۱۔تواریخ ۱۷

ج۔ ہیکل کی تعمیر کے لئے داؤد کی خواہش اور خدا کا جواب (‏باب ۱۷)‏

باب ۱۷ کو تین حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے:‏ خدا کے لئے گھر بنانے کی داؤد کی خواہش (‏آیات ۱‏،۲)‏۔ داؤد کے لئے گھر بنانے کے لئے خدا کا عزم (‏آیات ۳۔۱۵)‏ اور داؤد کی جوابی دعا (‏آیات ۱۶۔۲۷)‏۔ ۲۔سموئیل ۷ باب اِس کے مشابہ باب ہے۔ 

۱۷:‏ ۱۔۴ داؤد نے ناتن نبی کو بتایا کہ وہ اِس بات سے خوش نہیں کہ وہ خود تو ایک عالی شان محل میں رہے جب کہ عہد کا صندوق خیمے میں ہے۔ خداوند کے لئے گھر بنانے کی ناتن نے جلد بازی سے تصدیق کر دی۔ لیکن خداوند نے نبی کی اِس غلطی کی تصحیح کی:‏ داؤد وہ شخص نہیں جسے اِس کام کے لئے چنا گیا ہے۔ 

۱۷:‏ ۵‏،۶ عہد کے صندوق کو کبھی بھی کسی گھر میں نہیں بلکہ خیمے میں رکھا گیا۔ نہ ہی خدا نے کبھی یہ حکم دیا تھا کہ اُس کے لئے ایسا گھر بنایا جائے۔ داؤد نے بعد ازاں اپنے بیٹے سلیمان پر اِس حقیقت کا اِنکشاف کیا‏، جس کا یہاں ذکر نہیں کیا گیا۔ داؤد کو ہیکل کی تعمیر کا اہل قرار نہ دیا گیا کیونکہ اُس نے بہت زیادہ تشدد کیا تھا اور اُس نے بہت خون بہایا تھا (‏۲۲:‏ ۷‏،۸)‏۔ یہ کام اُس کے بیٹے کے لئے چھوڑا گیا جو ’’مردِ صلح‘‘ ہو گا کہ وہ خداوند کے صندوق کے لئے گھر بنائے۔

۱۷:‏ ۷۔۱۵ جیسا کہ خدا ماضی میں اپنے فضل سے بزرگوں سے ہم کلام ہوا بعینہٖ اب بھی وہ اِسرائیل کے چرواہے بادشاہ کو پُرفضل برکتوں کا ذکر کرتا ہے۔ اِن غیر مشروط وعدوں کو عہد داؤدی کے نام سے موسوم کیا گیا ہے۔ ۲۔سموئیل ۷:‏ ۱۲۔۱۷ اور زبور ۸۹ میں اِس عہد کو بیان کیا گیا ہے۔ جان والو رڈ (‏Valvoord)‏ اِس کی شرائط کا خلاصہ پیش کرتا ہے:‏

’’داؤد کے عہد میں درج ذیل برکات شامل ہیں

  1. داؤد کے صلب سے ایک بیٹا پیدا ہو گا جو اُس کا جانشین ہو گا اور اُس کی سلطنت کو اِستحکام بخشے گا۔
  2. داؤد کے بجائے بیٹا (‏سلیمان)‏ ہیکل کو تعمیر کرے گا۔
  3. اُس کی سلطنت کا تخت ابد تک قائم رہے گا۔
  4. اُس کا تخت اُس (‏سلیمان)‏ سے نہیں لیا جائے گا‏، حالانکہ اُس کے گناہوں کے سبب سے اُسے تادیب کی ضرورت ہو گی۔
  5. داؤد کا گھرانا‏، تخت اور بادشاہت ابد تک قائم رہے گی۔‘‘

خدا کے دیگر غیر مشروط عہود کی طرح یہ عہد اُس کے بنی نوعِ اِنسان سے تعلقات میں ایک اہم کردار ادا کرتا ہے۔ اِس کا کتابِ مقدس میں کئی اَور مقامات پر ذکر کیا گیا ہے (‏مثلاً یسعیاہ ۹؛ یرمیاہ ۲۳:‏۳۳؛ حزقی ایل ۳۷؛ زکریاہ ۱۴)‏۔ اِس کی کُلی تکمیل خداوند یسوع مسیح میں ہو گی جو ابد تک تخت اور بادشاہت کا وارث ہو گا۔ 

