ہ۔ مردم شماری اور وبا (باب ۲۱)
جب اِس باب کا ۲۔سموئیل ۲۴ باب سے موازنہ کیا جاتا ہے تو پہلے تو ہمیں پتا نہیں چلتا کہ داؤد کے مردم شماری کے گناہ کا محرک کون تھا۔ ۲۔سموئیل میں لکھا ہے کہ خداوند نے داؤد کو مردم شماری کے لئے اُبھارا کیونکہ اُس کا غصہ اسرائیل پر بھڑکا تھا۔ یہاں ہمیں بتایا گیا ہے کہ اِس عمل کے لئے شیطان نے اُسے اُبھارا۔ بہرحال دونوں بیانات درست ہیں۔ خدا نے شیطان کو اِجازت دی کہ وہ داؤد کو آزمائے۔ خدا بدی کا بانی نہیں، لیکن وہ اِس کی اِجازت دیتا ہے تاکہ اپنے مقررہ مقاصد کو پایۂ تکمیل تک پہنچائے۔
۲۱: ۱۔۷ یوآب شروع ہی سے مردم شماری کے خلاف تھا اور بادشاہ کے احکام کی تکمیل کے لئے سرگرمی کا اِظہار نہ کیا۔ لاویوں کو مردم شماری میں شامل نہ کیا گیا کیونکہ وہ سارے اِسرائیل میں بکھرے ہوئے تھے لہٰذا اُن کو گننا مشکل ہوتا۔ شاید بنیمین کا شمار نہ ہو سکا کیونکہ اُس قبیلے تک پہنچتے ہوئے مردم شماری میں رکاوٹیں حائل ہو گئی تھیں۔ لوگوں کی مردم شماری سے کوئی زرِ فدیہ اکٹھا نہ کیا گیا۔ داؤد کی نافرمانی اور تکبر سے خطر ناک نتائج پیدا ہوئے۔
۲۱: ۸۔۱۵ گو داؤد کا گناہ بڑا تھا لیکن اُس نے بڑی جلدی سے اپنے گناہ کا اِقرار کیا اور خداوند کے حضور خاکسار بن گیا۔ جب اُسے اُس کے گناہ کی سزاؤں میں سے اِنتخاب کے لئے کہا گیا تو اُس نے فیصلہ کیا کہ وہ خداوند کے ہاتھ میں پڑے کیونکہ وہ جانتا تھا کہ وہ رحیم ہے۔ وبا کے اِختتام سے قبل ستر ہزار مرد مارے گئے۔
شاید ہمیں یہ سزا سخت معلوم ہو۔ ہم سب کمزور ہیں اور ہم سب گناہوں میں گر جاتے ہیں، لیکن اِس واقعے میں وہ ابلیس کے قدیم گناہ یعنی تکبر میں پھنس گیا تھا۔ میتھیو ہنری ہم سب پر اِس کا اطلاق کرتا ہے:
’’اُسے اپنے لوگوں کی بہت زیادہ تعداد پر فخر تھا، لیکن الٰہی اِنصاف نے اِس تعداد کو کم کر دیا۔ ہم جس چیز کے سبب سے مغرور ہوتے ہیں، مناسب ہے کہ وہ ہم سے لے لی جائے، کمزور کر دی جائے یا ہمارے لئے دکھ کا باعث بن جائے۔‘‘
۲۱: ۱۶،۱۷ جب داؤد نے اپنی نظریں اُوپر اُٹھائیں تو اُس نے ایک خوف ناک منظر دیکھا کہ خداوند کا فرشتہ اُس کے پیارے یروشلیم پر ننگی تلوار بڑھائے کھڑا ہے۔ بعض لوگ جب کسی بڑے گناہ یا نافرمانی میں پکڑے جاتے ہیں تو اُن کی نسبت داؤد کا ردّ عمل اور جواب بہت اچھا تھا۔ ہنری کا چار نکاتی خلاصہ بیان کرتا ہے کہ داؤد نے تادیب و اصلاح کو کس طرح قبول کیا۔ اور ہم جو قائدین ہیں اُن کے لئے یہ نکات بہت معاونت کا باعث بن سکتے ہیں۔
