یَعقُوب کا عام خَط ۷

۷۔ حکمت : حقیقی یا باطل (۱۳:۳۔۱۸)

اَب یعقؔوب حقیقی اور جھُوٹی حِکمت کے فرق پر بحث کرتا ہے۔ جب وُہ حِکمت کے بارے میں بیان کرتا ہے تو وُہ یہ نہیں سوچ رہا کہ ایک آدمی کے پاس کِتنا عِلم ہے۔ اُس کی کتنی تعلیم ہے بلکہ یہ کہ وُہ اپنی روزمّرہ کی زِندگی کیسے بَسر کرتا ہے۔ سُوال عِلم رکھنے کا نہیں ہے بلکہ اِس کے درُست اِستعمال کا۔ یہاں پر ہمیں صحیح مَعنوں میں عقلمند آدمی کی تصویر ملتی ہے۔ بنیادی طور پر تو یہ شخص خُداوند یسؔوع مسیح ہے۔ وُہ حِکمت کا مُجسّمہ ہے (متّی۱۹:۱۱؛۱۔ کرنتھیوں۳۰:۱)۔ لیکن وُہ بھی عقلمند آدمی ہے جِس سے مسیح کی زِندگی ظاہر ہوتی ہے اور جِس میں رُوح کا پھل پیدا ہوتا ہے (گلتیوں۲۲:۵، ۲۳)۔

یہاں ایک دُنیاوی طور سے عقلمند آدمی کی بھی تصوِیر ملتی ہے۔ وُہ اِس دُنیا کے اصُولوں کے مُطابق کام کرتا ہے۔ وُہ اِس میں اُن تمام خصُوصیّتوں کو شامل کرتا ہے جِن سے آدمیوں کو جلال مِلتا ہے۔ اُس کے طور طریقوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ اُس میں الہٰی زِندگی نہیں ہے۔

۱۳:۳- اگر ایک شخص ’’دانا اور فہیم‘‘ ہے تو اِس کا اِظہار ’’نیک چال چلن‘‘ سے مع حلیم رُوح کے ساتھ جو ’’حِکمت‘‘ سے پَیدا ہوتی ہے کرے گا۔ خُداوند یسؔوع جِس میں حقیقی حِکمت تھی مُتکبّر اور خُود پَسند نہیں تھا۔ وُہ دِل کا حلیم اور فرق تھا (متّی۲۹:۱۱)۔ چنانچہ وُہ لوگ جو حقیقتاً فہیم ہیں اُن میں حقیقی فروتنی کا نِشان پایا جائے گا۔

۱۴:۳- دُنیاوی طور سے عقلمند آدمی کی خصُوصیّت یہ ہے کہ اُس کے دِل میں ’’سخت حَسد‘‘ اور خُود غرضانہ خواہشات پائی جاتی ہیں۔ اُس کی زِندگی میں ایک ہی خواہش ہوتی ہے کہ صِرف اپنے فائِدے کو آگے بڑھائے۔ وُہ مُقابلہ کرنے والے ہر شخص سے حَسد کرتا اور اُن کے ساتھ ظالِمانہ سلوک کرتا ہے۔ وُہ اپنی اُس حِکمت پر جِس کے ذریعہ اُسے کامیابی ملی فخر کرتا ہے۔ لیکن یعقؔوب کہتا ہے کہ یہ قطعاً حِکمت نہیں ہے۔ اِس قسم کی شیخی باطل ہوتی ہے۔ یہ اِس ’’حق‘‘ کا عملی اِنکار ہے کہ وُہ آدمی جو حقیقتاً فہیم ہے حقیقتاً حلیم ہوگا۔

۱۵:۳- یہاں تک کہ مسیحی خِدمت میں بھی دُوسرے کارِندوں سے سخت حَسد کرنا اور اپنے لئے اِمتیازی مقام کی تلاش میں رہنا مُمکن ہے۔ یہ خطرہ ہمیشہ مَوجُود رہتا ہے کہ دُنیاوی طور سے عقلمند آدمی کو کلیسیا میں قیادت سونپ دی جائے۔ ہمیں ہمیشہ ہوشیار رہنا چاہئے کہ مبَادا ہم رُوحانی مُعاملات میں دُنیوی اصُولوں کی پَیروی کریں۔ یعقؔوب باطل حِکمت کو ’’دُنیوی اور نفسانی اور شیطانی‘‘ کہتا ہے۔ ’’دُنیوی‘‘ کا مطلب یہ ہے کہ یہ آسمان سے نہیں بلکہ زمین سے ہے۔ ’’نفسانی‘‘ کا مطلب یہ ہے کہ یہ رُوحُ القُدس کا پھل نہیں بلکہ اِنسان کی کمتر فطرت سے ہے۔ ’’شیطانی‘‘ کا مطلب یہ ہے کہ یہ اَیسی ذلیل حرکتیں کرتی ہے جو اِنسان کی بجائے شیطان کے رویّہ سے مِلتی جُلتی ہوتی ہیں۔