۱۷:‏ ۱۶۔۲۷ اِن باتوں کو سن کر داؤد خداوند کے حضور میں گیا اور پُرایمان دعا میں اپنا دل اُنڈیل دیا۔ خداوند کے حضور جواب میں داؤد کی دو نمایاں خصوصیات نظر آتی ہیں‏، یعنی اُس کی اِنکساری اور اُس کا خداوند پر بھروسا۔ آیات ۱۶‏،۱۷ نے غلاموں کے تاجر اور بعد ازاں اِنجیل کے مبشر جان نیوٹن کو ایک مشہور روحانی گیت لکھنے کی تحریک دی ’’فضلِ عجیب۔‘‘ اُس نے بھی داؤد کی طرح اپنی کم مائیگی کو دیکھا‏، جسے خدا کے حقیقی اور عظیم فضل نے سربلند کیا۔ 

مقدس کتاب

۱ اور جب داؤد اپنے محل میں رہنے لگا تو اُس نے ناتنؔ نبی سے کہا میَں تو دیوارکے محل میں رہتا ہپوں پر خُداوند نے عہد کا صندوق خَیمہ میں ہے ۔
۲ ناتن نے داؤد سے کہا کہ جو کچھ تیرے دل میں ہے سو کر کیونکہ خُدا تیرے ساتھ ہے۔
۳ اور اُسی رات اَیسا ہُوا کہ خُدا کا کلام ناتن پر ناِزل ہوا کہ ۔ جا کر میرے بندہ داؤد سے کہہ کہ خُداوند کُوں فرماتا ہے کہ تُو میرے رہنے کے لئے گھر نہ بنانا ۔
۴
۵ کیونکہ جب سے میَں بنی اِسرائیل کو نِکال لایا آج کے دن تک میں نے کسی گھر مین سُکونت نہیں کی بلکہ خَیمہ بہ خَیمہ اور مسکن بہ مسکن پھرتا رہا ہوُں۔
۶ اُن جگہوں میں جہاں جہاں میں سارے اِسرائیل کے ساتھ پھرتا رہا کیا میِں نے اِسرائیلی قاضیوں میں سے جنکو میں نے حکم کیا تھا کہ میرے لوگوں کی گلہ بانی کریں کسی سے ایک حرف بھی کہا کہ تُم نے میرے لئے دیودار کا گھر کیوں نہیں بنایا؟۔
۷ پس تپو میرے بندہ داؔؤد سے یُوں کہنا کہ رب الافواج یوں فرماتا ہے کہ میَں نے تجھے بھیڑ سالے میں سے جب تُو بھیڑ بکریوں کے پیچھے پیچھے چلتا تھا لیا تا کہ تُو میری قَوم ا،سرائیل کا پیشوا ہو۔
۸ اور جہاں کہیں تو گیا میَں تیرے ساتھ رہا اور تیرے سب دُشمنوں کو تیرے سامنے سے کاٹ ڈالا ہے اور مَیں رُوی زمین کے بڑے بڑے آدمیوں کے نام کی مانند تیرا نام کردُونگا ۔
۹ اور میں اپنی قوم اسراؑیل کے ایک جگہ ٹھہراؤ نگا اور اُنکو قائیم کر دُونگا تا کہ اپنی جگہ بسے رہیں اور پھر ہٹائے نہ جائیں اور نہ شرارت کے فرزند پھر اُنکو دُکھ دینے پائینگے جَیسا شروع میں ہُوا۔
۱۰ اور اپس وقت بھی جب میں نے حکم دیا کہ میری قوم اِسرائیل پر قاضی مقُرر ہوں اور میَں تیرے سب دُشمنوں کو مغلوب کروُنگا۔ ماسِوا ا،سکے میَں تجھے بتاتا ہوں کہ خُداوند تیرے لئے ایک گھر بنائیگا ۔
۱۱ اور جب تیرے دِن پورے ہوجائینگے تاکہ تو اپنے باپ دادا کے ساتھ مِل جانے کو چلا جائے تو میں تیرے بعدتیری نسل کو تیرے بیٹوں میں سے برپا کروُنگا اور اُسکی سلطنت کو قائیم کرُونگا۔
