یَعقُوب کا عام خَط ۸

۸۔ حِرص اور لالچ :اِسکی وجہ اور علاج ( باب ۴)

یعقؔوب نے بتایا ہے کہ فہیم شخص صُلح جُو آدمی ہوتا ہے۔ اَب وُہ افسوس ناک لڑائی جھگڑوں کو یاد کرتا ہے جو خُدا کے لوگوں میں پائے جاتے ہیں۔ اِن سب کی وجہ کیا ہے؟ کیوں بُہت سے گھروں میں خُوشی نہیں پائی جاتی اور کیوں بُہت سی کلیسیائیں تفرقوں کے باعِث ٹوٹ پھُوٹ گئی ہیں؟ کیوں ایمان داروں میں اِس قدر تلخ جھگڑے پائے جاتے ہیں؟ اِس کی وجہ یہ ہے کہ ہم اپنی خواہشات کو پُورا کرنے کی کوشش میں لگے رہتے ہیں۔

۱:۴۔۲(الف) –افسوس ناک حقیقت یہ ہے کہ مسیحیوں میں ’’لڑائیاں اور جھگڑے‘‘ ہیں۔ اب یہ کہنا کہ اِس پَیراگراف کا اِطلاق ایمان داروں پر نہیں ہوتا درُست نہیں ہے۔ اِس طرح یہ ہمیں اِس حوالہ میں ہمارے لئے جو قیمتی خزانہ ہے اُس سے محرُوم کر دیتا ہے۔ اِن لڑائی جھگڑوں کا سبب کیا ہے؟ اس کی وجہ وُہ زبردست ’’خواہشیں‘‘ ہیں جو ہمارے دِلوں میں پَیدا ہوتی رہتی ہیں اور جو متواتر پُورا ہونے کی کوشِش میں لگی رہتی ہیں۔ اِن میں سے ایک دُنیاوی مال و دولت جمع کرنے کی خواہش ہے۔ پھرعزّت و وقار حاصِل کرنے کی خواہش ہے۔ اور پھِر جسمانی بھُوکوں کو مُطمِئن کرنے کے لئے ’’عیش و عشرت‘‘ کی طلب ہے۔ یہ زبردست قُوتیں ہمارے دِلوں میں کام کرتی رہتی ہیں۔ ہم کبھی مُطمِئن نہیں ہوتے۔ ہم ہمیشہ زیادہ سے زیادہ چاہتے ہیں۔ اِس کے باوجُود بھی ایسا لگتا ہے کہ جو کُچھ ہم چاہتے ہیں وُہ ہمیں نہیں مِلتا۔ غیر تکمیل شُدہ خواہش اِتنی طاقتور بن جاتی ہے کہ ہم اُن کو جو اِس ترقی میں حائِل نظر آتے ہیں روندنا اور کُچلنا شُروع کر دیتے ہیں۔ یعقوؔب کہتا ہے: ’’تُم خُون ۔۔۔ کرتے ہو‘‘۔ یہاں وُہ اِسے زیادہ تر تشبیہی معنوں میں اِستعمال کرتا ہے۔ ہم سچ مُچ تو کِسی کو قتل نہیں کرتے، لیکن غُصّہ، حَسد اور ظُلم جوقتل کے محّرک ہیں ہمارے دِل میں ہوتے ہیں۔

