۲۔ موعودہ ملک میں نوآبادی (ابواب ۱۳۔۲۱)
الف۔ ممالک جن پر قبضہ کرنا ابھی باقی تھا (۱۳:۱۔۷)
۱۳:۱۔۶ یشوع اب بوڑھا ہو چکا تھا، لیکن اسرائیلیوں سے وعدہ کئے ہوئے پورے علاقے پر اُن کا قبضہ نہیں ہوا تھا۔ آیات ۲۔۶ میں شمال مغرب اور شمال مشرق میں اُن علاقوں کا ذکر ہے جن میں ابھی تک غیر قوم بسے ہوئے تھے۔ ہم جانتے ہیں کہ فرات سے مشرق کے علاقے کا بھی یہودیوں سے وعدہ کیا گیا تھا، لیکن اِس پر اُن کا کبھی بھی قبضہ نہ ہوا۔
۱۳:۷ خداوند نے یشوع کو حکم دیا کہ جو علاقہ فتح ہو چکا ہے اُسے نو قبائل اور منسی کے آدھے قبیلے میں تقسیم کر دیا جائے۔
ب۔ زمین کی تقسیم (۱۳:۸۔۱۹:۵۱)
(۱) رُوبن، جد اور منسی کے نصف قبیلے کی میراث (۱۳:۸۔۳۳)
دریائے یردن کے مشرق میں اڑھائی قبیلوں میں پہلے ہی زمین تقسیم کی جا چکی تھی۔ تقسیم یوں تھی: اڑھائی قبیلوں کا کُل مقبوضہ علاقہ (آیات۸۔۱۳)، رُوبن (آیات۱۵۔۲۳)، جد (آیات ۲۴۔۲۸) اور منسی کے آدھے قبیلے کے لئے (آیات ۲۹۔۳۱)۔
لاوی کو کوئی میراث نہ ملی (آیت ۱۴) کیونکہ وہ کہانتی قبیلہ تھا۔ اُن کی میراث خداوند ہی تھا (آیت ۳۳)۔
لاوی کے قبیلے کو میراث نہ دینے کے باعث گیارہ قبائل رہ گئے۔ لیکن یوسف کے دو بیٹوں افرائیم اور منسی کو یوسف کی جگہ شامل کیا گیا۔ یوں پھر تعداد بارہ ہو گئی۔ یوسف کے لڑکوں کو میراث میں شامل کرنے کی وجہ یہ تھی کہ یعقوب نے اپنے اِنتقال سے پہلے اُنہیں لے پالک بنا لیا تھا (پیدائش ۴۸:۵)۔
اِس اَمر کا خصوصی طور پر ذکر کیا گیا ہے کہ جن کو یردن کے پار قتل کیا گیا اُن میں بلعام بھی شامل تھا (آیت ۲۲)۔ خداوند ابھی تک نہیں بھولا تھا کہ اِس شریر نبی نے کس قدر اُس کی اُمت کو خوف ناک مشکل میں ڈالا تھا (دیکھیں گنتی ۲۳ تا ۲۵ ابواب)۔ ’’یہ جان لو کہ تمہارا گناہ تمہیں پکڑے گا‘‘ (گنتی ۳۲:۲۳)۔
آیت ۲۵ میں ایک دلچسپ مسئلہ پیدا ہوتا ہے۔ جد کے قبیلے نے عمونیوں کی کچھ زمین پر قبضہ کر لیا تھا جس سے اِستثنا ۲:۱۹ میں منع کیا گیا تھا۔ لیکن اِس سے قبل اموریوں کے بادشاہ سیحون نے عمونیوں سے یہ علاقہ چھین لیا تھا۔ چنانچہ جب اِسرائیل نے سیحون سے یہ علاقہ لیا، اِس پر عمونیوں کا کسی صورت میں بھی قبضہ نہیں رہا تھا۔
آیت ۲۶ میں مذکور دبیر وہ شہر نہیں جس کا گذشتہ باب میں ذکر کیا گیا ہے۔ وہ شہر یردن کے مشرق میں تھا، جب کہ یہ شہر جسے یشوع نے فتح کیا، یردن کے مغرب میں تھا۔
مقدس کتاب
۱ اور یشوع بڈھا اور عمر رسیدہ ہوا اور خداوند نے اُس سے کہا کہ بڈھا اور عمر رسیدہ ہے اور قبضہ کرنے کو ابھی بہت سا ملک باقی ہے۔
۲ اور وہ ملک جو باقی ہے سو یہ ہے ۔ فِلستیوں کی سب اِقلیم اور سب جسوُری۔
۳ سیحُور سے جو مصر کے سامنے ہے شمال کی طرف عقروُنکی حد تک جو کنعانیوں کا گِنا جاتا ہے ۔ فِلستیوں کے پانچ سردار یعنی غزی اور اشدوُدی اور اسقلونی اور جاتی اور عقرونی اور عویم بھی۔
۴ جو جنوب کی طرف ہے اور کنعانیوں کا سارا ملک مغارا جو صیدانیوں کا ہے ۔ اِفیق یعنی اموریوں کی سرحد تک ۔
۵ اور جبلیوں کا ملک اور مشرق کی طرف بعل جد سے جو کوہ حرمون کے نیچے ہے حمات کے مدخل تک سارا لُبنان ۔
۶ پھر لُبنان سے مسِرفات المائم تک کوہستانی ملک کے سب باشندے یعنی سب صَیدانی ۔ان کو میں بنی اسرائیل کے سامنے سے نکال ڈالونگا سو فقط جیسا میں نے تجھے حکم دیا ہے میراث کے طورپر اسے اسرائیلیوں کو تقسیم کر دے
۷ سو تو اس ملک کو ان نو قبیلوں اور منسی کے آدھے قبیلہ کو میراث کے طور پر بانٹ دے ۔