۱۶:۳- جہاں آپ کو ’’حَسد اور تفرقہ‘‘ ملے گا وہاں آپ کو ’’فساد‘‘، نا اتفاقی اور ’’ہر بُرا کام‘‘ بھی ملے گا۔ یہ کِتنا سچ ہے! آج کل دُنیا میں جو اِضطراب اور بے چینی پائی جاتی ہے اِس کے متعلق سوچیں ــــــــــــ یہ سب اِس لئے ہے کہ اِنسان حقیقی حِکمت کو ردّ کرتا اور اپنی فرضی ہوشیاری پرعمل کرتا ہے۔

۱۷:۳- ’’جو حِکمت‘‘ خُدا کی طرف سے آتی ہے ’’اول تو وُہ پاک‘‘ ہوتی ہے۔ وُہ خیالات، کام اور کلام میں پاک ہوتی ہے۔ وُہ رُوح اور بَدن، تعلیم اور عمل، ایمان اور اخلاق میں آلُودہ نہیں ہوتی۔ پھر ’’ملنسار‘‘ ہوتی ہے۔ اِس کا مطلب یہ ہے کہ ایک فیم آدمی امن و سلامتی سے محبّت کرتا ہے اور وُہ پاکیزگی کو قُربان کِئے بغیر پُوری کوشش سے امن قائم رکھے گا۔ یہ لوُتؔھر کی دو بکریوں کی کہانی سے ظاہر ہوتی ہے جو گہرے پانی سے اُوپر ایک تنگ پُل پر ملی تھیں۔ وُہ نہ تو واپس جا سکتی تھیں اور نہ مُڑ سکتی تھیں۔ تھوڑی دیر تک گُفت وشنید کے بعد ایک بیٹھ گئی اور دُوسری اُس کے اُوپر سے گُزر گئی اور یُوں کوئی نقصان نہ ہؤا۔ لُوتھر کہتا ہے ’’اِس سے جو اخلاقی سبق مِلتا ہے بڑا آسان ہے : اگر ایک آدمی امن کی خاطر آپ کے اُوپر سے، مَیں پھِر کہتا ہُوں آپ کی شخصیت سے ضمیر سے نہیں گُزر جاتا ہے تو مُطمئن رہیں‘‘۔ حقیقی حِکمت ’’حلیم‘‘ ہے۔ یہ برداشت کرتی ہے نہ کہ دباتی ہے۔ یہ خُوش خُلق ہے نہ کہ بد اخلاق ۔ فہیم آدمی شریف ہوتا ہے اور دُوسروں کے احساسات کا احترام کرتا ہے۔

ایک اَور خصُوصیّت ’’تربیّت پذیر‘‘ ہونا ہے۔ اِس کا مطلب ہے کہ جب سچّائی تقاضا کرے تو وُہ صُلح جُو، قابلِ رسائی، سُننے کے لئے تیار اور قبول کرنے والا ہو۔ یہ سخت اور ضِدّی طبیعت کے اُلٹ ہے۔ حکمت جو اُوپر سے مِلتی ہے وُہ ’’رحم اور اچھّے پھَلوں سے لدی ہُوئی‘‘ ہوتی ہے۔ یہ ان کے لئے جو غلطی پر ہوتے ہیں ’’رحم‘‘ سے بھری ہوتی اور اُن کی دُرست طریقے سے مدد کرنے کے لئے تیار رہتی ہے۔ یہ پُر محبّت اور مہربان ہے۔ یہ اِنتقام پرور نہیں ہوتی بلکہ یہ بد تمیزی کا بدلہ فیض رسانی سے دیتی ہے۔ یہ ’’بے طرف دار‘‘ بھی ہوتی ہے یعنی کِسی کی طرفداری نہیں کرتی۔

