یَعقُوب کا عام خَط ۲

۲- آزمائِشیں (۲:۱۔۱۷)

۳،۲:۱- اِس حِصّہ میں یعقوؔب آزمائِشوں کے بارے میں بیان کرتا ہے۔ وُہ لَفظ آزمائِش کو دو مُختلِف معنوں میں اِستعمال کرتا ہے۔ آیات ۲۔۱۲ میں وُہ آزمائشیں ہیں جنہیں ہم پاک ’’آزمائشیں‘‘ یا مُشکلات کہتے ہیں جو خُدا کی طرف سے آتی ہیں اور ہمارے ایمان کی حقیقت کو پرکھتی ہیں اور ہمیں مسیح کا ہمشکل بناتی ہیں۔ دُوسری طرف آیات ۱۳۔۱۷میں مَوضُوع ’’ناپاک آزمائشیں‘‘ ہے جو اِنسان کے اندر سے پیدا ہوتی ہیں اور گُناہ کی طرف لے جاتی ہیں۔ مسیحی زِندگی مشکلات سے بھری ہُوئی ہے۔ وُہ بِن بُلائے اور غیرمُتوقع طور پر آتی ہیں۔ بعض اوقات وُہ تنہا آتی ہیں اور بعض اوقات اکٹھی۔ اِن سے فرار ممکن نہیں۔ یعؔقوب یہ نہیں کہتا کہ اگر ’’تُم طرح طرح کی آزمائِشوں میں پڑو‘‘ بلکہ ’’جب‘‘ تُم۔ ہم اِن سے کبھی بچ نہیں سکتے۔ سُوال یہ ہے کہ ہم اِن کے ساتھ کِس طرح نپٹیں۔

ہم زِندگی کی ’’آزمائِشوں‘‘ اور اِمتحانوں کے بارے میں کئی طرح کے رویّے اختیار کر سکتے ہیں۔ ہم بغاوت کرتے ہُوئے لاف زَنی اور مُقابلے کی رُوح اختیار کرکے سمجھ سکتے ہیں کہ ہم اپنی قُوّت سے جنگ کرکے فتح حاصِل کرلیں گے (عبرانیوں ۵:۱۲)۔ دُوسری طرف ہم ہمّت ہار سکتے یا دباؤ میں آکر دِل چھوڑ کر بیٹھ سکتے ہیں (عبرانیوں۵:۱۲)۔ لیکن یہ موت کو دعوت دینا ہے۔ اِس سے ہمارے اندر ہمارے بارے میں خُداوند کی فکر مندی کے ضِمن میں شک بھی پَیدا ہو سکتا ہے۔ پھر ہم اپنی مشکِلات کے سلسِلے میں بُڑبُڑا سکتے اور شِکوہ شکایت کر سکتے ہیں۔ یہی وُہ بات ہے جِس کے بارے میں پولُسؔ رسُول ۱۔ کُرنتھیوں۱۰:۱۰ میں تنبیہ کرتا ہے۔ ایک اَور رویّہ یہ ہو سکتا ہے کہ ہم خُود پر رحم کھا نا شُروع کر دیں اور دُوسروں کی ہمدردیاں جیتنے کی کوشش کرنے لگیں۔ یا پھر ہم زِندگی کی مشکلات اور اُلجھاؤ کو برداشت کریں (عبرانیوں ۱۱:۱۲)۔ درحقیقت ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ ’’خُدا نے اِس آزمائِش کو مُجھ پر آنے دِیا ہے۔ اِس میں میرے لئے اُس کا کوئی نہ کوئی مقصد ہے۔ مَیں اِس مقصد کو تو نہیں جانتا لیکن مَیں اِسے معلُوم کرنے کی کوشِش کروں گا۔ مَیں چاہتا ہوں کہ یہ آزمائش میری زندگی میں اپنا مقصد پُورا کرے‘‘۔ یہ ہے وُہ رویّہ جس کی وکالت یعقُوؔب کر رہا ہے : ’’اے میرے بھائیو! جب تُم طرح طرح کی آزمائِشوں میں پڑو۔ تو اِس کو یہ جان کر کمال خُوشی کی بات سمجھنا‘‘۔ ’’ہِمّت نہ ہاریں۔ بغاوت نہ کریں بلکہ خُوش ہوں‘‘۔ یہ مُشکلات دشمن نہیں ہیں جو آپ کو تباہ کرنا چاہتی ہیں۔ یہ دوست ہیں جو آپ میں مسیحی کِردارہ پَیدا کریں گی۔