۱۲ وہ میرے لئے گھر بنائیگا اور میَں اُسکا تخت ہمیشہ کے لئے قائم کرُونگا۔
۱۳ میں اُسکا باپ ہُونگا اور وہ میرا بیٹا ہوگا اور میں اپنی شفقت اُس پر سے نہیں ہٹاؤنگا جَیسے میں نے اُس پر سے نہیں ہٹاؤنگا جَیسے میں نے اُس پر سے جو تجھ سے پہلے تھا ہٹالی۔
۱۴ بلکہ میں اُسکو اپنے گھر میں اور اپنی مملکت میں ابد تک قائِم رکھونگا اور اُسکا تخت ابد تک ثابت رہیگا۔
۱۵ سو ناتن نے اِن سب باتوں اور اس ساری رویا کے مُطابق اَیسا ہی داؤد سے کہا ۔
۱۶ تب داؤد بادشاہ اندر جاکر خُداوند کے حُضُور بیٹھا اور کہنے لگا اَے خُداوند خُدا میں کون ہوُں اور میرا گھرانا کیا ہے کہ تو نے مجھکو یہاں تک پُہنچایا؟۔
۱۷ اور یہ اَے خُدا تیری نظر میں چھوتی بات تھی بلکہ تُو نے تو اپنے بندہ کے گھر کے حق میں آیندہ بہت دِنوں کا ذکر کیا ہے اور تُو نے اَے خُداوند خُدا مجھے اَیسا مانا کہ گویا میں بڑا منزلت والا آدمی ہُوں ۔
۱۸ بھلا داؤد تجھ سے اُس اِکرام کی نسبِت جو تیرے خادِم کا ہُوا اور کہا کہے؟ کیونکہ تپو اپنے بندہ کو جانتا ہے۔
۱۹ اَے خُداوند تُو نے اپنے بندہ کی خاطِر اپنی ہی مرضی سے اِن بڑے بڑے کاموں کو ظاہر کرنے کے لئے اتنی بڑی بات کی۔
۲۰ اَے خُداوند کو ئی تیری مانند نہیں اور تیرے سِوا جسے ہم نے اپنے کانوں سے سُنا ہے اَور کوئی خُدا نہیں ۔
۲۱ اور رُویِ زمین پر تیری قوم اِسرائیل کی طرح اور کوَنسی قوم ہے جسے خُدا نے جا کر اپنی اُمت بنانے کو آپ چُھڑایا تاکہ تپو اپنی اُمت کے سامنے سے جسے تُو نے مصرِ سے خلاصی بخشی قَوموں کو دُور کر کے بڑے اور مہیب کاموں سے اپنا نام کرے؟۔
۲۲ کیونکہ تُو نے اپنی قوم اِسرائیل کو ہمیشہ کے لئے اپنی قوم ٹھہرایا ہے اور تو آپ اَے خُداوند اُنکا خُدا ہوا ہے۔
۲۳ اور اب اَے خُداوند وہ بات جو تُو نے اپنے بندہ کے حق میں اور اُسکے گھرانے کے حق میں فرمائی ابد تک ثابت رہے اور جَیسا تُو نے کہا ہے وَیسا ہی کر۔
۲۴ اور تیرا نام ابد تک قائِم اور بُزرگ ہو تا کہ کہا جائے کہ ربُّ الافواج اِسرا ئیک کا خُدا ہے بلکہ وہ اِسرائیل ہی کے لئے خُدا ہے اور تیرے بندہ داؤد کا گھرانا تیرے حُضُور قائِم رہے۔
۲۵ کیونکہ تُو نے اَے میرے خُدا اپنے بندہ پر ظاہر کیا ہے کہ تُو اُسکے ل۴ے ایک گھر بنائیگا ۔ سو تیرے بندہ کو تیرے حُضُور دُعا کرنے کا حَوصلہ ہُوا ۔
۲۶ اور اَے خُداوند تُو ہی خُدا ہے اور تُو نے اپنے بندہ سے اِس بھلائی کا وعدہ کیا۔
۲۷ اور تجھے پسند آیا کہ تُو اپنے بندہ کے گھرانے کو برکت بخشے تاکہ وہ ابد تک تیرے حُضُور پایدار رہے کیونکہ تُو اَے خُداوند! برکت دے چُکا ہے ۔ سو وہ ابد تک مُبارک ہے۔