یہ دُوسروں کے ساتھ سلوک میں غیر جانب دار ہوتی ہے۔ آخری بات یہ ہے کہ یہ ’’بے ریا‘‘ ہوتی ہے۔ یہ سنجیدہ اور کھَری ہوتی ہے۔ یہ غلط تاثر نہیں دیتی بلکہ جو کُچھ ہے وُہی کُچھ ظاہر کرتی ہے۔ آئیے ہم ان تمام خیالات کو یکجا کر کے ان دو آدمیوں یعنی ایک حقیقی فہیم اور دُوسرے باطل حِکمت والے کی تصویر بنائیں۔ وُہ شخص جو حقیقاً فہیم ہے وُہ سچ مُچ فروتن ہوتا ہے۔ وُہ دُوسروں کو اپنے سے بہتر خیال کرتا ہے۔ وہ اپنے آپ کو بڑا بنا کر پیش نہیں کرتا بلکہ دُوسروں کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔ اُس کا رویّہ اپنے اِرد گرد کی دُنیا کا سانہیں ہوتا بلکہ اگلے جہان کا سا۔ وُہ جِسم کے لئے زِندہ نہیں رہتا بلکہ رُوح کے لئے۔ وُہ اپنے کام اور کلام سے آپ کو خُداوند یسؔوع کے بارے میں سوچنے پر مجبُور کر دیتا ہے۔ اُس کی زِندگی پاک ہوتی ہے۔ وُہ رُوحانی اور اخلاقی طور پر صاف سُتھرا ہوتا ہے۔ اور پھر وُہ پُراَمن بھی ہے۔ وُہ اپنی بے عِزّتی اور جھوٹی تُہمت کو برداشت کرتا ہے اور مُڑ کر جواب نہیں دیتا اور نہ خُود کو سچّا ثابت کرنے کی کوشِش کرتا ہے۔ وہ شریف، نیک اَطوار اور نرم دِل ہوتا ہے۔ اُس کے ساتھ آسانی سے بات کی جا سکتی ہے اور وہ دُوسرے آدمی کے نقطۂ نظر کو سمجھنے کی کوشِش کرتا ہے۔ وُہ جھگڑالوُ نہیں ہوتا بلکہ اپنے ساتھ زیادتی کرنے والے کو مُعاف کرنے کے لئے ہمیشہ تیار رہتا ہے۔ اور صِرف یہی نہیں بلکہ عادتاً دُوسروں کے ساتھ مہربانی سے پیش آتا ہے، خاص طور پر اُن کے ساتھ جو اِس کے حق دار نہیں ہوتے۔ وُہ سب کے ساتھ یکساں سلوک کرتا ہے۔ کِسی کی طرف داری نہیں کرتا۔ وُہ غریبوں کے ساتھ بھی وہی سلوک کرتا ہے جو امیروں کے ساتھ۔ وُہ بڑے لوگوں کو عام لوگوں پر ترجیح نہیں دیتا۔ وہ ریا کار نہیں ہوتا۔ وُہ ایک بات کہہ کر دُوسری نہیں کرتا۔ آپ اُسے کِسی کی خوشامد کرتے نہیں سُنیں گے۔ وہ ہمیشہ سچ بولتا ہے اور نقاب نہیں پہنتا۔ دُنیاوی طور سے عقلمند آدمی اَیسا نہیں ہوتا۔ اُس کا دِل حَسد اور جھگڑے سے بھرا ہوتا ہے۔ دولت مند بننے کی خواہش کے باعث اپنے مخالِف یا مُقابلہ کرنے والے کو برداشت نہیں کرتا۔ اُس کے رویّہ میں کوئی شریفانہ بات نہیں ہوتی۔ وُہ زمِین کی سَطح سے اُوپر نہیں اُٹھتا۔ وُہ حیوانات کی طرح اپنی جبّلی اِشتہا کو مٹانے کے لئے زِندہ رہتا ہے اور اُس کا طریقہ بڑا ظالِمانہ، پُر فریب اور شیطانی ہوتا ہے۔ اُس کے اچھّے اور قیمتی کپڑوں کے نیچے ناپاک زِندگی چِھپی ہُوئی ہوتی ہے۔ اُس کے خیالات آلُودہ، اُس کا اخلاق گِرا ہؤا اور اُس کی گفتگو گندی ہوتی ہے۔ وُہ اپنے سے اِتفاق نہ کرنے یا بات کاٹنے والوں سے لڑتا جھگڑتا ہے۔ وُہ گھر پر، کام پر، اور سماجی زِندگی میں متواتر مُحبّت کرتا رہتا ہے۔ اور وُہ سخت اور برداشت نہ کرنے والا، متکبّر اور ظالِم ہوتا ہے۔ لوگ اُسے آسانی سے نہیں مِل سکتے۔ وُہ