خُدا اپنے ہر فرزَند میں مسیح کی صُورت پَیدا کرنا چاہتا ہے۔ اِس کام میں ضُرورہی مُشکلات، پریشانیوں اور اُلجھاؤ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ جب ہر چیز پر سُورج چمک رہا ہو تو رُوح کا پَھل پَیدا نہیں ہوسکتا۔ ضرُوری ہے بارش اور سیاہ بادَل بھی ہوں۔ آزمائشیں کبھی بھی خُوشگوار نہیں ہوتیں۔ وُہ بڑی مشکل اور ناموافق نظر آتی ہیں۔ لیکن بعد میں اُن لوگوں کے لئے جو اُن کو سہتے سہتے پُختہ ہو گئے ہیں چَین کے ساتھ راست بازی کا پھَل پیدا کرتی ہیں (عبرانیوں ۱۱:۱۲)۔ کئی مرتبہ ہم نے مسیحیوں کو کِسی بڑے المّیہ سے گُزرنے کے بعد یہ کہتے سُنا ہے کہ ’’اُس کا سامنا کرنا آسان نہیں تھا لیکن مَیں اُس تجربہ کے لئے خُدا کا شُکرگُزار ہُوں‘‘۔ ’’تُمہارے ایمان کی آزمائِش صَبر پیدا کرتی ہے‘‘۔ وُہ ایمان کو ایک قیمتی دھات کے طور پر پیش کرتا ہے جِسے جانچنے والا (خُدا) یہ دیکھنے کے لئے آزما رہا ہے کہ کھوٹی ہے یا کھری! دھات بدسلُوکی بیماریوں، دُکھوں یا کہ رَنج والم کی آگ سے گُزرتی ہے۔ مشکلات کے بغیر ہم میں کبھی صَبر پیدا نہیں ہو سکتا۔ یہاں تک کہ دُنیاوی لوگ بھی محسُوس کرتے ہیں کہ مُشکلات کردار کو مضبُوط بناتی ہیں۔ چارلؔس کیٹرنگ نے جو کہ ایک مشہور صنعت کار تھا ایک مرتبہ کہا ’’مُشکلات ترقی کی قیمت ہیں۔ میرے پاس سِوائے مشکلات کے اور کُچھ نہ لاؤ۔ اچھّی خبر مُجھے کمزور بنا دیتی ہے‘‘۔

۴:۱- یعقؔوب کہتا ہے: ’’صَبر کو اپنا پُورا کام کرنے دو‘‘۔ بعض اوقات جب ہم پر مُشکلات آتی ہیں تو ہم پریشان ہو جاتے ہیں اور اُنہیں کم کرنے کے لئے پُوری کوشِش سے مُختلِف ذرائع اِستعمال کرنے لگتے ہیں۔ خُداوند سے مشورہ کئے بغیر کہ اِس سے اُس کا مقصد کیا ہے ہم مثال کے طور پر ڈاکٹر کے پاس بھاگتے ہیں اور اُس آزمائش کو کم کرنے کے لئے ڈھیر ساری دَوانِگل لیتے ہیں۔ اِس طرح کرنے سے درحقیقت ہم اپنی زِندگیوں میں خُدا کے پروگرام کو روک دیتے ہیں اور یہ عین مُمکن ہے کہ خُدا کے اُس خاص مقصد کو پُورا ہونے کے لئے ہمیں ایک لمبی مُدّت تک آزمائِشوں میں سے گُزرنا پڑے۔ اگر ہم خُدا سے تعاوُن کریں تو ہم پُختہ اور مضبُوط مسیحی بن جائیں گے اور ہم میں رُوح کی نعمتوں کی ’’کمی‘‘ نہیں ہوگی۔