- ’’ اُس نے بڑی تائب دلی سے اپنے گناہ کا اِقرار کیا، اور خلوصِ دلی سے اُس کی معافی کے لئے دعا کی (آیت ۸)۔ اَب اُس نے تسلیم کر لیا کہ اُس نے گناہ کیا تھا بلکہ بہت بڑا گناہ کیا تھا اور کہ اُس نے حماقت سے یہ کیا تھا۔ اُس نے التماس کی کہ اُس کی تادیب کی جائے تاکہ اُس کی بُرائی کی تلافی ہو جائے۔
- اُس نے اپنی بدی کی سزا کو قبول کیا۔ ’’تیرا ہاتھ میرے اور میرے باپ کے گھرانے کے خلاف ہو‘‘ (آیت ۱۷)۔ مَیں سزا کو قبول کرتا ہوں۔ چونکہ مَیں نے گناہ کیا ہے اِس لئے مَیں ہی دُکھ برداشت کروں، مَیں ہی گنہگار شخص ہوں اِس لئے تلوار کا رُخ میری طرف ہی ہو۔
- اُس نے اپنے آپ کو خدا کے رحم کے حوالے کر دیا (حالانکہ وہ جانتا تھا کہ خداوند اُس سے ناراض ہے) اور اُس کے ذہن میں کوئی ایسی بات نہیں تھی کہ خداوند اُس سے زیادتی کر رہا ہے۔ ’’ مَیں خداوند کے ہاتھ میں پڑوں کیونکہ اُس کی رحمتیں بہت زیادہ ہیں‘‘ (آیت ۱۳)۔ اچھے لوگوں سے خدا خفا ہی کیوں نہ ہو وہ پھر بھی اُس کی بھلائی کا یقین رکھتے ہیں۔ گو وہ مجھے مار بھی دے تو بھی مَیں اُس پر بھروسا کروں گا۔
- اُس نے اپنی قوم کے لئے رحم کا اِظہار کیا۔ جب اُس نے دیکھا کہ میرے ہی گناہ کے سبب سے میرے لوگ مارے جا رہے ہیں تو اُس کا دل چھد گیا۔‘‘ (میتھیو ہنری ۔ Matthew Henry)
۲۱: ۱۸۔۲۶ جاد کی معرفت خداوند نے داؤد کو ہدایت کی کہ وہ یبوسی اُرنان کے کھیت کو خریدے (۲۔سموئیل میں ارونا) اور وہاں قربان گاہ بنا کر قربانیاں گزرانے۔ اُرنان نے داؤد کو زمین بطور تحفہ دینی چاہی لیکن بادشاہ نے اِصرار کیا کہ وہ اِس کی قیمت ادا کرے گا۔ آیت ۲۴ ایک نہایت ہی اہم روحانی اصول ہے۔ موثر قربانیاں ہمیشہ نہایت قیمتی ہوتی ہیں۔ اِس کھلیان کی جگہ پر بعد ازاں ہیکل تعمیر کی گئی (۲۔تواریخ ۳:۱)۔
۲۱: ۲۷۔۳۰ یہاں کوہِ موریاہ پر ابرہام نے اپنے بیٹے اضحاق کی قربانی گزرانی (پیدائش ۲۲ باب)۔ یہیں وبا ختم ہو گئی، اور جیسا کہ ہم اِس باب میں پڑھتے ہیں خداوند نے فرشتے کو حکم دیا اور اُس نے تلوار میان میں کر لی۔ یہیں ہیکل تعمیر کی گئی اور ہمارا ایمان ہے کہ اِسی پہاڑی سلسلے پر (گو اِسی جگہ پر نہیں) ہمارا خداوند یسوع بنی نوعِ اِنسان کے گناہوں کے لئے صلیب پر موأ۔
شاید اِس احساس سے کہ یہ کھلیان پرستش کی نئی جگہ ہے، داؤد جبعون میں مزید راہنمائی کے لئے جانے سے باز آیا۔
مقدس کتاب
۱ اور شیطان نے اِسرائیل کے خلاف اُٹھکر داؤد کو اُبارا کہ اِسرائیل کا شمار کرے۔
۲ تب داؤد نے یُوآب سے اور لوگوں کے سرداروں سے کہا کہ جاؤ بریسبع سے دان تک اِسرائیل کا شمہار کرو اور مجھے خبر دو تاکہ مُجھے اُنکی تعداد معلوم ہو۔