اُنہیں ایک ہاتھ دُور ہی رکھتا ہے۔ اُسے خاموشی سے سمجھانا تقریباً ناممکن ہے۔ اُس نے پہلے ہی اپنا ذہن بنا لیا ہوتا ہے اور اُس کے خیالات کو تبدیل کرنا ممکن نہیں ہوتا۔ وُہ مُعاف نہ کرنے والا اور کینہ پرور ہوتا ہے۔ جب وُہ کِسی کو کسی غلطی میں پکڑ لیتا ہے تو بالکُل رحم نہیں کرتا۔ اِس کے برعکس وُہ اُسے گالیاں دیتا، بَد تمیزی اور کمینگی کا مظاہِرہ کرتا ہے۔ وُہ لوگوں کی قَدر اُس نفع کے مُـطابق کرتا ہے جو اُسے اُن سے حاصِل ہو سکتا ہے۔ جب وہ یہ دیکھتا ہے کہ اب وہ اُس کے اِستعمال کے قابِل نہیں رہے یعنی اب اُن سے مزید کِسی نفع کی اُمید نہیں رہی تو وُہ اُن میں مزید دِلچسپی نہیں لیتا۔ آخری بات یہ کہ اُس کے دو چہرے ہوتے ہیں اور وُہ غیر مُخلص ہوتا ہے۔ آپ اُس کے متعلق یا اُس کے الفاظ اور کاموں کے بارے میں یقین سے کُچھ نہیں کہہ سکتے۔

۱۸:۳- یعقوؔب اِس باب کو ان اَلفاظ کے ساتھ ختم کرتا ہے : ’’اور صُلع کرانے والوں کے لئے راست بازی کا پھَل صُلح کے ساتھ بویا جاتا ہے‘‘۔ یہ آیت جِس بات پر ہم بحث کرتے آئے ہیں اور جو کُچھ بعد میں آتا ہے اُن کے درمیان بطور رابطہ ہے۔ ہم نے ابھی سیکھا کہ حقیقی حکمت صُلح پَسند ہے۔ لیکن اگلے باب میں ہمیں معلوُم ہوتا ہے کہ خُدا کے لوگ آپس میں لڑتے جھگڑتے رہتے ہیں۔ یہاں ہمیں یاد دلایا جاتا ہے کہ زِندگی کاشتکاری کے عمل کی مانند ہے۔ یہاں کاشتکار ہے (عقلمنَد آدمی جو صُلح کراتا ہے)، آب و ہَوا ہے (’’صُلح‘‘) اور فصل ہے (’’راست بازی‘‘)۔ کاشتکار، راست بازی کی فَصل پیدا کرنا چاہتا ہے، لیکن کیا لڑائی جھگڑوں اور معمولی معمولی باتوں میں اُلجھنے کے ماحول میں کاشت کی جا سکتی ہے؟ نہیں۔ بیج پُرامن ماحول میں بویا جاتا ہے۔ پھر اِسے وُہی لوگ بوتے ہیں جو خُود صُلح پَسند ہوتے ہیں۔ راست بازی کی فَصل خُود اُن کی زندگیوں میں پَیدا ہوتی ہے اور اُن کی بھی جن کے درمیان وُہ خدمت کرتے ہیں۔ ایک مرتبہ پھر یعقؔوب ہمارے ایمان کو کسَوٹی پر رکھ دیتا ہے۔ اِس مرتبہ اُس حِکمت کے سِلسلے میں جِس کا مظاہرہ ہم ہر روزہ اپنی زِندگی میں کرتے ہیں۔ ہمیں خُود سے سُوال کرنا چاہئے : کیا مَیں خُداوند یسؔوع میں ایک اَدنیٰ ایمان دار کی نسبت دُنیاوی مُتکبّر آدمی کو زیادہ عِزّت دیتا ہُوں؟ کیا مَیں خُداوند کی خِدمت اِس بات سے صِرف نظر کرتے ہُوئے کرتا ہُوں کہ فائِدہ کِس کو پُہنچتا ہے؟ یا کیا بعض اَوقات مَیں اچھّے نتائج حاصِل کرنے کے لئے قابلِ اِعتراض ذرائع اِستعمال کرتا ہُوں؟ کیا مَیں اپنے دِل میں حَسد اور آزُردگی کو جگہ دیتا ہُوں؟ کیا مَیں طنزیہ اور نامہربان فِقرے بازی کرتا ہُوں؟ کیا مَیں خیالات، گفتگو اور اخلاقیات میں پاک ہُوں؟