جب ہم مُشکلات میں سے گُزر رہے ہوں تو ہمیں پَست ہمّت اور دِل شکستہ نہیں ہونا چاہئے۔ ہمارے باپ کی قُدرت سے کوئی بھی مشکل بڑی نہیں ہے۔ زِندگی میں بعض مُشکلات ایسی ہیں جِنہیں کبھی بھی دُور نہیں کیا جاتا۔ ہمیں اِس بات کا تجربہ کرنے کے لئے کہ خُدا کا فضل کافی ہے اِنہیں قبول کرنا سیکھنا چاہئے۔ پولُسؔ رسُول نے تین مرتبہ خُدا سے اپنی جسمانی کمزوری کو دُور کرنے کی درخواست کی۔ لیکن خُداوند نے اُسے دُور نہ کیا، البتہ اُسے برداشت کرنے کے لئے اپنا فضل دِیا (۲۔ کرنتھیوں۸:۱۲۔۱۰)- جب ہمارا، زِندگی میں کِسی ایسی مُشکِل سے سابقہ پڑتا ہے جِسے خُدا بہرحال دُور نہیں کرے گا تو ہمیں اُس کی مرضی کے سامنے سرِتسلیم خم کرنا چاہئے۔ خُدا کی تابع فرمانی کرنے ہی سے ہمیں اِطمینان ملتا ہے۔ جب ہم زِندگی کی بعض مُشکلات سے سبق سیکھ لیتے ہیں تو وُہ دُور کر دی جاتی ہیں۔ جُونہی دھات صاف کرنے والا پِگھلی ہُوئی دھات میں اپنی صُورت دیکھ لیتا ہے وُہ اُسے تپانا بند کر دیتا ہے۔ ہم میں سے اکثر لوگوں میں حِکمت کی کمی ہے، اِسی لئے ہم خُدا کے نُقطئہ نظر سے مُشکلات کو نہیں دیکھتے۔ ہم کوتاہ بِینی سے کام لیتے ہیں، اِس لئے ہم مُشکل کو حل کرنے میں فوراً مصرُوف ہو جاتے ہیں۔ ہم بھُول جاتے ہیں کہ خُدا ہمیں سبق سِکھانے میں جلد بازی سے کام نہیں لیتا اور کہ مشکلات کا مقصد یہ ہے کہ ہمیں کُشادگی بخشیں (زبُور۱:۴)۔

۵:۱- ہمیں اپنی حِکمت سے زِندگی کے مسائِل حل کرنے کی ضرُورت نہیں ہے۔ ’’اگر‘‘ آزمائِش کے وقت ہم میں رُوحانی بصیرت کی کمی ہے تو ہمیں خُدا کے پاس جاکر اُسے اپنی اُلجھن اور لاعلمی کے بارے میں بتانا چاہئے۔ اَیسے تمام لوگوں کو جو یُوں خُدا کے مقاصد کو تلاش کرتے ہیں آزمائِش کے وقت ’’فیاضی‘‘ سے حِکمت دی جائے گی۔ اور پھِراُنہیں اِس بات کی بھی فِکر نہیں کرنی چاہئے کہ خُدا اُنہیں ملامت کرے گا۔ جب ہم سیکھنا چاہتے اور تربیّت پذیر ہوتے ہیں تو وُہ خوش ہوتا ہے۔ ہم سب میں ’’حِکمت‘‘ کی کمی ہے۔ بائبل مُقدّس زِندگی کے بے شُمار مسائِل کا کوئی خاص جواب نہیں دیتی۔ وُہ مسائِل کا حل الفاظ کی بُہتات میں پیش نہیں کرتی، البتہ خُدا کا کلام ہمیں عام اصُول دیتا ہے۔ جب ہماری روزمرّہ کی زِندگی میں مسائِل اُبھرتے ہیں توہمیں اُن پر اِن اصُولوں کا اِطلاق کرنا چاہئے۔ بدیں وجہ ہمیں حِکمت کی ضرُورت ہے۔ روزمرّہ کے حالات میں ہمارے خُداوند کی تعلیم رُوحانی حِکمت کا عملی اطلاق ہے۔

۸-۶:۱- ہمیں خُدا کے پاس ’’ایمان سے‘‘ اور ’’شک نہ کرتے‘‘ ہُوئے جانا چاہئے۔ ہمیں ایمان رکھنا چاہئے کہ وُہ ہمیں پیار کرتا اور ہمارے لئے فِکر مند رہتا ہے اور کہ اُس کے لئے کوئی بات بھی ناممکن نہیں ہے۔ اگر ہم اُس کی مہربانی اور اُس کی قدرت پر شک کرتے ہیں تو مُصیبت کے وقت ہمیں قیام حاصِل نہیں ہوگا۔ ایک وقت تو ہم بڑے اِطمینان سے اُس کے وعدوں پر تکیہ کئے ہوں گے لیکن دُوسرے وقت ہم محسُوس کریں گے کہ خُدا مہربان ہونا بھُول گیا ہے۔ ہم ’’سمندر کی‘‘ لہروں کی مانند ہوں گے جو ایک وقت تو بُہت بلند ہوتی ہیں لیکن پھر ساکِن ہو جاتی ہیں ـــــــ ’’بہتی اور اُچھلتی‘‘۔ خُدا کو ایسے ایمان سے جو اُمید اور مایُوسی کے درمیان بدلتا رہتا ہے عِزّت نہیں مِلتی۔ خُدا بے قیام اور متذبذب آدمیوں کو رُوحانی بصیرت نہیں دیتا
(آیات ۸،۷)- آیات ۵۔۸ میں حکمت کا منبع خُدا ہے۔ یہ دُعا سے حاصِل ہوتی ہے۔ یہ ہر ایک کے لئے ہے۔ یہ فیاضی سے اور بغیر ملامت کے دی جاتی ہَے۔ اہم شرط یہ ہے کہ آدمی ’’ایمان سے مانگے اور شک نہ کرے‘‘۔