۸ منسی کے ساتھ بنی روبن اور بنی جد نے اپنی اپنی میراث پالی تھی جسے موسیٰ نے یردن کے اس پار مشرق کی طرف ان کو دیا تھا کیونکہ خداوند کے بندہ موسیٰ نے اسے ان ہی کو دیا تھا یعنی ۔
۹ عروعیر سے جو وادیِ ارنون کے کنارے واقع ہے شروع کر کہ وہ شہر جو وادی کے بیچ میں ہے مِیدباکا سارا میدان دِیبون تک ۔
۱۰ اور اموریوں کے بادشاہ سیِحون کے سب شہر جو حسبون میں سلطنت کرتا تھا بنی عمون کی سرحد تک۔
۱۱ اور جلعاد اور جسوریوں اور معکاتیوں کی نواحی اور سارا کوہِ حرمون اور سارا بسن سلکہ تک ۔
۱۲ اور عوج جو رفائیم کی بقیہ نسل سے تھا اور عستارات اور ادرعی میں حکمران تھا اسکا سارا علاقہ جو بسن میں تھا کیونکہ موسی نے انکو مار کر خارج کردیا تھا۔
۱۳ تو بھی بنی اسرائیل نے جسوریوںاور معکاتیوں کو نہیں نکالا چُنانچہ جسورِی اور معکاتی آج تک اسرائیلیوں کے درمیان بسے ہوئے ہیں۔
۱۴ فقط لاوی کے قبیلہ کو اس نے میراث نہیں دی کیونکہ خداوند اسرائیل کے خدا کی آتشِین قربانیاں اسکی میراث ہیں جیسا اس نے اس سے کہا تھا۔
۱۵ اور موسی نے بنی رُوبن کے قبیلہ کو انکے گھرانوں کے مطابق میراث دی۔
۱۶ اور انکی سرحد یہ تھی عروعیر سے جو وادی ارنوں کے کنارے واقع ہے اور وہ شہر جو وادی کے بیچ میں ہے اور میِدبا کے پاس کا سارا میدان ۔
۱۷ حسبون اور اسکے سب شہر جو میدان میں ہیں۔دیبون اور بامات بعل اور بیت بعل معون۔
۱۸ اور یہصاہ اور قدیمات اور مفعت ۔
۱۹ اور قریتائم اورر سِبماہ اور ضرة السحرجو وادی کے کوہ میں ہے۔
۲۰ اور بیت فغور اور پِسگہ کے دامن کی زمین اور بیت یسیموت۔
۲۱ اور میدان کے سب شہر اور اموریوں کے بادشاہ سیحون کا سارا ملک جو حسبون میں سلطنت کرتا تھا جسے موسی نے مدیان کے رئیِسون اوی اور رقم اور صُور اور حوُر اورر ربع سیِحون کے ریئسوں سمیت جو اس ملک بستے تھے قتل کیا تھا۔
۲۲ اور بعور کے بیٹے بلعام کو بھی جو بخومی تھا بنی اسرائیل نے تلوار سے قتل کرکے انکے مقتوُلوں کے ساتھ ملاِدیا تھا۔
۲۳ اور یردن اور اسکی نواحی بنی رُوبن کی سرحد تھی ۔یہی شہر اور انکے گاﺅں بنی رُوبن کے گھرانوں کے مطابق انکی میراث ٹھہرے۔
۲۴ اور موسی نے جد کے قبیلہ یعنی بنی جد کو انکے گھرانوں کے مطابق میراث دی۔
۲۵ اور انکی سرحد یہ تھی ۔یعزیر اور جلعاد کے سب شہر اور بنی عمون کا آدھا ملک عروعیر تک جو ربہ کے سامنے ہے۔
۲۶ اور حسبون سے رامت المصفاہ اور بطُونیم تک اور محنایم سے دبِیر کی سرحد تک۔
۲۷ اور وادی میں بیت ہارم اور بیت نِمرہ اور سُکات اور صفون یعنی حسبون کے بادشاہ سیحون کی اقلیم کا باقی حصہ اور یردن کے پار مشرق کے طرف کِنرت کی جھیل کے اس سِرے تک یردن اور اسکی ساری نواحی ۔
۲۸ یہی شہر اور انکے گاﺅں بنی جد کے گھرانوں کے مطابق انکی میراث ٹھہرے۔
۲۹ اور موسی نے منسی کے آدھے قبیلہ کو بھی میراث دی ۔یہبنی منسی کے گھرانوں کے مطابق انکے آدھے قبیلہ کے لئے تھی۔
۳۰ اورانکی سرحد یہ تھی ۔محنایم سے لیکر سارا بسن اور بسن کے بادشاہ عوج کی تمام اقلیم اور یا یئِر کے سب قصبے جو بسن میں ہیں وہ ساٹھ شہر ہیں۔
۳۱ اور آدھا جلعاد اور عستارات اور ادرعی جو بسن کے بادشاہ عوج کے شہر تھے یہ منسی کے بیٹے مکیر کی اولاد کو ملے یعنی مکیر کی اولاد کے آدھے آدمیوں کو انکے گھرانوں کے مطابق یہ ملے۔
۳۲ یہ وہ حصے ہیں جن کو مو سیٰ نے یریحو کے پاس موآب کے میدانوں میں یردن کے اُس پار مشرق کی طرف میراث کے طور پر تقسیم کیا۔
۳۳ لیکن لاوی کے قبیلہ کو موسیٰ نے کوئی میراث نہیں دی کیونکہ خُداوند اسرائیل کا خُدا اُن کی میراث ہے جیسا اُس نے اُن سے خود کہا۔