۳ یُوآب نےکہا خُداوند اپنے لوگوں کو جتنے ہیں اپس سے سَو گُنا زیادہ کرے لیکن ا۔ے میرے مالک بادشاہ کیا وہ سب کے سب میرے مالک کے خادِم نہیں ہیں ؟ پھر میرا خُداوند یہ بات کیوں چاہتا ہے؟ وہ اِسرائیل کے لئے خطا کا باعِث کیوں بنے؟۔
۴ تو بھی بادشاہ کا فرمان یُوآب پر غالب رہا چُنانچہ یُوآب رُخصت ہوا اور تمام اِسرائیل میں پھرا اور یروشلیم کو لوَٹا۔
۵ یُوآب نے لوگوں کے شمُار کی میزان داؤد کو بتائی اور سب اِسرائیلی گیارہ لاکھ شمشیر زن مرد اور یہوُداہ چار لکھ ستر ہزار شمشیر زن مرد تھے۔
۶ لیکن اُس نے لاوی اور بنیمین کا شُمار اُنکے ساتھ نہیں کیا تھا کیونکہ بادشاہ کا حُکم یُوآب کے نزدیک نفرت انگیز تھا۔
۷ لیکن خُدا ا،س بات سے ناراض ہُؤااِسلئے اُس نے اِسرائیل کو مارا۔
۸ تب داؤد نے خُدا سے کہا کہ مُجھ سے بڑا گُنا ہُؤا کہ میں نے یہ کام کیا۔ اب میں تیری منِّت کرتا ہوں کہ اپنے بندہ کا قصور معُاف کر کیونکہ میں نے بیہودہ کام کیا ہے۔
۹ اور خُداوند نے داؤد کے غیب بین جاد سے کہا۔
۱۰ کہ جا کر داؤد سے کہہ خُداوند یُوں فرماتا ہے کہ میں تیرے سامنے تین چیزیں پیش کرتا ہوُں ۔ اُن میں سے ایک چُن لے تا کہ میں اُسے تجھ پر بھیجوں ۔
۱۱ سو جاؔد نے داؤد کے پاس آکر اُس سے کہا خُداوند یُوں فرماتا ہے کہ تُو جسے چاہے اُسے چُن لے۔
۱۲ یا تو قحط کے تین برس یا اپنے دُشمنوں کے آگے تین مہینے تک ہلاک ہوتے رہنا اَیسے حال میں کہ تیرے دُشمنوں کی تلوار رتجھ پر وار کرتی رہے یا تین دِن خُداوند کی تلوار یعنی مُلک میں وبارہے اور خُداوند کا فرشتہ اسرائیل کی سب سرحّدوں میں مارتا رہے اب سوچ لے کہ میں اپنے بھیجنے والے کو کیا جواب دُوں۔
۱۳ داؤد نے جاد سے کہا میں بڑے شکنجہ میں ہُوں ۔ مَیں خُداوند کے ہاتھ میں پڑوں کیونکہ اُسکی رحمتیں بُہت زیادہ ہیں ۔ لیکن اِنسان کے ہاتھ میں نہ پڑوُں۔
۱۴ سو خُداوند نے ا،سرائیل میں وبا بھیجی اور اِسرائیل میں سے ستر ہزار آدمی مرگئے ۔
۱۵ اور خُدا نے ایک فرشتہ یروشلیم کو بھیجا کہ اُسے ہلاک کرے اور جب وہ ہلاک کرنے ہی کو تھا تو خُداوند دیکھکر اُس بلا سے ملُول ہوا اور اُس ہلاک کرنے والے فرشتہ سے کہا بس اب اپنا ہاتھ کھینچ اور خُداوند کا فرشتہ یبوسی اُرنان کے کھلیہان کے پاس کھڑا تھا۔
۱۶ اور داؤد نے اپنی آنکھیں اُٹھا کر آسمان و زمین کے بیچ خُداوند کے فرشتہ کو کھڑے دیکھا اور اُسکے ہاتھ میں ننگی تلوار تھی جو یروشلیم پر بڑھائی ہوئی تھی ۔ تب داؤد اور بُزرگ ٹات اوڑھے ہُوئے منہ کے بل گِرے ۔