۹:۱- پہلی نظر میں ایسا معلُوم ہوتا ہے کہ آیات ۹۔۱۱ میں ایک قطعی نئے موضُوع سے مُتعارف کرایا جا رہا ہے یا یہ جُملہ معترضہ ہیں۔ لیکن یعقؔوب خاص مثالوں کی وساطت سے پاک آزمائِشوں کے موضُوع کو جاری رکھتا ہے۔ ایک آدمی خواہ امیر ہے یا غریب وُہ زِندگی کے بُحرانوں اور المّیوں سے دائمی روحانی فوائِد حاصِل کر سکتا ہے۔ مثلاً جب ایک ’’ادنیٰ بھائی‘‘ کو معلُوم ہوتا ہے کہ وُہ غیر مُطمِئن اور مایُوس ہے تو وُہ اِس بات سے خُوش ہو سکتا ہے کہ وُہ خُدا کا وارِث اور مسیح یسؔوع کا ہم میراث ہے۔ وُہ اِس سچائی میں تسلّی پاسکتا ہے کہ تمام چِیزیں اُس کی ہیں اور وُہ مسیح کا ہے اور مسیح خُدا کا ہے۔ ایک ’’ادنیٰ بھائی‘‘ کا اپنے کم تر حالات پر غالباً کوئی کنٹرول نہیں ہوتا۔ ضرُوری نہیں کہ وُہ سُست یا غافل ہو۔ خُدا کو یہ مناسب نظر آیا کہ وُہ اُسے کم آمدنی والے حَلقے میں رکھے اور کہ وُہ وہاں ہمیشہ رہے۔ اگر وُہ امیر ہوتا تو شاید وُہ خُدا کو کبھی قبول نہ کرتا۔ اب جبکہ وُہ مسیح میں ہے تو اُسے آسمان میں تمام رُوحانی برکات حاصِل ہیں۔ اُسے کیا کرنا چاہئے؟ کیا وُہ اپنے حالات سے بغاوت کر دے؟ کیا وہ تلخ سوچ کا شِکار ہو کر حسد کرنے لگے؟ نہیں، اُسے تمام حالات کو جو خُدا کی طرف سے ہیں اور جِن پراُس کا کنٹرول نہیں، قبول کرنا چاہئے اور اپنی رُوحانی برکات سے لُطف اندوز ہونا چاہئے۔

مُتعدد ایمان دار ایسے ہیں جو اپنی جِنس، اپنی عُمر، اپنے قَد اور یہاں تک کہ خُود زِندگی کے بارے میں ناخوش ہیں۔ کئی ایک لڑکیاں اپنے دِل میں یہ شدید خواہش رکھتی ہیں کہ کاش مَیں لڑکا ہوتی۔ نَوجوان چاہتے ہیں کہ وُہ بڑی عُمر کے ہوتے اور بُوڑھے جوان ہونا چاہتے ہیں۔ چھوٹے قَد کے لوگ لمبے قَد والوں سے حسد کرتے ہیں اور لمبے قد والے چاہتے ہیں کہ اِتنے نُمایاں نہ ہوتے۔ بعض لوگ یہاں تک کہتے ہیں کہ ’’کاش! مَیں زِندہ نہ ہوتا!‘‘ یہ سب نامعقُول باتیں ہیں۔ مسیحی رویّہ یہ ہے کہ جو کُچھ خُدا نے ہمارے لئے مقرر کیا ہے اور جِسے ہم بدل نہیں سکتے اُسے خُوشی سے قبُول کریں۔ ہمیں اِس کو اُس کے جلال اور لوگوں کی برکت کے لئے اِستعمال کرنا چاہئے۔ ہمیں پَولُسؔ کے ہمزبان ہو کر کہنا چاہئے: جو کُچھ ہُوں خُدا کے فضل سے ہُوں‘‘ (۱۔ کرنتھیوں۱۰:۱۵)۔ جب ہم اپنی کمی کمزوریوں کو بھُول کر دُوسروں کی خِدمت کرنے لگتے ہیں تو رُوحانی لوگ ہمیں پیار کرنے لگتے ہیں۔ چاہے ہماری ظاہری شکل و صُورت کیسی ہی کیوں نہ ہو۔