(ب)۴،۳:۲- تُم ’’حَسد کرتے ہو اور کُچھ حاصِل نہیں کر سکتے‘‘۔ ہم دُوسرے لوگوں سے زیادہ اور اچھّی چیزیں چاہتے ہیں۔ اور اِس کوشِش میں لڑتے جھگڑتے اور ایک دُوسرے کو تباہ کر دیتے ہیں۔ رشؔید اور نجؔمہ کی چند ماہ پیشتر شادی ہُوئی۔ رشؔید کا کام اچھّا تھا اور اُسے معقول تنخواہ مِلتی تھی۔ نجمؔہ چاہتی تھی کہ کلیسیا میں دُوسرے نوجوان جوڑوں کی طرح اُس کے پاس بھی خُوبصورت گھر ہو۔ رشیؔد نئے ماڈل کی کار خریدنا چاہتا تھا۔ نجمہ اچھّے فرنیچر اور اچھّی کراکری کی خواہش مند تھی۔ اِن میں سے کُچھ چِیزیں تو اُنہیں قسطوں پر مل سکتی تھیں۔ لیکن رشیؔد کی تنخواہ اِس بوجھ کو بمشکل ہی اُٹھا سکتی تھی۔ پھِر خاندان میں ایک بچّے کا بھی اِضافہ ہوگیا جِس کا مطلب اخراجات میں مزید اضافہ اور
بجٹ کا غیر متوازن ہونا تھا۔ جُوں جُوں نجمؔہ کا تقاضا بڑھتا گیا، رشؔید اور زیادہ بد دماغ اور چڑچڑا ہوتا گیا۔ نجمؔہ نے اِس کا جواب غیبت گوئی اور آنسُوؤں سے دِیا۔ جلد ہی گھر کے درو دیوار حملے اور جوابی حملے سے کانپنے لگے۔ مادہ پرستی گھر کو تباہ کر رہی تھی۔

دُوسری طرف اِس کا مطلب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ نجؔمہ حَسد کرتی تھی۔ وُہ محسُوس کرتی تھی کہ جاؔوید اور پروؔین کو کلیسیا میں اُن کی نسبت زیادہ عزّت و مقام حاصِل ہے۔ چنانچہ نجؔمہ نے پؔروین کے خِلاف توہین آمیز باتیں کرنی شُروع کر دیں۔ اور جب طرفین میں لڑائی کی شِدّت بڑھی تو رشؔید اور جاوؔید بھی اُس میں شامِل ہو گئے۔ پھِر دُوسرے ممبران بھی دونوں میں سے ایک کی طرف داری کرنے لگے اور جماعت دو حِصّوں میں بٹ گئی۔ یہ ایک شخص کے اعلیٰ مقام حاصِل کرنے کی خواہش کی وجہ سے ہؤا۔

پس یہاں ایمان داروں کے آپس میں معمُولی معمُولی باتوں پر جھگڑے کی وجہ معلُوم ہوتی ہے۔ یہ زیادہ سے زیادہ حاصل کرنے کی خواہش اور ایک دُوسرے سے حَسد کرنے کی وجہ سے پَیدا ہوتے ہیں۔ ہم اِس رویّہ کو زیادہ صحیح طریقے سے لالچ، حِرص اور حَسد بھی کہہ سکتے ہیں۔ خواہش اِس قدر زور آور بن جاتی ہے کہ لوگ اپنی خواہش کی تسکین کے لئے ہر بات کرنے پر تیار ہو جاتے ہیں۔ وُہ یہ سیکھنے میں بڑے سُست ہوتے ہیں کہ حقیقی خُوشی اِس طرح حاصِل نہیں ہوتی بلکہ اگر ہمارے پاس کھانے پینے کو ہے تو اُسی پر قناعت کرنے سے (۱۔ تیمتھیس ۶: ۸)۔

اِس مسئلے کا درُست حل دُعا ہے۔ بحث نہ کریں۔ لڑیں نہ بلکہ دُعا کریں۔ یعقؔوب کہتا ہے ’’تُمہیں اِس لئے نہیں مِلتا کہ مانگتے نہیں‘‘۔ اِن باتوں کو دُعا میں خُداوند کے پاس لے جانے کی بجائے ہم جو کُچھ چاہتے ہیں اُسے اپنی مساعی سے حاصِل کرنے کی کوشِش کرتے ہیں۔ اگر ہم کوئی ایسی چیز چاہتے ہیں جو ہمارے پاس نہیں تو ہمیں اُسے خُدا سے مانگنا چاہئے۔ اگر ہم مانگیں اور نہ مِلے تو اس کا کیا مطلب ہوگا؟ اِس کا صاف مطلب یہ ہے کہ ہماری ’’نیّت‘‘ درُست نہیں تھی۔ ہم نے وُہ شَے خُدا کے جلال یا اپنے ہمجنس اِنسانوں کی بہتری کے لئے نہیں مانگی تھی۔ ہم اُسے صِرف اپنی خُود غرضانہ لُطف اندوزی کے لئے چاہتے تھے۔ خُدا اِس قِسم کی دُعاؤں کا جواب دینے کا وعدہ نہیں کرتا۔

