یَعقُوب کا عام خَط ۱

تفسیر

۱۔ سلام و دُعا (۱:۱)

مُصنِّف اپنے آپ کو یوں مُتعارف کراتا ہے۔ ’’خُدا کے اور خُداوند یسؔوع مسیح کے بندہ یعقؔوب کی طرف سے‘‘۔ اگر مُصنِّف خُداوند کا سوتیلا بھائی تھا جیساکہ ہم سمجھتے ہیں تو اُس کی زِندگی میں ایک شاندار تبدیلی آگئی تھی۔ ایک وقت تھا کہ وُہ خُداوند یسُوؔع پر ایمان نہیں رکھتا تھا (یُوحَنّا ۵:۷)۔ مُمکن ہے وُہ لوگوں کے اِس خیال سے اِتفاق کرتا ہو کہ وُہ بے خُود ہے (مرقس ۲۱:۳) ۔ لیکن ہمارا خُداوند صَبر سے بِیج بوتا رہا۔ اگرچہ اِس بات کو مقبُولیت حاصِل نہ تھی تاہم اُس نے خُدا کی بادشاہی کے عظیم اصُول سِکھائے۔ تب بِیج نے یعقوؔب کی زِندگی میں جڑ پکڑی اور اِس کا نتیجہ ایک عظیم تبدیلی کی صُورت میں نِکلا۔ متشکِک ایک خادِم بن گیا، اور یہ بتاتے ہُوئے وُہ شرماتا نہیں تھا۔

اپنے آپ کو یہ کہنے سے کہ وُہ ’’خُدا کا اور خُداوند یسؔوع مسیح کا بندہ‘‘ ہے یعقُوؔب درُست طریقے سے ’’خُدا‘‘ اور’’خُداوند یسؔوع‘‘ کو ایک ہی سَطح پر رکھتا ہے یعنی اُنہیں مساوی قرار دیتا ہے۔ وُہ بیٹے کی وَیسے ہی عِزّت کرتا ہے جیسے کہ باپ کی (یُوحَنّا۲۳:۵)- یعقوؔب جانتا تھا کہ ’’کوئی آدمی دو مالِکوں کی خِدمت نہیں کر سکتا‘‘ (متّی ۲۴:۶)۔ اِس کے باوجُود بھی وُہ اَپنے آپ کو خُدا کا اورخُداوند یسؔوع کا بَندہ کہتا ہے۔ اِس میں کوئی تضاد نہیں کیونکہ خُدا باپ اور خُدا بیٹا دونوں مساوی ہیں۔

یہ خَط ’’اُن بارہ قبیلوں کو جو جابجا رہتے‘‘ تھے لِکھا گیا یعنی جو دُوسرے مُلکوں میں مُنتشر تھے۔ یہ لوگ پَیدائش کے لِحاظ سے یہُودی تھے اور اِسرائیل کے ’’بارہ قبیلوں‘‘ سے تعلق رکھتے تھے۔ اِسرائیل کے گُناہ کی وجہ سے لوگوں کو اپنے آبائی مُلک سے نِکلنا پڑا اور وُہ بُحیرہ رُوؔم کے اِرد گِرد کے مُلکوں میں پھیل گئے۔ پہلی پراگندگی اُس وقت ہُوئی جبکہ شاہِ اؔسور دس قبیلوں کو۷۲۱ ق م میں اسیر کر کے لے گیا۔ عزؔرا اور نحمیؔاہ کے زمانہ میں کُچھ لوگ واپس آگئے تھے لیکن اُن کی تعداد زیادہ نہیں تھی۔ پنِتکُست کے دِن خُدا ترس یہُودی اُس وقت کی معلُومہ دُنیا سے یروشؔلیم پرستش کے لئے آیا کرتے تھے (اعمال ۴:۲)۔ اُن کو پراگندہ یہُودی کہنا زیادہ درُست ہوگا۔ لیکن بعد میں مسیحی یہُودی بھی پراگندہ ہُوئے۔ اعمال ۱:۸ کے مُطابق ساؔؤل کی ایذا رسانی کے باعث مُتعدد مسیحی یہُودؔیہ اور سامؔریہ سے دُوسرے مُلکوں کو چلے گئے۔ یہ زیادہ تر یہُودی نسل کے تھے۔ اِس پراگندگی کا پھر حوالہ دِیا گیا ہے جب ہم پڑھتے ہیں کہ اِیمان داروں کو فینیؔکے، کُپؔرس اور انطؔاکیہ کی طرف بھگا دیا گیا۔ پس یعقؔوب نے جن لوگوں کو یہ خط لِکھا وُہ وُہ یہُودی تھے جو مُصیبت کے اُن دِنوں میں منتشِر ہو گئے تھے۔ چونکہ حقیقی ایمان دار اِس دُنیا میں پردیسی اور مُسافر ہیں (فلپّیوں ۲۰:۳؛ ۱- پطرس ۱۱:۲) اِس لئے ہم اِس خط کا اطلاق اپنے اُوپر بھی کر سکتے ہیں، حالانکہ یہ ہمیں براہِ راست نہیں لِکھا گیا۔

ایک زیادہ مشکل سُوال یہ ہے کہ کیا یعقؔوب یہ خَط غیر مسیحی یہُودیوں کو لکھ رہا تھا یا اُن یہُودیوں کو جنہوں نے مسیح کو قبول کر لیا تھا یا دونوں کو؟ اَیسا لگتا ہے کہ بُنیادی طور پر تو وُہ نَوزاد اور حقیقی ایمانداروں سے مُخاطب ہے (۱۸:۱)۔ لیکن ایسے مواقع بھی آتے ہیں جبکہ محسُوس ہوتا ہے کہ وُہ نام نہاد مسیحیوں کو یہاں تک کہ غیر نجات یافتہ لوگوں کو لِکھ رہا ہے۔ یہ اِس بات کا ایک ثبوت ہے کہ یہ خط بہت پہلے لِکھا گیا کیونکہ ابھی مسیحی یہُودیوں اور یہُودیوں میں کھنچاؤ پَیدا نہیں ہُؤا تھا۔