۱۱-۱۰:۱- اب یعقؔوب ’’دَولت مندوں‘‘ سے مُخاطب ہے۔ لیکن یہ تعجّب کی بات ہے کہ وُہ دَولتمندوں سے یہ نہیں کہتا کہ ’’دَولتمند اپنی دَولت میں خوشی منائے‘‘ بلکہ یہ کہتا ہے کہ دولتمند اِس بات پر فخر کرے کہ وُہ ’’اَدنی‘‘ کِیا گیا ہے۔ وُہ یرمیاہ ۲۳:۹-۲۴ سے اِتفاق کرتا ہے :

نہ صاحبِ حِکمت اپنی حِکمت پر اور نہ قَوی اپنی قوت پر اور نہ مالدار اپنے مال پر فخر کرے۔ لیکن جو فخر کرتا ہے اِس پر فخر کرے کہ وہ سمجھتا اور مُجھے جانتا ہے کہ مَیں ہی خداوند ہُوں جو دُنیا میں شفقت و عدل اور راست بازی کو عمل میں لاتا ہُوں کیونکہ میری خُوشنودی اِن ہی باتوں میں ہے۔ خُداوند فرماتا ہے۔

اگر ایک دَولت مند کو اُس کے مال و دَولت سے محروُم کر دیا جائے تو مُمکن ہے کہ اُسے فخر کرنے کی حقیقی وجہ مِل جائے۔ شاید کاروبارمیں نُقصان اُسے خُداوند کے پاس لے آئے۔ یا اگر وُہ پہلے ہی ایمان دار ہے تو پھر وُہ اپنے نُقصان کو خُوشی سے قبُول کرے گا، یہ جانتے ہُوئے کہ اُس کا آسمان پر ایک بہتر اور پائیدار خزانہ ہے (عِبرانیوں ۳۴:۱۰)- زمینی مال و دَولت ’’گھاس کے پھُول کی مانند‘‘ جاتا رہے گا (یسَعیاہ ۶:۴۰-۷)۔ اگر ایک آدمی کے پاس ماسِوائے مادّی دَولت اَور کُچھ نہیں تو اُس کے تمام منصُوبے قَبر پر جا کر ختم ہو جائیں گے۔ یعقؔوب ایک اَمیر آدمی کی ختم ہونے والی زندگی اور اُس کی محدُود دَولت کو’’گھاس‘‘ سے تشبیہ دیتا ہے۔ وُہ ’’اپنی راہ پر چلتے چلتے خاک میں مِل جائے گا‘‘۔ بِلاشُبہ، نکتہ یہ ہے کہ نہ تو سُورج اور نہ ہی تُند و تیز ہَوا رُوحانی اقدار پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔ ایسی کوئی بھی آزمائِش جو ہمیں مِٹنے والی اشیا کی محبّت سے دُورلے جاتی ہے اور ہمارے دِل میں آسمانی چِیزوں کے لئے محبّت پَیدا کر دیتی ہے مُصیبت کے رُوپ میں برکت ہے۔ چنانچہ وُہی فضل جو اَدنیٰ کو سر فراز کرتا ہے امیر کو پَست کر دیتا ہے۔ یہ دونوں باتیں خُوشی کرنے کے سبب ہیں۔

۱۲:۱- پاک آزمائِشوں کی بحث کو ختم کرتے ہُوئے یعقُوؔب اُس آدمی کے لئے جو دُکھ و تکلیف میں بھی قائِم رہتا ہے برکت کا اعلان کرتا ہے۔ جب اَیسا شخص آزمائِش پر پُورا اُترا، یا ’’مقبول ٹھہرا توزِندگی کا تاج حاصِل کرے گا‘‘۔ یہاں جِس’’تاج‘‘ کا ذِکر ہے وُہ بادشاہ کا تاج نہیں ہے بلکہ جیتنے والے کا تاج ہے جو مسیح کے تختِ عدالت پر دیا جائے گا۔ یہاں یہ نہیں کیا گیا کہ اَبدی زندگی آزمائِشوں کو برداشت کرنے کا اجر ہے بلکہ یہ کہ جو صَبر سے برداشت کرتے ہیں اُنہیں اِس قِسم کی زِندگی دی جائے گی اور آسمان میں گہری ابدی زِندگی سے لُطف اندوز ہوں گے۔ آسمان میں ہر شخص کا پیالہ لبریز ہوگا لیکن اُن کے پیالوں کی جسامت مختلِف ہوگی یعنی اُن کی لُطف اندوزی کی مِقدار مُختلف ہوگی۔ غالباً ’’زندگی کے تاج‘‘ میں جو خیال پایا جاتا ہے یہی ہے۔ یہ آسمانی جلال سے پُوری طرح لُطف اندوز ہونے کی طرف اِشارہ کرتا ہے۔