اِن پہلی تین آیات میں ہمیں کِتنا گہرا نَفسیاتی سبق مِلتا ہے! اگر آدمی تو کُچھ خُدا نے اُنہیں دیا ہے اُس پر مُطمئِن رہیں تو وُہ کِتنے ہی بد حواس کرنے والے لڑائی جھگڑوں اور بے چینی سے بچ سکتے ہیں۔ اگر
ہم اپنے پڑوسی سے اپنی مانند محبّت رکھتے اور حاصل کرنے کی بجائے انہیں حصّہ دار بنانے میں دِلچسپی لیتے ہیں تو اِس کا نتیجہ کِتنا صُلح سلامتی کی صُورت میں نِکلے گا! اگر ہم اپنے نجات دہندہ کے جمع کرنے کی بجائے چھوڑنے اور زمین پر جمع کرنے کی بجائے آسمان پر جمع کرنے کے حُکم پر عمل کریں تو بُہت سے لڑائی جھگڑے ختم ہو جائیں گے۔

۴:۴- یعقؔوب مادّی اَشیا سے بُہت زیادہ محبّت کی مذمّت کرتا بلکہ اُسے رُوحانی زِنا کاری کہتا ہے۔ خُدا چاہتا ہے کہ ہم سب سے زیادہ اور سب سے پہلے اُسے پیار کریں۔ جب ہم اِس دُنیا کی فانی چیزوں سے محبّت رکھتے ہیں تو ہم اُس کے ساتھ مخلص اور وفادار نہیں ہوتے۔

لالچ ایک طرح کی بُت پرستی ہے۔ اِس کا مطلب یہ ہے کہ جو خُدا نہیں چاہتا کہ ہمارے پاس ہو ہم اُس کی شدید خواہش رکھتے ہیں۔ اِس کا مطلب یہ ہے کہ ہم نے اپنے دِلوں میں بُت قائم کر رکھے ہیں۔ ہم خُدا کی مرضی پر مادّی اشیا کو ترجیح دیتے ہیں۔ پس لالَچ بُت پرستی ہے اور بُت پرستی خُدا کے ساتھ بے وفائی ہے۔ دُنیا داری بھی ’’خُدا سے دُشمنی کرنا ہے‘‘۔ ’’دُنیا‘‘ کا مطلب وُہ کُرّہ نہیں ہے جِس پر ہم رہتے ہیں۔ اِس سے مُراد وُہ سِسٹم ہے جو آدمیوں نے اپنے لئے وضع کر رکھا ہے تاکہ آنکھوں کی خواہش، جِسم کی خواہش اور زِندگی کی شیخی کو مُطمِئن کر سکیں۔ اِس سِسٹم میں خُدا یا اُس کے بیٹے کے لئے جگہ نہیں ہے۔ یہ آرٹ، کلچر، تعلیم، سائِنس یا یہاں تک کہ مذہب بھی ہو سکتا ہے۔ لیکن یہ ایسا دائرہ ہے جِس میں مسیح کا نام لینا، ماسِوا خالی خولی طریقے سے منع ہے۔ المختصر، یہ حقیقی کلیسیا سے باہر آدمیوں کی دُنیا ہے۔ اِس سِسٹم سے ’’دوستی خُدا سے دشمنی کرنا ہے‘‘۔ یہی وُہ دُنیا ہے جِس نے زِندگی اور جَلال کے مالِک کو مصلوُب کیا تھا۔ درحقیقت وُہ مذہبی دُنیا تھی جِس نے اُسے مَوت کے گھاٹ اُتارا تھا۔ یہ کِتنی ناقابلِ قیاس بات ہے کہ ایمانداراُس دُنیا کے ہاتھ میں ہاتھ ڈال کر چلیں جس نے اُن کے نجات دہندہ کو قتل کِیا تھا!