۱۷ اور داؤد نے خُدا سے کہا کیاکیا میں ہی نے حکم نہیں کیا تھا کہ لوگوں کا شمار کیا جائے ؟ بُناہ تو میں نے کیا اور بڑی شرارت مجھ سے ہُوئی پر اِن بھیڑوں نے کیا کیا ہے؟ اِے خُداوند میرے خُدا تیرا ہاتھ میرے اور میرے باپ کے گھرانے کے خِلاف ہو نہ کہ اپنے لوگو کے خلاف کہ وہ وبا میں مبُتلا ہو ں۔
۱۸ تب خُداوند کے فرشتہ نے جاد کو حکم کیا کہ داؤد سے کہے کہ داؤد جا کر یبوسی اُرنان کے کھلیہان میں خُداوند کے لئے ایک قُربانگاہ بنائے۔
۱۹ اور داؤد جاد کے کلام کے مُوافق جو اُس نے خُداوند کے نا م سے کہا تھا گیا۔
۲۰ اور اُرنان نے مُڑ کر اُس فرشتہ کو دیکھا اور اُسکے چاروں بیٹے جو اُکے ساتھ تھے چھپ گئے ۔ اُس وقت اُرنان گیہوں داؤتا تھا۔
۲۱ اور جب داؤد اُرنان کے پاس آیا تب اُرنان نے نِگاہ کی اور داؤد کو دیکھا اور کھلیہان سے باہر نکلکر داؤد کے آگے جُھکا اور زمین پر سر نگون ہوگیا۔
۲۲ تب داؤد نے اُرنان سے کہا کہ ا،س کھلیہان کی یہ جگہ مجھے دیدے تاکہ میَں ا،س میں خُداوند کے لئے ایک قرُبانگاہ بناؤں تُو اِسکا پُورا ادام لیکر مجھے دے تاکہ وبا لوگوں سے دُور کر دی جائے ۔
۲۳ اُرنان نے داؤد سے کہا تُو ا،سے لے لے اور میرا مالکِ بادشاہ جو کچھ اُسے بھالا معلوم ہو کرے دیکھ! میں اِن بیلوں کو سوختنی قُربانیوں کے لئے اور داؤنے کے سامان ایندھن کے لئے اور ییہ گیہوں نذر کی قُربانی کے لئے دیتا ہوُں۔ میں یہ سب کُچھ دِئے دیتا ہُوں ۔
۲۴ داآد بادشاہ نے اُرنان سے کہا نہیں نہیں بلکہ مَیں ضرور پُورا دام دیکر تجھ سے خرید لوُنگا کیونکہ مَیں اُسے جو تیرا مال ہے خُداودن کے لئے نہیں لینے ک اور نہ بغیر کرچ کئے سوختنی قرُبانی چڑھاؤنگا۔
۲۵ سو داؤد نے اُرنان کو اُس جگہ کے لئے چھ سَو مثقال سونا تول کر دیا۔
۲۶ اور داؤد نے وہاں خُداوند کے لئے مذبح بنایا اور سوختنی قُربانیاں اور سلامتی کی قُربانیاں چڑھائیں اور خُداوند سے دُعا کی اور اُس نے آسمان پر سے سوختنی قُربانی کے مذبح پر آگ بھیجکر اُسکو جواب دِیا۔
۲۷ اور خُداوند نے اُس فرشتہ کو حکم دیا ۔ تب اُس نے اپنی تلوار پھر میان میں کرلی۔
۲۸ اُس وقت جب داؤد نے دیکھا کہ خُداوند نے یبوُسی اُرنان کے کھلیہان میں اُسکو جواب دیا تھا تو اُو نے وہیں قُربانی چڑھائی ۔ کیونکہ اُس وقت خُداوند کا مسکن جِسے موُسیٰ نے بیابان میں بنایا تھا اور سوختنی قُربانی کا مذبھ جبعون کی اُنچی جگہ میں تھے۔
۲۹ لیکن داؤد خُدا سے پُوچھنے کے لئے اُسکے آگے نہ جا سکا کیونکہ وہ خُداوند کے فرشتہ کی تلوار کے سبب سے ڈر گیا۔
۳۰