگوں کو جو اس میں تھے قتل کیا جس طرح اس نے لبناہ سے کیا تھا ۔
۳۳ اس وقت جزر کا بادشاہ ہورم لکیس کی کمک کو چڑھ آیا ۔سو یشوع نے اس کو اور اس کے آدمیوں کو مارا یہاں تک کہ اس کا ایک بھی جیتا نہ چھوڑا۔
۳۴ اور یشوع اور اس کے ساتھ سب اسرائیلی لکیس عجلون کو گئے اورا س کے مقابل ڈیرے ڈال کر اس سے جنگ شروع کی۔
۳۵ اور اسی دن اسے سر کر لیا اور اسے تہ تیغ کیا اور ان سب لوگوں کو جو اس میں تھے اس نے اسی دن بالکل ہلاک کر ڈالا جیسا اس نے لکیس سے کیا تھا۔
۳۶ پھر عجلون سے یشوع اور اسکے ساتھ سب اسرائیلی حبرون کو گئے اور اس سے لڑے ۔
۳۷ اور انہوں نے اسے سر کر کے اسے اور اس کے بادشاہ اور اس کی سب بستیوں اور وہاں کے سب لوگوں کو تہ تیغ کیا اور جیسا اس نے عجلون سے کیا تھا ایک کو بھی جیتا نہ چھوڑا بلکہ اسے وہاں کے سب لوگوں کو بالکل ہلاک کر ڈالا ۔
۳۸ پھر یشوع اور اس کے ساتھ سب اسرائیلی دبیر کو لوٹے اور اس سے لڑے ۔
۳۹ اور اس نے اسے اور اسکے بادشاہ اور اس کی سب بستیوں کو فتح کر لیا اور انہوں نے ان کو تہ تیغ کیا اور سب لوگوں کو جو اس میں تھے بالکل ہلاک کر دیا ۔اس نے ایک بھی باقی نہ چھوڑا جیسا اس نے حبرون اور اس کے بادشاہ سے کیا تھا ویسا ہی دبیر اور اس کے بادشاہ سے کیا ۔ایسا ہی اس نے لبناہ اور اس کے بادشاہ سے بھی کیا تھا ۔
۴۰ سو یشوع نے سارے ملک کو یعنی کوہستانی ملک اور جنوبی قطعہ اور نشیب کی زمین اور دھلانوں اور وہاں کے سب بادشاہوں کو مارا ۔اس نے ایک کو بھی جیتا نہ چھوڑا بلکہ وہاں کے ہر متقس کو جیسا خداوند اسرائیل کے خدا نے حکم کیا تھا بالکل ہلاک کر ڈالا ۔
۴۱ اور یشوع نے ان کو قادس پر نیع سے لے کر غزہ تک اور جشن کے سارے ملک کے لوگوں کو جبعون تک مارا ۔
۴۲ اور یشوع نے ان بادشاہوں پر ان کے ملک پر ایک ہی وقت میں تسلط حاصل کیا اس لئے کہ خداوند اسرائیل کا خدااسرائیل کی خاطر لڑا ۔
۴۳ پھر یشوع اور سب اسرائیلی ا س کے ساتھ جلجال کو خیمہ گاہ میں لوٹے ۔