۵:۴- اِس خط میں سب سے مشکِل آیت ۵ ہے۔ ’’کیا تُم یہ سمجھتے ہو کہ کتاب مُقدّس بے فائِدہ کہتی ہے؟ جِس رُوح کو اُس نے ہمارے اندر بَسایا ہے کیا وُہ ایسی آرزُو کرتی ہے جِس کا انجام حَسد ہو؟‘‘

پہلی مشکِل یہ ہے کہ ایسا لگتا ہے کہ یعقؔوب پُرانے عہد نامہ سے حوالہ دے رہا ہے لیکن یہ نہ تو پُرانے عہد نامہ میں مِلتا ہے اور نہ اپاکریفا کی کتابوں میں ہی۔ اِس کی دو تشریحیں ہو سکتی ہیں۔

پہلی یہ کہ اگرچہ یہ اَلفاظ بعینہ پُرانے عہد نامہ میں نہیں مِلتے تاہم یعقؔوب انہیں کلام کی عام تعلیم کے طور پر پیش کر رہا ہے۔ دُوسری یہ کہ جیسے اِس کا حل اُردُو ترجمہ میں پیش کِیا گیا ہے۔ یہاں اِس آیت کو دو سُوالوں میں توڑا گیا ہے : ’’کیا تُم یہ سمجھتے ہو کہ کتابِ مُقدّس بے فائِدہ کہتی ہَے؟ جِس رُوح کو اُس نے ہمارے اَندر بَسایا ہے کیا وُہ ایسی آرزُو کرتی ہے جِس کا انجام حَسد ہو؟‘‘ یہاں یہ خیال کار فرما ہے کہ دُنیاوی رُوح کی مذّمت کرنے میں بائبل الفاظ کو ضائع نہیں کر رہی ہے۔

آیت ۵ میں دُوسری بڑی مُشکل آیت کے دُوسرے حِصّے کا مطلب ہے۔ مُشکل یہ ہے کہ کیا یہاں رُوح سے مُراد پاک رُوح ہے یا حَسد کے جذبہ سے سرشار رُوح۔ اگر اِس کا مطلب اوّل الذِّکر ہے تو پھر خیال یہ ہے کہ رُوحُ القُدس جو ہمارے دِلوں میں سکونت کرتا ہے وُہ لالچ اور حسد کو جو جھگڑے کا سبب بنتے ہیں پَیدا نہیں کرتا، بلکہ وُہ ہمارے دِلوں میں مسیح کی پرستش کے لئے ’’آرزُو‘‘ پیدا کرتا ہے۔ لیکن اگر اِس سے
موخرالذکر مُراد ہے تو پھر اِس کا مطلب یہ ہے کہ وُہ رُوح جو ہم میں سکونت کرتی ہے یعنی حَسد اور لالچ کی رُوح وُہ ہم میں خُدا کے ساتھ بے وفائی کو پَیدا کرتی ہے۔

۶:۴- ’’وُہ تو زیادہ توفیق بخشتا ہے‘‘۔ پہلی پانچ آیات میں ہم نے دیکھا کہ ایمان دار کی پُرانی سے فِطرت کِتنی بدکار ہو سکتی ہے۔ لیکن اب ہم یہ سیکھتے ہیں کہ ہمیں اپنی قُوّت میں جِسمانی لالچوں سے نپٹنے کے لئے تنہا نہیں چھوڑا گیا ہے۔ خُدا کا شُکر ہو کہ ضرُورت کے وقت وُہ ہمیں ’’زیادہ توفیق بخشتا ہے‘‘
(عبرانیوں ۴: ۱۶)۔ اُس نے وَعدہ کیا ہے ’’جیسے تیرے دِن ویسی ہی تیری قُوّت ہو‘‘ (اِستثنا ۳۳: ۲۵)-

