یَعقُوب کا عام خَط ۱۰

۱۰۔ صبر کی نصیحت (۷:۵۔۱۲)

۷:۵- یعقوؔب اب اُن ایمان داروں کی طرف متوجہ ہوتا ہے جو تکلیف اُٹھا رہے تھے۔ وُہ صبر کرنے کے لئے اُن کی حَوصلہ افزائی کرتا ہے۔ صَبر کرنے کی وجہ ’’خُداوند کی آمد‘‘ ہے۔ اِس کا اِشارہ یا تو خُداوند کا بادلوں پر آنا ہے یا مسیح کی حکوُمت کرنے کے لئے آمد۔ اِن دونوں کو نئے عہد نامہ میں صَبر سے برداشت کرنے کا مُحرّک بنایا گیا ہے۔

’’کِسان‘‘ کی مثال صَبر کی ضرُورت کو ظاہر کرتی ہے۔ وُہ جِس دِن بیج بوتا ہے اُسی دن فَصل نہیں کاٹ لیتا۔ اِس کے برعکس وُہ کئی ماہ تک اِنتظار کرتا ہے۔ پہلے وُہ ’’پہلے‘‘ مِینہ کا اِنتظار کرتا ہے تاکہ بِیج اُگنے لگے۔ پھر موسم کے آخر میں ’’پچھلے مینہ‘‘ کا تاکہ فَصل ثمر یاب ہو سکے۔ بعض لوگ ’’پہلے اور پچھلے مینہ‘‘ میں ایک وعدہ دیکھتے ہیں کہ کلیسیا کے اِبتدائی دَور میں جو پنتِکُست کی برکت مِلی اِس کو پھر خُداوند کی آمدِ ثانی سے پیشتر دُہرایا جائے گا۔ لیکن اَیسا لگتا ہے کہ نئے عہد نامہ کی مجمُوعی تعلیم اِس قِسم کی اُمید کی حَوصلہ افزائی نہیں کرتی۔

۸:۵- جب خُداوند واپس آئے گا تو زمین پر کی تمام بے اِنصافیوں کا ازالہ کیا جائے گا۔ پس اُس کے لوگوں کو ’’صبر‘‘ کرنا چاہئے جیسے کِسان کرتا ہے۔ اُن کے ’’دِلوں‘‘ کو اِس بات پر قائم رہنا چاہئے کہ خُداوند بالیقین آئے گا۔

۹:۵- ایذا رسانی اور پریشانی کے دَوران مظلُوموں کا ایک دُوسرے کے خِلاف ہو جانا ایک
عام بات ہے۔ یہ انسانی فطرت کا ایک عجیب پہلُو ہے کہ شدید دباؤ کے موقع پر ہم بعض اوقات اُنہی سے غُصّے ہو جاتے ہیں جنہیں سب سے زیادہ پیار کرتے ہیں۔ چنانچہ ہمیں تنبیہ کی جاتی ہے کہ ’’اے بھائیو! ایک دُوسرے کی شکایت نہ کرو تاکہ تم سَزا نہ پاؤ‘‘۔ اِس آیت میں خُداوند کے اُن خادِموں کے لئے نصیحت پائی جاتی ہے جو مُشکلات سے زمانہ میں مِل کر خِدمت کرتے ہیں۔ ہم میں ایک دُوسرے کے لئے آزُردگی نہیں پائی جانی چاہئے، کیونکہ ’’مُنصِف‘‘ پہلے ہی ’’دروازہ پر کھڑا ہے‘‘۔ وُہ جانتا ہے کہ ہم کیا سوچ رہے ہیں۔ ہمیں جلد ہی حِساب دینے کے لئے مسیح کے تختِ عدالت کے سامنے کھڑا ہونا پڑے گا۔ آئیے ہم دُوسروں کی عدالت نہ کریں مبادا ہماری عدالت بھی ہو۔

۱۰:۵- یہاں عہدِ عتیق کے ’’نبیوں‘‘ کا ذِکر ہے جنہیں ہمیں ’’دُکھ اُٹھانے اور صَبر کرنے کا نُمونہ‘‘ سمجھنا چاہئے۔ ’’مُصیبت سے صبر پیدا ہوتا ہے‘‘ (رومیوں ۳:۵)۔ جیسے کہ پہلے بیان کیا جا چُکا ہے نئے عہد نامہ میں صبر کا مطلب برداشت یا ثابت قَدمی ہے۔ چونکہ انبیا بڑی وفاداری سے خُداوند کے کلام کی منادی کرتے تھے اِس لئے اُنہیں بڑی بے رحمی سے ستایا جاتا تھا۔ اِس کے باوجُود بھی ’’وُہ اَندیکھے کو گویا دیکھ کر ثابت قدم‘‘ رہے (عبرانیوں۳۲،۲۷:۱۱۔۴۰)-

