۱۶: ۱۔۳ جب عہد کے صندوق کو خیمے میں رکھ دیا گیا تو قربانیاں گزرانی گئیں۔ رسوماتی طور پر سوختنی قربانیاں پرستش کا سب سے اعلیٰ اِظہار تھیں (بمقابلہ احبار باب ۱)۔ اِسے آگ میں پورے طور پر جلا دیا جاتا تھا اور اِس کے دھوئیں سے صرف خدا لطف اندوز ہوتا۔
اِس موقعے پر سلامتی کی قربانیاں بھی چڑھائی گئیں۔ یہ وہ واحد قربانیاں تھیں جن میں ہر ایک کا حصہ ہوتا تھا۔ چربی اور گُردوں کو خداوند کے لئے مذبح پر گزرانا جاتا تھا، اِس کا باقی ماندہ حصہ کاہنوں کے لئے ہوتا تھا اور جو بچ جاتا تھا وہ قربانی گزراننے والا اپنے خاندان اور دوستوں کے ساتھ خداوند کے حضور کھاتا (بمقابلہ احبار باب ۳)۔ سلامتی کی قربانی خداوند سے رفاقت کو ظاہر کرتی اور اِس کا ایک پہلو یہ بھی تھا کہ جو اچھی چیزیں خداوند کی طرف سے ملتی ہیں، اُن میں اُسے شریک کیا جائے۔ سوختنی اور سلامتی کی قربانیوں کو عیدوں اور خاص موقعوں پر اہم مقام حاصل تھا۔ یہ سارے اِسرائیل کے لئے ایک اہم دن تھا۔ گھروں کو واپس جانے سے پیشتر ہر ایک شخص کو روٹی اور ایک ایک ٹکڑا گوشت کا دیا گیا (آیت باب ۳)۔
۱۶: ۴۔۷ داؤد کا اگلا اِقدام یہ تھا کہ ہر روز خداوند کے حضور شکر گزاری کی جائے اور خوشی منائی جائے، نہ کہ اُنہیں صرف خاص موقعوں کے لئے محدود کیا جائے (بمقابلہ ۳۷۔۴۲)۔ لاویوں کو مقرر کیا کہ وہ سازوں کے ساتھ گاتے ہوئے خداوند کی حمد اور شکرگزاری کریں۔
۱۶: ۸۔۲۲ اِس موقعے پر جو زبور گایا گیا اُس کے دو بڑے حصے ہیں۔ آیات ۸۔۲۲ میں اِسرائیل کو مخاطب کیا گیا اور آیات ۲۳۔۳۴ میں تمام قوموں کو۔ آیات ۳۵ اور ۳۶ سے زبور اِختتام پذیر ہوتا ہے۔ یہ زبور ۱۰۵: ۱۔۵؛ ۹۶: ۱۔۱۳؛ ۱۰۶:۱،۴۷،۴۸ کا مرکب ہے۔
آیات ۸۔۲۲ میں اِسرائیلیوں کو نصیحت کی گئی ہے کہ وہ خدا کی قوت اور دیدار کے طالب ہوں۔ وہ اُس کے کاموں کو یاد رکھیں، اُس کے عجیب کاموں کو جو اُس نے ماضی میں کئے اور اُس کے عہد کو یاد رکھیں، اُس کے غیر مشروط وعدوں کو جو اُس نے اُن کے آبا و اجداد سے کئے۔
۱۶: ۲۳۔۳۴ زبور نویس تمام اہلِ زمین تک دائرہ وسیع کرتے ہوئے، سب لوگوں کو تاکید کرتا ہے کہ وہ خداوند کے جلال کا بیان کریں، اُس سے ڈریں کیونکہ وہ مخلوقات کا خدا ہے۔ اُس کی قوت، حشمت اور بزرگی کے لئے اُس کا جلال ظاہر کریں۔ اُس کے حضور اِس لئے خوشی منائیں کہ وہ اِس دُنیا کو سنبھالتا اور اِس پر حکومت کرتا ہے۔
۱۶: ۳۵،۳۶ یہ اِختتامی دعا زبور ۱۰۶: ۴۷،۴۸ کے عین مشابہ ہے۔