یہ ثابت کرنے کے لئے کہ ضرُورت کے وقت خُدا ہمیں توفیق بخشتا ہے یعقؔوب امثال ۳۴:۳ کا حوالہ دیتا ہے لیکن یہاں یہ اِضافہ ہے کہ اِس ’’توفيق‘‘ کا وعدہ ’’فِروتنوں‘‘ سے ہے نہ کہ مُتکبّروں سے۔ ’’خُدا مغرُوروں کا مُقابلہ کرتا ہے‘‘ لیکن شکستہ رُوح کا نہیں۔

۷:۴- آیات۷۔۱۰میں ہمیں دس اَقدام مِلتے ہیں۔ جہاں سچّی توبہ ہے وہاں اِن کی پیروی لازمی ہے۔ یعقؔوب مُقدّسوں کے گُناہوں کے خِلاف چّلاتا رہا ہے۔ اُس کے الفاظ نے ہمارے دِلوں کو چھید دیا ہے۔ ہم محسُوس کرتے ہیں کہ خُدا ہم سے ہمکلام ہوتا رہا ہے۔ ہمارے دِل اُس کے کلام کے اثر تلے جھُکے ہوئے ہیں۔ لیکن اب سُوال یہ ہَے کہ ’’ہم کیا کریں؟‘‘

پہلی بات یہ ہے کہ ہم ’’خُدا کے تابع ہو جائیں‘‘۔ اِس کا مطلب یہ ہے کہ ہم اُس کی بات سُنیں اور فرمانبرداری کریں۔ ضرُوری ہے کہ ہم نرم اور شکستہ دِل ہوں نہ کہ مُتکبّر اور اکڑی گردن والے۔

پھر ضُروری ہے کہ ہم ’’ابلؔیس کا مُقابلہ کریں‘‘۔ یہ ہم آزمائِشوں کی طرف سے اپنا دِل اور کان بند کرنے کے ذریعہ کر سکتے ہیں۔ نیز یہ ہم کلام کو بطور رُوح کی تلوار اِستعمال کرتے ہوئے اُسے پَسپا کر سکتے ہیں۔ اگر ہم اُس کا مُقابلہ کریں گے تو وُہ ’’بھاگ جائے گا‘‘۔

۸:۴- پھر ہمیں ’’خدا کے نزدیک‘‘ جانا چاہئے۔ یہ ہم دُعا میں کر سکتے ہیں۔ ہمیں ایمان کی رُوح میں دُعا کرتے ہُوئے اُس کے پاس آنا چاہئے اور جو کُچھ ہمارے دِل میں ہے وُہ سب اُسے بتا دینا چاہئے۔ جب ہم اِس طرح اُس کے پاس آئیں گے تو وُہ بھی ہمارے ’’نزدیک‘‘ آئے گا۔ ہم سوچتے ہوں گے کہ وُہ ہماری جِسمانیت اور دُنیا پرستی کے باعث ہم سے دُور ہے لیکن جب ہم اُس کے ’’نزدیک‘‘ جاتے ہیں تو وُہ ہمیں مُعاف کر دیتا اور بحال کرتا ہے۔ جو تھا قَدم ہے :’’اپنے ہاتھوں کو صاف کرو اور اے دو دِلو! اپنے دِلوں کو پاک کرو‘‘۔ ’’ہاتھ‘‘ ہمارے کاموں کو بیان کرتے ہیں اور ہمارے ’’دِل‘‘ ہماری نِیّت اور خواہشوں کی نمائِندگی کرتے ہیں۔ ہم اپنے گُناہوں کا اِقرار اور اُنہیں ترک کرنے کے ذریعہ خواہ وُہ باطنی ہیں یا ظاہرا ’’اپنے ہاتھوں کو صاف‘‘ اور ’’اپنے دِلوں کو پاک‘‘ کرتے ہیں۔ بطور’’گُنہگار‘‘ ہمیں اپنے بُرے کاموں کا اِقرار کرنے کی ضرُورت ہے اور ’’دو دِلے‘‘ ہونے کے باعث اپنی مِلی جُلی نِیتّوں کا اِقرار کرنا ہے۔

