۱۴: ۱، ۲ جب داؤد کی سارے اسرائیل پر حکومت مستحکم ہو گئی تو صور کے بادشاہ حیرام نے سامان اور آدمی بھیجے تاکہ داؤد کے لئے گھر بنائیں۔ یہ ایک طویل اور قریبی دوستی کا آغاز تھا جو سلیمان کے دَور میں بھی قائم رہی۔
۱۴: ۳۔۷ داؤد نے زیادہ بیویاں کر کے خداوند کا گناہ کیا، کیونکہ اِسے واضح طور پر اِستثنا ۱۷:۱۷ میں منع کیا گیا تھا۔ تواریخ کی کتاب میں اِس خلاف ورزی کا بیان کرتے ہوئے اِس بات کا ذکر نہیں کیا گیا کہ یہ گناہ ہے۔ آیت ۴ میں جن چار بچوں کا ذکر ہے وہ بت سبع کے بیٹے تھے (۱۔تواریخ ۳:۵)۔ ۲۔سموئیل ۱۱ باب میں داؤد کے اُس سے ناجائز تعلقات کا نہایت واضح الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔ تاہم ہم یہاں بھی خدا کے فضل کو کار فرما دیکھتے ہیں، کیونکہ اِس شادی سے پیدا ہونے والے دو بیٹوں کے نام ہمارے خداوند کے نسب نامے میں درج ہیں۔ ناتن (لوقا ۳: ۳۱) مریم کے آبا و اجداد میں سے تھا اور سلیمان (متی ۱:۶) یوسف کے آبا و اجداد میں سے۔
۱۴: ۸۔۱۷ جب فلستیوں نے سنا کہ داؤد کو اِسرائیل کا بادشاہ بنا دیا گیا تو وہ اُس پر حملہ کرنے کے لئے آئے۔ داؤد نے خداوند سے پوچھنے کے بعد (آیت ۱۰) شان دار فتح حاصل کی۔ وہ بت جو اپنے پرستاروں کو زندہ خدا سے نہ بچا سکے، اُنہیں لے جا کر (۲۔سموئیل ۵: ۲۱) جلا دیا گیا (آیت ۱۲)۔ جب فلستی کسی حد تک سنبھل گئے اور وہ دوسری بار حملے کے لئے آئے تو داؤد نے پھر خداوند سے پوچھا۔ اُس نے یہ فرض نہیں کر لیا تھا کہ خدا کی راہنمائی پہلے کی طرح ہو گی۔ اِس بار خدا نے بالکل مختلف جنگی منصوبے سے فتح دی۔
اِن فتوحات سے قریبی ممالک کی قوموں کے دِلوں پر خوف چھا گیا۔ آیت ۱۶ اور ۱۷ کے درمیان تعلق ملاحظہ فرمایئے۔ ’’اور داؤد نے جیسا خدا نے اُسے فرمایا تھا کیا … اور داؤد کی شہرت سب ملکوں میں پھیل گئی۔‘‘
مقدس کتاب
۱ اور صُور کے بادشاہ ھیرام نے داؤد کے پاس ایلچی اور اُسکے واسطے محّل بنانے کے ل۴ے دیودار کے لٹھے اور راجج اور بڑھئی بھیجے ۔
۲ اور داؤد جان گیا کہ خُداوند نے اُسے بنی اِسرائیل کا بادشاہ بنا کر قائیم کر دیا ہے کیونکہ اُسکی سلطنت اُسکے اِسرائیلی لوگوں کو خاطر مُمتاز کی گئی تھی۔
۳ اور داؤد نے یروشلیم میں اَور عَورتیں بیاہ لیں اور اُس سے اَور بیٹے بیٹیاں پَیدا ہوُئے ۔
۴ اور اُسکے اُن بچوں کے نام جو یروشلیم میں پیدا ہوئے یہ ہیں ۔ سمّوع اور سوباب اور ناتن اور سُلیمان ۔
۵ اور اِبحار اور اِلسوع اور الفالط ۔
۶ اور نَوحہ اور نفج اور یفیعہ ۔
۷ اور السیمع اور بعلیدع اور الیفالط۔
۸ اور جب فلسِتیوں نے سُنا کہ داؤد ممسوُح ہو کر سارے اِسراؔئیل کا بادشاہ بنا ہے تو سب فلِستی داؤد کی تلاش میں چڑھ آئے اور داؤد یہ سُنکر اُنکے مُقابلہ کو نِکلا۔
۹ اور فلسِتیوں نے آکر رفائیم کی وادی میں دھاوا مارا۔
۱۰ تب داؔؤد نے خُدا سے سوال کیا کیا میں فلسِتیوں پر چڑھ جاؤں؟ کیا تُو اُنکو میرے ہاتھ میں کردیگا؟ خُداوند نے اُسے فرمایا چڑھ جا کیونکہ مَیں اُنکو تیرے ہاتھ میں کر دُونگا۔
۱۱ سو وہ بعل پر اضیم میں آئے اور داؤد نے وہیں اُنکو مارا اور داؤد نے کہا خُدا نے میرے ہاتھ سے میرے دُشمنوں کو اَیسا چیرا جَیسے پانی چاک چاک ہو جاتا ہے۔ اِس سبب سے اُنہوں نے اُس مقام کا نام بعل پر اضیم رکھاّ ۔
۱۲ اور سہ اپنے بُتوں کو وہاں چھوڑ گئے اور وہ داؔؤد کے حُکم سے آگ میں جلادِؑے گئے۔
۱۳ اور فلستیوں نے پھر اُس وادی میں دھاوا مارا۔
۱۴ اور داؤد نے پھر خُدا سے سوال کیا اور خُدا نے اُس سے کہا کہ تُو اُنکا پیچھا نہ کر بلکہ اُنکے پاس سے کترا کر نِکل جا اور تُوت کے پیڑوں کے سامنے سے اُن پر حملہ کر۔
۱۵ اور جب تُو تُوت کے درکتوں کی پُھنگیوں پر چلنے کی سی آواز سُنے تب لڑائی کو نِکلنا کیونکہ خُدا تیرے آگے آگے فلِستیوں کے لشکر کو مارنے کے لئے نِکلا ہے۔
۱۶ اور داؤد نے جَیسا خُدا نے اُسے فرمایا تھا کیا اور اُنہوں نے فلِستیوں کی فَوج کو جبعون سے جزر تک قتل کیا۔
۱۷ اور داؤد کی شُہرت سب مُلکوں میں پھیل گئی اور خُداوند نے سب قوموں پر اُسکا خُوف بٹھا دیا۔