۱۶: ۳۷۔۴۳ داؤد بہت محتاط تھا۔ اُس نے لاویوں کو مقرر کیا کہ وہ یروشلیم میں عہد کے صندوق کے سامنے پرستش کو جاری رکھیں، اور اُس نے جبعون میں بھی پرستش کو جاری رکھا جہاں خیمۂ اجتماع اور سوختنی قربانی کا مذبح ابھی تک موجود تھا۔ یروشلیم میں اُس نے ابیاتر کی ماتحتی میں گانے والوں، دربانوں اور تُرہیاں بجانے والوں کو مقرر کیا۔ صدوق نے جبعون میں کہانت کی خدمت کو جاری رکھا۔ اِس پارے میں ساز بجانے والوں پر زیادہ زور دیا گیا ہے۔ آیت ۳۸ میں دو مختلف عوبید ادوم کا ذکر ہے اور آیات ۳۸ اور ۴۲ میں دو مختلف یدوتون کا۔ اب جب کہ عہد کا صندوق، صیون میں رکھ دیا گیا ہے سب لوگ اپنے اپنے گھر گئے، اور داؤد اپنے گھرانے کو برکت دینے کے لئے اپنے گھر لوٹا۔
مقدس کتاب
۱ سو وہ خُدا کے صندوق کو ہے آئے اور اُسے اُس خَیمہ کے بیچ میں جو داؤد نے اُسکے ل۴ے کھڑا کیا تھا رکھاّ اور سوختنی قُربانیاں اور سلامتی کی قُربانیاں خُدا کے حُضُور چڑھائیں ۔
۲ اور جب داؤد سوختنی قپربانی اور سلامتی کی قُربانیاں چڑھا چُکا تو اُس نے خُداوند کے نام سے لوگوں کو برکت دی۔
۳ اور اُس نے سب اِسرائیلی لوگوں کو کیا مرد کیا عورت ایک ایک روٹی اور ایک ٹکڑا گوشت اور کشِمشِ کی ایک ایک ٹکیا دی۔
۴ اور اُس نے لاویوں میں سے بعضوں کو مقُررّ کیا کہ خُداوند کے صندُوق کے آگے خدمت کریں اور خُداوند اِسرائیل کے خُدا کا ذِکر اور شُکر اور اُسکی حمد کریں ۔
۵ اوّل آسف اور اُسکے بعد زکریاہ اور یعی ایل اور سمیرا موت اور یحیئیل اور متِتّیاہ اور الیاب اور بنایاہ اور عوبیدادوم اور یعی ایل ستار اور بربط کے ساتھ اور ؤسف جھانجھوں کو زور سے بجاتا ہوا۔
۶ اور بنایاہ اور یحزیئیل کاہن سدا تُرہیوں کے ساتھ خُدا کے عہد کے صندُوق کے آگے رہا کریں۔
۷ پہلے اُسی دن داؤد نے یہ ٹھہرایا کہ خُداوند کا شُکر آسف اور اُسکے بھائی بجالایا کریں۔
۸ خُداوند کی شُکر گُذاری کرو۔ اُس سے دُعا کرو۔ قوموں کے درمیان اُسکے کاموں کا اِشتہار دو۔
۹ اُسکے حُضُور گاؤد ۔ اُسکی مدح سرائی کر۔ اُسکے عجیب کاموں کا چرچا کرو۔
۱۰ اُسکے پاک نام پر فخر کرو۔ جو خُداوند کے طالب ہیں اُنکا دِل خُوش رہے ۔
۱۱ تمُ خدُاوند اور اپسکی قوت کے طالب رہو تم سدا اپسکے دِیدار کے طالب رہو۔
۱۲ تُم اُسکے عجیب کاموں کو جو اُس نے کئے ۔ اور اُسکے معجزوں اور مُنہ کے آئین کو یدار رکھو۔
۱۳ اَے اُسکے بندہ اِسرائیل کی نسل! اَے بنی یعقُوب جو اُسکے برگزِیدہ ہو!