۹:۴- اِقرار کے ساتھ ہمیں گُناہ کا گہرا افسوس بھی ہونا چاہئے۔ ’’افسوس اور ماتم کرو اور رُوؤ تُمہاری ہنسی ماتم سے بدل جائے اور تُمہاری خُوشی اُداسی سے‘‘۔ جب خُدا ہمیں گُناہ کے بارے میں قائِل کرتا ہے تو ہمیں اُس کے حضُور مُنہ کے بَل گر کر اپنی گنہگاری، بے طاقتی، سَرد مہری اور بانجھ پن پر ماتم کرنا چاہئے۔ ہمیں اپنی مادّہ پرستی، دُنیا داری اور رسم پرستی پر رونا چاہئے۔ ہمیں باطنی اور ظاہری دونوں صُورتوں میں توبہ کا پھَل دِکھانا چاہئے۔

۱۰:۴- آخر میں، ہمیں ’’خُداوند کے سامنے‘‘ اپنے آپ کو ’’فِروتن‘‘ بنانا چاہئے۔ اگر ہم دِیانت داری سے اُس کے قَدموں میں خاک میں بیٹھیں تو وُہ ہمیں وقت پر’’سر بُلند کرے گا‘‘۔

پس جب خُدا ہم پر ہماری حالت ظاہر کرے تو ہمیں اِس طریقہ سے جواب دینا چاہئے۔ لیکن اکثر الیسا نہیں ہوتا۔ مثال کے طور پر بعض اوقات جب خُدا ہمارے دِلوں سے ہمکلام ہوتا ہے تو ہم کِسی میٹنگ میں ہوتے ہیں۔ ہم ایک لمحہ کے لئے جوش سے بھر جاتے ہیں اور اچھّا ارادہ کرتے ہیں لیکن جب میٹنگ ختم ہوتی ہے تو لوگ پُر لُطف اور ہلکی پھُلکی گفتگو کرنے لگتے ہیں۔ تب عبادت کی تمام فضا ختم ہو جاتی ہے، قُوّت غائِب ہو جاتی ہے اور خُدا کا رُوح بُجھ جاتا ہے۔

۱۲-۱۱:۴- اَب یعقؔوب حَرف گیری کے گناہ یا اپنے ’’بھائی کی بَدگوئی‘‘ کرنے پر بحث کرتا ہے۔ کِسی کا فرمان ہے کہ ہمیں دُوسروں پرنکتہ چینی کرنے سے پہلے تِین سُوالوں کا جواب دینا چاہئے۔ اِس سے آپ کے بھائی کو کیا فائدہ ہوگا؟ اِس سے خُود آپ کو کیا فائدہ ہوگا؟ اِس میں خُدا کے جلال کے لئے کیا ہے؟

محبّت کی شاہی’’شریعت‘‘ یہ کہتی ہے کہ ہمیں اپنے پڑوسی سے اپنی مانند محبّت کرنی چاہئے۔ پَس اگر کوئی ’’بھائی کی بدگوئی کرتا‘‘ ہے یا اُس کی نیّت پر شک کرتا ہے تو گویا وُہ ’’شریعت‘‘ کے خِلاف بولتا ہے اور اُسے بے فائدہ قرار دیتا ہے۔ شریعت کو دیدہ دانستہ توڑنا، اِس کی بے حُرمتی کرنا ہے۔ یہ ایسے ہی کہنا ہے کہ شریعت اچھّی نہیں اور نہ اِس قابل ہے کہ اُس کی فرمانبرداری کی جائے۔ وہ جو فرمانبرداری سے اِنکار کرتا ہے درحقیقت یہ کہتا ہے کہ یہ شریعت نہیں ہے۔ اب یہ اُسے جو اپنے ’’بھائی کی بدگوئی کرتا ہے‘‘ ایک عجیب حالت سے دوچار کر دیتی ہے یعنی یہ کہ مُلزم بننے کی بجائے ’’اُس پر حاکِم‘‘ بن جاتا ہے۔ وہ شریعت کے ماتحت آنے کی بجائے اپنے آپ کو اُس سے بڑا بنالیتا ہے۔ لیکن صِرف خُدا ہی ہے جو شریعت سے بڑا ہے۔ وُہ، وُہ ہے جِس نے اُسے دِیا اور اُس کے ذریعے عدالت کرتا ہے۔ پَس تُو’’کون‘‘ ہے جو خُدا کی جگہ غصب کرتا اور دُوسرے پر’’اِلزام‘‘ لگاتا ہے۔