جب ہماری زندگی میں آزمائشیں آتی ہیں تو ہمارا ردِّعمل کیا ہوتا ہے؟ کیا ہم زِندگی کی بدبخیتوں کے خلاف تلخی کا اِظہار کرتے ہیں یا ہم اُن پر فخر کرتے اور اُن کے لئے خُداوند کے شکر گزار ہوتے ہیں؟ کیا ہم اپنی آزمائِشوں کا ڈھنڈورا پِیٹتے ہیں یا اُنہیں خاموشی سے برداشت کر لیتے ہیں؟ کیا ہم مُستقبِل میں رہتے اور اپنے حالات کے بہتر ہونے کا اِنتظار کرتے ہیں، یا ہم زمانہ حال میں رہتے ہیں اور جو کچھ ہم پر وارَد ہوتا ہے اِس میں خُدا کا ہاتھ دیکھنے کے مُتمنی ہوتے ہیں؟ کیا ہم خُود پر رحم کھاتے اور دُوسروں کی ہمدردیاں جیتنے کی کوشش کرتے ہیں یا اپنے آپ کو دُوسروں کی خِدمت کرنے والی زِندگی میں غرق کر دیتے ہیں؟

۱۳:۱- اَب مَوضُوع ناپاک آزمائشوں کی طرف مُڑتا ہے (آیات ۱۳-۱۷)۔ جِس طرح پاک آزمائِشوں کا مقصد یہ ہے کہ ہماری بہتری ہو، اِسی طرح نا پاک آزمائِشوں کا مقصد ہم میں خرابی پیدا کرنا ہے۔ ایک بات کو ہمیں صفائی سے سمجھ لینا چاہئے کہ جب ہم پر گناہ کی آزمائِش آتی ہے تو یہ خُدا کی طرف سے نہیں ہوتی۔ جہاں تک ایمان کا تعلق ہے خُدا ہمیں یقیناً آزماتا ہے لیکن وُہ ہمیں کسی بھی قسم کی بدی کے لئے نہیں آزماتا۔ وُہ بَدی سے کوئی سروکار نہیں رکھتا اور نہ گناہ کی ترغیب دیتا ہے۔

۱۴:۱- اِنسان اپنے گُناہوں کی ذِمّہ داری دُوسروں پر ڈالنے کے لئے ہمیشہ ہی تیار رہتا ہے۔ اگر وُہ خُدا کو اِلزام نہیں دے سکتا تو وُہ جدید ماہرِینِ نفسیات کا طریقہ اِختیار کرتے ہُوئے کہتا ہے کہ گُناہ محض ایک بیماری ہے۔ اِس طرح وُہ عدالت سے بچنے کی اُمّید رکھتا ہے۔ لیکن گُناہ بیماری نہیں ہے۔ یہ اخلاقی قصُور ہے جِس کا اِنسان کو ضُرور ہی جواب دینا ہوگا۔ بعض لوگ گُناہ کا اِلزام مادی چِیزوں پر لگاتے ہیں۔ لیکن مادّی اشیا بذاتہ بُری نہیں ہیں۔ گناہ اِن سے پَیدا نہیں ہوتا۔ جب یعقؔوب یہ کہتا ہے کہ ’’ہر شخص اَپنی ہی خواہشوں میں کھنچ کر اور پھنس کر آزمایا جاتا ہے‘‘ تو وُہ شیروں کی غار تک اُن کے راستے کا کھوج لگاتا ہے۔ گُناہ ہمارے اندر سے یعنی پُرانی، بُری، گُناہ میں گری ہوئی اور نئی نہ بنائی گئی فِطرت سے اُبھرتا ہے۔ یسُوؔع نے کہا ’’بُرے خیال، خُوں ریزیاں، زِنا کاریاں، حرام کاریاں، چوریاں، جھُوٹی گواہیاں، بدگوئیاں دِل ہی سے نکلتی ہیں‘‘ (متّی۱۹:۱۵)۔