۱۴ وہ خُدواند ہمارا خُدا ہے۔ تمام رُویِ زمین پر اُسکے آئین ہیں ۔
۱۵ سدا اُسکے عہد کو یاد رکھو اور ہزار پُشتوں تک اُسکے کلام کو جا اُس نے فرمایا۔
۱۶ اُسی عہد کو جا اُس نے ابرہام سے باندھا اور اُس قسم کو جو اُس نے اِضحاق سے کھائی
۱۷ جسے اُس نے یعقوب کے لئے آئین کے طور پر اور اِسرائیل کے لئے ابدی عہد کے طور پر قائیم کیا۔
۱۸ یہ کہکر کہ میَں کنعان کا مُلک تجھ کو دُونگا۔ وہ تمہارا مَوروثی حصہ ہوگا۔
۱۹ اُس وقت تُم شُمار میں تھوڑے تھے بلکہ بہت ہی تھوڑے اور مُلک میں پردیسی تھے۔
۲۰ وہ ایک قوم سے دُوسری قوم میں اور ایک مملکت سے دوسری مملکت میں پھرتے رہے۔
۲۱ اُس نے کسی شخص کو اُ ن پر ظلہم کرنے نہ دِیا بلکہ اُنکی خاطرِ بادشاہوں کو تنبیہ کی۔
۲۲ کہ تُم میرے ممسوُحوں کو نہ چھُوؤ اور میرے نبیوں کو نہ ستاؤ۔
۲۳ اَے سب اہل زمین! خُداوند کے حُضور گاؤ روز بروز اپسکی نجات کی بشارت دو۔
۲۴ قوموں میں اُسکے جلال کا سب لوگوں میں اُسکے عجائب کا بیان کرو
۲۵ کیونکہ خُداوند بُزرگ اور نہایت ستِایش کے لائق ہے۔ وہ سب معبودوں سے زیادہ مُہیب ہے۔
۲۶ اِسلئے کہ اور قَوموں کے سب معبود محض بت ہیں ۔ لیکن خُداوند نے آسمانوں کو بنایا۔
۲۷ عظمت اور جلال اُسکے حضور میں ہیں اور اُسکے ہاں قدرت اور شادمانی ہیں ۔
۲۸ اَے قَوموں کے قبیلو! خُداوند کی خُداوند ہی کی تمجید و تعظیم کرو ۔
۲۹ خُداوند کی ا۔یسی تمجید کرو جو اُسکے نام کے شایاں ہے ۔ ہدیہ لاؤ اور اُسکے حضور آؤ۔ پاک آرایش کے ساتھ خُداوند کو سجدہ کرو۔
۳۰ اَے سب اہل زمین! اُسکے حضور کانپتے رہو۔ جہان قائم ہے اور اُسے جنبش نہیں ۔
۳۱ آسمان خُوشی منائے اور زمین شادمان ہو۔ وہ قَوموں میں اعلان کریں کہ خُداوند سلطنت کرتا ہے ۔
۳۲ سمنُدر اور اُسکی معموری شور مچائے مَیدان اور جو کچھ اُس میں ہے باغ باغ ہو۔
۳۳ تب جنگل کے درخت خُوشی سے خُداوند کے حُضُور گانے لگینگے۔ کیونکہ وہ زمین کا ِنصاف کرنے کو آرہا ہے۔
۳۴ خُداوند کا شُکرکرو اسلئے کہ وہ نیک ہے۔ کیونکہ اُسکی شفقت ابدی ہے۔
۳۵ تُم کہو اَے ہماری نجات کے خُدا ہمکو بچالے اور قَوموں میں سے ہمکو جمع کر اور اُن سے ہمکو رہائی دے۔
۳۶ خُداوند اِسرائیل کا خُدا ازل سے ابد تک مُبارک ہو! اور سب لوگو بول ُتھے آمین اور اُنہوں نے خُداوند کی ستایش کی۔
۳۷ اور اپس نے وہاں خُداوند کے عہد کے صندوق کے آگے آسف اور اُسکے بھائیوں کو ہر روز کے ضروری کام کے مُطابق ہمیشہ صندُوق کے آبے خِدمت کرنے کو چھوڑا۔
۳۸ اور عوبیدادوم اور اُسکے اڑسٹھ بھائیوں کو اور عوبیدادوم بن یدوتون اور ھوسہ کو تاکہ دربان ہو۔
۳۹ اور صُدوق کاہن اور اُسکے کاہن بھائیوں کو خُداوند کے مسکن کے آگے جبعون کے اُونچے مقام پر اِسلئے۔
۴۰ کہ وہ خُداوند کی شرِیعت کی سب لکھی ہُوئی باتوں کے مُطابق جو اُس نے اِسرائیل کو فرمائیں ہر صُبح اور شام سو ختنی قربانی کے مذبح پر خُداوند کے لئے سو ختنی قُربانی سوختنی قُربانیاں چڑھائیں ۔
۴۱ اور اُنکے ساتھ ہیمان اور یدولون اور باقی چُنے ہُوئے آدمیوں ککو جا نام بنام مذکور ہُوئے تھے تاکہ خُداوند کا شُکر کریں کیونکہ اُسکی شفقت ابی ہے ۔
۴۲ اُن ہی کے ساتھ ہیمان اور یدوتون تھے جو بجانے والوں کے لئے تُرہیاں اور جھانجھیں اور خُدا کے گیتوں کے ل۴ے باجے لئے ہوئے تھے اور بنی یدوتوں دربان تھے۔ ۰
۴۳ تب سب لوگ اپنے اپنے گھر گئے اور داؤد لوَٹا کہ اپنے گھررانے کو برکت دے۔