۱۳:۴- دُوسرا گُناہ جِس کی یعقؔوب مذمّت کرتا ہے وُہ خُدا کو نظر انداز کرتے ہوئے خُود پر اِعتماد کرنا اور شیخی سے منصُوبے بنانا ہے (آیات۱۶:۱۳)- وُہ یہاں ایک ایسے تاجر کی منظر کشی کرتا ہے جو مستقبِل کے لئے منصُوبہ بناتا ہے۔ ذرا تفصیلات پر غَور کریں۔ وُہ وقت ’’(آج یا کل)‘‘ اشخاص ’’(ہم)‘‘، جگہ ’’(فلاں شہر)‘‘، عَرصہ ’’(ایک برس)‘‘ سرگرمیوں ’’(سَوداگری کرکے)‘‘ اور اندازہ لگانے ’’(نفع اُٹھائیں گے)‘‘ کے متعلق سوچتا ہے۔ اِس تصوِیر میں کون سی بات غائب ہے؟ وہ ایک بار بھی اپنے کاروبار میں خُدا کو شامِل نہیں کرتا۔ مستقبل کے لئے منصُوبہ بندی کرنا ضرُوری تو ہے لیکن خُدا سے ماورا اپنی مرضی سے منصُوبہ بنانا گُناہ ہے۔ یہ کہنا کہ ’’ہم‘‘ یا ’’مَیں‘‘ یہ کروں گا گُناہ کا نچوڑ ہے۔ مثلاً یسعیاہ ۱۴،۱۳:۱۴ میں لُوسیؔفر کی ’’مَیں کروں گا‘‘ کو دیکھئے! ’’تُو تو اپنے دِل میں کہتا تھا مَیں آسمان پر چڑھ جاؤں گا۔ مَیں اپنے تخت کو خُدا کے سِتاروں سے بھی اُونچا کروں گا اور مَیں شِمالی اطراف میں جماعت کے پہاڑ پر بیٹھوں گا۔ مَیں بادلوں سے بھی اُوپر چڑھ جاؤں گا۔ مَیں خُدا تعالیٰ کی مانند ہُوں گا‘‘۔

۱۴:۴- ’’کل‘‘ کے لئے منصُوبہ بنانا گویا کہ کل ضرُور ہی آئے گا غلط ہے ’’۔۔۔۔ یہ نہ کہنا
اَب جا۔ پھر آنا۔ مَیں تُجھے کل دُوں گا‘‘ (امثال ۲۸:۳)۔ ہم نہیں جانتے کہ کل کیا ہو گا۔ ہماری زِندگیاں اِتنی کمزور اور نا قابلِ پیشینگوئی ہیں کہ گویا ’’بخارات‘‘ ہیں۔