یعقؔوب آیت ۱۴ میں لفظ ’’خواہشوں‘‘ اِستعمال کرتا ہے۔ یہ اچھّی اور بُری دونوں قِسم کی خواہشوں کے لئے اِستعمال ہو سکتا ہے۔ یہ لَفظ اخلاقی طور پر غیر جانبدار ہے۔ لیکن نئے عہد نامہ میں چند مُستثنیات کے عِلاوہ یہ لَفظ بُری خواہشات ہی کو بیان کرتا ہے اور یہاں بھی یقیناً ایسا ہی ہے۔ نفسانی خواہش ایک کبَسی کی مانند ہے جو دُوسروں کو لُبھانے اور اپنے شکار کو پھَنسانے کی کوشش کرتی ہے۔ ہم میں سے ہر شخص آزمایا جاتا ہے۔ ہم میں گندا لالچ اور ناپاک اِشتہا ہمیں متواتر گُناہ پر اُبھارتی رہتی ہے۔ کیا ہم اُس وقت جبکہ ’’اپنی ہی خواہشوں میں‘‘ پھنس کر آزمائے جاتے ہیں بے بس شِکار ہوتے ہیں؟ نہیں، ہم اپنے زہن سے تمام گُناہ آلودہ خیالات کو نِکال سکتے اور اپنی توُجّہ شرافت اور پاک مَوضوُعات پر مرکوز کر سکتے ہیں (فلپّیوں۸:۴)- سخت آزمائِش کے لمحات میں ہم خُداوند کو پُکار سکتے ہیں، یہ یاد رکھتے ہُوئے کہ ’’خُداوند کا نام مُحکم بُرج ہے۔ صادق اُس میں بھاگ جاتا ہے اور اَمن میں رہتا ہے‘‘ (امثال ۱۰:۱۸)۔

۱۵:۱- اگر یہ درُست ہے تو پھِر ہم سے گناہ کیوں سَرزَد ہوتا ہے؟ اِس کا جواب یہ ہے کہ ’’پھر خواہش حامِلہ ہو کر گُناہ کو جنتی ہے‘‘۔ گُناہ آلُود خیال کو نِکالنے کی بجائے ہم اُس کی حوصلہ افزائی کرتے، اُسے تقویت پُہنچاتے اور اِس سے لُطف اندوز ہوتے ہیں۔ رضامندی کا یہ عمل مجامِعَت کی مانند ہے۔ نفسانی خواہش حامِلہ ہوتی ہے اور ایک گھِناؤنے بچّے کو جِس کا نام گناہ ہے جنم دیتی ہے۔ ہم اِسے ایسے بھی بیان کر سکتے ہیں کہ اگر ہم کِسی بُری بات پر کافی دیر تک غور کرتے رہتے ہیں تو بالآخر اُس کے مُرتکب ہو جاتے ہیں۔ خواہش کے حامِلہ ہونے اور گُناہ کو جنم دینے کو داؔؤد اور بتؔ سبع کا واقعہ بڑی صفائی سے بیان کرتا ہے (۲ سموئیل۱:۱۱۔۲۷)۔

یعقُؔوب کہتا ہے : ’’اور گُناہ جب بڑھ چُکا تو مَوت پَیدا کرتا ہے‘‘۔ گُناہ بانجھ نہیں ہوتا۔ وُہ اپنی اَولاد پیدا کرتا ہے۔ اِس بیان کو کہ ’’گُناہ‘‘ ’’مَوت‘‘ پَیدا کرتا ہے مُختلِف طریقوں سے سمجھا جا سکتا ہے۔ سب سے پہلے تو گُناہ آدمؔ اور اُس کی اَولاد پر جسمانی مَوت لایا (پیدائِش۱۷:۲)۔ لیکن گُناه رُوحانی اور اَبدی مَوت کا باعث بھی بنتا ہے یعنی خُدا سے حتمی جُدائی اور برکات سے محرُومی (رومیوں۲۳:۶)- ایک لِحاظ سے گُناہ ایمان دار کے لئے بھی مَوت پَیدا کرتا ہے۔ مثلاً ۱۔ تیمتھیُس ۶:۵
میں ہم پڑھتے ہیں کہ ایمان دار بیوہ جو عیش وعِشرت میں زِندگی بَسر کرتی ہے مُردہ ہے۔ اِس کا مطلب یہ ہے کہ وُہ اپنی زِندگی ضائع کر رہی ہے اور جِس مقصد کے لئے خُدا نے اُسے نجات دی اُسے پُورا کرنے سے قاصر ہے۔ ایک سچّے مسیحی کے لئے خُدا سے رفاقت نہ رکھنا ایک طرح سے جیتے جی مَر جانا ہے۔