۱۱:۵- ہم قدیم انبیا مثلاً ایلؔیاہ، یرمیؔاہ اور دانی اؔیل کو بڑی عِزت کی نِگاہ سے دیکھتے ہیں۔ ہم اُن کی زِندگیوں میں جوش اور جاں نثاری کی قدر کرتے ہیں۔ اِن معنوں میں ہم اُنہیں ’’مبارک‘‘ کہتے ہیں۔ ہم اِس بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ وُہ درُست تھے اور دُنیا غلط تھی۔ لیکن ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ وُہ بڑی آزمائِشوں اور دُکھوں سے گُزرے اور اُنہوں نے انہیں بڑے صَبر سے برداشت کیا۔ اگر ہم بھی مُبارک کہلانا چاہتے ہیں تو مناسب یہی ہے کہ ہم بھی اُنہی کی طرح کریں۔

’’ایؔوب،‘‘ ’’صبر‘‘ یا ثابت قدمی کی بڑی عُمدہ مثال ہے۔ دُنیا کی تاریخ میں ’’ایؔوب‘‘ کی طرح شاید ہی کِسی نے اِتنے کم وقت میں اِتنا زیادہ نُقصان اُٹھایا ہو۔ اِس کے باوجُود بھی اُس نے نہ تو کبھی خُدا پر لعنت کی اور نہ اُس سے پھِرا۔ خُدا نے اپنے آپ کو وَیسا ہی ظاہر کِیا جیسا وُہ ہمیشہ کرتا ہے کہ وُہ ’’ترس اور رحم‘‘ سے بھَرا ہؤا ہے۔

اگر ہم اُسے جِسے یعقؔوب ’’اِس کا انجام ہؤا‘‘ (آخری نتیجہ جو ’’خُداوند‘‘ ظاہر کرتا ہے) کہتا ہے نہیں جانتے تو خطرہ ہے ہم بَدوں پر رَشک کرنے لگیں۔ آسؔف نے جب بدکاروں کو خوشحال دیکھا تو اُن پر رشک کرنے لگا (زبُور۳:۷۳۔۱۷)- وُہ جِتنا زیادہ اُس پر سوچتا اُتنا ہی زیادہ پریشان ہوتا۔ تب وُہ خُدا کے مَقدِس میں گیا اور اُسے اُن کا انجام معلُوم ہؤا۔ اِس سے اُس کا رشک کافُور ہو گیا۔ داؔؤد کو بھی یہی تجربہ ہؤا۔ زبور ۱۵:۱۷ میں وُہ اِیمان داروں کا حِصّہ آئِندہ زِندگی میں بتاتا ہے۔ اِس کے پیشِ نظر اِیمانداروں کو ضرُور ثابت قدم رہنا ہے۔ ایُوؔب کے مُعاملے میں ’’اِس کا انجام‘‘ یہ ہؤا کہ خُدا نے اُسے جو کُچھ پہلے اُس کے پاس تھا اُس سے بھی دو گُنا دِیا (ایّوب۱۰:۴۲۔۱۵)۔

۱۲:۵- آزمائِش کے وقت بے صبری قَسم کھانے سے بھی ظاہر ہوتی ہے۔ یہاں عدالت میں حلف اُٹھانے سے منع نہیں کیا گیا، بلکہ جِس بات سے منع کیا گیا ہے وُہ اپنی بات کو سچّا ثابت کرنے کے لئے خُدا کا یاکسی اَور کا نام بلا سوچے سمجھے لینا ہے۔ ایمان دار کو کِسی بھی چیز کی جو ’’آسمان‘‘ میں یا ’’زمین‘‘ پر ہے ’’قسم‘‘ کھانے کی ضرُورت ’’نہیں‘‘ ہونی چاہئے۔ وُہ جو اُسے جانتے ہیں اُن کو اِس بات کی ضرُورت ہونی چاہئے کہ اُن کی ’’ہاں‘‘ کا مطلب ’’ہاں‘‘ ہو اور ’’نہیں‘‘ کا ’’نہیں‘‘۔

اِس حوالہ کا اِطلاق اس قِسم کی اِصطلاحات مثلاً ’’خُدارا‘‘ یا ’’خُدا کے واسطے‘‘ یا ’’تُمہاری قسم‘‘ وغیرہ پر بھی کیا جانا چاہئے۔

’’تاکہ سزا کے لائِق نہ ٹھہرو‘‘۔ غالباً یہ یعقؔوب تِیسرے حُکم کے پیشِ نظر کہتا ہے کہ ’’تُو خُداوند اپنے خُدا کا نام بے فائِدہ نہ لینا کیونکہ جو اُس کا نام بے فائِدہ لیتا ہے خُداوند اُسے بے گُناہ نہ ٹھہرائے گا (خرُوج۷:۲۰)۔