۱۵:۴- ہمیں اپنے تمام منصُوبوں میں خُدا سے مشَورہ کرنا اور اُنہیں اُس کی مرضی کے مُطابق بنانا چاہئے۔ ہم جب بھی بات کریں تو ہمیں اِحساس ہونا چاہئے کہ ہماری عاقبت اُس کے کنٹرول میں ہے۔ ہمیں کہنا چاہئے ’’اگر خُداوند چاہے تو ہم زِندہ بھی رہیں گے اور یہ یا وُہ کام بھی کریں گے‘‘۔ پَولُسؔ رسُول بھی اعمال کی کتاب میں اِسی طرح کہتا ہے ’’اگر خُدا نے چاہا تو پھِر تُمہارے پاس آؤں گا‘‘ (اعمال۲۱:۱۸)۔ اور ۱۔ کرنتھیوں ۱۹:۴ میں لِکھتا ہے : ’’خُداوند نے چاہا تو مَیں تُمہارے پاس جلد آؤں گا‘‘۔ بعض اَوقات مسیحی اپنے خطُوط میں خُداوند پر اپنے اِنحصار کرنے کو انگریزی حروُف . D .V سے ظاہر کرتے ہیں۔ یہ لاطینی الفاظ
Deo volente کا مُخفِّف ہے جِس کا مطلب ہے اگر خُدا نے چاہا۔

۱۶:۴- یعقؔوب لِکھتا ہے: ’’اَب تُم اپنی شیخی پر فخر کرتے ہو‘‘۔ ایمان دار اپنے مُستقبِل کے منصُوبوں کے بارے میں شیخی مارتے تھے۔ اُنہیں اِعتماد تھا کہ کوئی بھی شے اُن کے منصُوبہ میں مداخلت نہیں کرے گی۔ اَیسا لگ رہا تھا کہ گویا وُہ اپنی قِسمت کے خُود مالِک ہوں ’’ایسا سب فخر بُرا ہے‘‘ کیونکہ اِس میں خُدا کے لئے کوئی جگہ نہیں ہوتی۔

۱۷:۴- ’’پَس جو کوئی بھلائی کرنا جانتا ہے اور نہیں کرتا اُس کے لئے یہ گُناہ ہے‘‘۔ اِس متن میں ’’بھلائی کرنے‘‘ کا مطلب اپنی زِندگی کے ہر شُعبہ میں خُدا کو شامِل کرنا اور لَمحہ بہ لَمحہ اُس پر اِنحصار کرتے رہنا ہے۔ اگر ہم یہ جانتے ہُوئے نہیں کرتے تو ہم گُناہ کے مُرتکب ہو رہے ہیں۔ بلاشُبہ اِس کا اِطلاق بڑا وسیع ہے۔ زِندگی کے کسی شُعبہ میں بھی اگر ’’بھلائی کرنے‘‘ کا مَوقع ہے تو ہماری ذِمّہ داری ہے کہ کریں۔ اگر ہم جانتے ہیں کہ درُست کیا ہے تو اِس کی روشنی میں زِندگی بَسر کرنے کے ذِمّہ دار بن جاتے ہیں۔ اگر ہَم ویسا ’’نہیں کرتے‘‘ تو یہ خُدا، اَپنے پڑوسی اور خُود اَپنے خِلاف ’’گُناہ ہے‘‘۔

باب ۴ میں یعقؔوب ہمیں لالَچ، جھگڑے، بَد گوئی اور خُداوند سے مشورہ کِئے بغیر منصُوبہ بندی کرنے کے بارے میں آزماتا ہے۔ پَس آئیے ہم اپنے آپ سے حَسب ذِیل سُوال کریں: کیا مَیں متواتر زیادہ سے زیادہ حاصِل کرنا چاہتا ہُوں یا جو کُچھ میرے پاس ہے اِس پر قناعت کرتا ہوں؟ کیا مَیں اُن سے جن کے پاس مُجھ سے زیادہ ہے حَسد کرتا ہوں؟ کیا مَیں خریداری سے پہلے دُعا کرتا ہُوں؟ جب خُدا مُجھ سے ہمکلام ہوتا ہے تو کیا مَیں اُس کی بات مانتا ہُوں یا اِنکار کر دیتا ہوں؟ کیا مَیں اپنے بھائیوں کے خِلاف باتیں کرتا ہُوں؟ کیا مَیں خُداوند سے مشورہ کِئے بغیر منصُوبہ بندی کرتا ہُوں؟