۱۷-۱۶:۱- بعض لوگ جو گناہ میں گِر جاتے ہیں اپنے آپ کو مُلزم ٹھہرانے کی بجائے خُدا کو اِلزام دینے لگتے ہیں۔ وُہ اپنے خالِق سے کہتے ہیں ’’تُو نے مُجھے کیوں ایسا بنایا؟ لیکن یہ ایک طرح سے اپنے آپ کو دھوکا دینا ہے۔ خُدا سے صِرف اچھی بخشِشیں ہی مِلتی ہیں۔ درحقیقت وُہ ’’ہر اچھّی بخشِش اور ہر کامِل انعام‘‘ کا منبع ہے۔

یعقوؔب خُدا کو ’’نُوروں کا باپ‘‘ بیان کرتا ہے۔ بعض اوقات بائبل میں باپ کا مطلب خالِق یا منبع ہے (دیکھئے ایُّوب ۲۸:۳۸)- چنانچہ خُدا ’’نُوروں‘‘ کا خالِق یا منبع ہے۔ لیکن ’’نُوروں‘‘ کا کیا مطلب ہے؟ یقیناً اِس میں اَجرامِ فلکی ـــــــ سُورج، چاند اور ستارے شامِل ہیں (پیدائِش۱۴:۱۔۱۸ زبُور۸:۱۳۶)۔ لیکن خُدا تمام رُوحانی ’’نور‘‘ کا بھی منبع ہے۔ پس ہمیں یہ خیال کرنا چاہئے کہ وُہ کائِنات میں ہر قسم کے نُور کا منبع ہے۔ اُس میں ’’نہ کوئی تبدیلی ہو سکتی ہے اور نہ گردِش کے سبب سے اُس پر سایہ پڑتا ہے‘‘۔ خُدا اَجرامِ فلک کی مانند نہیں ہے جنہیں اُس نے پَیدا کیا ہے۔ اُن میں متواتر تبدیلی ہوتی رہتی ہے لیکن اُس میں نہیں ہوتی۔ غالباً یعقوؔب نہ صِرف سُورج اور سِتاروں کی گھٹتی بڑھتی روشنی کے بارے میں سوچ رہا ہے بلکہ اُن کے گردش کرنے کے باعث زمین کے ساتھ بدلتے ہُوئے تعلق کے بارے میں بھی۔ تغیّر پذیری سُورج، چاند اور سِتاروں کا خاصّہ ہے۔ ’’گردش کے سبب سے اُس پر سایہ‘‘ کا مطلب وہ ’’سایہ‘‘ جو ’’گردش‘‘ کے باعث پڑتا ہے ہو سکتا ہے۔ اِن سایوں سے مُراد وُہ سایہ بھی مُراد ہو سکتا ہے جو زمین کے سُورج کے گرد گھومنے سے زمین پر پڑتا ہے۔ یا مُمکِن ہے اِس کا اِشارہ گرہن کی طرف ہو۔ مثلاً سُورج گرہن اُس وقت پیدا ہوتا ہے جب چاند کا سایہ زمین پر پڑتا ہے۔ لیکن خُدا کے ساتھ مُعاملہ قطعی مُختلف ہے۔ اُس میں کوئی تبدیلی نہیں ہوتی، اور نہ گردش کے باعث ’’سایہ‘‘ پڑتا ہے۔ اور اُس کی بخششیں اُس کی مانند ’’کامل‘‘ ہیں۔ اِس لئے یہ سوچا ہی نہیں جا سکتا کہ وُہ کبھی آدمیوں کو گناہ کرنے کی ترغیب دے گا۔ آزمائِش اِنسان کی اپنی بُری فِطرت کے باعث اُس پر آتی ہے۔

آئیے ہم ناپاک خواہشوں کے موضُوع پر اپنے ایمان کو پرکھیں۔ کیا ہم اپنے بُرے خیالات کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں کہ وُہ ہمارے دِل و دماغ میں چکر کاٹتے رہیں یا انہیں فوراً نکال دیتے ہیں؟

جَب ہم سے کوئی گُناہ سرزَد ہوتا ہے تو کیا ہم یہ کہتے ہیں کہ مَیں بالکُل بے بس تھا؟ جب ہم پر گُناہ کی آزمائِش آتی ہے تو کیا ہم اِس کا اِلزام خُدا پر رکھتے ہیں؟